Baaghi TV

Tag: منحرف اراکین

  • منحرف اراکین اسمبلی کیخلاف ریفرنس ، قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے،مطالبہ آ گیا

    منحرف اراکین اسمبلی کیخلاف ریفرنس ، قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے،مطالبہ آ گیا

    منحرف اراکین اسمبلی کیخلاف ریفرنس ،درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے،مطالبہ آ گیا

    پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنسز پر سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، عامر ڈوگر، جے پرکاش اور ملیکہ بخاری الیکشن کمیشن پہنچ گئے ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ عامر لیاقت حسین کی طرف سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ریفرنسز پر میٹریل جمع کرایا،جس پر فیصل چودھری نے کہا کہ میٹریل جمع کرادیا ہے جن میں ان کے بیانات شامل ہیں،مواد میں اسدعمر اور شاہ محمود قریشی کی ہدایات بھی شامل ہیں،وکیل نور عالم خان نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے، درخواست قابل سماعت ہونے تک معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا،جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل دیں اس پر فیصلہ سنا دیں گے،

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ منحرف اراکین نے ثابت کرنا ہے کہ انہوں نے ووٹ نہیں دیا ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں قانونی وآئینی بحران چل رہا ہے، الیکشن کمیشن ووٹ ڈالنے والے 25 اراکین صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ سنائے الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کی رکنیت معطل کرنے کی پی ٹی آئی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 13 مئی کو دلائل دینے کا حکم دیدیا دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اونچا بول کر تاریخ نہیں لی جا سکتی

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی منحرف ارکان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،

    منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے ریفرنسز پر سماعت ہوئی منحرف ارکان پنجاب اسمبلی نے اپنے تحریری جوابات جمع کرادیے الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کی رکنیت معطل کرنے کی پی ٹی آئی کی استدعا مسترد کردی

    قبل ازیں پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنسز کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو جواب جمع کروایا گیا تھا، پارٹی کی طرف سے ریفرنسز پر ارکان قومی اسمبلی نور عالم خان، رامیش کمار، راجہ ریاض، ریاض مزاری، باسط بخاری، فرخ الطاف، امجد کھوسہ، افضل ڈھانڈلہ، احمد حسین ڈیہڑ، عاصم نذیر، غفار وٹو، عامر طلال، سمیع گیلانی، وجیہ قمر، نزہت پٹھان، رانا قاسم نون، جویریہ آہیر کی طرف سے جواب جمع کرایا گیا۔تمام منحرف ارکان نے ریفرنسز کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے ریفرنسز خارج کرنے کی استدعا کی۔

    تمام ارکان کا کہنا تھا کہ ہم نے تحریک انصاف کو نہیں چھوڑا، ابھی تک پارٹی کا حصہ ہیں، ہمارے خلاف ریفرنسز میں کوئی شواہد یا مواد فراہم نہیں کیا گیا، چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں ملیں، ریفرنس میں بھجوایا گیا شوکاز نوٹس ہمیں نہیں ملا۔ارکان نے جواب میں کہا گیا کہ شوکاز نوٹس کا جواب دینے کےلئے درکار قانونی موقع نہیں دیا گیا، ہمارے خلاف ریفرنس 63 اے پر پورا نہیں اترتے، پارلیمانی پارٹی سے استعفیٰ دیا نہ کسی اور جماعت میں شامل ہوئے، ہم نے کسی اقدام سے 63 اے کی خلاف ورزی نہیں کی، ہمارے خلاف بے بنیاد اور جھوٹا پراپگنڈا کیا گیا، الیکشن کمیشن ان ریفرنسز کو خارج کرکے اپنا وقت بچائے

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ تحریک انصاف نے 25 منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس پر جلد کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دیے تھے جو سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھجوائے تھے تاہم نئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے استعفوں کو ڈی سیل کیا تھا۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

  • منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا
    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی الیکشن کمیشن ہر رکن قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنس کی الگ الگ سماعت کررہا ہے نور عالم خان کے خلاف ریفرنس، بحث کیلئے سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،نور عالم خان کے وکیل نے جواب جمع کرا دیا، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آپ آج دلائل دیں گے، وکیل نے کہا کہ جی میں دلائل دوں گا، وکیل تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے جواب پڑھنے کی مہلت مانگ لی اور کہا کہ استدعا ہے کہ سب کے جواب پڑھ لوں پھر دلائل شروع کریں گے،جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو یہ سمجھ رہے تھے مہلت منحرف ارکان کے وکلا مانگیں گے،لیکن یہاں تو آپ نے ہی مانگ لی،

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا گیا،وکیل فیصل چودھری نے الیکشن کمیشن سے سماعت منگل تک ملتوی کرنے کی استدعا کر دی.،الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیس میں تاخیر نہ کریں،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ سوموار کو ہائیکورٹ میں ایک کیس میں پیش ہونا ہے،سوموار کو ساڑھے 11بجے کیس کا ٹائم دیا جائے، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کاکہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں لوٹوں کو نا اہل قراد دینے کی کارروائی دوبارہ شروع ہو رہی ہے یہ اہم ترین مقدمہ پاکستان کی سیاست میں موجودہ تلخی کی بنیاد ہے چیف الیکشن کمشنر کو اپنی ذات سے آگے سوچنے کی ضرورت ہے ان تمام لوگوں کو آئین کے مطابق نااہل کیا جائے

    دوسری جانب ایم پی اے جاوید اختر کی حد تک ریفرنس نمٹا دیا گیا ،جاوید اختر نے کہا کہ میں تو بائیکاٹ کرکے چلا گیا تھا، ووٹ ڈالا ہی نہیں،میرے نام کے سامنے غلطی یا بدنیتی سے ٹک لگایا گیا،مجھ پر تشدد بھی کیا گیا،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں،

    پی ٹی آئی وکیل فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین نے جواب جمع کروائے ہیں ،منحرف اراکین نے عجیب و غریب جواب جمع کروائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور تسلیم کریں کہ دوسری جماعت سے مل گئے اراکین قومی اسمبلی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا پنجاب میں اراکین نے وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں ووٹ ڈالا ارکان پنجاب اسمبلی نے آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کی ،پنجاب کا کیس صرف 26 منٹ کا ہے چیف الیکشن کمشنر ہاں نا میں پوچھ لیں ووٹ ڈالا گیا کہ نہیں پنجاب اسمبلی کا ریکارڈ موجود، تصاویر ویڈیوز بھی موجود ہیں ،منگل کو منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کا فیصلہ ہوجائے گا،

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ تحریک انصاف نے 25 منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس پر جلد کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دیے تھے جو سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھجوائے تھے تاہم نئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے استعفوں کو ڈی سیل کیا تھا۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • نورعالم خان نااہلی ریفرنس کے دائرہ اختیار پر فیصلہ محفوظ

    نورعالم خان نااہلی ریفرنس کے دائرہ اختیار پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکان کے خلاف نا اہلی ریفرنسز کا کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی بینچ نے سماعت کی،منحرف ارکان چوہدری عاصم نذیر، احمد حسین دیہڑ، مخدوم سمیع گیلانی اور عامر طلال گوپانگ کی جانب سے میاں فیصل الیکشن کمیشن پیش ہوئے منحرف ارکان ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ، امجد کھوسہ کی جانب عثمان گھمن الیکشن کمیشن پیش ہوئے، منحرف ارکان عامر لیاقت حسین اور ڈاکٹر رمیش کمار ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن پیش ہوئے، پی ٹی آئی کی جانب سے ملیکہ بخاری، فیصل چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے

    منحرف رکن نور عالم خان کی طرف سے انکے وکیل بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تمام منحرف اراکین کے وکلا ایک ایک کرکے روسٹرم پر آئیں،نور عالم کے وکیل نے آرٹیکل 63 اے (1) کا حوالہ دے کر ریفرنس پر اعتراض کردیا،کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل نہیں ہے، اسلیے ریفرنس نہیں سن سکتا،عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ نااہلی ریفرنس کا فیصلہ فل بنچ کریگا،بنچ کا نامکمل ہونا ایک لیگل ایشو ہے،نور عالم نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ میں نے سیاسی جماعت سے نہ استعفی دیا نہ کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی ،الیکشن کمیشن کے سامنے 2015 میں ایسے کیسز آئے تھے،کمیشن نے آرڈر کیا تھا کہ مکمل کمیشن ایسے کیسز پر فیصلہ کرے گا منحرف ارکان کا کیس پر فل کمیشن ہی فیصلہ کر سکتا ہے،الیکشن کمیشن نے نور عالم خان نااہلی ریفرنس کے دائرہ اختیار پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ آرٹیکل 218 کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس وسیع اختیارات ہیں،الیکشن کمیشن کا کورم تین ارکان پر مشتمل ہے، الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھانا آئین کے منافی ہے، الیکشن کمیشن آئین کے مطابق نا اہلی ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے

    الیکشن کمیشن نے تمام ریفرنسز کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی، تحریک انصاف کے وکیل نے منحرف ارکان کے کیسز کی الگ الگ تاریخ کی استدعا کر دی، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم شام تک کیس سن سکتے ہیں، ایک ہی جیسا کیس ہے، الگ نہیں کر سکتے،

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دیے تھے جو سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھجوائے تھے تاہم نئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے استعفوں کو ڈی سیل کیا تھا۔

    قبل ازیں رواں ماہ 14 اپریل کو پی ٹی آئی نے منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جماعت سے منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے جماعت چھوڑنے اور پیسے لیکر فلور کراسنگ کرنے والے ارکان آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جماعت کی پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے مطابق کارروائی ہوتی ہے،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن جیت پر عوام کے ووٹ کو بیچا نہیں جاسکتا، بابر اعوان نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی درخواست میں الیکشن کمیشن،اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ قراردیا جائے کہ منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوگی۔درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ جو بھی رکن پارٹی کو چھوڑنا چاہتا ہے وہ پہلے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے پارٹی سے منحرف ہونے والے اراکین صادق اورامین نہیں رہتے سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں انحراف کو ناسور قرار دے چکی ہے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمارنہیں ہونا چاہیئے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ متنازعہ تصور کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منحرف ارکان کی نااہلی تاحیات قرارنہ دی جائے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس

  • الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو طلب کر لیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کو 6 مئی کو طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی :الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے الیکشن کمیشن کو لکھے خط پر غور کیا گیا۔

    الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خط میں عمران خان نے کہا کہ پارٹی نے قومی اسمبلی کی تمام نشستوں سے استعفے دے دیئے ہیں، اور اب قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے جبکہ منحرف ارکان کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت کیس بھیج دیا ہے ایسے ارکان قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کر دیے ہیں-

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں سے متعلق کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے کسی رکن کے استعفے کا نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوااستعفوں کا کیس موصول ہوتےہی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 26 منحرف ارکان صوبائی اسمبلی کو 28 اپریل کیلئے نوٹسز جاری کر دیئے جبکہ ممبران صوبائی اسمبلی کو 6 مئی کیلئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا تھا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی کے لیے افسران کو ذمہ داری سونپ دی جس کے مطابق الیکشن کمیشن سیکر یٹریٹ جانے کے لیے صرف دو انٹری پوائنٹس مارگلہ روڈ اور سرینا چوک استعمال ہوں گے۔

    جاری کردہ سرکلر کے مطابق مختلف پوانٹس پر 14 سینئر افسران سیکیورتی کےمعاملات پر نظر رکھیں گے جبکہ الیکشن کمیشن کے سامنے گاڑیوں کی پارکنگ پر پابندی ہوگی کوئی افسر بھی دفتری کارڈ کے بغیر سیکریٹریٹ میں داخل نہیں ہو سکے گا، تمام ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز اپنے دفاتر سے جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن سیکیورٹی کے تمام صورتحال پر نظر رکھیں گے-

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دیے تھے جو سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھجوائے تھے تاہم نئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے استعفوں کو ڈی سیل کیا تھا۔

  • منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال

    منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال

    منحرف پی ٹی آئی ارکان پنجاب اسمبلی کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیئے گئے

    اسپیکر پرویز الہٰی نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا اسپیکر پرویز الہٰی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو 26 منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس بھجوائے گئے منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس آرٹیکل 63 اے کے تحت الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے ،ریفرنس میں کہا گیا کہ منحرف ارکان کےخلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے،

    ریفرنس میں راجہ صغیر، ملک غلام رسول سنگھا، اکبر نوانی، محمد اجمل، فیصل حیات جبوانہ کے نام شامل ہیں مہر محمد اسلم، خالد محمود، عبدالعلیم خان، نذیر چوہان، محمد امین ذوالقرنین کے نام شامل ہیں نعمان لنگڑیال ، نعیم سلمان، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین کے نام شامل ہیں زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ چوہدری، ساجدہ یوسف، ہارون گل، عظمٰی کاردارکے نام شامل ہیں ملک اسد کھوکھر، اعجاز مسیح گل، سبطین رضا، جاوید اختر اور محسن عطا کھوسہ کے نام شامل ہیں ،ریفرنس میں کہا گیا کہ 26منحرف ارکان نے پارٹی پالیسی کے خلاف حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کا ووٹ دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • 10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کا آغازہو گیا ہے

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ، جسٹس جمال خان نے استفسار کیا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں انحراف کی اجازت ہو کچھ چاہتے ہیں نہ ہو؟ آج کل آسان طریقہ ہے 10ہزار بندے جمع کرو کہو میں نہیں مانتا پارلیمان نے تاحیات نااہلی کا واضح نہیں لکھا،پارلیمنٹ نے یہ جان بوجھ کر نہیں لکھا یا غلطی سے نہیں لکھا گیا، پارلیمنٹ موجود ہے دوبار اس کے سامنے پیش کردیں،عدالت کے سر پر کیوں ڈالا جارہا ہے ؟

    اے جی اسلام آباد نے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا عدالت کا ہی کام ہے،سینیٹ الیکشن کے بعد بھی ووٹ فروخت ہورہے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو خود ترمیم کرنے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں، ایسے فیصلوں کا احترام چاہتے ہیں، عدالت اپنا آئینی کام سر انجام دیتی ہے، قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہیے، آئینی تحفظ پر گالیاں پڑتی ہیں لیکن اپنا کام کرتے رہیں گے، عدالت کیوں آپ کے سیاسی معاملات پر پڑے؟

    سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل مکمل ہو گئے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کی ایک بیناد سیاسی جماعت ہے، سیاسی جماعتوں کو چار صورتوں میں آرٹیکل 63 میں تحفظ دیا گیا ہےضیا الحق نے پارٹی سے انحراف پر پابندی کی شق آئین سے نکال دی تھی ہارس ٹریڈنگ پر فیصلے آئے تو 1998 آئین میں ترمیم کی گئی 2010میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا آئین کی خلاف ورزی چھوٹی بات نہیں ہے، کئی لوگ آئین کی خلاف ورزی پر آرٹیکل چھ پر چلے جاتے ہیں، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی آرٹیکل 6 کا کیس نہیں بنتا ،صدراتی ریفرنس کے مطابق منحرف اراکین پر آرٹیکل 62 ون کا اطلاق ہونا چاہیے،عدالت تعین کرے گی کہ آئین سے انحراف کا کیا نتیجہ ہوگا آئین کی خلاف ورزی کرنے والا یا اپنی خوشی پر جائے گا یا قیمت ادا کرنی ہو گی

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے تاحیات نااہلی ہوئی تو ارٹیکل 95 کی کیا اہمیت رہ جائے گی،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ آرٹیکل 95 کا سوال ابھی عدالت کے سامنے نہیں ہے،وکیل پی ٹی آئی بابر اعوان نے کہا کہ ہماری درخواست کا میمو دیکھ لیں، درخواست کا میمو گیٹ سے تعلق نہیں ، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اب بند کرنا ہو گا،بابر اعوان نے کہا کہ گیٹ بند کرنے کا موقع تھا لیکن ضائع کردیا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ھم نے آپ کو ریفرنس پر دلائل دینے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا۔ اگر آپ سابق اٹارنی جنرل کے دلائل اپنانا چاھتے ہیں تو بتا دیں ھمیں بتائیں آپ ریفرنس پر کیا موقف اپناتے ہیں؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں سابق اٹارنی جنرل کے دلائل نہیں اپنائوں گا۔میں اپنی درخواست جو پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی ہے اس بات کرنا چاھتا ہوں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس وقت آپ کی وہ درخواست ہمارے سامنے نہیں۔ بابر اعوان نے کہا کہ ریفرنس پر دلائل کل دے سکتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے ھم آپ کو کل سنیں گے۔ ھم آج مزید ایک گھنٹے تک سماعت جاری رکھیں گے۔

    ایڈوکیٹ جنرل کے پی شمائل بٹ نے کہا کہ کیا صوبوں کو بھی آج ہی سنا جائے گا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر آپ نے تحریری معروضات جمع کرا دی ہیں تو آپ کو سن لیتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ تحریری معروضات جمع نہیں کرائیں۔ کل جمع کرائوں گا ،۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کہ سندھ نے اپنی تحریری معروضات جمع کرادی ہیں۔ اس پر کل دلائل دونگا

    مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ صدر نے ریفرنس میں عدالت سے آئین دوبارہ لکھنے کا کہا ہے آرٹیکل تریسٹھ اے بالکل واضح ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم میں ووٹ نہ دینا اور مخالف پارٹی کو ووٹ دینا الگ چیزیں ہیں، مخالف پارٹی کو ووٹ دینے کے لیے مستعفی ہونا زیادہ معتبر ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ مستعفی ہونے جیسا انتہائی اقدام واحد حل کیسے ہو سکتا ہے،پارٹی سربراہی کی پابندی کرنا غلامی کرنے کے مترادف ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسی بات سے آپ پارلیمانی جمہوریت کی نفی کررہے ہیں، پارلیمانی پارٹی کے فیصلے سے اختلاف ہے تو الگ ہو جائیں گے،ضمنی الیکشن آزاد حثیت سے لڑ کر واپس آیا جاسکتا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیسے آئین نے منحرف قرار دیا ہے، آپ اسے معزز کیسے بنا رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شکایت ہے یا نہیں کیا ہورہا ہے ہم نہیں جانتے ،وکیل بی این پی مینگل نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے جو اسلام آباد اور لاہور میں ہوا،بابر اعوان نے کہا کہ ویڈیو معاملے پر دورکن الیکشن کمیشن گئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان نے جو بات کی ہے اس سے لگتا ہے کہ انکی جماعت بھی سنجیدہ نہیں،ازخود نوٹس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ نے پیرامیٹرز طے کردیئے ہیں،ہمیں مایوسی ہوئی ہے پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں درخواست دیتے ہوئے عدالتی فیصلے کے مطابق عمل نہیں کیا .

    بابر اعوان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے وقت پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں کوئی شکایت نہیں کر رہا سیاسی جماعتوں سے درخواست کر رہا ہوں کہ پارلیمانی جمہوریت کا دفاع کریں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ریفرنس سے لگتا ہے آئین میں نقص نہیں، نقص ہم میں ہے،وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت تبدیل ہوئی وفاق نے کچھ نہیں کیا،اسلام آباد اور پنجاب میں جو ہوا وہ بھی عدالت کے سامنے ہے، بابر اعوان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں آڈیو وڈیو ثبوت لے کر ہمارے دو ممبران اسمبلی الیکشن کمیشن گئے تھے، چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے 2ارکان اسمبلی الیکشن کمیشن گئے لیکن آپ کی جماعت نہیں،معذرت کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کی جماعت آڈیو ویڈیومعاملے پر سنجیدہ نہیں تھی،ہمیں کہا جاتا ہے کہ ازخود نوٹس لیں،سپریم کورٹ ازخود نوٹس لیے جانے کے طریقہ کار طے کر چکا ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی کا کہا جا رہا ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی سربراہ کا اختیار ہے کہ منحرف رکن کے خلاف کارروائی کرے ممکن ہے کہ پارٹی سربراہ کوئی کارروائی نہ کرے ممکن ہے کہ انحراف کرنے والا اپنے عمل کی وضاحت دے،مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کے خلاف سنجیدہ قسم کی مہم چلائی جا رہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی حفاظت کرنا ہماری زمہ داری ہے،ہم نبھائیں گے،عدالت 24 گھنٹے کام کرتی ہے کسی کو عدالتی کارروائی پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کو مفروضوں کی بنا پر غیر ضروری طور پر سیاسی عمل میں دھکیلا گیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر کوئی معزز رکن اپنے عمل کی وضاحت کردے تو کیا ہوگا،

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • منحرف اراکین کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست دائر

    منحرف اراکین کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست دائر

    منحرف اراکین کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست دائر

    پارٹی سے انحراف کرنے والے اراکین اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست داٸر کر دی گئی

    درخواست اظہر صدیق کی جانب سے سپریم کورٹ رجسٹری میں داٸر کی گٸی ،درخواست گزار نے کہا کہ آٸین کسی بھی رکن اسمبلی کو پارٹی سے منحرف ہونے کی اجازت نہیں دیتا ،آٸین کے مطابق ووٹ پارٹی کی امانت ہے جس میں خیانت نہیں کی جا سکتی ، ہارس ٹریڈنگ جمہوریت کے لیے کینسر اور زہر قاتل ہے ،آٸین کے مطابق اب کسی بھی سیاسی جماعت کا فارورڈ بلاک نہیں بن سکتا ،پنجاب اسمبلی میں بدترین ہارس ٹریڈنگ کا مظاہرہ کیا گیا ،پنجاب اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اکٹریتی پارٹی کو شکست دے کر حمزہ شہباز وزیر اعلی بنے ،آٸین کے تحت منخرف ہونے والے اراکین کے ووٹ گنے ہی نہیں جا سکتے ، منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوتی ہے ،

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت آرٹیکل 63A کی تشریح کرے اور پارٹی سے انحراف کو غیر آٸینی قرار دے ، عدالت پارٹی سے انحراف کرنے والے اراکین کو تاحیات نااہل قرار دے ،

    قبل ازیں رواں ماہ 14 اپریل کو پی ٹی آئی نے منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جماعت سے منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے جماعت چھوڑنے اور پیسے لیکر فلور کراسنگ کرنے والے ارکان آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جماعت کی پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے مطابق کارروائی ہوتی ہے،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن جیت پر عوام کے ووٹ کو بیچا نہیں جاسکتا، بابر اعوان نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی درخواست میں الیکشن کمیشن،اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ قراردیا جائے کہ منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوگی۔درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ جو بھی رکن پارٹی کو چھوڑنا چاہتا ہے وہ پہلے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے پارٹی سے منحرف ہونے والے اراکین صادق اورامین نہیں رہتے سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں انحراف کو ناسور قرار دے چکی ہے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمارنہیں ہونا چاہیئے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ متنازعہ تصور کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منحرف ارکان کی نااہلی تاحیات قرارنہ دی جائے

    پرویز الہیٰ کی جانب سے حملے کے الزام کے بعد رانا مشہود بھی خاموش نہ رہ سکے

    حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب آج، کون لے گا حلف؟

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

     

  • منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    پی ٹی آئی نے منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جماعت سے منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے جماعت چھوڑنے اور پیسے لیکر فلور کراسنگ کرنے والے ارکان آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جماعت کی پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے مطابق کارروائی ہوتی ہے،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن جیت پر عوام کے ووٹ کو بیچا نہیں جاسکتا، بابر اعوان نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی درخواست میں الیکشن کمیشن،اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ قراردیا جائے کہ منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوگی۔درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ جو بھی رکن پارٹی کو چھوڑنا چاہتا ہے وہ پہلے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے پارٹی سے منحرف ہونے والے اراکین صادق اورامین نہیں رہتے سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں انحراف کو ناسور قرار دے چکی ہے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمارنہیں ہونا چاہیئےمنحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ متنازعہ تصور کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منحرف ارکان کی نااہلی تاحیات قرارنہ دی جائے

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے 20 منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف جمع کروا دیا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف نے اپنے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس سپکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کروا دیا ،ریفرنس پارٹی چئیرمین عمران خان کی طرف سپیکر کو بھجوایا گیا ،ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ منحرف اراکین پی ٹی ائی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے میڈیا رپورٹس کے متعلقہ اراکین نے پی ٹی ائی چھوڑ کر اپوزیشن پارٹیز میں شمولیت اختیار کر لی ، منحرف اراکین کو شوزکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ،شوزکاز نوٹس کا خاطر جواب نہیں دیا گیا, منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کی کاروائی کا آغاز کیا جائے

    قبل ازیں منحرف ارکان کو قومی اسمبلی کو ملک عامر ڈوگر نے پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا ،تحریک انصاف کے 17منحرف ارکان کو واٹس اپ گروپ سے نکالا گیا عامر لیاقت، فرخ الطاف، سمیع گیلانی، سید مبین عالم، عاصم نذیر ،احمد حسین ڈیہڑ کو گروپ سے نکالا گیا ریاض مزاری ،امجد فاروق کھوسہ،عامر گوپانگ، نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ کو بھی گروپ سے نکال دیا گیا نزہت پٹھان،وجیہہ قمر ، رمیش کمار، باسط بخاری، راجہ ریاض اور رانا قاسم نون کو بھی گروپ سے نکال دیا گیا ،گروپ سے نکالنے سے قبل پی ٹی آئی آراکین نے منحرف آراکین پر گروپ میں شدید تنقید کی

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع

    سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟

    عمران خان کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیں گے ،بلاول کا اعلان

    این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا

  • ایم پی ایز کو ہوٹل میں بند کرکے ان سے رابطے منقطع کروا دیئے گئے

    ایم پی ایز کو ہوٹل میں بند کرکے ان سے رابطے منقطع کروا دیئے گئے

    ایم پی ایز کو ہوٹل میں بند کرکے ان سے رابطے منقطع کروا دیئے گئے

    ق لیگ نے ایم پی ایز کو ہوٹل میں رکھنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    درخواست ق لیگی رہنما کامل علی آغا کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ہمیں حمزہ شہباز کی درخواست میں فریق بننے کی اجازت دی جائے،ایم پی ایز کو ہوٹل میں بند کرکے ان سے رابطے منقطع کیے گئے ہیں ایم پی ایز کو غیر قانونی حراست میں رکھا غیر قانونی ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اراکین اسمبلی کو ایک ہوٹل سے دوسرے ہوٹل بھجوا دیا گیا ہے، ن لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ اراکین جس ہوٹل میں رہ ہے تھے اس میں جگہ کم ہے ،امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو رہا تھا اس لیے دوسرے ہوٹل منتقل کررہے ہیں مونس الہٰی کی کروڑوں روپے رشوت کی آفر کا اکٹھے رہ کر مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے امید تھی جلد اجلاس ہو جائے گا، لیکن لگتا ہے مزید کچھ دن مسافررہیں گے،فیاض چوہان ابھی پرویز الہٰی کی ڈوبتی کشتی میں مزید سوراخ کرنے آئے ہیں،پرویز الہیٰ بھی ایک ہارے ہوئے لشکر کے کمانڈر ہیں،تحریک انصاف کا وزیراعلیٰ کا اپنا امیدوار نہیں ہے ،پرویز الہٰی کے پاس نمبر پورے ہیں تو قائد ایوان کے انتخاب سے بھاگ کیوں رہے ہیں، پنجاب کے 199نمائندے حمزہ شہباز پر مکمل اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں

    قبل ازیں آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب کے تبادلوں کے خلاف اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے،حمزہ شہباز نے پنجاب حکومت ، چیف سیکرٹری اور آئی جی کو عدالت میں دائر درخواست میں فریق بنایا ہے آئینی درخواست میں حمزہ شہباز کی جانب سے کہا گیا کہ عثمان بزدار کا بطور وزیر اعلیٰ استعفیٰ منظور ہو چکا ہے ، پنجاب کوئی کابینہ موجود ہے نہ حکومت قائم ہے ، قانون کے مطابق انتخابات کے دوران ٹرانسفر نہیں کی جا سکتی

    واضح رہے کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا ہے، پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو جبکہ اپوزیشن نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ 6 اپریل کو ہونی تھی وہ نہیں ہو سکی، پی ٹی آئی کا ترین گروپ، علیم خان گروپ ن لیگ سے مل چکا ہے یوں پنجاب میں پی ٹی آئی اکثریت کھو چکی ہے اسی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جا رہا، آج لاہور ہائیکورٹ میں بھی اسمبلی اجلاس بلانے کی درخواست دائر کی گئی ہے، عدالت نے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

  • عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی ہو چکا ہے

    اپوزیشن کی بھر پور کوشش ہے کہ آج عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے، اپوزیشن کے پاس اسمبلی اجلاس میں 176 اراکین موجود ہیں، عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 172 اراکین درکار ہیں تا ہم اپوزیشن کے پاس زیادہ اراکین موجود ہیں، اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی تو عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے جس کے بعد اسی اجلاس میں نئے وزیراعظم کا انتخاب ہو گا اور شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہوں گے

    دوسری جانب اپوزیشن اتحاد نے طے کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے ہمارے پاس اراکین کی تعداد پوری ہے، اسلئے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین سے ووٹنگ نہیں کروائیں گے، پی ٹی آئی کے منحرف اراکین ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے،اس سے وہ پارٹی کی جانب سے نااہلی سے بھی بچ جائیں گے، اپوزیشن اتحاد کی جانب سے یہ فیصلہ 176 اراکین پورے ہونے پر کیا گیا، حکومت کی سابق اتحادی جماعت ایم کیو ایم اسوقت اپوزیشن کا حصہ ہے،

    قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہوا کچھ دیر چلنے کے بعد اجلاس ساڑھے بارہ تک کے لئے ملتوی کیا گیا ہے، اجلاس میں شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی نے اظہار خیال کیا، اجلاس میں شورشرابہ ہوا تو سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا

    وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پریشان ہیں، ایک کے بعد ایک کوشش کرسی بچانے کی کر رہے ہیں مگر اب انہیں ہر طرف مایوسی دکھائی دے رہی ہے، تمام تر کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور اپوزیشن کا پلڑا ہر آئے روز بھاری پڑ رہا ہے، اپوزیشن اراکین کی تعداد بڑھ چکی ہے، عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے، حکومتی اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، تحریک انصاف کے کئی اراکین منحرف ہو چکے ہیں،یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ممکنہ طور پر استعفیٰ دے دیں تا ہم اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان استعفے دینے والے نہیں انہیں خود گھر بھیجنا پڑے گا

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

    پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسد قیصر کا اہم شخصیت سے رابطہ

    اجلاس ملتوی ہونے کے بعد فواد چودھری کی سعد رفیق کے ساتھ گپ شپ