Baaghi TV

Tag: منصوبے

  • امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح، امریکہ نے پاکستان کے لیے امداد بند ہونے کی تصدیق کردی ہے اور کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ دنوں امریکہ نے عالمی سطح پر تقریباً تمام غیر ملکی امدادی پروگراموں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان معطل شدہ پروگراموں میں یوکرین، تائیوان اور اردن کی امداد شامل تھی، اور ابتدائی طور پر یہ معطلی 90 دنوں کے لیے کی گئی ہے۔امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے تمام سفارتی اور قونصلر مشنز کو ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ فوراً اپنے امدادی پروگراموں کو معطل کریں اور اس سلسلے میں تمام سرگرمیاں روک دی جائیں۔ اس حکم کے بعد، امریکی قونصل خانے کے اہلکار نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد بھی فی الحال معطل کردی گئی ہے۔

    امریکہ کے فیصلے کے تحت مختلف شعبوں میں چلنے والے متعدد اہم منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس میں ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی پریزرویشن کے تحت جاری منصوبے بھی عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے میں پانچ منصوبے بند ہو گئے ہیں، اقتصادی ترقی کے سلسلے میں چار پروگراموں پر اثر پڑا ہے، اور زراعت کے شعبے میں پانچ منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت، انسانی حقوق، اور گورننس کے حوالے سے بھی فنڈز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔تعلیمی شعبے میں چار پروگرام اور صحت کے شعبے میں بھی چار منصوبے اس امریکی فیصلے کے تحت متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ معطلی پاکستان میں ترقیاتی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امدادی پروگراموں کی معطلی ایک عارضی فیصلہ ہے اور ان پروگراموں کے دوبارہ شروع ہونے کا فیصلہ ازسرنو جائزے کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم، اس بات کا ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا کہ آیا یہ پروگرام دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں، خاص طور پر ان پروگراموں کا جن پر لاکھوں ڈالر کی رقم خرچ کی جاتی ہے۔

    یہ معطلی امریکی حکام کی جانب سے مختلف امدادی پروگراموں کی کارکردگی اور اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی ہے، جس کے بعد مستقبل میں ان پروگراموں کے جاری رہنے یا ختم ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا پاکستان کے اقتصادی اور سماجی شعبوں پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

  • سابق حکومت نے عوامی اہمیت کے منصوبوں کو نظر انداز کیا ،حمزہ شہباز

    سابق حکومت نے عوامی اہمیت کے منصوبوں کو نظر انداز کیا ،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے پراجیکٹ کا دورہ کیا،وزیر اعلی حمزہ شہباز نے زیر تکمیل منصوبے کے مختلف حصے دیکھے ،وزیر اعلی حمزہ شہباز مختلف فلور پر گئے اور پراجیکٹ پر کام کا جائزہ لیا ،وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی.

    حمزہ شہباز نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں شروع اس اہم پراجیکٹ کو سابق دور میں نظر انداز کیا گیا۔ گزشتہ 4 برس کے دوران سست روی کے باعث منصوبے کی لاگت میں تقریبا 3 ارب روپے سے زائد اضافہ ہوا۔ قومی وسائل کا نااہلی کی وجہ سے ضیاع مجرمانہ غفلت ہے۔ عوامی اہمیت کے منصوبے کو جلد فنکشنل کیا جائے۔

    وزیراعلی نے کہا کہ منصوبے کو آپریشنل کے لئے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے۔ منصوبے پر 3 شفٹ میں کام کرنے کا پلان بنایا جائے۔ عمارت کے اطراف بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں ،ڈی جی پی ایچ اے خود موقع پر آ کر وزٹ کریں اور اس ضمن میں جامع پلان بنائیں ،بلڈنگ کو بھی پودوں کے ساتھ گرین بنانے کا جائزہ لیا جائے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ چند روز میں ٹائم لائن کے ساتھ منصوبے کو آپریشنل کرنے کا حتمی پلان پیش کیا جائے۔ دسمبر 2017 میں شروع کئے جانے والے اس منصوبے کو مارچ 2019 میں مکمل ہونا تھا۔وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کو سیکرٹری تعمیرات ومواصلات نے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی ،انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے.

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے ”دلکش مری“پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت کی ، وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نےسیزن کے دوران مری کے ہوٹلوں کے کرائے کا تعین کرنے کا حکم بھی دیا.اس موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ کرائے کا تعین ہونے سے سفید پوش طبقے کو ریلیف مل سکے گا۔ مری میں ٹریل موٹر بائیک ایمبولینس چلانے کا جائزہ لے کر حتمی پلان پیش کیا جائے۔

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے ٹورازم پولیس کی استعداد کار بڑھانے کی ہدایت کی. ٹورازم پولیس کوہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پیشہ وارانہ ٹریننگ دی جائے۔ریسکیو 1122 کے تعاون سے ٹورازم پولیس کی پروفیشنل ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔ مری آنے والی ٹریفک کو کیمروں کےذریعے 24/7 مانیٹر کیا جائے۔ موثر مینجمنٹ کے ذریعے ٹریفک رواں دواں رکھنے کے جامع پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے مری سمیت سیاحتی مقامات پر سہولتیں بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سیاحوں کی سہولت کیلئے بہترین انتظامات یقینی بنانے۔مری کے دیہات میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا سسٹم وضع کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے املاک میں آتشزدگی کے واقعات کا سدباب کرنے کیلئے فائر سیفٹی پلان بھی طلب کرلیا،وزیراعلی کو بریفنگ دی گئی کہ مری کی 34کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیرو مرمت مکمل ہوچکی ہے۔کلڈنہ چوک کو ری ڈیزائن کر کے وسیع کیا جارہا ہے۔ سڑکوں کی لینڈ مارکنگ اورسائن بورڈ کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ مری کی سڑکوں کے اطراف میں دوکانوں کو یونیورسل شکل دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازشریف کی زیر صدارت مری ڈویلپمنٹ اینڈ امپرومنٹ پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس میں عمران گورایہ، سیکرٹری سیاحت،سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکرٹری تعمیرات ومواصلات ،سیکرٹری اطلاعات،ڈی جی ریسکیو1122 اورمتعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن، آر پی او راولپنڈی،سی پی او، ڈپٹی کمشنر،سی ٹی او اور متعلقہ حکام وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

  • وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئےساڑھے 5 کھرب روپے سے زائد  فنڈز

    وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئےساڑھے 5 کھرب روپے سے زائد فنڈز

    نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) کے تحت وفاقی وزارتوں ،ڈویژنز،کارپوریشنز ، سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئے وائبلیٹی گیپ فنڈ اورصوبائی پی ایس ڈی پیز کامجموعی حجم 2263000 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے.

    سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں وفاقی وزارتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مجموعی طورپر5 کھرب، 64 ارب، 96 کروڑ، 33 لاکھ 60 ہزارروپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں 16 ارب، 72 کروڑ، 65 لاکھ 73 روپے کی غیرملکی امدادشامل ہیں، سرکاری کارپوریشنز کی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 161536.664 ملین روپے ، جس میں 43273.42 ملین روپے کی غیرملکی امدادشامل ہیں، کے فنڈز مختص کرنے کی تجویزہے، مجموعی وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 727000 ملین روپے کے فنڈزمختص کرنے کی تجویزہے۔

    سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئے فائبلیٹی گیپ فنڈ کی مدمیں 73000 ملین روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی پی ایس ڈی پی کامجموعی حجم 1463000 ملین روپے ہے، وفاقی وزارتوں ،ڈویژنز،کارپوریشنز ، سرکاری ونجی شعبہ کے اشتراک کیلئیوائبلیٹی گیپ فنڈ اورصوبائی پی ایس ڈی پیز کامجموعی حجم 2263000 روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پی ایس ڈی پی 2022-23 کے تحت شہری ہوابازی ڈویژن کے منصوبوں کیلئے 2484.8 ملین روپے

    ، سرمایہ کاری بورڈکیلئے 807.5 ملین روپے، کابینہ ڈویژن کیلئے 70058.8 ملین روپے، موسماتی تبدیلی ڈویژن کیلئے 9600 ملین روپے، وزارت تجارت کیلئے 1174.4 ملین روپے، مواصلات 180 ملین روپے، ڈیفنس ڈویژن 2232 ملین روپے، دفاعی پیداوارڈویژن 2200 ملین روپے، ایسٹبلشمنٹ ڈویژن 900 ملین روپے، وفاقی تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت 7239.5 ملین روپے، خزانہ ڈویژن کیلئے 1659.9 ملین روپے، صوبوں وخصوصی علاقہ جات 135855.6 ملین روپے،

    آزادکشمیروگلگت بلتستان کیلئے 52644.7 ملین روپے، ضم شدہ اضلاع (خیبرپختونخوا) 50200 ملین روپے، صوبائی منصوبوں کیلئے 33010.8 ملین روپے، ہائیرایجوکیشن کمیشن کیلئے 44178 ملین روپے، ہاوسنگ اینڈورکس ڈویژن 13985.2 ملین روپے، انسانی حقوق ڈویژن 184.6 ملین روپے، صنعت وپیداوارڈویژن کیلئے 2850 ملین روپے، انفارمیشن وبراڈکاسٹنگ ڈویژن 2100 ملین روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کام ڈویژن 6330.6 ملین روپے،

    بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کیلئے 3472.4 ملین روپے، داخلہ ڈویژن کیلئے 9093 ملین روپے، قانون وانصاف ڈویژن 1813.8 ملین روپے، میری ٹائم افئیرز 3465.3 ملین روپے، نیشنل فوڈ سیکورٹی ریسرچ ڈویژن 10129.1 ملین روپے، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن 207.9 ملین روپے، نیشنل ہیلتھ سروس ریگولیشنز 12650.9 ملین روپے، قومی ادبی ورثہ ڈویژن 550 ملین روپے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 25990.6 ملین روپے،پاکستان نیوکلئیرریگولیٹری اتھارٹی 289.8 ملین روپے،

    پیٹرولئیم ڈویژن کیلئے 1480.5 ملین روپے، منصوبہ بندی ترقی ڈویژن 42176.5 ملین روپے، تخفیف غربت ڈویژن 500 ملین روپے، ریلویز ڈویژن کیلئے 32648 ملین روپے، مذہبی امورڈویژن 600 ملین روپے، ریونیوڈویژن 3188.6 ملین روپے، سائنس وٹیکنالوجی ڈویژن 5716.3 ملین روپے، سپارکو 7395 ملین روپے، آبی وسائل ڈویژن 99572.4 ملین روپے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کیلئے 118403.4 ملین روپے اورپاورڈویژن کیلئے 43133.2 ملین روپے ، ایرا کیلئے 500 ملین روپے ، کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وائبلیٹی گیپ فنڈ کیلئے 73000 ملین روپے اورصوبوں کیلئے 1463000 ملین روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایس ڈی پی میں 171 جاری اور902 نئے منصوبوں کوشامل کیاگیاہے جس کا تناسب 89:11 بنتاہے۔ 80 فیصداخراجات کی تکمیل کے حامل منصوبوں کو جون 2023 تک مکمل کیاجائیگا،جدیدبنیادی ڈھانچہ کی تعمیراورغیرملکی سرمایہ کاری کوراغب کرنے کیلئے کل پی ایس ڈی پی کا 55 فیصد مختص کیاگیاہے۔

    پانی کے شعبہ کی ترقی کیلئے 83 ارب روپے اور توانائی کے شعبہ کیلئے 84 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے،نئے مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سماجی شعبہ، صحت وبہبودآبادی کیلئے 23 ارب روپے اورہزاریہ اہداف کے حصول کیلئے 60 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویزدی گئی ہے۔ نئے مالی سال 2022 کیلئے پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں جامعیت اور تمام متعلقہ شراکت داروں سے مشاورتی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے جاری اقتصادی صورتحال اورمالیاتی رکاوٹوں کے منطرنامہ میں مساویانہ ترقی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ نے نئے مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی کی مد میں وفاقی وزارت منصوبہ بندی کو ابتدائی طورپرانڈیکٹیوبجٹ سیلینگ (آئی بی سی) کے تحت 500 ارب روپے مختص کرنے سے مطلع کیا۔تاہم جاری منصوبوں پرعملی پیش رفت کی رفتارکوبرقراررکھنے کیلئے وزارت منصوبہ بندی نے وزارت خزانہ سے دوبارہ رابطہ کیا تاکہ پی ایس ڈی پی کے حجم کو800 ارب روپے تک بڑھایا جاسکے،

    وزارت منصوب بندی ترقی وخصوصی اقدامات کے مطابق نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں چھ اعشاری تین ٹریلین روے کے تھروفاروڈ منصوبوں،بیرونی امدادسے چلنے والے منصوبوں کیلئے 250 ارب کی ڈیمانڈ،صوبائی طرز کے منصوبوں کی شمولیت، صوبائی نوعیت کے منصوبوں کی مالی معاونت کیلئے قومی اقتصادی کونسل کے رہنمااصول، منصوبوں پروقت اورلاگت کی نظرثانی، سالان ترقیاتی پروگرام کی تنزلی اوراس کے نتیجہ میں جاری منصوبوں کے حوالہ سے ڈی ڈی ڈبلیو پی سطح کے منصوبوں کیلئے اختیارکو60 ملین سے بڑھاکر2000 ملین کرنا نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کی تشکیل میں اہم چیلنجزرہے

  • تین سال سے ن لیگی منصوبوں پر تختیاں لگا کر گزارہ کر رہے ہیں،مائزہ حمید

    تین سال سے ن لیگی منصوبوں پر تختیاں لگا کر گزارہ کر رہے ہیں،مائزہ حمید

    تین سال سے ن لیگی منصوبوں پر تختیاں لگا کر گزارہ کر رہے ہیں،مائزہ حمید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما، رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید نے کہا ہے کہ احسن اقبال اور ن لیگی کارکنوں پر تشدد اور بدسلوکی انتہائی افسوسناک ہے

    مائزہ حمید کا کہنا تھا کہ حکمران اقتدار کے نشے میں اندھے ہوچکے ہیں انہیں قانون اخلاقیات اور سیاسی اقدار کا کوئی لحاظ نہیں ہے پی ٹی آئی کی حکومت ساڑھے تین سال سے ن لیگی منصوبوں پر تختیاں لگا کر گزارہ کر ر ہے ہیں اور انکے پاس اپنی کارکردگی کے نام پر دکھانے کو کچھ نہیں ہے گرین لائن منصوبہ موٹروے اور ن لیگ کے دور حکومت میں شروع کئے گئے دیگر منصوبوں پر کمال ڈھٹائی سے اپنی تختیاں لگانا سلیکٹیڈ نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے حکمران جتنے بھی ستم ڈھا لیں ان کا یوم حساب قریب ہے آئندہ الیکشن میں پورے ملک کے عوام ان سے ایک ایک ظلم کا حساب لیں گے

    مائزہ حمید کا مزید کہنا تھا کہ 2021 پاکستانی عوام پر عذاب بن کر گزر رہا ہے لوگ بے روزگاری ومہنگائی اور حکومت کی نااہلیوں اور نالائقیوں کا رونا رو رہے ہیں جاتے جاتے یہ سال موجودہ نااہل حکمرانوں کو بھی ساتھ لیکر جائے گا اب حکمرانوں کی اقتدار کے ایوانوں سے رخصتی نوشتہ دیوار ہے اور سال 2022 عام انتخابات کا سال ثابت ہوگا پی ڈی ایم کو غیر فعال بنانے کی خاطر حکمرانوں نے سر توڑ کوششیں کیں مگر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا نواز لیگ تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چل رہی ہے اور جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کی خاطر اپنی مثالی جدوجہد جاری رکھے گی

    نیازی اینڈ کمپنی نے پاکستان کا مستقبل مخدوش کردیا، مائزہ حمید

    جب تک یہ حکومت رہے گی پاکستان کیلئے کوئی اچھی خبر کی توقع نہ رکھے۔مائزہ حمید

    حکمران ہوش کے ناخن لیں ملک ناز ک موڑ پر ہے،مائزہ حمید

    پی ٹی آئی نے کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کردیئے ،مائزہ حمید

    خان صاحب،عوام پر مہنگائی اور بے روزگاری کے بم پھینکنا بند کر دیں.مائزہ حمید

    سیاسی میدان کوبھی کرکٹ کا میدان سمجھنے والے ناکام ہو گئے، مائزہ حمید

    تبدیلی اب رسوائی اور سونامی بدنامی بن گئی ہے،مائزہ حمید

    عوام پر مسلط کردہ حکومت کچھ دینے کے بجائے ان سے چھین ہی رہی ہے،مائزہ حمید

    عام عوام کے ساتھ تبدیلی سرکار نے بہت ظلم کر لیا ،مائزہ حمید

    عمران نیازی نے لوگوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ،مائزہ حمید

    سلیکٹڈ حکمرانوں سے اب اچھائی کی توقع نہیں،مائزہ حمید

    پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے قوم سے مسکراہٹ بھی چھین لی گئی ،مائزہ حمید

    وزیر اطلاعات رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، مائزہ حمید

    عوام کو بچانا ہے عمرونا وائرس کو بھگانا ہے،مائزہ حمید

    عمران نے اپنے وزیروں،مشیروں کو این آر او دے دیا،مائزہ حمید

    پاکستان نے کبھی ایسی تباہی نہیں دیکھی،مائزہ حمید

    ہمیں نیا پاکستان نہیں پرانا پاکستان چاہیے،مائزہ حمید

    نالائق حکمران بتائیں ایک کروڑ نوکریاں ، پچاس لاکھ گھر کہاں گئے؟ مائزہ حمید

    تحریک انصاف نے ملکی معیشت کو خطرے سے دوچار کر دیا ،مائزہ حمید

  • وزیراعظم کا "کلین گرین پاکستان” منصوبے پر مکمل فوکس

    وزیراعظم کا "کلین گرین پاکستان” منصوبے پر مکمل فوکس

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کی پریس کانفرنس
    وزیراعظم کی زیر صدارت کل کلائیمٹ چینچ کی ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس ہوا ہے, اس حوالے سے وزیراعظم کو بریف کیا ہے, پاکستان میں گذشتہ تین برسوں کے دوران گرین ہاوس گیسز کی شرح میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے، پیرس معاہدہ کے دوران جو تخمینہ لگایا تھا اس سے ہم اس وقت نیچے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے جنگلات کی کٹائی کی شرح میں کمی لائی ہے، دوہزار بارہ میں ہم سالانہ بارہ ہزار ہیکٹر درخت کاٹ رہے تھے، اب دوہزار اٹھارہ میں ڈی فاریسٹیشن کی شرح کم ہوکر آٹھ ہزار ہیکٹر تک آگئی ہے، جنگلات کے کٹاو کو روکنے میں بلین ٹری سونامی منصوبے کا اہم کردار ہے۔ عالمی سطح پر گرین ہاوس گیسز کی مجموعی مقدار میں ہمارا حصہ محض ایک فیصد سے بھی کم ہے، گرین ہاوس گیسز کے اخراج کو کم کرنے میں دس بلین ٹری منصوبہ اہم کردار اداکرے گا،دس بلین ٹری منصوبہ ملک میں۔صاف ماحول کا ضامن بنے گا۔ وزیراعظم کا اس منصوبے پر مکمل فوکس ہے، اپوزیشن اس منصوبے پر سیاست کرتے ہیں ان سے کہتا ہوں کہ اس پر سیاست نہ کرے، یہ پاکستان کے مستقبل کا منصوبہ ہے،سندھ میں مینگروز پودوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ہم مزید ایک ارب مینگروز اگائیں گے۔
    ملک۔امین اسلم کا کہنا ہی کہ شہروں میں سیلاب آنے والا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے. لاہور میں ستر فیصد درخت ختم ہو گئے ہیں، شہروں کو کنکریٹ کا شہر بنا دیا ہے _اس کا حل درخت لگانا ہے ،موسم بہار میں شجر کاری مہم کا آغاز کریں گے
    تین سال۔میں تیس سے ایک سو پچاس لیکس بن چکی ہے
    یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے،اس پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں،ہمارا ہتھیار دس بلین ٹری پروجیکٹ ہے,3.2 بلین کا ٹارگٹ ہے،پہلے سال میں پی سی ون ہے اور ہم اس کے مطابق چل رہے ہیں، تیس کروڑ پودے پاکستان کی نرسری میں موجود ہیں، اس سال پہلا ارب مکمل کریں گے
    ملک۔امین اسلم کا کہنا ہے کہ نیچر ریزرو اور نیشنل پارکس بنائے جا رہے ہیں.اولیو ٹری سونامی اگلے سیزن سے شروع کر رہے ہیں اور اسلام اباد زو بلین ٹری پروجیکٹ کے تحت بنائے گے نیز ہم نے کلین گرین منصوبے کے تحت نوکریاں دی اور 35سو ایکٹر زمین واگزار کرائی اور اس پر پندرہ سو ایکٹر پر جنگلات لگائے ہیں. چیچہ وطنی میں بھی پلانٹیشن کی گئی ہے.