Baaghi TV

Tag: منظور پشتین

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظور پشتین سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظور پشتین سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے اختیار مانگا ہے، پشتونوں کا مقدمہ میں لڑوں گا

    پشاور میں علی امین گنڈاپور اور منظور پشتین کے درمیان ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میں نے کہہ دیا جرگہ ہوگا، اس کا میں میزبان ہوں، رکاوٹیں ہٹانے میں تو میں ویسے بھی تگڑا ہوں، رکاوٹیں ہٹا دوں گا، جنہوں نے پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا وہ ملک کیساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، وفاقی حکومت نے صوبے کی روایات پر حملہ کیا جو قابلِ مذمت ہے، قبائل نے پاکستان میں امن کے لیے قربانیاں دی ہیں، جرگہ اپنے طے شدہ مقام پر ہو گا جس میں مسائل پر مشاورت ہو گی، امن ہمارا بڑا مطالبہ ہے، پشتون روایات کے مطابق جرگہ ہو رہا تھا، امن کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتا، وفاقی حکومت کو بتایا کہ جرگہ کروں گا، آج جرگہ ہو گا، میں اس جرگے کا میزبان ہوں، بڑے مقصد کے لیے چھوٹی باتوں کو درگزر کرنا پڑتا ہے،اب میری کوشش ہے کہ امن کو قائم کروں اور حل صرف مذاکرات ہی سے ممکن ہے،آج جو جرگہ ہوگا اس میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری میں نے لی ہے،محسن نقوی نے اگر کسی کو سب سے زیادہ نقصان دیا تو مجھے دیا لیکن عوام کے لیے میں ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں،تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ رکھیں گے،جائز مطالبات ہر حال میں تسلیم کیے جائیں گے،

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں منظور پشتین کے خلاف تھانہ ترنول میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی

    پولیس نے منظور پشتین کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے عدالت سے منظور پشتین کے مزیدجسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، ملزم منظور پشتین کے وکیل نے درخواست ضمانت دائر کی،عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کر دی اور منظور پشتین کو جوڈیشیل ریمانڈ‌پر بھجوا دیا، ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت پر عدالت نے فریقین کو دو جنوری کے نوٹس جاری کر دیئے

    واضح رہےکہ منظور پشتین پر اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کامقدمہ درج ہےمنظور پشتین کو بلوچستان کے حکام نے گرفتار کر کےاسلام آباد پولیس کے حوالے کیا تھا،وہ مختلف مقدمات میں اسلام آباد پولیس کو مطلوب تھے

    پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بلاول کے بعد مریم نواز بھی بول پڑیں

    ریاست مخالف مہم، پی ٹی ایم کے خلاف پاکستان کے وکلاء نے کاروائی کا مطالبہ کردیا

    پی ٹی ایم کا بیانیہ نیا نہیں ،فواد چودھری

    پی ٹی ایم پاکستان کا نعرہ لگائے تو….وزیر داخلہ کی پی ٹی ایم کو بڑی پیشکش

  • منظور پشتین کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ درج

    منظور پشتین کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ درج

    لاہور: پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

    باغی ٹی وی: مقدمہ میں دہشت گردی ، بغاوت ،اداروں کے خلاف اکسانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق منظور پشتین نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں افواج کے خلاف تقریر کی۔

    ارشد شریف کیس: تحقیقات کے منتظر ہیں تاکہ اس کو مدنظر رکھ کر آگے کا لائحہ عمل بنایا…

    انہوں نے قومی سلامتی کے اداروں کو بلا جواز تنقید کا نشانہ بنایا۔ منظور پشتین کے ساتھی ہال میں اداروں کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے یہ مقدمہ نعیم مرزا نامی شہری نے لاہور کے سول لائنز تھانے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997-11-X کے تحت درج کرایا ہے۔
    https://twitter.com/ManzoorPashteen/status/1584518941585833984?s=20&t=-fFOkiaxYtLPIQyBFE6SsQ
    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں پشتین نے کہا کہ کانفرنس میں تقریر پر ان کے خلاف غداری اور دھمکی کے الزام میں ایک شکایت درج کی گئی ہے ظلم جبر کے خلاف حق کے آوازوں کو ایف ائی ارز، جیل یا پروپیگنڈو سے نہیں دبایا جاسکتا ہے ہاں اسکا حل صرف اور صرف انصاف دینا ہے۔

    ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ وہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور کے آواری ہوٹل میں موجود تھے جہاں منظور پشتین نے ”اپنی تقریر کے دوران ریاستی حکام اور کمانڈروں کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا۔

    اڈیالہ جیل میں گنجائش سے180 فیصد زائد قیدی موجود،119میں ایچ آئی وی ایڈز پازیٹو…

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پشتین کے 15 سے 20 حامیوں نے فوج کے خلاف نعرے لگائے اور ”لوگوں کو مسلح افواج اور ریاست کے خلاف اکسانے“ کی کوشش کی۔ پی ٹی ایم کے سربراہ نے بغیر کسی جواز کے قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید کی پشتین نے نسلی تعصب کو ہوا دی، اور پوری ریاست کو دھمکی دی پشتین کو ان کہے الفاظ کیلئے جوابدہ ہونا چاہیے۔
    https://twitter.com/fbasvi/status/1584199586255863809?s=20&t=Cdwkx2ukphlqr-CRFeHFXA
    واضح رہے کہ ایک روز قبل پشتین نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت ہے اور آرمی چیف بادشاہ بنتا ہے جو تمام احکامات جاری کرتا ہے۔

    خیال رہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران جیالے اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان ہال میں آمنے سامنے ہو ئے تھےوزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کے دوران وکلا نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کے لیے نعرہ بازی کی۔ جس پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ’آپ وہاں جا کر احتجاج کریں جو ان کو رہا کر سکتے ہیں جس پر آج بلاول بھٹو نے اپنے رویے پر ندامت کا اظہار کیا ہے-

    جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کے تین ججز کی نامزدگی کی منظوری دیدی

    پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ میں نے جس طرح نعروں کا جواب دیا وہ نامناسب تھا، ایک وفاقی وزیر کو اِس طرح کا رویہ زیب نہیں دیتا ہماری حکومت انسانی حقوق اور آزادی صحافت پریقین رکھتی ہے، انسانی حقوق پربات کرنے کے پلیٹ فارم پر وفاقی وزراء کو بھی دعوت دی جاتی ہے-


    انہوں نے کہا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں لگنے والے نعرے نامناسب تھے، ہم سب نے ملک بھر میں دہشت گردی کی آگ کا سامنا کیا ہے، ہم سب دہشت گردی کی آگ کا شکار ہوئے، ہمارا خاندان، عام شہری بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری فوج کے سپاہی دہشت گردی کے خلاف صف اول کا کردار ادا کرتے ہیں، ہماری فوج کے سپاہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، ہمیں سیاست کرتے ہوئے ضرور سوچنا چاہیےکہ نعرے لگاتے وقت شہدا کےخاندانوں کو تکلیف نہ ہو۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکن اور دوسری تنظیموں کے لوگ بھی نعرے لگارہے تھے، میں نے جیسے ان کا جواب دیا تھا، وہ نامناسب تھا، بہتر طریقے سے جواب دیا جاسکتا تھا۔

  • منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    وہ تمام دوست جو سمجھتے ہیں کہ کالمز اور تجزیے بوٹ پالش کرنے لئے لکھے جاتے ہیں ان کے لئے اطلاعا عرض ہے کہ ملک ہمارا ہے ، ریاست ہماری ہے ، حکومت ہماری ہے تو فوج بھی ہماری ہے ۔ جہاں جائز تنقید ہو اس سے نہیں گھبراتا لیکن اگر ریاست کے حامی بیانئے پر کوئی بوٹ پالشیا بھی کہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ منظور پشتین کا مسنگ پرسنز سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کسی حد تک جائز ہے لیکن ان تحقیقات کے لئے عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں ، ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور جمہوری نظام جیسے کیسے جاری ہے ۔ اگر واقعی پی ٹی ایم کے تحفظات ہیں تو انہیں بین الاقوامی برادری ، عالمی میڈیا اور بھارتی خٖفیہ ایجنسی را کے ہاتھوں آلہ کار بننے کی بجائے اپنے اداروں سے تعاون کرنا چاہیے ۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی پانی ہو جائے ۔ لیکن یہ ۔ ۔ ۔ ’ کیپٹن میجر ۔ ۔ دہشت گرد‘ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ’یہ جودہشت گردی ہے ۔ ۔ اس کے پیچھے وردی ہے ‘ جیسے نعروں کا پرچار کرتے ہوئے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کردینا ، بین الاقوامی میڈیا پر خبروں کی زینت بننے کے لئے اپنے بندوں کو مروا دینا ۔ کس کے بیانئے کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ بالکل واضح ہوچکا ہے ۔ لنڈے کے لبرلز جورات کو امرت اور شام میں کالی کافی پی کر فیس بکی دانشوری جھاڑتے ہوئے برملا لکھ ڈالتے ہیں ’ہائے پی ٹی ایم کے ساتھ تو ظلم ہورہا ہے ‘ ۔ انہیں اگر زمینی حقائق کا علم نہیں تو اپنی دانشوری اپنے پاس رکھیں اور سچ اور جھوٹ کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ مظلوموں جیسا چہرہ بنا کر عالمی میڈیا کے سامنے دکھڑے رونے والی پی ٹی ایم کے پاکستانی میڈیا پرمبینہ بلیک آوٹ پر دانشوری جھاڑنے والے ذرا یہ بتائیں کہ بھارتی میڈیا خالصتان موومنٹ پر واویلا کرنیوالوں کو کتنی کوریج دیتا ہے ۔ یا عالمی میڈیا بھارت کے خلاف اس استحصال پر لب کشائی کیوں نہیں کرتا ۔ اسے چھوڑیں مقبوضہ وادی کشمیر کے حریت پسندوں کا موقف کونسے بھارتی میڈیا پر جاری ہوتا ہے ۔ بھارت حریت رہنماوں کو مکمل کوریج کیوں نہیں دیتا ۔ ۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ کس طرح احمقانہ مطالبوں پر تلا ہوا ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں سات سے زائد مرتبہ منظور پشتین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ پاک فوج کے ساتھ بیٹھ کر تنازعے کو حل کرے ۔ موصوف ایک مرتبہ بھی بیٹھنے پر رضا مند نہیں ہوئے ۔ ریاست ایسے ریاست مخالف عناصر کے ساتھ اور کیا ہمدردی کرے کہ ریاست مخالف بیانئے کے باوجود پی ٹی ایم کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہے ۔ اگر ریاست اتنی ظالم ہوتی تو چند افراد پر مشتمل را کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اس جتھے کو کچلنے میں دیر ہی کتنی لگنی تھی ۔ معاملہ بین الاقوامی مراعات ، کینیڈا اور جرمنی کی شہریت اور بھارت سے فنڈنگ کا ہے ۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ برطانوی نشریاتی ادارہ لکھتا ہے کہ پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں ہے ۔ کوئی لندن والوں سے پوچھے کہ رائل ملٹری تو دور کی بات اسکاٹ لینڈ یارڈ کی چوکی پر حملہ کرنے والے کسی بھی شدت پسند کا موقف آپ بی بی سی پر چلا کے دکھائیں ہم مان جائیں گے ۔ بی بی سی سمیت سارے بھارت نواز میڈیا کی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے اور اس سے صاف واضح ہے کہ پی ٹی ایم کو کس کی حمایت حاصل ہے ۔ ۔ یہ بین الاقوامی سازش ہے ، بھارت کی فنڈنگ ہے اور مقصد ریاست پاکستان اور ہماری افواج کو بلاوجہ کے ایشوز میں الجھائے رکھنا ہے ۔ نوجوان اور پڑھے پشتونوں اور لنڈے کے لبرلز سے گذارش ہے کہ عقل کے ناخن لیں ، سوچ سمجھ کے لکھیں کیونکہ نفرت کا یہ پرچار ملک کو بہت بڑے نقصان سے دوچار کر سکتا ہے

  • یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

    یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

    مجھے اس خبر پر نہ حیرت ہوئی اور نہ کسی طرح کا اچنبھا البتہ اس بات پر میں حیران ہوں کہ پی ٹی ایم اب تک اس عمل کی طرف راغب کیوں نہیں ہوئی کہ بر وقت عوام کو ان کی اصلیت پتہ چلتی اور بات کسی ایک نکتے پر ختم ہو جاتی۔

    خیر یہ حملہ بظاہر آرمی چیک پوسٹ پر ہے لیکن دراصل اس حملے سے پی ٹی ایم بہت سے شکار بیک وقت کرنے کے فراق میں ہے پر شاید دیر ہو چکی کہ میں پہلے کہہ چکا کہ اس عمل کی جانب راغب ہونے میں پی ٹی ایم کی دیر نے ان کے اس وقت کیے اس جارحانہ عمل کو رائیگاں کردیا ہے۔

    بھارتی قونصلیٹ متحرک ہوچکے پی ٹی ایم کی مکمل سپورٹ کے لیے افغانستان سے لیکر یورپ و امریکہ تک اور افغان و مغربی میڈیا جو مہینوں سے پی ٹی ایم کو آؤٹ آف دا وے کوریج دیکر تشہیر کا موقع دے رہا تھا اب کھل کر پاک فوج کے خلاف شدید اور سخت پراپیگنڈا چلانے جارہا ہے جس میں دوبارہ انھی لوگوں کو بولنے کا موقعہ دیا جائے گا جنہیں بیرون ملک بار بار آزمانے کے باوجود وہ کوئی خاص تیر نہیں مار سکے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے افغانستان, بھارت, امریکہ اور اسرائیل کے لیے۔

    مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاحب کی آخری پریس کانفرنس کے بعد یقین اور انتظار تھا کہ کب پی ٹی ایم ایسا قدم اٹھاتی ہے جس میں عام پختون اور فوج آمنے سامنے آجائے لیکن شاید کچھ دیر ہوگئی, جس میں ایک وجہ اسلام آباد میں زیادتی کے بعد قتل ہوئی بچی فرشتہ کا کیس سامنے آنا تھا۔

    کہ پی ٹی ایم کو لگا کہ ہمیں ایک معصوم افغان لاش مل گئی ہے وہ بھی دارلحکومت اسلام آباد سے تو ہم جتنا پریشر ڈویلپ کرسکتے ہیں کرلیں اور عوام کو ایک داخلی قانونی واقعہ کی آڑ میں گھیر کر فوج کے مد مقابل لے آئیں اور اس خانہ جنگی کی بنیاد ڈال دیں جس میں ان سے پہلے ٹی ٹی پی والے ناکام ہو گئے اور بری طرح پٹ کر واپس مالکان کی گود میں جا بیٹھے۔

    گلا لئی اسمعیل اور محسن داوڑ کا فرشتہ قتل کیس کی آڑ میں فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا نئی بات نہیں تھی پر اس دفعہ ان کی حرکت میں شدت کے ساتھ یہ عنصر غالب نظر آیا کہ "آر یا پار”, مطلب اب عوام بالخصوص ان کی حامی پختون عوام کو جتنا مینیوپلوٹ کیا جاسکتا ہے فوج کے خلاف کیا جائے اور حالات اس نہج پر لائے جائیں کہ ان کے حامیان بندوق اٹھا کر فوج کی تنصیبات کا رخ کریں اور وہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں جو ٹی ٹی پی کی سرکوبی کے بعد تھم گیا تھا۔

    اسلام آباد کی شاہراہوں پر ناکامی اور عوام کے اشتعال کو دیکھ کر محسن داوڑ نے آج ریڈ لائن کی بھی بارڈر لائن کراس کرنے کی ٹھانی کہ اس کے بیرونی آقا مسلسل اس کی ناکامیوں کے بعد اس کو ری پلیس کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ اسی ہفتے میں وزارت داخلہ سے پی ٹی ایم کو سیکیورٹی اپڈیٹ دیا گیا تھا ایجنسیوں کی رپورٹ کے تناظر میں کہ این ڈی ایس اور را جلد ہی پی ٹی ایم کی کور کمیٹی اور رہنماؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہذا اپنی سیکیورٹی کا بندوبست کرلیں, اسی تھریٹ الرٹ کی وجہ سے محسن داوڑ, گلالئی اسمعیل, علی وزیر اور منظور پشتین کو یہ سوجھ رہا ہے جو وہ کرتے پھر رہے ہیں کہ جتنا ہوسکے یہ سب مین سٹریم نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنے رہیں اور ان کی پراپیگنڈا مشینریاں چلتی رہیں۔

    اس وقت دشمن کا وار بلکل سیدھا اور براہ راست ہے کہ وہ پاکستان کو ففتھ جنریشن, ہائبرڈ وار اور انفارمیشن وار فیئر میں بلکل وقفہ اور گنجائش دینے کو تیار نہیں بالخصوص ایکٹو لسانی جماعتوں اور مسلکی گروہوں کی آڑ میں مہرے ہلا کر۔

    اس وقت محب وطن ایکٹوسٹس ہونے کے ناطے ہمیں ارد گرد پوری نظر رکھنی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے سلیپر سیلز یکدم ایکٹو ہونگے اور پاک فوج کے خلاف من گھڑت کہانیاں اور پراپیگنڈے آن کی آن میں پھیلائے جائیں گے تاکہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف تیار ہو سکے۔

    محسن داوڑ اور علی وزیر نے یہ داؤ بہت سوچ سمجھ کر اور مکمل پلاننگ کے ساتھ کھیلا ہے تاکہ ایک افراتفری مچ جائے اور یہ لوگ فرشتہ مرڈر کیس کے بعد اصلی نسلی پختونوں کے جس عتاب کا شکار ہونے جا رہے تھے اور جس طرح انھوں نے ریاست کو للکار کر اپنی شامت بلائی تھی, اس سے فی الوقت کسی اور طرف موڑ کر اپنی جان خلاصی بھی کروا لیں, بیرونی آقاؤں کو بھی راضی کر لیں اور حامیان سمیت ناراض پختونوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ

    "یہ جو دشتگردی ہے, اس کے پیچھے وردی ہے”۔

    لیکن میں پورے وثوق سے بتاتا چلوں کہ دراصل

    "یہ جو وردی ہے, اس کے پیچھے پیچھے دہشتگردی ہے”۔

    مطلب اس وقت دوبارہ پھر سے "وردی” کو "دہشتگردی” کا شکار بنانے کی کوشش ہے تاکہ جس طرح ٹی ٹی پی کے دور میں "وردی” پہننا جرم بنا تھا اور "وردی والوں” کو "دہشتگردی” کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا بالکل اسی طرح دوبارہ "وردی” کے پیچھے ہاتھ دھو کر لسانی دہشتگرد پڑ گئے ہیں تاکہ "وردی” پہننا ایک بار پھر جرم بن جائے۔

    لیکن بس, اب کی بار ان شاء ﷲ ہم ان اندرورن و بیرون اور دیدہ و نادیدہ دشمنوں کا یہ وار کامیاب نہیں ہونے دیں گے جس کو بڑی محنت سے ہم ایک بار ٹکر دے چکے اور اب دوبارہ یہ یہی حرکت کریں گے تو پھر جواب ہم بھی شدید اور سخت دیں گے۔