Baaghi TV

Tag: منو بھائی

  • کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو اپنے دور کے صاحب طرز ادیب عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنی پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    hussain saqib

  • منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں

    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں

    منو بھائی

    19 جنوری یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ممتاز ترقی پسند و مزدور دوست ادیب، شاعر ، صحافی اور کالم نگار منو بھائی 6 فروری 1933 کو وزیر آباد پنجاب میں محکمہ ریلوے کے ملازم محمد عظیم قریشی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی اردو، پنجابی اور فارسی جبکہ ان کے ماموں شریف کنجاہی پنجابی کے معروف شاعر تھے۔ منو بھائی جن کا اصل نام منیر احمد اور قریشی قبیلے سے تعلق تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم وزیر آباد جبکہ گورنمنٹ کالج اٹک سے انٹر میڈییٹ تک تعلیم حاصل کی لیکن دوران تعلیم سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی وجہ سے انہیں کالج سے فارغ کر دیا گیا جس کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے ۔ والد محمد عظیم قریشی کی سفارش پر انہیں محکمہ ریلوے میں ملازمت مل گئی مگر منیر احمد کو سرکار کی پابندی گوارا نہیں تھی اس لیے سرکار کی نوکری چھوڑ کر راولپنڈی چلے گئے جہاں انہوں نے روزنامہ ” تعمیر” سے اپنی صحافتی زندگی کے کیریئر کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں وہ روزنامہ امروز میں چلے گئے وہاں سے پھر پی پی پی کے بانی چیئرمین اور صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو انہیں روزنامہ ” مساوات” میں لے گئے۔ منیر احمد نے روزنامہ تعمیر میں ” اوٹ پٹانگ ” کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی مگر احمد ندیم قاسمی نے انہیں ” منو بھائی ” کا نام دے دیا جس کے بعد ان کی پہچان منو بھائی کے نام سے ہو گئی اور وہ شاعری و کالم نگاری منو بھائی کے نام سے ہی کرتے رہے ۔ وہ اپنا کالم ” گریبان” کے عنوان سے لکھتے رہے ۔ روزنامہ تعمیر، امروز اور مساوات کے بعد وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے ۔ منو بھائی ایک ترقی پسند اور مزدور و غریب دوست شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ اپنی تحریروں ، ڈراموں اور شاعری میں گلی، کوچوں اور محلوں کی حقیقی زندگی کی منظر نگاری کرتے تھے۔

    منو بھائی کے پی ٹی وی پر پیش کیے گئے ڈرامے بہت زیادہ مشہور و مقبول ہوئے جن میں ” سونا چاندی ” سب سے زیادہ مشہور ہوا مگر اس کے علاوہ ان کے دیگر ڈرامہ سیریلز بھی بہت پسند کیے گئے جن میں ” جھوک سیال، خوب صورت، گمشدہ ، کی جانے میں کون؟، عجائب اور دشت شامل تھے ۔ دشت میں انہوں نے بلوچستان کی صحرائی زندگی اور ثقافت کی منظر کشی کی ۔ منو بھائی کی تصانیف میں ، جنگل اداس ہے ، فلسطین فلسطین ، محبت کی ایک سو ایک نظمیں ، انسانی منظر نامہ (ترجمہ) اور ان کا پنجابی شعری مجموعہ ” اجے قیامت نئیں آئی” شامل ہیں ۔ منو بھائی طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد 19 جنوری 2018 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ 2014 میں انہوں نے ایک لاکھ 45 ہزار کتب پر مشتمل اپنی ذاتی لائبریری گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا وہ خون عطیہ کرنے والے ادارے ” سندس فائونڈیشن” کے تاحیات چیئرمین رہے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نواز گیا۔

    نمونہ کلام

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں
    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
    روندے روندے سوں رہندے ساں ایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
    بھک لگدی اے منگ نیں سکدے ملدا اے تے کھا نیں سکدے
    نیں ملدا تے رو نیں سکدے نہ رویے تے سوں نہیں سکدے

  • ڈرامہ "سونا چاندی” کےمصنف "منو بھائی” کودنیا سے رخصت ہوئے 4 برس بیت گئے

    ڈرامہ "سونا چاندی” کےمصنف "منو بھائی” کودنیا سے رخصت ہوئے 4 برس بیت گئے

    معروف ڈرامہ نویس،مصنف،شاعر اور کالم نویس منو بھائی کو اپنے دنیا سے رخصت ہوئے چار برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی : منوبھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا وہ 1933ء میں وزیر آباد میں پیدا ہوئےگریجوایشن گورنمنٹ کالج اٹک سےکی انہوں نےصحافت اورادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ ادب شناسوں اور درد دل رکھنے والوں میں انتہائی مقبول تھے اسٹیشن ماسٹر کے گھر جنم لینے والے منیراحمد قریشی عرف منوبھائی نے تحریر و تقریر میں سادگی کو شعار بنایا۔

    معروف براڈ کاسٹریاور مہدی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

    معاشرتی رویوں پرگہری نگاہ رکھنے والےمنو بھائی نے بہت سے ڈرامے لکھے لیکن 1982ء میں پی ٹی وی کے لیے لکھے گئے سونا چاندی ڈرامے نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیاادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے 2007 میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

    شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار رشید نازکی وفات،وزیراعلیٰ کا اظہار افسوس

    اپنی نظم اجے قیامت نئیں آئی’ میں منو بھائی نے اپنے اردگرد ہونے والی انہونیوں پر مخصوص اندازمیں طنز کے نشتر برسائے،منو بھائی نے اپنی تحریروں میں معاشرے میں پائی جانے والی ناہمواریوں کو اجاگر کیا ان کے دیگر ڈراموں میں دشت، جھوک سیال ، آشیانہ اور عجائب گھر شامل ہیں کالم نویسی کی طرح اپنے ڈراموں میں بھی انہوں نے ورکنگ کلاس کے لوگوں کی زندگی اور مسائل پیش کیے۔

    منو بھائی گردوں اور دل کے عارضے میں مبتلا لاہور کے نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے تاہم منو بھائی طویل علالت کے بعد 19 جنوری 2018ء کو 85 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے لیکن ان کے بے باک لہجے اورتحریروں کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔

    سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس ہو گئے