Baaghi TV

Tag: منیر اکرم

  • یو این نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،منیراکرم

    یو این نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،منیراکرم

    نیو یارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے کہا ہے کہ لائیک مائنڈڈ گروپ کا مؤقف ہے کہ یو این نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : منیر اکرم نے کہا کہ لائیک مائنڈڈ گروپ کامؤقف ہے کہ 2030 ایجنڈے پرعمل درآمد تیز کرنے کیلئے مذاکراتی عمل ضروری ہےگروپ نے یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور حل طلب تنازعات کو عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے 2030 ایجنڈے کو تیز کرنے کیلئے ماضی کے معاہدوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے، پچھلے معاہدوں میں تبدیلی قابل قبول نہیں،اقوام متحدہ کا نظام چارٹر کے اصولوں پر عمل سے مضبوط ہوسکتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ گروپ نے پیرس معاہدے کے مطابق ماحولیاتی مالیات کے اضافی پہلو کو کمزور کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہےگرو پ نے زور دیا ہے کہ تمام پائیدار ترقیاتی اہداف یکساں اہمیت کے حامل ہونے چاہئیں ایل ایم جی نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات پر زوردیا، قرضوں کے بحران کے حل، تجارت و ٹیکس مسائل پر فوری توجہ دینے پربھی زوردیا۔

    این ڈی ایم اے کا بحیرہ عرب میں ممکنہ طوفانی صورتحال کا الرٹ

    سلامتی کونسل میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ طاقتور ممالک کی حکمت عملی کے مقابلے سے بچتے ہوئے اصلاحات ہونی چاہئیں تاریخی نا انصافیوں کو دور کیا جانا چاہیےاقوام متحدہ سے توقع ہے کہ وہ مالی، تجارتی اور ٹیکس اصلاحات سے متعلق مرکزی کردار ادا کرے گا۔

    کراچی دھماکہ، جیو فینسنگ میں مشکوک خاتون سمیت متعدد افراد زیر حراست

  • پاکستان قومی سطح پر فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتا رہے گا،منیر اکرم

    پاکستان قومی سطح پر فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتا رہے گا،منیر اکرم

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کو افغان عبوری حکومت کی سرپرستی حاصل ہے-

    باغی ٹی وی :افغانستان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے فتنہ الخوارج کو افغانستان کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج افغان عبوری حکومت کی حمایت سے دہشت گرد حملے کر رہا ہے، پاکستان قومی سطح پر فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتا رہے گا، پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ٹی ٹی پی کے خطرے کو ختم کیا جا سکے،افغانستان میں خواتین کی آواز دبانے پر پاکستان کو تشویش ہے، افغانستان میں انسانی بحران پر بھی پاکستان کو تشویش ہے، افغان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پرعمل کرے، بین الاقوامی برادری افغانستان میں اپنے مقاصد کو نظر انداز نہ کرے۔

    سفیر منیراکرم نے افغانستان کی معاشی بحالی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لے پرعزم ہے۔

    امریکا میں 4 سال بعد شرح سود میں کمی

  • اقوام متحدہ  غریب ممالک کو درپیش چیلنجز کے لیے مربوط  اقدامات کرے، منیر اکرم

    اقوام متحدہ غریب ممالک کو درپیش چیلنجز کے لیے مربوط اقدامات کرے، منیر اکرم

    پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ خوراک، ایندھن اور مالیات کے فوری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے “مربوط اور موثر” اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس نے غریب ترین ممالک اور لوگوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور معاشرے میں عدم مساوات کو بڑھایا ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے کثیرالجہتی کے تحفظ پر اعلی سطح کے اجلاس میں بحث کے دوران کہا کہ دنیا کو اس وقت کورونا وائرس کی وبا، ماحولیاتی تبدیلی اور تنازعات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ وقت خوراک، ایندھن اور مالیات کے فوری چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مربوط اور موثر جواب دینے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے نظم کے بین الاقوامی میکانزم پر عمل کرنے کا ہے۔

    انہوں نے غریب ممالک کو درپیش چیلنجز کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں میں پہلی بار غربت میں اضافہ ہوا ہے، لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے، مہنگائی میں اضافہ ہوا پائیدار ترقیاتی اہداف اور 2030کے ایجنڈا کاحصول میں کمی آ رہی ہے جبکہ 6ممالک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر جنوبی ممالک میں ایک موجودہ معاشی ہنگامی حالات کا سامنا ہے۔

    پاکستانی مندب منیر اکرم نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں(آئی ایف آئیز ) کے ذریعے قرضوں سے نجات اور فنڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل اور ای سی او ایس او سی کی قیادت میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران اور اس کے بعد ایک موثر بین الاقوامی ردعمل کو متحرک کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں لیکن اب بھی اس حوالے سے عالمی اتحاد کی کمی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ویکسین کی فراہمی عدم مساوات نے کورونا وائرس کی وبا کو طول دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو کورونا بحران کے باعث درپیش معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے مالی مدد اور لیکویڈیٹی کی پیشکش نہیں کی گئی۔

    ترقی پزیر ممالک سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ یوکرین کی جنگ اور اس سے متعلقہ پابندیوں کی وجہ سے خوراک کی قلت اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ان کے حالات مزید خراب ہو گئے ہے اور اب وہ عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے کے لیے بھی ادائیگی کریں گے۔

    پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے بہتر معیار زندگی فراہم کرنے کے لیے موثر اور مربوط اقدامات پر مناسب سیاسی توجہ دی گئی ہے لہذا ہمیں ان چیلنجز پر قابو پانے اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت ہےجنہیں ای سی او ایس او سی نے ان اہم اعلامیوں میں اپنایا ہے

  • پاکستان کی بڑی کامیابی، سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا بھارتی خواب چکنا چور

    پاکستان کی بڑی کامیابی، سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا بھارتی خواب چکنا چور

    اسلام آباد: سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا بھارتی خواب چکنا چور ہوگیا، سفارتی محاذ پر پاکستان کی بڑی کامیابی، اقوام متحدہ نے موقف تسلیم کر لیا۔

    اقوام متحدہ میں مستقل رکنیت کے حوالے سے پاکستان کا موقف تسلیم کرلیا گیا، پاکستان کے موقف کو عرب لیگ اور افریقی یونین کی حمایت حاصل ہوگئی، سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے دوتہائی اکثریت ضروری ہے۔

    مستقل رکن بننے کیلئے بھارت کے پاس نصف ارکان کی حمایت حاصل نہیں، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی ہمیشہ خلاف ورزی کی، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔

    یاد رہے کہ 2020 میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں نئے مستقل ممبران کو شامل کرنے کے بارے میں اپنی مخالفت کی تصدیق کرتے ہوئےعالمی برادری پرواضح کردیا تھا کہ بھارت 15 رکنی ادارے میں کسی نشست کے لیے اہل نہیں ہے۔

    واضح رپے کہ بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کے ہمراہ یو این ایس سی کی ممبرشپ کے لیے مہم سازی کررہا ہے۔

    ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے بھارت کے حوالے سے ایک واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک نے آزادی کے بعد سے اب تک 20 جنگیں لڑی ہیں اور خطے خصوصا پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے ایک بار پھر کشمیر کا مقدمہ پیش کر دیا

    بھارت جنوبی ایشیائی ممالک میں 20 سے زیادہ جنگوں میں ملوث رہا ہے اور وہ نہ صرف خطے میں بلکہ خصوصی طور پر پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کی معاونت کررہا ہے۔

     

    انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہمارے پاس بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ناقابل تردید اور واضح ثبوت ہیں’۔

    پاکستانی مندوب نے 193 رکنی جنرل اسمبلی میں سیکیورٹی کونسل اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری ذمہ دار اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

     

    پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، منیر اکرم نے اقوام کوواضح پیغام…

    منیراکرم نے اس وقت برملا کہا تھا کہ ‘بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کی جائز جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے 9 لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، اس کے علاوہ وادی میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ریاست کو ہندو اکثریتی ریاست بنانے کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے باہر سے لوگوں کو لا کر وہاں بسایا جا رہا ہے’۔

    انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘بھارت، پاکستان کے خلاف مسلسل جارحیت کر رہا ہے اور لائن آف کنٹرول پر ہماری طرف معصوم شہری آبادیوں کو آرٹلری، چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جارہا ہے’۔

    ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت جیسا ملک سلامتی کونسل کا مستقل یا عارضی رکن بننے کی صلاحیت یا اہلیت نہیں رکھتا’۔

     

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر ولکن بوزکیر کی پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر…

    پاکستانی مندوب نے کہا تھا کہ جنرل اسمبلی نے فروری 2009 میں سلامتی کونسل کی اصلاحات کے لیے بڑے پیمانے پر مذاکرات کا عمل شروع کیا تھا اور اراکین کی تعداد، ووٹ دینے کے طریقہ کار، علاقائی نمائندگی، سلامتی کونسل کے اراکین کی مجموعی تعداد اور کونسل کے کام کرنے کے طریقہ کار جیسے 5 بڑے شعبوں میں اصلاحات کے لیے مذاکرات شروع کئے گئے تھے۔