Baaghi TV

Tag: منی لانڈرنگ کیس

  • منی لانڈرنگ کیس: ملک ریاض اور علی ریاض کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    منی لانڈرنگ کیس: ملک ریاض اور علی ریاض کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    ایف آئی اے عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    منی لانڈرنگ اسکینڈل (مقدمہ نمبر 58/25 اور 59/25 ایف آئی اے سی بی سی) کی سماعت میں عدالت نے واضح اعلان کیا کہ اگر دونوں ملزمان 13 اکتوبر 2025 کو پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا اور کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔سماعت کے دوران مقدمہ نمبر 58/25 میں ملزمان عطا الحسن اور سجاد حیدر جبکہ مقدمہ نمبر 59/25 میں عطا الحسن اور محمد عمران عدالت میں پیش ہوئے اور نقول فراہم کی گئیں۔

    ایک اہم ملزم خلیل الرحمن دونوں مقدمات میں پیش نہ ہوا، اس کے وکیل نے بیماری کی بنیاد پر حاضری معافی کی درخواست دی، تاہم عدالت نے اسے تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا اور حکم دیا کہ خلیل الرحمن کو نقول تبھی ملیں گی جب وہ خود پیش ہوگا.عدالت نے آئندہ تاریخ پر ہر صورت گواہ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی، ورنہ سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا۔

    مقدمہ نمبر 58/25 کی سماعت اب 15 ستمبر اور مقدمہ نمبر 59/25 کی سماعت 17 ستمبر 2025 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    گنڈاپور کی درخواست، غلط نام درج ہونے پر وکیل نے چیف جسٹس کو خط بھیج دیا

    ماہ رنگ بلوچ کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت مل گئی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں اگست کے بجلی بل معاف، اویس لغاری کی تصدیق

    اسکردو کشتی حادثہ: 37 دن بعد احمر لودھی کی میت کراچی پہنچا دی گئی

  • منی لانڈرنگ کیس: پرویز الٰہی کی حاضری معافی منظور، تفتیشی افسر معطل

    منی لانڈرنگ کیس: پرویز الٰہی کی حاضری معافی منظور، تفتیشی افسر معطل

    اسپیشل سینٹرل عدالت لاہور نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ دو صفحات پر مشتمل حکم اسپیشل جج عارف خان نیازی کی جانب سے جاری کیا گیا۔

    تحریری حکم کے مطابق ایف آئی اے نے کیس کے تفتیشی افسر کو کسی اور انکوائری کے سلسلے میں معطل کر دیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اب چالان کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی عدالت میں جمع کروایا جائے گا۔عدالت نے عبوری حکم میں ہدایت دی کہ آئندہ سماعت تک پرویز الٰہی سمیت دیگر ملزمان کا چالان لازمی طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

    سماعت کے دوران پرویز الٰہی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی، جس پر شکایت کنندہ کے وکیل نے اعتراض اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ صرف تاخیری حربہ ہے کیونکہ گزشتہ سماعت پر بھی بیڈ ریسٹ کا عذر پیش کیا گیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ درخواست میں 10 روز کے بیڈ ریسٹ کا ذکر تھا اور آج بھی اسی مدت کی بنیاد پر معافی مانگی گئی ہے، عدالت نے یہ بھی باور کرایا کہ ابھی تک کیس میں ٹرائل کا آغاز نہیں ہو سکا، جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

    عدالت نے پرویز الٰہی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 اگست تک ملتوی کر دی۔

    کراچی میں 56 مخدوش عمارتیں خالی، 740 عمارتوں کا دوبارہ سروے ہوگا

    سینیٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا ترمیمی بل منظور

    25 ممالک کا غزہ جنگ بندی اور سامان کی فوری ترسیل کا مطالبہ

  • منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف اور حمزہ شہباز  کیخلاف مقدمے میں بڑی پیشرفت

    منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف مقدمے میں بڑی پیشرفت

    لاہور ہائیکورٹ میں منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر کیخلاف مقدمے میں بڑی پیشرفت میں عدالت عالیہ نے شہزاد اکبر کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دیا۔

    شہزاد اکبر نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی بریّت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا تاہم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت کے دوران وکیل کی جانب سے پیش نہ ہونے پر اسے خارج کر دیاعدالت کا کہنا تھا کہ کیس کو عدم پیروی کے باعث نمٹا دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 2020 میں شریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا، جس پر ٹرائل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔

    آسٹریلیا: بارشوں اور سیلاب سے تباہی،150 مقامات پرفلڈ وارننگ جاری

    ’’ 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی‘‘ تھنک ٹینک کی رپورٹ جاری

    بھارتی فوج کے میجر کی بیوی کا دوسرے افسر سے معاشقہ،میجرفوٹیج لینے ہوٹل پہنچ گیا

  • مصطفی عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کیخلاف مزید اہم انکشافات

    مصطفی عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کیخلاف مزید اہم انکشافات

    ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس کی رپورٹ انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں جمع کرا دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی سینٹرل کے انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان عرف آرمی کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ملزم ارمغان نے ملازمین کے نام پر کھولے گئے اکانٹس کے ذریعے 21 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کیں۔ دو آف لائن بٹ کوائن والٹ استعمال کر رہا تھا جن میں ممکنہ طور پر ہزاروں ڈالر کے بٹ کوائن موجود ہیں ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملزم ارمغان عرف آرمی کو پیش کیا۔ ملزم ارمغان کی جانب سے خرم عباس ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ پیش کیا۔ ملزم نے اپنی والدہ کے کہنے پر خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ کے وکالت نامے پر دستخط کیے۔

    اب تک کی تحقیقات میں مزید سراغ ملے ہیں۔ وکیل صفائی خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ نے مقف دیا کہ ارمغان کی میڈیکل رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں، ارمغان کے طبی معائنے کی رپورٹ کو چیلنج کریں گے۔تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد علی نے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ جس میں کہا گیا کہ ملزم ارمغان کے خلاف 2019 سے 2025 کے دوران دہشتگردی اور منشیات سمیت متعدد مقدمات درج ہیں۔ملزم کال سینٹر کے ذریعے غیر ملکیوں سے فراڈ کرتا تھا۔ ملزم نے غیر قانونی طریقے سے حاصل شدہ رقم مرچنٹ اکانٹ میں ٹرانسفر کی تھی۔ملزم سے جیل میں کی گئی تفتیش میں منی لانڈرنگ کے شواہد ملے۔ ملزم ارمغان نے ملازمین کے نام پر کھولے گئے 7 اکانٹس استعمال کیے۔ ملزم ارمغان نے ان اکانٹس کے ذریعے 21 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کیں۔ ملزم نے جنوری 2023 سے 23 ستمبر 2025 تک 15 کروڑ 50 لاکھ کی قیمتی گاڑیاں خریدیں۔

    ملزم ارمغان سے 11 کروڑ مالیت کی 2 گاڑیاں برآمد کی جا چکی ہیں۔ملزم ارمغان دو آف لائن بٹ کوائن والٹ استعمال کر رہا تھا۔ ایکسوڈس اور الیکٹرم نامی بٹ کوائن والٹ میں ممکنہ طور پر ہزاروں ڈالر مالیت کے بٹ کوائن موجود ہیں۔ ان والٹس کے پاسورڈ اور پرائیویٹ Key تک رسائی ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ملزم سے بے نامی ٹرانزیکشن اور بینک اکانٹس سے متعلق مزید تفتیش کرنی ہے۔
    ملزم سے مزید ایک بلیک ریو گاڑی بھی برآمد کرنی ہے۔ تفتیشی افسر نے پیش رفت رپورٹ میں کہا کہ ملزم کے 18 لیپ ٹاپ اور دیگر اشیا کی انکوائری جاری ہے۔ ملزم سے ملنے والے لیپ ٹاپ کا فرانزک کرانا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ پنجاب فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو ڈائریکشن دی جائے کہ وہ اس معاملے کو فوری دیکھے۔تفتیشی افسر نے ملزم کے خلاف عبوری چالان پیش کرنے کی مہلت کی بھی درخواست جمع کرائی۔
    تفتیشی افسر نے رپورٹ میں مزید کہا کہ ملزم کا تعلق بین الاقوامی جعلساز گروپ سے ہے۔ ملزم نے اپنے والد کے ساتھ مل کر جعلسازی کے لیے آئی ٹی کمپنی بھی بنا رکھی تھی۔ کمپنی کی ماہانہ آمدن 3 سے 4 لاکھ امریکی ڈالر تھی۔ ملزمان کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم امریکی بیس کمپنی میں منتقل کرتے تھے۔ملزم نے کہا کہ مجھے ایف آئی اے نے نہیں مارا۔ آپ کے حکم پر میرا میڈیکل بھی کرایا گیا ہے۔میری والدہ سے ملاقات ہو گئی ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔ ملزم کا مزید 9 دن کا ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے ملزم کے ریمانڈ میں 9 دن کی توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ملزم ارمغان کو اسپتال میں طبی معائنے کے بعد صحت مند قرار دے دیا گیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سماعت سے پہلے ارمغان عرف آرمی کا جناح اسپتال میں چیک اپ کروایا گیا تھا۔

    ملزم ارمغان کو سینے میں درد کی شکایت پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ارمغان کا چیسٹ اسکین کرایا، تمام تر چیزیں نارمل ہیں۔انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے منی لانڈرنگ کی آج سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ارمغان عرف آرمی کو ہیش کیا۔تفتیشی افسر نے کہا بہت سی معلومات حاصل کی ہیں، مزید معلومات کے لیئے لیئے 9 دن کا ریمانڈ دیا۔ملزم کی جانب سے خرم عباس اعوان نے وکالت نامہ جمع کرایا۔ ایف آئی اے نے ملزم کے طبی معائنے کی رپورٹ بھی پیش کی جس میں کہا گیا ملزم مکمل طور پر تندرست ہیں۔ عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ قانون کے مطابق ملزم کا حق ہے کہ اپنے وکیل اور اہلخانہ سے ملاقات کرسکتا ہے۔

  • منی لانڈرنگ کیس ، فریال تالپور سمیت 14ملزمان بے گناہ قرار

    منی لانڈرنگ کیس ، فریال تالپور سمیت 14ملزمان بے گناہ قرار

    کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ اور جعلی اکائونٹ کے ذریعے رقم منتقلی مقدمے میں ایف آئی اے نے فریال تالپور سمیت 14 ملزمان کو بے گناہ قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بے گناہ قرار دئیے جانے والوں میں اشرف جتوئی، شہزاد جتوئی، بلال شیخ مرحوم، اسلم مسعود، نورین سلطان، کرن آمنہ، محمد مغیری، سید حسین، حسن شاہ، نصیر عبداللہ، محمد اقبال نور اور دیگر شامل ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔مقدمے میں صدر مملکت آصف زرداری، حسین لوائی اور انور مجید سمیت بیس ملزمان کے نام بھی شامل ہیں، اس حوالے سے ایف آئی اے کا چالان منظور ہوگیا ہے جس میں سے عدالت نے بے گناہ قرار پانے والوں کے نام نکال دیئے ہیں۔

    واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے اور انہیں اربوں روپے کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کرنے سے متعلق مقدمات درج کیے گئے تھے۔2018 میں سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے کم از کم 29 بینک اکاؤنٹس کو جعلی قرار دیا تھا، اور اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان اکاؤنٹس کو 42 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے جنوری 2019 میں جے آئی ٹی رپورٹ اور قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد کو مزید تحقیقات کے لیے بھیج دیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ مقدمات مزید کارروائی کے لیے کراچی کی بینکنگ کورٹ منتقل کر دیے گئے۔ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اور ریاستی پراسیکیوٹر کو سننے کے بعد خصوصی عدالت کے جج جاوید احمد کیور نے حتمی چارج شیٹ منظور کرلی، جس میں فریال تالپور سمیت 14 افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر کالم ٹو میں رکھا گیا اور ان کی رہائی کا حکم دیا گیا ہے۔

    بھارتی یوم جمہوریہ کیخلاف کشمیریوں کا یوم سیاہ اور احتجاج

    واٹس ایپ نےآئی او ایس ڈیوائسز میں نیا فیچر متعارف کرادیا

    عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

  • منی لانڈرنگ کیس،پرویز الٰہی ذاتی حیثیت میں طلب

    منی لانڈرنگ کیس،پرویز الٰہی ذاتی حیثیت میں طلب

    لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالت نے مونس الٰہی کے ریڈ نوٹسز اور بیرون ملک سے گرفتاری سے متعلق جے آئی ٹی کو پیشرفت کے احکامات دئیے،لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت نے پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کے خلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ مقدمہ میں تحریری حکم جاری کر دیا۔تحریری حکم میں کہا گیا کہ پراسکیوٹر کے مطابق پرویز الٰہی دیگر تقریبات میں شرکت کررہے ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اشتیاری ملزمان کی جائیداد قرقی پر رپورٹ جمع کروائے۔حکم نامے میں کہا گیا کہ ریڈنوٹسزکی تعمیل کیلئے جے آئی ٹی معاملے کا تعاقب کرے۔ پراسکیوٹر کے مطابق پرویز الٰہی تشویشناک بیمار نہیں ہیں۔عدالت مقدمہ پر مزید سماعت 28 نومبر کو کرے گی۔خیال رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت نے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی تھی۔لاہور کی احتساب عدالت میں پی ٹی آئی رہنما چودھری پرویز الہٰی کیخلاف ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے ریفرنس پر سماعت ہوئی تھی اے ٹی سی کے جج زبیر شہزاد کیانی نے کیس کی سماعت کی تھی۔دوران سماعت سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے وکلاءنے چوہدری پرویز الہٰی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی جو عدالت نے منظور کرلی تھی۔عدالت نے عدالتی دائرہ اختیار پر وکلاءکو دلائل کیلئے طلب کرتے ہوئے ریفرنس پر مزید سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی تھی۔قبل ازیں29اکتوبر کو منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    سوات میں برفانی تودہ گرگیا،،100 سیاح پھنس گئے

    سوات میں برفانی تودہ گرگیا،،100 سیاح پھنس گئے

    شیخ رشید نے 24 نومبر کو احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

  • منی لانڈرنگ کیس: پرویز الٰہی نے حاضری معافی کی درخواست دائر کردی

    منی لانڈرنگ کیس: پرویز الٰہی نے حاضری معافی کی درخواست دائر کردی

    لاہور: سپیشل سینٹرل عدالت میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے منی لانڈرنگ کیس میں حاضری معافی کی درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی: سپیشل سینٹرل عدالت میں ایف آئی اے منی لانڈرنگ کے مقدمہ کی سماعت آج ہو گی،سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے عدالت پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے،پرویز الٰہی کی میڈیکل رپورٹس کے ساتھ حاضری معافی کی درخواست دائرکردی گئی، ہے-

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز الٰہی کی طبیعت ناساز ہےاور ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دے رکھا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرے۔

    پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی اے کا مزید سمیں بند کرنے کا فیصلہ

    پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ : عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت پر سماعت …

  • منی لانڈرنگ کیس:وزیراعظم شہبازشریف کی بیٹی اشتہاری قرار،دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

    منی لانڈرنگ کیس:وزیراعظم شہبازشریف کی بیٹی اشتہاری قرار،دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہبازشریف کی بیٹی رابعہ عمران کو اشتہاری قرار دہتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے اہلخانہ کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، احتساب عدالت کے جج قمر الزماں نے 19 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ریفرنس میں شامل ملزمان پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ملزموں کیخلاف بے نامی ثابت نہیں ہوئی کیس میں ملزمان کی سزا کا کوئی امکان نہیں ہے، ملزموں کے منجمد اثاثے مقررہ مدت کے بعد بحال ہو جائیں گے۔

    عدالت نے وزیراعظم شہبا شریف ، نصرت شہباز، حمزہ شہباز اور جویریہ علی کو کیس سے بری کردیا، عدالت نے ریفرنس کے شریک ملزموں کو بھی بری کرنےکا حکم دے دیا تاہم شہبازشریف کی بیٹی رابعہ عمران کو اشتہاری قرار دیا اور رابعہ عمران کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے، فیصلے میں کہا گیا کہ رابعہ عمران کے اثاثے منجمد رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے۔

    توشہ خانہ کیس:چیئرمین تحریک انصاف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    واضح رہے کہ احتساب عدالت لاہور نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کا فیصلہ دو دن پہلے سنایا تھا۔ کیس میں نامزد تمام افراد کو بری کر دیا گیا تھا جج قمر الزماں نے کہا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے ان کے مؤکلوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر اور بے بنیاد ریفرنس دائر کیا درخواست دہندگان کے تمام اثاثے قانونی ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پاس باقاعدگی سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں پہلے ہی ظاہر کیے گئے ہیں نیب ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ درخواست گزاروں کو بری کریں –

    سائفر تحقیقات، حکم امتناع واپس لینے کا تحریری حکم جاری

    نیب نے شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس دائر کر رکھا تھا نیب ریفرنس میں شہبازشریف، حمزہ شہباز سمیت ٹوٹل 16 افراد کو نامزد کیا گیا تھا ریفرنس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز، سلیمان شہباز، رابعہ شہباز، نصرت شہباز کو فریق بنایا گیا تھا نیب ریفرنس کے مطابق شریف فیملی سمیت دیگر افراد پر 7 ارب 32 کروڑ سے زائد کی منی لانڈرنگ کا الزام عائد تھا وزیراعظم شہباز شریف پر 5 ارب سے زائد منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام تھا نیب ریفرنس کے تحت حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز پر 1 ،1 ارب تک کے اثاثے اور منی لانڈرنگ کرنے کا الزام تھا۔

    قبل ازیں 10 مئی کو احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے بیٹے حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کو منی لانڈرنگ ریفرنس میں بے گناہ قرار دے دیا تھا اس سے قبل لاہور کی خصوصی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی جانب سے بنائے گئے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کردیا تھا اسی طرح 10 جولائی کو اسپیشل کورٹ لاہور سینٹرل نے وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے منی لانڈرنگ مقدمے میں بری کردیا تھا۔

    سوئیڈن واقعہ:مولانا فضل الرحمان نےملک گیر احتجاج کی کال دیدی

    خیال رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، سلیمان شہباز برطانیہ میں تھے اور انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5 (2) اور 5 (3) (مجرمانہ بدانتظامی) کے تحت 14 دیگر افراد کو بھی اس ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

    شہباز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو ان کی آمدنی کے نامعلوم ذرائع سے مال جمع کرنے میں مدد دی،ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائے گئے 7 والیمز کا چالان 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل تھا جس میں 100 گواہوں کی لسٹ بھی جمع کرا دی تھی اور کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف 100 گواہ پیش ہوں گے تحقیقاتی ٹیم نے 28 بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جو 2008 سے 2018 تک شہباز شریف فیملی کے چپڑاسیوں، کلرکوں کے ناموں پر لاہور اور چنیوٹ کے مختلف بینکوں میں بنائے گئے۔

    میرا خواب ہےکہ پاکستان بھارت کی سرزمین پر ورلڈکپ لفٹ کرے،عطا تارڑ

    ایف آئی اے کے مطابق 28 بے نامی اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے، 17 ہزار سے زیادہ کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کا تجزیہ کیا اور ان اکاؤنٹس میں بھاری رقم چھپائی گئی جو شوگر کے کاروبار سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور اس میں وہ رقم شامل ہے جو ذاتی حیثیت میں شہباز شریف کو نذرانہ کی گئی۔

    چالان میں کہا گیا کہ اس سے قبل شہباز شریف (وزیر اعلیٰ پنجاب 1998) 50 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ میں براہ راست ملوث تھے، انہوں نے بیرون ملک ترسیلات (جعلی ٹی ٹی) کا انتظام بحرین کی ایک خاتون صادقہ سید کے نام اس وقت کے وفاقی وزیر اسحٰق ڈار کی مدد سے کیا یہ چالان شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو مرکزی ملزم ٹھہراتا ہے جبکہ 14 بے نامی کھاتے دار اور 6 سہولت کاروں کو معاونت جرم کی بنیاد پر شریک ملزم ٹھہراتا ہے شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں ہی 2008 سے 2018 عوامی عہدوں پر براجمان رہے تھے-

    منی لانڈرنگ کیس :مونس الہٰی اشتہاری قرار

  • جیکولین فرنینڈس کو 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت مل گئی

    جیکولین فرنینڈس کو 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت مل گئی

    بالی وڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس کو 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت مل گئی ہے۔ اداکارہ نے مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی تھی کہ ان کی تحویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تفتیش پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے اور چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے۔تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ دہلی کی ایک عدالت نے جیکولین فرنینڈس کو ضمانت دے دی ہے اور یہ حکم خصوصی جج شیلیندر ملک نے سنایا ہے۔ عدالت نے اداکارہ کی 26 ستمبر کو عبوری ضمانت منظور کی تھی۔ جیکولین فرنینڈس کو منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے متعدد بار طلب کیا تھا۔ سپلیمنٹری چارج شیٹ میں اسے پہلی بار ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

    اداکارہ نے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس کی ای ڈی نے مخالفت کی اور کہا کہ اداکارہ ملک سے فرار ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ اداکارہ جیکولین فرنینڈس پر اپنے بوائے فرینڈ سکیش چندر شیکھر سے مہنگے تحائف وصول کرنے کے الزامات ہیں جبکہ چندر شیکھر کروڑوں روپے کے بھتے وصول کرنے کے الزام میں جیل میں قید ہے انہیں رواں برس مئی میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس کیس کی وجہ سے اداکارہ کی فین فالونگ میں کافی کمی آئی ہے اور اس کے علاوہ ان کے ہاتھ سے اہم پراجیکٹس نکل گئے ہیں.

  • پیسے کے بل پر سب کچھ کرنا ممکن ہوتا تو آج زرداری اور نوازشریف پر کیسز نہ ہوتے ایان علی

    پیسے کے بل پر سب کچھ کرنا ممکن ہوتا تو آج زرداری اور نوازشریف پر کیسز نہ ہوتے ایان علی

    خوبصورت ماڈل ایان علی جو منی لانڈرنگ کیس میں کافی پریشر اور جیل برداشت کر چکی ہیں وہ آج کل سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک ٹویٹر سپیس میں بطور سپیکر شرکت کی ۔ یہ سپیس ملکی سیاسی صورتحال پر تھی اس میں ایان علی نے کہا کہ میں نے بہت مشکلیں سہیں لیکن اپنے ملک کے خلاف ایک لفظ نہ بولی۔ میرے کمرے میں کیڑے مکوڑے ہوتے تھے مجھے ڈرایا جاتا تھا ہر طرح کی ذہنی اذیت دی جاتی تھی یہاں تک کہ مجھے جہاں رکھا گیا تھا وہاں پنکھا بھی نہیں ہوتا تھالیکن میں نے اف تک نہیں کی۔کیونکہ میں ایک انٹرنیشنل ماڈل تھی اور باہر کے ملکوں کی مجھ پہ نظر تھی میں نے ہر سختی برداشت کر لی لیکن ملک کے خلاف نہیں بولی اس سسٹم کے خلاف نہیں بولی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں یہاں اگر پیسے سے ہی سب کچھ ممکن ہوتا تو پھر نوازشریف اور زرداری پر کیسز نہ ہوتے ، اور کیا نکلا ان کیسز سے جو شریف لوگوں پر بنائے گئے؟ہم سب کو اس ملک کے

    لئے س سے پہلے سوچنا چاہیے اس کے بعد خود کا سوچنا چاہیے۔ ایان نے یہ بھی کہا کہ لفظوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے عمران خان کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایان علی نے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے تفصیل سے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کی اور آخر میں شہباز گل کو مشورہ بھی دے ڈالا بولیں کہ آپ جس طرح کی بچگانہ حرکتیں کررہے ہیں اس سے آپ کے ہم جماعتی سیاستدانوں ،وزراءاور کولیگز پر کیا اثر پڑے گا؟۔