Baaghi TV

Tag: مودی سرکاری

  • پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو لگاتار تین مرتبہ وزیر اعظم بنے۔اس ریکارڈ کو اب جا کر مودی نے توڑا ہے۔ اور یہ بھی لکھ لیں ۔جلد مودی ایک اور ریکارڈ بھی توڑےگا وہ ہے بھارت کو توڑنے کا ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میری نظر میں اس سال کی سب سے دھماکا خیز خبر بھارتی انتخابات کے نتائج تھے۔ جس کو عالمی میڈیا نے بھر پور کوریج دی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی انتخابات کے نتائج خطے کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان بد ترین سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دو چار ہے۔ ان حالات میں مودی کا دو تہائی اکثریت نہ لے پانا پاکستان کے لیے نیک شگون ہے۔ ورنہ پاکستان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔شرارتیں تو مودی اب بھی کرے گا ایسا نہیں کہ وہ باز آجائے کیونکہ انسان کی خصلت نہیں بدل سکتی ۔ آپ دیکھیں ابھی مودی کو لولی لنگڑی حکومت سنبھالے صرف دو دن نہیں گزرے اوربھارتی سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بنگلادیشی سرحد کے نزدیک ایک نہتے شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔جبکہ اس سال کے چار پانچ ماہ میں بھارتی فوج کی سرحد پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بنگلادیشی شہریوں کی تعداد دس سے تجاوز کرچکی ہے ۔ پھر گزشتہ دو انتخابات میں مودی نے اپنی جیت پر سارک ممالک کے سربراہوں کو مدعو کیا تھا۔ لیکن اس دفعہ سارک ممالک کے سربراہوں کو مدعو نہیں کیا گیا ہے حیرانی کی بات ہے۔ شاید شاک بہت گہرا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کی شرانگیزیوں کا اندازہ پاکستان اور چین سمیت اب کینیڈ ا کو بھی مکمل طور پر ہو چکا ہے ۔ آپ دیکھیں ہردیپ سنگھ کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے پر کینیڈا میں ہزاروں افراد نے بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اور یہ کوئی چھوٹا موٹا مظاہرہ نہیں تھا پچاس ہزار سے زائد افراد مودی سرکار کے خلاف اور پردیپ سنگھ سے اظہاریکجہتی کیلیے وینکوور کی سڑکوں پر نکل آئے۔یہ نعرے بھی لگے کہ خالصتان بن کر رہے گا۔ پھر آپ دیکھیں حکومت تشکیل پاتے ہی مودی کی مسلم دشمنی سامنے آچکی ہے ، کیونکہ مودی حکومت کی بہتر رکنی کابینہ میں تیس وزرا ء اور اکتالیس وزرائے مملکت شامل ہیں، جبکہ پانچ اقلیتی اراکین شامل ہیں مگر کسی مسلمان رکن کو شامل نہیں کیا گیا۔اور ایسا پلان کرکے جان بوجھ کر کیا گیا ہے ۔ ویسے مودی کی نئی کابینہ میں کسی مسلم وزیر کے نا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے علاوہ این ڈی اے اتحاد کی کسی دوسری جماعت سے بھی کوئی مسلمان الیکشن جیت کر رکن اسمبلی منتخب نا ہو سکا تاہم بھارتی آئین کے مطابق نریندر مودی کو یہ اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ کسی بھی غیر منتخب شخص کو وزیر مملکت یا مشیر مقرر کر سکتے تھے جسے کے لیےچھ ماہ کے اندر الیکشن لڑ کر منتخب ہونا ضروری تھا، تاہم انہوں نے ایسا کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ بھارتی آبادی کے چودہ فیصد مسلمانوں کی لوک سبھا میں نمائندگی پانچ فیصد سے بھی کم ہے جبکہ الیکشن میں جو چوبیس مسلمان امیدوار کامیاب ہوکر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ان میں سے اکیس کا تعلق اپوزیشن اتحاد ۔۔انڈیا۔۔ سے ہے، ایک رکن کا تعلق انڈیا مجلس اتحاد مسلمین سے جبکہ دو مسلمان امیدوار آزاد حیثیت میں کامیاب ہوکر لوک سبھا پہنچے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسر ی جانب دنیا بھر کے سربراہان مملکت کی طرح پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ن لیگ کے صدر نواز شریف نے مودی جی کو مسلسل تیسری بار وزیراعظم بننے پر گرمجوشی سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں مسلسل تیسری بار کامیابی بھارتی عوام کے اعتماد کا اظہار ہے، آئیں ہم نفرت کو امید سے بدل کر اسےدو ارب انسانوں کی ترقی کا موقع بنائیں۔بات تو اچھی تھی مگر مودی نے اس کا الٹا مطلب لیا بلکہ یوں کہیں ۔ کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہوتی ۔ردعمل میں مودی نے کہا کہ بھارت کے عوام ہمیشہ امن، سیکیورٹی اور ترقی پسند خیالات کےحامی رہے ہیں، بھارتی عوام کی سیکیورٹی اور خوشحالی ہمیشہ ہماری ترجیح رہے گی۔جبکہ یاد ہو تو اسی سال مارچ میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس وقت بھی انڈین قیادت کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی اور سکیورٹی جیسے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ اب ایک بار پھر نواز شریف نے مودی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جن کے ساتھ ان کا اچھا ذاتی تعلق ہے اور شہباز شریف بھی انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے حوالے سے ماضی میں بات کر چکے ہیں۔ اس پر میں یہ ہی کہوں گا کہ سمجھ سے باہر کہ ن لیگ انڈیا کے معاملے پر پتہ اتنا کیوں نیچے لگ جاتی ہے ۔ یہ پہلے بھی مودی کی اماں کو ساڑھیوں اور آموں کے تحفے بھیجتے رہے ہیں جبکہ بغیر ویزے کے اپنی شادیوں پر بھی مود ی کو مدعو کر تے رہے ہیں مگر بھارت نے ہر بار اس جذبہ خیر سگالی کا جواب نفرت سے دیا ہے ۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ جب تک مودی ہے پاک بھارت تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں کیونکہ ان کی سیاست کا تمام دارومدار ہی پاکستان اور مسلم دشمنی پر ہے ۔ تو وہ کیسے اپنی اس پالیسی کو بدلیں گے ۔ اب آپ دیکھیں بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے دوسری بار وزیر خارجہ کا حلف اٹھاتے ساتھ کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ برسوں پرانے دہشت گردی کے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جس میں دراندازی کا معاملہ بھی شامل ہے۔حالانکہ یہ معاملہ پاکستان کا اٹھانا بنتا ہے گزشتہ چند سالوں میں بھارت نے چن چن کر پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کروائی ہے ۔ جس کے ثبوت دفتر خارجہ دنیا بھر کے سامنے رکھ چکا ہے ۔ پھر کلبوشن یادو جیسا جاسوس پاکستان کی سرزمین سے پڑا گیا اس سے بڑا پاکستان میں بھارتی دراندازی کا ثبوت کیا ہوگا ۔ پتہ نہیں ہم اتنا ڈرتے کیوں ہیں ۔ بہرحال بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی کہا ہے کہ اُن کے ساتھ کچھ سرحدی مسائل ہیں اور ہماری توجہ اس بات پر ہوگی کہ انہیں کیسے حل کیا جائے۔

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

  • بی جے پی کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا، مودی آؤٹ،گیم پلان پر کام شروع

    بی جے پی کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا، مودی آؤٹ،گیم پلان پر کام شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارتی الیکشن کا رزلٹ دیکھ کر گودی میڈیا کے لوگ رزلٹ دیکھ کر لائیو آن ایئر روتے دیکھ رہے ہیں ۔ ان میں ہی سے ایک کمپنی ایکسس مائی انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر پردیپ گپتا ہیں جو دوران انٹرویو رو پڑے ہیں ۔ کیونکہ ایک جون کو ۔ایکس مائی انڈیا۔۔کے ایگزٹ پول نے بھارت کی حکمراں جماعت کے لیے تین سو اکسٹھ سے چار سو ایک نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت سے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی۔دوسرے پول پنڈتوں نے بھی کہا تھا کہ یہ انتخابات بی جے پی کا اب تک کا سب سے بڑا مینڈیٹ ہو سکتا ہے لیکن اب تک کے نتائج ایگزٹ پولز کے دعوؤں کے برعکس ہیں۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مطلب گودی میڈیا نے جو مرضی رائے سازی کرنے کی کوشش کی ۔اس میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔اور اب رونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ۔ کہاں چار سو سیٹیں لینے کے دعوے کیے جا رہے تھے ۔ مگر سادہ اکثریت تک نہیں ملی ۔بلکہ مودی اگر تیسری بار وزیر اعظم بنے بھی تو مانگے تانگے کی سیٹیں لے کر بنیں گے ۔ اور اتحادی کسی وقت بھی ان کی کرسی ہلا سکیں گے ۔ حقیقت میں بھارتی عوام نے نفرت کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس بار بی جے پی کے بڑے برج بھی الٹ گئے ہیں ۔ بی جے پی کا گڑھ سمجھے جانے والے اتر پردیش میں بڑے جھٹکے لگے ہیں ۔ ایودھیا تک میں ہار گئے ہیں ۔مطلب فیض آباد کے مقام پر مودی نے جہاں جنوری میں رام مندر کا افتتاح کیا تھا وہاں تک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پھر مودی حکومت کے پندرہ کے قریب وزیر تک الیکشن ہار گئے ہیں ۔ لسٹ تو کافی لمبی ہے مگر چند ایک اہم لوگوں کے نام آپکو بتا دیتا ہوں ۔ سمرتی ایرانی جنہوں نے دوہزار انیس کے انتخابات میں راہول گاندھی کو پچپن ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی اس بار کانگریس کے امیدوار کشور لعل کے مقابلے میں ہار گئیں۔کیرلہ کی سیٹ پر مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر کانگریس کے ششی تھرور سے ہار گئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کو سماج وادی پارٹی کے اتکرش ورما کے ہاتھوں شکست ہوئی،ریاستی وزیر تعلیم سبھاش سرکار مغربی بنگال بھی ہار گئے۔ پھر مہاراشٹرا بھی بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ مہاراشٹرا میں کانگریس نے بی جے پی کے مقابلے میں تقریبا دوگنا زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ تامل ناڈو میں بھی بی جے پی صرف ایک نشست حاصل کرپائی جبکہ مغربی بنگال میں بھی بی جے پی ممتا بنر جی کے سامنے نہ ٹک سکی۔ ہریانہ اورجھاڑ کھنڈ میں ٹکر کا مقابلہ ہوا جبکہ بہار میں بھی کانگریس اتحاد کسی حد تک مضبوط ہوئی ۔ اسی وجہ سے این ڈے اے نے تین سو کا ہندسہ بھی عبور نہیں کیا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت مودی کی سربراہی میں چوبیس جماعتی اتحاد این ڈی اے کو دو سو بانوے نشستوں پر برتری حاصل ہے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی دوسو چالیس سیٹیں شامل ہیں۔یوں دیکھاجائےتو دوہزار انیس کے مقابلے میں بی جے پی اس بار پچاس سے زائد سیٹیں ہاری ہے کیونکہ تب انھوں نے لوک سبھا کی تین سو تین نشستیں جیتی تھیں۔ دوسری جانب کانگریس کی سربراہی میں چوبیس جماعتی اتحاد انڈیا نے دوسو اکتیس نشستوں پرآگے ہے۔ آپ دیکھیں مودی کی یہ ہار اتنی غیر متوقع تھی ۔ کہ انڈین اسٹاک مارکیٹ اس خبر کے بوجھ برداشت نہ کر پائی اور کریش کر گئی ۔ ایک ہی دن میں چار ہزار تین بیس پوائنٹس نیچے گر گئی ۔ جبکہ چار سالوں کی سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ۔اسی وجہ سے سرمایہ کاروں کے تیس لاکھ کروڑ بھارتی روپے ڈوب گئے۔اس میں مودی کے ارب پتی دوست گوتم اڈانی کے بھی ایک کھرب روپے ڈوب گئے ہیں ۔ پھر کل ہی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پارٹی ورکرز سے خطاب کیا ۔ اپنی طرف سے تو وہ وننگ سپیچ کرنے آئے تھے ۔ مگر یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی تقریر تھی ۔ اعلان تو کر دیا ہے کہ حکمران اتحاد این ڈی اے تیسری بار سرکار بنانے جارہا ہے۔دوسری جانب کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ہم نے یہ الیکشن صرف بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ پوری ریاستی مشینری کے خلاف لڑا، خفیہ ایجنسیاں، بیوروکریسی اور آدھی عدلیہ بھی ہمارے خلاف تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نےپارٹیاں توڑیں، وزرائے اعلیٰ کو جیلوں میں ڈالا اور ہر ہتھکنڈا استعمال کیا لیکن کانگریس رہنماؤں نے متحد ہوکر حکومت کے خلاف انتخاب لڑا۔ انتخابی نتائج سےمودی جی کو عوام کا بڑا پیغام ملا ہے کہ ہمیں مودی نہیں چاہیے۔ ویسے باٹم لائن یہ ہی ہے کہ بھارتی عوام نے ووٹ کی طاقت سے بتا دیا ہے کہ مودی ہمیں بالکل اچھے نہیں لگے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل کانگریس نے بی جے پی کو اُسی کے ہتھیار سے کاری ضرب لگائی ہے اور۔ اب کی بار چار سوپار۔۔کا بی جے پی کانعرہ ووٹر زکیلئے خوف کی علامت بنادیا تھا، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور راہول گاندھی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ اگر بی جے پی کو چار سو نشستیں مل گئیں تو وہ آئین بدل دے گی اور کوٹہ سسٹم ختم کردے گی۔ یوں راہول کی آئین بچاؤ موثرانتخابی مہم کے نتیجے میں کانگریس کو ننانوے نشستیں ملی ہیں جو دوہزار انیس کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہیں،اور اب ایک بار پھر دس برس بعد غیرمعمولی نشستیں جیت کربھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نریندر مودی سمیت حکمراں اتحاد کے لیے پھر سے ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔ اسطرح دس سال میں پہلی بار کانگریس قائدحزب اختلاف کے طورپر اپنے لیڈر کو پیش کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ راہول گاندھی ہی اپوزیشن لیڈر بنیں گے یا نہیں۔ کانگریس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں تونہیں تاہم یہ واضح ہو گیا ہے کہ کانگرس کا انڈیا اتحاد مودی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو اگلی بار کرارا جھٹکا دینے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ دوسری جانب کی بات کریں تو ان غیر متوقع نتائج کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب رہیں گی لیکن انھیں ہمیشہ یہ خطرہ رہے گا کہ حزب اختلاف حکمراں اتحاد سے ناراض جماعتوں کو اپنی جانب راغب کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بی جے پی کے لیے کمزور مینڈیٹ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی حکومت کے برعکس اب ان کو اپنے نامکمل ایجنڈے کو جاری رکھنے کے لیے علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔اسی لیے آنے والے دنوں میں جو علاقائی پارٹیاں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ان میں کانگریس کی حلیف سماج وادی پارٹی ہے، جو اتر پردیش کی اسی نشستوں میں سے سنتیس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ ٹی ایم سی جو کہ بنگال میں برسر اقتدار ہے نے بیس نشستیں حاصل کی ہیں اور گذشتہ انتخابات کے مطابق میں ان کی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب مودی کی حلیف جنتا دل یونائٹیڈ نے بہار میں بارہ اور ٹی ڈی پی نے آندھرا پردیش میں سولہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نئی حکومت کے لیے نامکمل وعدے جیسا کہ۔ون نیشن ون الیکشن۔ اور یکساں سول کوڈ ۔جس کے تحت اقلیتوں کے شادی اور وراثت کے قوانین کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔ جبکہ ۔ون نیشن ون الیکشن۔ وعدے کے تحت بی جے پی پارلیمانی اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی وقت میں کروانا چاہتی ہے۔ پھر ان انتخابات میں علاقائی پارٹیوں کو اہمیت حاصل ہونے کی وجہ سے مودی اور ان کے اہم ساتھی امت شاہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے مبینہ طور پر مرکز میں حکومتی طاقت کے عمل پر اہم اثر پڑے گا ۔ یعنی پہلے جیسا تاثر تھا کہ طاقت کا مرکز مودی اور امت شاہ ہیں اور وہی سارے فیصلے لیتے ہیں، اب چونکہ مودی دوسری علاقائی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے لہذا انھیں ان پارٹیوں کی بھی سننا پڑے گی۔ یہ خاص طور پر مودی اور امیت شاہ کے لیے آسان نہیں ہو گا ۔پھر اتحادی سیاست کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت میں عدم استحکام کے امکانات رہیں گے کیونکہ چھوٹی پارٹیوں کو حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اپنی طرف بڑی اور بہتر وزارتوں کے وعدے کے ساتھ راغب کر سکتی ہیں۔پھر یہ انتخابات اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مودی اب ۔۔دیوتا ۔۔ نہیں رہے۔ جو انھوں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ میں بھگوان کا اوتار ہوں ۔ اب سے مودی صرف ایک عام سیاستدان ہے، جو کہ کافی چھوٹاہو گیا ۔

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

    اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی دکھی تو ہو گا کیونکہ اس نے بڑی محنت اور توجہ سے اپنے آپ کو ایک الگ برانڈ بنایا تھا ۔ جس طرح برینڈ والی کمپنیاں لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کے لیے مختلف تشہیری مہمات چلاتی ہیں، ویسے ہی مودی نے باقاعدہ اپنی پبلسٹی کی اور اس سلسلے میں وہ روایتی، ڈیجیٹل، اور سوشل میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتا رہا ۔بلکہ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے انڈیا کے طاقتور میڈیا کا بازو مروڑ کر اسے ۔گودی میڈیا۔ بنا دیا ۔ مودی نے صرف انڈیا ہی میں نہیں، بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان بنانے پر بڑی توجہ دی ہے۔ ان کے عالمی لیڈروں سے لمبے لمبے مصافحے آپ کو یاد ہوں گے۔ مگر یاد رکھیں پاپولسٹ لیڈر ز کا اینڈ یہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ تو قتل ہوجاتے ہیں یا زندہ رہیں تو یوں ذلیل ورسوا ہو کر رندہ درگارہ ہو جاتے ہیں ۔

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • بھارت میں چھٹے مرحلے کے انتخابات،پولنگ جاری

    بھارت میں چھٹے مرحلے کے انتخابات،پولنگ جاری

    بھارت میں انتخابات جاری ہیں،کل سات مرحلوں میں انتخابات ہو رہے ہیں، آج چھٹے مرحلے میں نئی دہلی اور 7 ریاستوں میں پولنگ جاری ہے

    چھٹے مرحلے میں لوک سبھا کی 58 سیٹوں کے لیے پولنگ ہو رہی ہے، نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ ساتویں اور آخری مرحلے میں 57 سیٹوں کے لیے ووٹنگ یکم جون کو ہوگی،بھارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان 4 جون کو کیا جائے گا ، دہلی کی سات لوک سبھا سیٹوں پر 1.52 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔دہلی میں پہلی بار ووٹر کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، دارالحکومت دہلی میں لوک سبھا کی سات نشستیں ہیں، بی جے پی تمام سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے،تین سیٹوں پر کانگریس اور چار سیٹوں پر عام آدمی پارٹی سے بی جے پی کا مقابلہ ہے، عام آدمی پارٹی اور کانگریس بے جے پی کے خلاف ملکر الیکشن لڑ رہی ہیں.الیکشن کمیشن نے دہلی میں کل 2627 مقامات پر 13,637 پولنگ بوتھ قائم کیے ہیں جن میں سے 429 کو حساس قرار دیا گیا ہے، معذور اور بزرگ افراد کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں،سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ڈرون کے ذریعے بھی علاقوں کی نگرانی کی جا رہی ہے،سی اے پی ایف کی 46 کمپنیاں، 19000 ہوم گارڈز اور 33000 دہلی پولیس کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں .

    ووٹ دینے پر شراب میں 20 فیصد ڈسکاؤنٹ کی آفر
    دہلی میں انتخابات کے دوران ووٹرز کے لیے آفرز سامنے آئی ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالے جا سکیں ،دہلی میں انتخابات کے موقع پر مفت رائیڈرز سروس دی جا رہی ہے تو وہیں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے،ووٹ دے کر انگلی پر سیاہی کا نشان دکھا کر کئی سٹورز سے پچاس فیصد تک بھی ڈسکاؤنٹ دستیاب ہے، منسٹری آف بیئر، دی ٹیلر بار، چیدو، بریوکارٹ، ویتنام و دیگر آؤٹ لیٹ نے ووٹر کے لئے سکیم متعارف کروائی ہے، کئی ہوٹلز اور بارز نے بھی ووٹرز کے لئے قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے ،ووٹ دے کر بار میں جائیں اور سیاہی کا نشان دکھا کر شراب میں کل بل پر 20 فیصد رعایت حاصل کریں،سامبا برانڈ نے ووٹرز کے لئے یہ آفر دی ہے، وہیں ووٹرز کو ایک رائیڈرز کمپنی ووٹ دینے کے بعد مفت گھر چھوڑنے کی سہولت دے رہی ہے تو ایک کمپنی نے ووٹر کے لئے پچاس فیصد ڈسکاؤنٹ کا اعلان کیا ہے

    بھارتی انتخابات ، مودی کی بے چینی،سادہ اکثریت حاصل کرنا مشکل

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مودی کی اگنی ویر سکیم،رشتے آنا بند،نوجوانوں نے بھارتی فوج میں جانا چھوڑ دیا

  • بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بھارت میں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا، بھارتی انتخابات میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاہم مغربی بنگال اور منی پور میں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق2019 کے پہلے مرحلے کےمقابلے میں اس بار ووٹر کے ٹرن آؤٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے

    بھارت میں سات مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں، پہلے مرحلے میں 21 ریاستوں کے 102 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے،جن ریاستوں میں ووٹ ڈالے گئے ان میں اتر پردیش، تمل ناڈو، اتراکھنڈ، منی پور، میگھالیہ، آسام، مہاراشٹر، راجستھان، مغربی بنگال اور نئی دہلی کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے حلقے شامل ہیں،بھارت کے نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے سمیت بیشتر میڈیا اداروں نے بتایا کہ رات نو بجے تک مجموعی طور پر62.37 فیصد ووٹ پول ہوئے،2019 میں پہلے مرحلے میں 69.43 فیصد ووٹ پڑے تھے، بہار میں سب سے کم 48.5 فیصد پولنگ ہوئی،ریاست تمل ناڈو میں جہاں تمام 39 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے، 67.2 فیصد پولنگ ہوئی ، 2019 میں 72.4 فیصد ہوئی تھی۔ راجستھان میں 57.3 فیصد ہوئی ،2019 میں 64 فیصد ہوئی تھی،بھارتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ 77.6 فیصد مغربی بنگال میں دیکھاگیا، الیکشن کمیشن کے مطابق بھارت میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 97 کروڑ ہے۔ ایوانِ زیریں ،لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد 543 ہے جن پر کامیاب ہونے والے ارکان آئندہ پانچ سال کے لیے منتخب ہوں گے،لوک سبھا کے انتخابات میں 272 نشستیں جیتنے والی سیاسی جماعت نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی

    بھارت میں انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں برسراقتدار جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ بی جے پی کے کارکنوں میں تصادم ہوا ہے،جس پر پولیس نے مداخلت کی اور دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو منتشر کیا،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اترپردیش میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوئی جس میں ووٹر کا رجحان حکمران جماعت بی جے پی کے لئے اچھا نہیں رہا، بلکہ پریشانی کا باعث بن گیا ،ووٹ ڈالنے کے بعد شہریوں سے جو گفتگو ہوئی اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ بھارتی شہری اب بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے بھی بی جے پی کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے، ووٹنگ کا رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے یوپی میں اب بی جے پی جو سوچ رہی ہے ویسا کچھ نہیں ہونے والا،اسی ریاست مین بی جے پی لوک سبھاکی اسی میں سے اسی سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہی ہے، 2019میں بی جے پی کو لوک سبھا سے 63 اور 2014 میں 73 سیٹیں ملی تھیں اس بار سیٹیں مزید کم ہونے کا امکان ہے کیونکہ بھارتی عوام بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،

    نوجوانوں کا استحصال،بے روزگاری،کسانوں کی حق تلفی،مودی کیا جیت پائیں گے؟
    بھارتی نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟ بی جے پی کو یقین تھا کہ عوام انکو ووٹ دیں گے اور ہر فیصلے کو مانیں گے لیکن اب ایسا نہیں رہا، بھارتی نوجوان بی جے پی پر اعتماد نہیں کر رہے ،کیونکہ مودی سرکار کے دورمیں نوجوانوں کا استحصال کیا گیا، بے روزگاری عروج پر رہی، کسانوں کو حق نہیں ملا، خواتین کو تحفظ نہیں ملا،سہارنپور سے سیاست میں سرگرم نوجوان سندیپ رانا کا دعویٰ ہے کہ جمہوری سیاست میں کسی ایک پارٹی کا حد سے زیادہ پراعتماد ہونا مہلک ہے بی جے پی کو یقین تھا کہ اگر وہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو عوام اسے آنکھ بند کر کے قبول کر لیں گے، اب ایسا ممکن نہیں ہے جمہوریت میں سوال اٹھتے ہیں اور حکمران جماعت کو ان کا جواب دینا پڑتا ہے ، سہارنپور میں کانگریس اتحاد کے امیدوار عمران مسعود کو اکثریتی برادری کے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اس میں راجپوت، سینی اور دلت ووٹ شامل ہیں حکومت کے کام کاج سے ناخوش نوجوانوں نے بھی کانگریس امیدوار کو ووٹ دیا ہے پہلے مرحلے میں ان 8 سیٹوں میں سہارنپور کا ووٹنگ فیصد سب سے زیادہ رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں اپوزیشن کے ووٹ تقسیم نہیں ہوئے،تاہم راجپوت ووٹر اپنی ناراضگی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں گئے،راجپوت اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح بہت کم رہی ہے ،مظفر نگر میں کئی طبقے بی جے پی کے سنجیو بالیان کے خلاف کھڑے نظر آئے، ان میں خاص طور پر راجپوت، برہمن اور انتہائی پسماندہ طبقات شامل تھے، انڈیا الائنس کے امیدوار ہریندر ملک یہاں اپنی جیت یقینی سمجھ رہے ہیں

    بھارت میں انتخابات مسلمانوں کے تحفظات
    بھارت میں ہونے انتخابات پر مسلمانوں کے تحفظات کے حوالہ سے الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ نشر کی ہے،رواں ماہ بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مودی سرکار کی انتہا پسندی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے،الجزیرہ کے مطابق بی جے پی حکومت نے بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرتے ہوئے ان کے مکانات، مذہبی مقامات کو مسمار کرتے ہوئے روزگار کے حصول کو بھی شدید مشکل بنا دیا، الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے اۤیا کہ انتخابات کو لے کر بھارتی مسلمان شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں،بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ "ہم مسلسل ڈرے ہوئے رہتے ہیں”، نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست ملک میں غالب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے،”اگر دوبارہ بی جے پی حکومت اقتدار میں آگئی تو مسلمانوں کے لئے بہت مشکل ہو جائے گی”، "پچھلے 10 سالوں سے بھارت میں مسلم آبادی حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے”، "غیر قانونی تجاوزات کی آڑ میں بغیر نوٹس دیئے انتہا پسند مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کی رہائش گاہوں کو گرا دیا جاتا ہے”، ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میرا بوتیک دو سال قبل حکومتی احکامات پر گرا دیا گیا”، بھارت میں مسلمان تاجروں کے لئے بھی مودی سرکار نے بے معنی احکامات جاری کیے ،ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ "میری گوشت کی دکان اس لئے بند ہے کیونکہ ابھی نوراتری کا تہوار چل رہا ہے”، "بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہر سال نوراتری کے موقعے پر دو بار نو دنوں کے لئے گوشت کی دکانیں بند کرائی جاتی ہیں”، مودی کے زیرِ حکومت حقیقی جمہوریت بھارت میں ناپید ہو چکی ہے جبکہ حکومت کا عوامی فلاح و بہبود سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں،اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت میں انتخابات سے قبل اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندانہ اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے.

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی برقرار،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

    جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی برقرار،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

    بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا ہے

    بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ” جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 کا نفاذ عبوری تھا اور اس کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا” سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جموں کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کروانے کی الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت کی،بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر کو جلدہی ریاست کا درج بحال کرنے کی ہدایت بھی کی، عدالت لداخ کو یوٹی بنانے کے فیصلہ کو بھی برقراررکھا

    بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کے اگست 2019کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل بینچ نے دلائل سننے کے بعد 5ستمبر 2023کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بھارت کو تسلیم کرنے کے بعد جموں کشمیر کوئی اندرونی خود مختاری نہیں رکھتا، آرٹیکل 370 کا اطلاق عارضی تھا، آئین کے آرٹیکل ایک اور 370 کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہیں، جموں و کشمیر اسمبلی کا مقصد باڈی بنانا نہیں تھا، آرٹیکل 370 جموں کشمیر کی شمولیت کو منجمد نہیں کرتا،صدر کے پاس کسی بھی آئین کی منسوخی کا اختیار موجود ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلہ سے تحریک آزادی کشمیر مزید مضبوط ہوگی،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نےاقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی فیصلہ دیکر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے لاکھوں کشمیریوں کی قربانی سے غداری کی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس متعصبانہ فیصلہ سے تحریک آزادی کشمیر مزید مضبوط ہوگی ۔ کشمیری جدو جہد میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ یہ فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ کے ماتھے پر انصاف کے خون کی پہچان کے طور پر دیکھا جائے گا۔ میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن ہر سطح پر کشمیریوں کے حق کی آواز اٹھائے گی۔ ہم اس جد وجہد میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مزمل ہاشمی کا کہنا ہے کہ کشمیر پر انڈین سپریم کورٹ کا متعصبانہ فیصلہ اس خاص بھارتی توسیع پسندانہ ذہن کا عکاس ہے جس کی وجہ سے خطہ کا امن ہمیشہ ہی خطرہ سے دوچار ہے ریاست پاکستان کو اس پر بھرپور آواز اٹھاتے ہوئے دنیا کو باور کروانا چاہئے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے آگے کوئی حل بھی قابل قبول نہیں ہے وگرنہ اس مسئلہ کی وجہ سے ہونے والی کوئی بھی تباہی اس کی ذمہ داری پوری دنیا پر عائد ہوگی

    سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت سے انکار کر کے ناانصافی کی تاریخ رقم کی،فردوس عاشق اعوان
    سابق وفاقی وزیر، استحکام پاکستا ن پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ برقرار رکھنے سے نام نہاد سیکولر بھارت کی تنگ نظری اور ہٹ دھرمی کھل کر سامنے آئی ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار سپریم کورٹ کی فیصلہ سازی میں کمزوری اور اخلاقی پستی کا ثبوت ہے۔ انتہا پسند اور دہشت گرد بھارت کا بھیانک چہرہ پہلے بھی کئی بار بے نقاب ہو چکا مگر وہ پھر بھی کشمیریوں کی حق تلفی اور انسانیت سوزی سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔ استحکام پاکستان پارٹی بھارتی سپریم کورٹ اور ایسے یکطرفہ فیصلہ سازی کے پورے نظام کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔ مودی سرکار اور سپریم کورٹ نے متنازعہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت سے انکار کر کے نانصافی کی تاریخ رقم کی ہے جو انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپیئن بھارت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں و بھارتی سپریم کورٹ کے آج کےمعتصبانہ فیصلہ کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ مبصرین آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا،

    بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی انتہا پسند سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔شیری رحمان
    سابق وفاقی وزیر، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ مودی راج کے مذموم مقاصد کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مقبوضہ کشمیر کے لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ ہم اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ مودی سرکار نے 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے قانون سازی کی تھی۔ 2019 میں ہی اس قانون سازی کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں جسے 5 سال تک التواء کے نظر کیا گیا۔ 2024 بھارت میں انتخابات کا سال ہے، انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ کی جانب سے ایک متنازع قانون سازی کے خلاف درخواستیں مسترد کرنے کا مقصد مودی کی انتخابی مہم چلانا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی انتہا پسند سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ اس فیصلے سے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ مودی سرکار یا بھارتی سپریم کورٹ نہیں بلکہ کشمیر کے لوگ حق خودارادیت سے کریں گے

    بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے،خواجہ سعد رفیق
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر بارے فیصلہ کر کے انصاف کا خُون کیا ہے،مقبوضہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارتی فوج نے دھائیوں سے قبضہ غاصبانہ کیا ہوا،بھارتی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کا تعین کرنیکی مجاز ھی نہیں ،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے،کشمیریوں کی بھارت سے نفرت اور پاکستان سےمحبت تاریخی ھے،مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کا تعین کشمیری استصواب راۓ کے ذریعے ھی کریں گے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا ہے کہ آج کا فیصلہ صرف قانونی نہیں، امید کی کرن اور روشن مستقبل کا وعدہ ہے. آج کا فیصلہ مضبوط، زیادہ متحد بھارت کی تعمیر کا ہمارے اجتماعی عزم کا عہد ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی جرم کیا، بھارتی فریب کو مسترد کرتے ہیں،مریم نواز
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جموں کشمیر کے حوالہ سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی جرم کیا، کشمیری عوام، پاکستان اور دنیا بھارتی فریب کو مسترد کرتے ہیں، بھارت سوناٹک کرے، کشمیر کشمیریوں کا ہے، کشمیریوں کا ہی رہے گا، بھارت کے کشمیریوں کو غلام بنانے کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہو چکے،تنازع جموں و کشمیر پر سلامتی کی قرار دادوں، عالمی قانون کا اطلاق ہوتا ہے،کشمیر کے عوام کا آزادی اور استصواب رائے کا حق نہیں چھینا جا سکتا،جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے،

  • جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    بھارت میں جی 20 سربراہی اجلاس کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، امریکی صدر جوبائیڈن آج بھارت پہنچیں گے، وہ نو ستمبر سے ہونے والی جی 20 کانفرنس میں شریک ہوں گے، جوبائیڈن کی مودی سے بھی ملاقات ہو گی، جوبائیڈن کا امریکہ کا صدر بننے کے بعد بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے

    دہلی میں کچی آبادیوں کو ڈھانپ دیا گیا ہے، مودی کی جانب سے جھوٹی نمائش کا سلسلہ جاری ہے، بھارت کا منافقانہ چہرہ دنیا کے سامنے آنا ہے اسلئے بھارت نے دنیا کو دکھانے کے لئے کچی آبادیوں کو ڈھانپ دیا، مقامی لوگوں کو گھروں سے نکال دیا، بھکاریوں کو تھانوں میں بند کر دیا گیا،بھارت کی جی 20 اجلاس کی میزبانی، عالمی سطح پر بھارت کا مصنوعی چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ،مرکزی دہلی کے چاروں اطراف مودی سرکار کی جانب سے خوشامد زوروں پر ہے منافقانہ طرز اپناتے ہوئے دہلی میں قائم کچی آبادیوں کو ڈھانپ دیا گیا اور ان کے چہرے پر G 20 کے پوسٹر لگائے گئے جب کہ دہلی میں قائم کچی آبادیوں کی نقل و حرکت بھی انتہائی محدود کر دی گئی مرکزی دہلی کے ارد گرد نقل و حرکت پر پابندیوں کے ساتھ کنٹرول زون قائم کیا گیا ہے،وسطی دہلی میں تمام پبلک ٹرانسپورٹس اور دکانوں کی بڑے پیمانے پر بندش کی گئی،دہلی کے مقامی لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،دہلی کے مقامی لوگوں کو اگلے 3-4 روز تک ان مشکلات سے گزرنا پڑے گا ،دوسری جانب جھوٹی نمودونمائش کے لئے مودی سرکار نے G 20 میں آنے والے مہمانوں کے لیے دھوم دھام اور چمک دمک کا انتظام کیے رکھا ہے

    امریکی صدر جوبائیڈن بھارت میں آئی ٹی سی موریا شیرٹن ہوٹل میں قیام کر سکتے ہیں، جوبائیڈن اگر اس ہوٹل میں ٹھہرے تو انہیں ہوٹل کی چودھویں منزل پر ٹھہرایا جائے گا، ہوٹل کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے، خصوصی لفٹ بھی لگائی گئی ہے، بائیڈن اور انکے عملے کے لئے ہوٹل میں تقریبا چار سو کمرے بک ہیں،آٹھ سے دس ستمبر تک انڈین دارالحکومت مکمل طور پر شٹ ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ ایئر فورس نے آسمانوں کی سیکیورٹی سنبھال لی ہے۔ سکول کالج دفاتر شاپنگ مالز یہاں تک کہ آن لائن فوڈ ڈلیوری بھی بند ہوگی۔ صرف میڈیکل سٹور کھلے ہوں گے۔

    دہلی میں جی 20 کانفرنس کے موقع پر سیکورٹی انتہائی سخت رکھی جائے گی، بھکاریوں، نشے کے عادی افراد اور خواجہ سراؤں کے بھی باہر آنے پرپابندی عائد کر دی گئی ہے، پولیس نے ہنومان مندر، بنگلہ صاحب گردوارہ سمیت دیگر مقامات پر آپریشن کیا اور خواجہ سراؤں، بھکاری، نشے کے عادی افراد کو گرفتار کر لیا، اور اعلان کیا کہ کوئی بھی باہر نہیں آئے گا جو آئے گا اسے گرفتار کر لیا جائے گا،حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پہاڑ گنج اور اجمیری دونوں پھاٹکوں سے بھی ان لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے

    چینی صدر کی جانب سے بھارت میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت سے معذرت پر امریکی صدر جو بائیڈن نے مایوسی کا اظہار 

    برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے

    بھارتی مرکزی بینک کی 18 ممالک کو بھارت کرنسی میں تجارت کی سہولت

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    بھارت جی 20 کی صدارت کا غیرقانونی استعمال کررہا. وزیر خارجہ

    جی 20 اجلاس میں شرکت کے لئے نائیجریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو بھارت پہنچ گئے ہیں

    بھارت کو گزشتہ برس یکم دسمبر کو جی 20 کی صدارت ملی تھی، نئی دہلی میں نو دس ستمبر کو منعقد ہونے والا 18 ویں جی 20 سربراہی اجلاس سال بھر میں منعقد ہونے والے تمام G20 عمل اور میٹنگوں کا اختتام ہوگا ،اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا،

    گروپ آف ٹوئنٹی (G20) میں 19 ممالک شامل ہیں، ارجنٹینا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی، برطانیہ۔ اور امریکہ اور یورپی یونین،