Baaghi TV

Tag: مودی نواز

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کشمیریوں کے گھروں پرچھاپے

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کشمیریوں کے گھروں پرچھاپے

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقای ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے وادی کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس دوران مکینوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے آج( ہفتے ) بتایا کہ این آئی اے کے دستے بھارتی پولیس اور پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کے ہمراہ بارہمولہ اور شوپیاں اضلاع میں تلاشی لے رہے ہیں۔تحقیقاتی ایجنسی نے بارہمولہ ضلع کے نیو کالونی فتح پورہ میں مشتاق احمد بٹ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ مشتاق محکمہ تعلیم میں سرکاری ملازم ہیں۔

    این آئی اے نے شوپیاں کے علاقے مراد پورہ میں علی محمد بٹ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اسی طرح وادی کے دیگر حصوں میں بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ایک اہلکار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ چھاپے این آئی اے کے دفتر میں پہلے سے درج ایک کیس کے سلسلے میں مارے جا رہے ہیں۔آخری اطلاعات تک چھاپوں کی کارروائی جاری تھی۔

    دریں اثنا، کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی بدنام زمانہ تحقیقاتی ایجنسیوں ”این آئی اے، ایس آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) “ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ حق خود ارادیت کے حصول کی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبایا جا سکے۔ این آئی اے کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لیے بدنام ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں تحقیقاتی ایجنسی کے چھاپے معمول بن چکے ہیں جس کا مقصد ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو بی جے پی کی مذموم پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ حریت رہنماوں، میڈیا والوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور یہاں تک کہ عام کشمیریوں کو بھی فرضی مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ این آئی اے نے ایک جھوٹے مقدمے میں قید انسانی حقوق کے معروف کشمیری محافظ خرم پرویز کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے ۔ سرکردہ حریت رہنماوں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنا نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں غیر قانونی حراستوں کا نوٹس لینا چاہیے۔

  • بھارت میں مسلمانوں پرحملوں میں اضافہ:مسلمان سخت پریشان

    بھارت میں مسلمانوں پرحملوں میں اضافہ:مسلمان سخت پریشان

    بھارت میں انتہا پسند ہندووں کی طرف سے مسلمانوں پرحملوں میں بہت زیادہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے ، انسانی حقوق کی تنظیمون کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں بھارت میں دو سو سے زائد واقعات ہوئے ہیں ،

    پہلے بڑے واقعہ میں بھارتی ریاست بہار میںہندوتوا غنڈوں نے ایک مسجد اور اس کے دروازے پر اپنازعفرانی رنگ کا جھنڈا لگادیا ہے جو ہندوتوا نظریے کی علامت ہے ۔
    رام نومی کے موقع پر بہار کے علاقے مظفر پور میں پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں ہندوتواغنڈوں کو ایک مسجد کے مینار اور اس کے دروازے پر ہندوتوا نظریہ کی علامت زعفرانی جھنڈا لگاتے ہوئے دکھاگیا ہے جبکہ ہندوتوا غنڈے اس موقع پرمسجد پر زعفرانی جھنڈا لگانے کے بعد خوشیاں منا رہے ہیں۔

    ویڈ یو میں مزید دکھایاگیا ہے کہ آر ایس ایس، بی جے پی، وی ایچ پی اور بنجرنگ دل سے وابستہ بڑی تعداد میں ہندوتوا کارکن اس موقع پرموٹر سائیکلوں پر تلواریں اور ہاکیاں لہراکر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہندوتواغنڈوں نے رام نومی کا جشن مناتے ہوئے محمد پور گائوں میں ڈاک بنگلہ مسجد کے سامنے ایک جلوس بھی نکالا۔ایس ایس پی مظفر پور جینت کانت نے واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق کی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

    بھارت میں ہندوئوں کے بھگوان رام کے جنم دن کی مناسبت سے منائے جانے والے تہوار نوراتری کے موقع پر بھارت بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    اتواراورپیر کے دوران بھارت بھرمیں خصوصا چار ریاستوں گجرات، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے،جن میں ہندتوابلوائیوں کی طرف سے مسلمانوں پر کئے گئے حملوں کی وجہ سے ایک شخص ہلاک ، درجنوں افراد زخمی اوردرجنوں گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

    ہندو توابلوائیوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بلند کئے اور مساجد پر حملوں کے علاوہ مسلمانوں کے گھروں کو نظر آتش کر دیا ۔نئی دلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں نوراتری کے موقع پر نان ویج یا گوشت والے کھانے دیے جانے پر اسٹوڈنٹس یونین جے این ایس یو اور بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے درمیان تنازعے نے شدت کے بعدتشدد کی شکل اختیار کرلی۔جس سے کم از کم 16طلبہ زخمی ہوگئے۔پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کرلیا ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

    نوراتری کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے شہروں کھمبات اور ہمت نگر شہروں میں تصادم کے مختلف واقعات پیش آئے۔ ہمت نگر میں ہندو بلوائیوں کے جلوس میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بلند کئے جانے اورتیز آواز میں گانے بجانے کے بعدتصاوم ہوا ۔ریاست مدھیہ پردیش کے کھرگون اور دیگر قصبوں میں بھی فرقہ وارانہ تصادم کے واقعات پیش آئے۔ دلی فسادات کے ملزم، بی جے پی لیڈر، کپل مشرا بھی کھرگون میں نوراتری کے جلوس میں شامل تھے۔

    مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ نے ایک ٹوئیٹ میں لکھاہے کہ جہاں جہاں مشرا کے قدم پڑتے ہیں وہاں فسادات ہو جاتے ہیں۔جھارکھنڈ کے لوہردگا ضلع میں بھی رام نومی کے جلوس کے دوران تصادم میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔مغربی بنگال میں ہوڑہ کے علاقے شب پور میں ہندوتوا کارکنوں کے جلوس کے دوران تصادم کے واقعات پیش آئے۔

    معروف سماجی کارکن اور دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر اپوروانند کا کہنا تھا کہ ہندو تہواروں کے موقع پر ہونے والے تشدد میں تمام ہندو شامل نہیں ہیں لیکن یہ ہندوں اور ہندو دھرم کے نام پرکیے جا رہے ہیں۔انہوں نے ہندوں سے سوال کیا کہ کیا اس سے انہیں سکون مل رہا ہے کہ ان کے تہوار کے نام پر دوسروں کو تکلیف پہنچائی جائے۔ اور اگر نہیں تو کیا وہ ایسا کرنے والوں کو روک نہیں سکتے؟ اپوروانندکا کہنا تھا کہ تہواروں کے مبارک موقع پر تشدد کے واقعات پر خاموشی اختیار کیے رہنا بھی گناہ ہے۔

  • مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    یوپی :مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں،اطلاعات کےمطابق اتر پردیش میں الیکشن جیتتے ہی بی جے پی رہنما نند کشور گوجر نے افسران کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان نہیں ہونی چاہیے۔

    اترپردیش کے علاقے غازی آباد لونی سے دوبارہ منتخب ہونے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی نند کشور گوجر نے منتخب ہوتے ہی مسلم کش متعصبانہ حکم دے کر اپنی مسلم دشمنی کا اظہار کردیا ہے۔

    کشور نے لونی کے افسروں کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان دکھائی نہیں دینی چاہیے، ان کے اس بیان سے وہاں کی اقلیت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نند کشور گوجر نے افسران کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لونی کے افسران سمجھ لیں، انیہں ایک بھی گوشت کی دکان علاقے میں دکھائی نہیں دینی چاہیے، لونی میں صرف رام راج چاہیے اس لیے دودھ، گھی کھاؤ اور ونڈ بیٹھک کرو‘‘۔

    نند کشور اس سے قبل بھی اپنے متنازع بیان کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آچکے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں انہوں نے لونی کے بہیتا حاجی پور گاؤں میں انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ جو لوگ علی کا نام لیتے ہیں انہیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔ بی جے پی رکن اسمبلی نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ’’علی کا نام لینے والوں کو لونی چھوڑنا ہوگا، اس انتخاب کے بعد لونی میں مکمل رام راج ہوگا‘‘۔

    واضح رہے کہ بی جے پی کی مسلم دشمنی کا اظہار وقتاْ فوقتاْ ہوتا رہتا ہے کبھی مودی حکومت کے کسی اقدام سے تو کبھی خود مودی یا انکے رہنماؤں کے بیانات سے۔

    بی جے پی حکومت کے اقدامات کیخلاف صرف عام مسلمان نہیں بلکہ خود بھارت میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں بی جے پی حکومت کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف معروف شاعر منور رانا نے اترپردیش چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

    عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا نے اعلان کیا تھا کہ اگر یوگی ادتیہ اترپردیش کا دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ نقل مکانی کرلیں گے۔

  • پنجاب کے وزیراعلٰی کون ہوں گے:اہم نام سامنےآگیا

    پنجاب کے وزیراعلٰی کون ہوں گے:اہم نام سامنےآگیا

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ریاست کے لوگوں کو پارٹی کی پنجاب میں زبردست جیت کی طرف مارچ کرنے پر مبارکباد دی ہے پنجاب کے لوگوں کو اس انقلاب کے لیے بہت بہت مبارک ہو۔

    ساتھ ہی یہ خبریں گردش کرنی شروع ہوگئی ہیں کہ نتائج کی بنیاد پر پنجاب کے اگلے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال ہوں گے

    کیجریوال نے پنجاب میں پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے چہرے بھگونت مان کے ساتھ اپنی تصویر ٹویٹ کی۔پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق عآپ ریاست کی کل 117 سیٹوں میں سے 90 پر آگے ہے، جب کہ حکمراں کانگریس پارٹی ریاست میں 18 سیٹوں پر آگے ہے۔

    دریں اثنا پنجاب اسمبلی انتخابات کے رجحانات سے پرجوش عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سینیئر رہنما اور دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے جمعرات کو کہا کہ پنجاب کے عوام نےدہلی حکومت کے ’ کیجریوال ماڈل‘ کو قبول کیا ہے

    سسودیا نے پنجاب اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام نے گورننس کے ’کجریوال ماڈل‘ کوایک موقع دیا ہے انہوں نے کہا، ’آج یہ ماڈل قومی سطح پر قائم ہو چکا ہے۔ یہ عام آدمی کی جیت ہے‘۔

    پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق، عام آدمی پارٹی ریاست کی کل 117 نشستوں میں سے 87 پر سبقت قائم کیے ہوئے ہے جبکہ برسراقتدار کانگریس پارٹی ریاست میں 14 نشستوں پر آگے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی چار، شرومنی اکالی دل نو، بہوجن سماج پارٹی دو اور ایک سیٹ پر آزاد امیدوار آگے چل رہا ہے۔

    اس بیچ پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے ریاستی اسمبلی میں شاندار بھاری اکثریت حاصل کرنے پر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو مبارکباد دی ہے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں مسٹر سدھو نے کہا کہ عوام کی مرضی خدا کی مرضی ہے انھیں عاجزی سے عوام کا مینڈیٹ قبول ہے

    انہوں نے کہا، ’عوام کی آواز خدا کی آواز ہے پنجاب کے مینڈیٹ پر سرِ تسلیم، خَم۔ اے اے پی کو مبارکباد پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق اے اے پی ریاست کی کل 117 سیٹوں میں سے 90 پر آگے ہے، جب کہ برسراقتدار کانگریس پارٹی ریاست میں 18 سیٹوں پر سبقت قائم کیے ہوئے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دو، شرومنی اکالی دل چھ اور ایک اسمبلی حلقے میں آزاد امیدوار آگے ہے۔

    بھارت انتخابات: ملک کی پانچ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ سب کی نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔اتر پردیش میں ایک بار پھر بی جے پی کی راہ صاف نظر آرہی ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جوڑی ایک بار پھر کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے۔ رجحانات بی جے پی نے 250 سیٹیں عبور کر لی ہیں، جو 202 کے اکثریتی اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے

    سماجوادی پارٹی کی تعداد بھی 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نمبر تین پارٹی بی ایس پی بھی دوہرا ہندسہ عبور نہیں کر پائی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور سے آگے ہیں اور اکھلیش یادو کرہل سے آگے ہیں۔ لیکن، کاشی وشواناتھ سیٹ سے بی جے پی امیدوار نیل کانتھ تیواری پیچھے ہیں۔

    ان اسمبلی انتخابات کو 2024 کے عام انتخابات کا سیمی فائنل کہا جا رہا تھا اور اس لحاظ سے ریاست یو پی سب سے اہم ہے جہاں سے پارلیمان کے 80 اراکین منتخب ہو کر آتے ہیں۔ ریاست میں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر سے حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ یو پی ریاستی اسمبلی کی کل 403 سیٹیں ہیں اور اکثریت کے لیے 202 کی ضرورت ہوتی ہے۔ ووٹو کی اب تک کی گنتی کے مطابق بی جے پی کو ڈھائی سو سے زیادہ نشستوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ واضح اکثریت کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    ریاست میں اس کی مخالف جماعت سماج وادی پارٹی کو سو سے زیادہ سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور اس نے پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم اب یہ بات تقریبا ًواضح ہو چکی ہے کہ ریاست کی کمان یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔ اکھیلیش یادو کی جماعت سماج وادی پارٹی اقتدار سے کافی دور ہے۔

    ایک سال سے کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے خبروں میں رہنے والا پنجاب انتخابی دہلیز کو عبور کر چکا ہے۔عام آدمی پارٹی پنجاب میں بھی دہلی کی کامیابی کو دہرا رہی ہے۔ پارٹی اکثریت کا ہندسہ بھی عبور کر چکی ہے۔ دوسرے نمبر کے لیے کانگریس اور اکالی دل کے درمیان مقابلہ ہے، لیکن دونوں مل کر بھی عآپ کے آس پاس نہیں پہنچ رہے ہیں

    ریاست پنجاب میں کانگریس پارٹی کی حکومت تھی، جسے اروندکیجریو ال کی جماعت عام آدمی پارٹی شکست فاش دیتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ 117 رکنی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کو 88 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ واضح اکثریت کی جانب رواں ہے۔ حکمراں کانگریس پارٹی کو پنجاب میں 117 میں سے صرف 15 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور دیگر تمام جماعتیں بہت پیچھے ہیں۔

    بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف مہم چلانے والوں کی جماعت عام آدمی پارٹی پہلی بار دہلی سے باہر کسی دوسری ریاست میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے اور یہ ایک طرح سے ریاست پنجاب میں ایک نیا انقلاب ہے۔ رائے دہندگان نے پنجاب میں کانگریس، اکالی دل اور بی جے پی جیسی تمام دیگر سیاسی جماعتوں کو تقریباً یکسر مسترد کر دیاہے۔

    گوا میں بی جے پی 18 سیٹوں پر آگے ہے۔ کانگریس 11 سیٹوں پر آگے ہے جبکہ ایم جی پی + 4 سیٹوں پر آگے ہے۔ عام آدمی پارٹی 2 اور دیگر 5 سیٹوں پر آگے ہے۔ سی ایم پرمود ساونت سنکلم سے 604 ووٹوں سے آگے ہیں۔ دوسرے راؤنڈ کے بعد ڈپٹی سی ایم چندرکانت کاولیکر کوئپام سیٹ سے 1422 ووٹوں سے پیچھے ہیں۔ اتراکھنڈ اور منی پور میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    بی جے پی اب 44 سیٹوں پر آگے ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی ریاست میں لگاتار دو بار حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہونے کے افسانے کو توڑ رہی ہے۔ ریاست میں کانگریس کی برتری اب 22 سیٹوں پر رہ گئی ہے، جب کہ دیگر چار سیٹوں پر آگے ہیں۔ AAP، جس نے پہلی بار تمام 70 سیٹوں پر مقابلہ کیا، اب کسی بھی سیٹ پر آگے نہیں ہے۔ ۔

    یہاں کی 60 سیٹوں میں سے حکمراں بی جے پی اب 25 سیٹوں پر آگے ہے، جب کہ کانگریس 11 سیٹوں پر آگے ہے۔ مقامی جماعتوں این پی پی اور این پی ایف نے کانگریس اور بی جے پی کو سخت ٹکر دی ہے جنہوں نے 2002 سے 2017 تک ریاست میں حکومت بنائی تھی۔ رجحان میں، این پی پی 12 سیٹوں پر، این پی ایف 3 سیٹوں پر اور دیگر 8 سیٹوں پر آگے ہے۔

  • عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    اسلام آباد :مولوی صاحب مروا دتاجےناں:عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں،اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات میں شہباز شریف نے مسلم لیگ (ق) کے بارے میں شکوے شکایات کیں۔

    تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران شہبازشریف مسلسل رابطےمیں رہے اور نوازشریف کوبھی ملاقات کےدوران آگاہ کیاجاتارہا۔

    ذرائع نے بتایا کہ ق لیگ کےحوالے سے ن لیگ کے تحفظات برقرار ہے ، ملاقات کے دوران شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمان سے شکوے شکایات کیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ مولانا آپ کےکہنےپرپرویزالٰہی کوکھانےکی دعوت دی لیکن پرویزالٰہی نے کھانے کی دعوت پر معذرت کرلی، جس پرمولانا نے جواب میں کہا کہ علم ہونے پر چوہدری شجاعت کے بیٹے کو فون کیا۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے دیگرسیاسی رہنماؤں سےرابطے فیصلہ کیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگرجماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی جائے گی۔

    یاد رہے گذشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ آصف زرداری کیساتھ عدم اعتماد پر مشاورت ہوئی، کل رات کوقانونی ماہرین کی ملاقات بھی ہوچکی ہے، طے ہوا ہے تحریک عدم اعتمادعمران خان کےخلاف لائی جائےگی۔لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت مخالف اتحاد میں اتحاد نہیں‌ رہا اور وہ عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں بڑے بڑے عہدوں اور وزارتوں‌ کا مطالبہ کررہے ہیں جو کہ پورے نہیں‌ ہوسکتے

  • پاکستان کیطرف سوچ سمجھ کردیکھنا:آج وہ نہیں جودہشت گردی       کےجواب میں‌ ساڑھیاں پیش کریں:مودی کوپیغام

    پاکستان کیطرف سوچ سمجھ کردیکھنا:آج وہ نہیں جودہشت گردی کےجواب میں‌ ساڑھیاں پیش کریں:مودی کوپیغام

    لکھی غلام شاہ:پاکستان کی طرف سوچ سمجھ کردیکھنا:آج وہ نہیں جودہشت گردی کےجواب میں‌ ساڑھیاں پیش کریں:اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پیغام دیا ہے کہ سوچ سمجھ کر پاکستان کی جانب نظر اٹھانا۔

    لکھی غلام شاہ میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا آج 27 فروری کی مناسبت سے دو پیغام دینا چاہتا ہوں، ایک پیغام نریندی مودی کو دینا چاہتا ہوں اور ایک پیغام بلاول بھٹو زرداری کو دینا چاہتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا مودی نے تین سال پہلے جارحیت کی اور پاکستان کی سرحدوں پر حملہ کیا، ایک جاگتی قوم تھی، تم نے حملہ کیا جس کا ہم نے جواب دیا، ہم نے ابھی نندن کو چائے پلاکر واپس بھیجا، سوچ سمجھ کر پاکستان کی طرف آنکھ اٹھانا، آج وہ نہیں جو تمہیں ساڑھیاں پیش کریں۔

    بلاول بھٹو زرداری کے لیے اپنے پیغام میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا سنا ہے بلاول آج لانگ مارچ نکال رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے حساب لینے نکلے ہیں تو ضرور لو ہمارا حساب، ہمارا وزیراعظم گھبراتا نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں بلاول سے 15 سال کا حساب لینے آئے ہیں، کراچی کے لوگوں کو دن دیہاڑے گن پوائنٹ پر لوٹا جا رہا ہے، بلاول سے پوچھتا ہوں کہ کراچی میں بے امنی کا ذمہ دار کون ہے؟ آئی جی، ایس پی کس کے تابع ہیں؟ بلاول سے پوچھتا ہوں کہ ورکرز کو 30 ،30 ہزار روپےکس نے دیے ہیں؟

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا آج کراچی سے نکلنے سے پہلے لوگ امن و امان سے متعلق سوال کریں گے، سروے کے مطابق 5 فیصد پنجاب کے لوگوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینےکا کہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ایک تحصیل کی سیٹ ملی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا سندھ کے عوام کو کہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کا مقابلہ پی ٹی آئی کرے گی۔

  • جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    اسلام آباد:جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق بھارت صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی لائن پر نہ چلنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں گزشتہ 5 برسوں میں 18 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے کیونکہ مودی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز حربے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں پر مقدمے، قتل اور ڈرانا دھمکانا معمول بن چکا ہے جبکہ2014 میں مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مودی کی قیادت میں بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نیچے کی آرہاہے اور رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈر کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے وہ 142 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو صحافی بی جے ی کی لائن کو نہیں مانتے انہیں ہراساں کرنے اور دڑانے دھمکانے کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں میڈیا والوں کے خلاف سچ بولنے پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج گئے گئے ۔

    کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنانے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی صحافی رعنا ایوب مودی حکومت کا تازہ ترین ہدف بنی ہیں اور انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں مقیم خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب تنقیدی رپورٹنگ کی وجہ سے مودی حکومت کے حملوں کی زد میں ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی انہیں کو ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانا بند کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دنیا سے چھپانے کے لیے آزاد پریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  • اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    نئی دہلی :اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا،اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کی سابق اداکارہ زائرہ وسیم نے حال ہی میں بھارت میں ہونے والے حجاب تنازع پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    زائرہ وسیم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تحریری پیغام جاری کیا اور کہا کہ اسلام میں حجاب پہنا یا نہ پہننا اپنے ذاتی انتخاب پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک فرض ہے، جب ایک عورت حجاب کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے احکامات بجا لارہی ہے اور اس نے خود کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔

    سابقہ اداکارہ نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں بحیثیت ایک عورت کے جو شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ حجاب پہنتی ہوں، اس پورے نظام کی مخالفت کرتی ہوں جہاں خواتین کو صرف ایک مذہبی وابستگی کی وجہ سے حجاب کی وجہ سے ہراساں اور اسے پہننے سے روکا جا رہا ہے۔

    زائرہ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ مسلم خواتین کے خلاف تعصب کو فروغ دینا اور ایسا نظام قائم کرنا جہاں انہیں تعلیم اور حجاب میں سے ایک کو منتخب کرنا اور دوسرے سے دستبردار ہونا ہو، سراسر ناانصافی ہے۔

    انہوں نے ہندو انتہا پسندوں کے لیے کہا کہ آپ مسلم خواتین کو ایک بہت ہی محدود انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ آپ کے ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے اور جب وہ آپ کے بنائے گئے اصولوں کی پابند ہو جاتی ہیں تو آپ ان ہی پر تنقید کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابقہ اداکارہ زائرہ وسیم نے 2015 میں سپر ہٹ فلم دنگل سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا لیکن بعدازاں انہوں نے 2019 میں مذہب کی خاطر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

  • بھارت میں مسلمانوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ:عالمی ادارے خاموش تماشائی

    بھارت میں مسلمانوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ:عالمی ادارے خاموش تماشائی

    نئی دہلی :بھارت میں مسلمانوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ:عالمی ادارے خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں2014میں مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں پرمظالم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ ہندوتواغنڈے مسلسل بھارت بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے دور میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو تیزی سے بڑھکایا گیاہے اور بھارت میں مسلمانوں کو دھمکیاں دینے ، ہراساں کئے جانے اور ان پر حملوں کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے ۔

    رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی حکومت بھارت میں ہندو بالادستی کو فروغ دے رہی ہے اورمسلمانوں کو د گھر واپسی کی پرتشدد مہم کے ذریعے ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔گھر واپسی دراصل لوگوں کو اسلام، عیسائیت اور دیگر مذاہب سے زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی مہم ہے جو انتہا پسند ہندو تنظیمیں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشد ، بجرنگ دل اور دیگر کی طرف سے شروع کی گئی ہے ۔

    ہندوتوانظریہ کے مطابق بھارت کے تمام لوگ آبائی طور پر ہندو ہیں اور اس لیے دوبارہ ہندو مذہب اختیارکرنا گھر واپسی ہی ہے ۔ ہندوانتہا پسند تنظیموں نے 2014میں نریندر مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس پروگرام پر عمل درآمد تیز کر دیاہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ زندگی کے تمام شعبہ زندگی میں امتیازی سلوک روارکھاجا رہا ہے۔

    رپورٹ میں ممتاز سکالر نوم چومسکی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہاگیا ہے کہ اسلامو فوبیا نے ہندوستان میں سب سے زیادہ مہلک شکل اختیار کر لی ہے اور مسلمانوں کو ایک مظلوم اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔رپورٹ میں افسوس ظاہر کیا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈر کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی اور ہتھیاروں کے استعمال کا مطالبہ کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بارے میں خبردار کیا ہے اور مسلمانوں پر حملوں کو عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج قرار دیا ہے۔

  • ووٹروں کو دھمکانے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی لیڈر کو نوٹس جاری

    ووٹروں کو دھمکانے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی لیڈر کو نوٹس جاری

    تلنگانہ :ووٹروں کو دھمکانے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے بی جے پی لیڈر کو نوٹس جاری ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں الیکشن کمیشن نے ریاست تلنگانہ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اے ٹی راجہ سنگھ کو اتر پردیش کے انتخابات میں ووٹروں کو دھمکانے پر نوٹس جاری کر دیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اے ٹی راجہ سنگھ نے یوگی اادتیہ ناتھ کو ووٹ نہ دینے والے ووٹروں کے گھروں پر بلڈوزر چلوانے کی دھمکی دی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اے ٹی راجہ سنگھ کے مبینہ ویڈیو بیان جس میں وہ ووٹروں کو یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کو ووٹ دینے کیلئے دھمکا رہے ہیں کا حولہ دیتے ہوئے کہاہے کہ بی جے پی لیڈر نے انتخابی ضابطہ اخلاق،تعزیرات ہند اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔ کمیشن نے اے ٹی راجہ سنگھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24گھنٹے میں اپنے بیان کی وضاحت کرنے کی ہدایت کی ہے بصور ت دیگر مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

    واضح رہے کہ اے ٹی راجہ سنگھ نے گزشتہ روز ایک ویڈیو بیان میںووٹروں سے اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھاکہ اترپردیش میں رہنا ہے تو یوگی یوگی کہنا ہوگا، نہیں تو ریاست چھوڑ کر بھاگنا ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے، ان سے کہوں گا کہ یوگی نے ہزاروں بلڈوزر منگوا لئے ہیںجو ان کے گھروں پر چلوائے جائیں گے ۔