Baaghi TV

Tag: موروثی سیاست

  • کئی بار بانی کی رہائی کیلئے ڈیل ہوئی ، شیر افضل مروت کا انکشاف

    کئی بار بانی کی رہائی کیلئے ڈیل ہوئی ، شیر افضل مروت کا انکشاف

    شیر افضل مروت نے کہا پی ٹی آئی آج کل بیماری کا شکار ہے، یہ بیماری باہر سے نہیں آئی بلکہ خان صاحب کے گھر سے آئی ہے، گھر کے اندر کی سایست اور موروثی سیاست پر عمل پیرا ہوکر گدی پر قبضے کی کوششوں نے حقیقی معانوں میں پی ٹی آئی کا یہ حشر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شیر افضل مروت نے نجی نیوز چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے، شیر افضل مروت نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا سلمان اکرم راجہ علیمہ خان کی سفارش پر سیکرٹری جنرل بنے ہیں، بشری بی بی کی سفارش پر علی امین کو فارغ کیا گیا، صدارت یا وہ کوئی اور عہدے یہی لوگ فیصلہ کرتے ہیں جبکہ پارٹی کے عمائدین، اکابرین تالیاں بجاتے ہیں، خان کے اندر جانے کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے، ڈیڑھ سال سے ہم یہی چیزیں دیکھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے جب سے خان صاحب جیل گئے ہیں کون فیصلے کررہا ہے، پارٹی کے ہر لیڈر کو پتہ ہے کیا ہو کیا رہا ہے مگر وہ یا تو جھوٹ سے کام چلاتے ہیں یا پھر اس اصل بیماری پر بات ہی نہیں کرنا چاہتے، پی ٹی آئی میں جو انتشار ہے وہ عمران خان کے گھر جو ہیں جو سیاسی طور پر سینہ جھپٹی ہے اور پارٹی اُسی کا ہی شکار ہے۔خان نے اور ہم نے موروثی سیاست کا مذاق اڑایا ہے مگر جب سے بانی پی ٹی آئی اندر گئے ہیں موروثی سیاست اپنے پنجے گاڑھنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہی المحہ ہے۔

    اہم انکشاف کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا ڈیڑھ سال میں تین مواقع ایسے آئے جب خان کی رہائی کیلئے ڈیل ہوگئی اور اس میں علی امین نے کردار ادا کیا تھا، جب یہ قریب ہوتے ہیں تو سوشل میڈیا متحرک ہوتا ہے اور سب کئے پر پانی پھیر دیتا ہے۔مشال یوسفزئی بشری بی بی کی ترجمان تھیں اُنکی وجہ سے وزیر بنایا گیا اور پھر ہٹایا بھی گیا جو کہ بشری بی بی نے ہی کیا، پھر بشری بی بی ہی کی سفارش پر مشال کو پھر وزیر بنا دیا گیا، بشری بی بی نے مشال یوسفزئی سے کہا آپ ایک بیان دے دیں کہ ڈی چوک سے انہیں دھوکے سے اٹھایا گیا اور علی امین پر الزام تراشی کی گئی، مشال یوسفزئی نے جب یہ بیان دیا تو اُن کو وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے۔

    شیرافضل مروت نے کہا اُن کا قصور یہ تھا کہ خان نے مجھ سے کہا باہر جاکر بتانا کہ انٹرپارٹی الیکشن ہوں گے ، موروثی سیاست نہیں ہوگی، اُس اعلان سے مجھے باز رکھنے کے لئے پریشر ڈالا گیا جونہی میں نے اعلان کیا پی ٹی آئی آفیشل سے ٹویٹ ہو جس میں لکھا گیا کہ جو سینئر وائس پریزیڈنٹ نے جو بیان دیا وہ جھوٹ ہے تاکہ موروثی سیاست کو دبایا جاسکے۔اور اگلے دن کچھ لوگ بانی پی ٹی آئی کے پاس گئے اور کہا آپ یہ فیصلہ واپس لیں مگر انہوں نے وہ فیصلہ واپس نہیں لیا تھا۔

    سیاحوں کی آبدوز بحر احمر میں ڈوب گئی، 6 اموات

    دوران ڈکیتی سڑک پر شوہر کو درخت کے ساتھ باندھ کر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    خیبرپی کے میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں ،11خارجی ہلاک

  • عام انتخابات،موروثی سیاست،اپنے ہی امیدوار

    عام انتخابات،موروثی سیاست،اپنے ہی امیدوار

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا، باپ بیٹا امیدوار،تو کہیں دو دو بھائی امیدوار، کئی پارٹیوں نے کارکنان کی بجائے اپنے ہی خاندان میں ٹکٹ بانٹ دیئے،

    مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف، موروثی سیاست سبھی میں دیکھنے میں آئی ہے، موروثی سیاست یا قیادت پاکستان کے بڑے خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے نچلے طبقوں میں بھی موجود ہے، ایک طرف پارٹی میں موروثی سیاست ، تو وہیں ایوان میں جانے کے لئے بھی پارٹی لیڈروں کو اپنی ہی اولاد اور رشتے دار یاد آتے ہیں،وزارتیں چاہئے ہوں،تو بھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنوں کو ہی نوازیں، مذہبی جماعتیں بھی موروثی سیاست میں کسی سے پیچھے نہیں، حالیہ الیکشن جو 8 فروری کو ہو رہے ہیں اس میں ایسے کئی ٹکٹ تقسیم ہوئے اور امیدوار سامنے آئے جس پر پاکستان میں موروثی سیاست پر مہر ثبت ہو گئی.

    الیکشن میں بڑے سیاسی رہنماؤں نے اپنی اولاد،اور رشتے داروں‌کو میدان میں اتارا ہے، مسلم لیگ ن کی مثال لیں تو نواز شریف الیکشن لڑ رہے ہیں تو وہیں مریم نواز بھی میدان میں ہیں، شہباز شریف الیکشن لڑ رہے ہیں تو حمزہ شہباز بھی امیدوار ہیں، وزیراعظم بنے نواز شریف تو شہباز شریف وزیراعلیٰ بن گئے، شہباز شریف وزیراعظم بنے تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بن گئے، اب الیکشن میں بھی یہی صورتحال ہے، پیپلز پارٹی کو دیکھ لیں، آصف زرداری امیدوار ہیں تو بلاول بھی لاڑکانہ لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، البتہ آصفہ کو ابھی تک آصف زرداری نےانتخابی سیاست سے دور رکھا ہے،یوسف رضا گیلانی امیدوار ہیں تو انکے بیٹے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی مثال لیں تو عمران خان سزا کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکے تاہم شاہ محمود قریشی نے بیٹے اور بیٹی کو امیدوار بنایا، پرویز الہیٰ نے اہلیہ اور بیٹے مونس الہیٰ کو امیدوار بنا دیااگرچہ انکے کاغذات مسترد ہو چکے ہیں،جے یو آئی کو دیکھ لیں، مولانا فضل الرحمان امیدوار ہیں تو وہیں انکے بیٹے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں جو پی ڈی ایم حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کو لے لیں تو ایک ہی گھر سے تین امیدوار سامنے ہیں، حافظ محمد مسعود قومی اسمبلی سے الیکشن لڑ رہے ہیں تو وہیں حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں، حافظ خالد ولید بھی لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں‌پر امیدوار ہیں، پاکستان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی ایسی جماعتیں ہیں جن میں موروثیت دیکھنے میں نہیں آئی، اسکے علاوہ باقی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں یہ اثر دیکھنے میں آیا، تحریک لبیک کو دیکھ لیں علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد بیٹے حافظ سعد رضوی امیر بن گئے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صحافی ماجد نظامی کہتے ہیں کہ "پنجاب میں مسلم لیگ ن نے عام انتخابات میں جن نوجوانوں کو پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا ہے۔ ان سب کا پرانے سیاسی گھرانوں سے تعلق ہے اور موروثی سیاست کی وجہ سے انہیں ٹکٹس دی گئی ہیں۔ اگر اس قدم کو یوتھ ایمپاورمنٹ کا نام دیا جائے گا تو سخت نا انصافی ہو گی:
    راجہ اسامہ سرور: سابق وزیر راجہ اشفاق سرور کے بیٹے
    رانا احمد عتیق: سابق ایم این اے رانا افضال کے بیٹے
    عمار لغاری: سابق وزیر اویس لغاری کے بیٹے
    عثمان اویسی: سابق ایم این اے نجیب اویسی کے بیٹے
    شہر بانو بخاری: سابق ایم این اے باسط بخاری کی بیٹی

    ن لیگ کے رہنما، سابق وفاقی وزیر جاوید لطیف بھی موروثی سیاست کو فروغ دینے لگے،لگے ہاتھوں صوبائی اسمبلی کے لیے اپنا بھائی امیدوار بنا لیا، امجد لطیف کو ن لیگ نے ٹکٹ جاری کر دیا،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔