Baaghi TV

Tag: موسمیاتی تبدیلیاں

  • موسمیاتی تبدیلیاں، بطور قوم غلطی کہاں ہوئی؟، پی ٹی آئی کو جواب؟

    موسمیاتی تبدیلیاں، بطور قوم غلطی کہاں ہوئی؟، پی ٹی آئی کو جواب؟

    معروف اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے تازہ پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایک خطرناک حملے کی تیاری میں مصروف ہے، جس کا عندیہ 14 اگست کے موقع پر دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایمرجنسی بنیادوں پر 700 رافیل طیاروں کی ڈیل سائن کی ہے، جو اسی ماہ سے ڈیلیور ہونا شروع ہو جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق اس ہتھیاروں کی دوڑ کے پیچھے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم واضح نظر آتے ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ زمینی تجارتی راستوں کو کھولنے کی خواہش رکھتا ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ صورتحال منفی بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کسی بڑی اسٹرائیک کا منصوبہ بناتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہوگا۔

    پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیل کا امکان؟
    پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل پر بھی گفتگو کی گئی۔ مبشر لقمان نے صحافی سہیل وڑائچ کے انکشافات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغام دیا گیا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی معافی مانگ لیں اور تعاون پر آمادہ ہوں تو ان کے لیے ملک میں دوبارہ جگہ بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، اگلے دس سال تک ان کے لیے کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سہیل وڑائچ بطور رپورٹر صرف وہی بات سامنے لائے ہیں جو فیلڈ مارشل کی جانب سے کہی گئی، اور یہ کوئی خفیہ پیغام نہیں بلکہ عوامی سطح پر ایک واضح اشارہ ہے کہ حقیقی آزادی کا نعرہ ناکام ہو چکا ہے اور اب ملک کی بہتری کے لیے عملی سیاست کی طرف واپس آنا ہوگا۔

    موسمیاتی تبدیلیاں، بطور قوم غلطی کہاں ہوئی
    پروگرام میں حالیہ سیلاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد اور وہ لوگ جنہوں نے برساتی نالوں یا پانی کے بہاؤ کے راستوں پر رہائش یا کمرشل تعمیرات کی ہیں، وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ حکام نے فوری طور پر ایسے رہائشیوں کو ری لوکیٹ (Relocate) یا ڈس لوکیٹ (Dislocate) کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انسانی جانوں کا نقصان روکا جا سکے۔

    انہوں نے اس صورتحال کو ماضی کی پالیسیوں اور سیاسی ترجیحات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں بڑے ڈیمز، خصوصاً کالا باغ ڈیم تعمیر کیا گیا ہوتا اور شجر کاری کو ترجیح دی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ مگر بدقسمتی سے سیاست عوام کی زندگیوں پر حاوی رہی اور نتیجتاً آج لاکھوں لوگ براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں.

    صدر ٹرمپ کی زیلنسکی سے ملاقات، سہ فریقی مذاکرات کی پیشکش

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 48 ٹن امدادی سامان پشاور پہنچا دیا

    کراچی میں بارش کا امکان، وزیراعلیٰ سندھ کا ہنگامی اجلاس

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مرچوں پر بھی ہونے لگے

    موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مرچوں پر بھی ہونے لگے

    موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا پر متعدد اثرات مرتب ہورہے ہیں سیلاب، جنگلات میں آتشزدگی اور دیگر سنگین حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے،مگر اب موسمیاتی تبدیلیوں سے مرتب ہونے والے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مرچوں کا ذائقہ ماند پڑتا جا رہا ہے سائنسدانوں کے مطابق ایسا صرف مرچوں کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ دیگر غذاؤں پر بھی اثرات مرتب ہورہے ہیں مثال کے طور کافی کی تلخی بڑھ رہی ہے، جبکہ شدید بارشوں کے باعث ناریل زیادہ نرم ہوتے جا رہے ہیں۔

    مرچیں بنیادی طور پر بیریز کی نسل سے تعلق رکھتی ہیں اور دنیا بھر میں انہیں پکوانوں میں مسالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں مرچوں کی 4 ہزار اقسام کاشت ہوتی ہیں جن کی رنگت، حجم اور مرچوں کی شدت مختلف ہوتی ہیں، مرچوں کی تجارت کا سالانہ حجم 9 ارب ڈالرز کے قریب ہے اور 70 فیصد سپلائی ایشیائی ممالک کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔

    9 مئی کیس: ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے مزید پانچ مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    امریکی سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مرچوں میں اب بہت زیادہ اضافی نمی جذب ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ان کی تیزی ماند پڑتی جا رہی ہے خشک سالی اور درجہ حرارت بڑھنے سے بھی مرچوں کی کاشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث مرچوں کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    ماہرین کے مطابق موسم میں آنے والی ہر قسم کی تبدیلی مرچوں پر اثرات مرتب کرتی ہے مرچوں کی نئی اقسام تیار کی جا رہی ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف زیادہ مزاحمت کرسکیں گی مگر ان کے لیے چیلنج اس کے ذائقے کو برقرار رکھنا ہے، ماضی میں جب آپ ایک مرچ کھاتے تھے تو آپ کو منہ میں آگ لگنے جیسا احساس ہوتا، پسینہ بہنے لگتا اور پورے جسم میں گرمی کی لہر دوڑنے کا احساس ہوتا ، مگر اب مرچوں کی تیزی کم ہوتی جا رہی ہے اور انہیں کھانے سے اکثر کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔

    گوجرہ: ڈی پی او کی کھلی کچہری فوٹو سیشن تک محدود، شہری انصاف سے محروم

  • دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے صرف دو سال باقی ہیں،اقوام متحدہ

    دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے صرف دو سال باقی ہیں،اقوام متحدہ

    نیویارک: اقوام متحدہ کے موسمیاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے انسانوں کے پاس صرف دو سال باقی ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈٰیا کے مطابق ایجنسی کے ایگزیکوٹیو سیکرٹری سائمن اسٹیل کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ انتباہ ایک ڈرامائی بیان لگتا ہے لیکن جلد اقدامات بہت ضروری ہیں انہوں نے کہ یہ سوال کہ دنیا کو بچانے کے لیے دو سال اصل میں کس کے پاس ہیں؟ تو اس کا جواب اس کرہ ارض کا ہر فرد ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب زیادہ سے زیادہ لوگ معاشرتی اور سیاسی سطح دونوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگیوں اور اپنے گھریلو اخراجات میں تک موسمیاتی بحران کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ مذکورہ واررنگ بالخصوص جی 20 ممالک کے لیے تھی جن میں امریکہ، چین اور بھارت جیسے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ یہ ممالک زمین پر 80 فیصد گرمی پیدا کرنے والے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

  • گلیشیئر پگھلنے سے ڈیڑھ ارب سے زائد لوگوں کے ذریعہ معاش کےتحفظ کو خطرہ

    گلیشیئر پگھلنے سے ڈیڑھ ارب سے زائد لوگوں کے ذریعہ معاش کےتحفظ کو خطرہ

    ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے خبردار کردیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے سے ایک ارب 60 کروڑ سے زائد لوگوں کے ذریعہ معاش کا تحفظ خطرے میں آ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اے ڈی بی کی منیجنگ ڈائریکٹرجنرل ووچونگ امز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوکش اورہمالیہ ریجن میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، ہمارے نئے اقدامات سے بھوٹان اور نیپال نئی اطلاعات تک رسائی حاصل کرسکیں گے، اس آگاہی سے یہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مؤثر سرمایہ کاری کرسکیں گے۔

    قبل ازیں اقوام متحدہ نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ’گلیشیئروں کے پگھلنے اور سطح سمندر میں اضافے کا عمل ہزاروں سال تک جاری رہے گا جو 2022 میں دوبارہ ریکارڈ سطح پر جا پہنچا تھا ڈبلیو ایم او کا مزید کہنا ہے کہ ”بحر منجمد جنوبی میں برف کی تہہ میں تاریخی کمی آئی اور یورپ میں بعض گلیشیئروں کا پگھلنا واقعتاً غیرمتوقع تھا گرین لینڈ اور انٹارکٹکا میں گلیشیئروں اور برفانی تہہ کے پگھلنے کے علاوہ گرمی کے سبب سمندری حجم بڑھنے سے بھی سطح سمندر میں اضافہ ہوا جس سے ساحلی علاقوں اور بعض صورتوں میں پورے ممالک کے وجود کو خطرات لاحق ہیں۔

    رپورٹ میں شدید موسمی حالات کے بہت سے سماجی۔معاشی اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا تھا جس نے دنیا بھر میں غیرمحفوظ ترین لوگوں کی زندگیوں کو غارت کر دیا ہے۔ مشرقی افریقہ میں مسلسل پانچ سالہ خشک سالی اور مسلح تنازعات جیسے دیگر عوامل کے سبب خطے بھر میں 20 ملین لوگ تباہ کن غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

    گزشتہ برس جولائی اور اگست کے دوران پاکستان میں آنے والے بہت بڑے سیلاب میں 1,700 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے جبکہ اس آفت نے مجموعی طور پر 33 ملین لوگوں کو متاثر کیا۔ ڈبلیو ایم او نے واضح کیا ہے کہ اس سیلاب سے مجموعی طو رپر 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور اکتوبر 2022 تک 8 ملین لوگ اندرون ملک بے گھر ہو چکے تھے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سال بھر خطرناک موسمی حالات نے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کے علاوہ پہلے ہی بے گھری کی زندگی گزارنے والے 95 ملین لوگوں میں سے بڑی تعداد کے لیے حالات بدترین بنا دئیے-

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ‘ارتھ ڈے’ پر اپنے پیغام میں خبردار کیا تھا کہ ”حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ ہو رہا ہے اور دس لاکھ انواع معدومیت کے دھانے پر ہیں۔ انہوں ںے دنیا سے کہا کہ ”فطرت کے خلاف یہ مسلسل اور غیرمعقول جنگ” بند کی جائے۔= ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے پاس موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے ذرائع، علم اور طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔”

    انتونیو گوئتریس نے گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں پر مشتمل ایک مشاورتی پینل کا اجلاس منعقد کیا جس کا مقصد 2027 تک تمام ممالک کو شدید موسمی واقعات سے بروقت آگاہی کے نظام کے ذریعے تحفظ دینے کی غرض سے ایک عالمگیر اقدام کی رفتار تیز کرنا تھا۔

    اس موقع پر ابتداً 30 ایسے ممالک میں ایک تیزرفتار مربوط اقدام کا اعلان کیا گیا جو شدید موسم کے مقابل خاص طور پر غیرمحفوظ ہیں۔ ان میں چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک اور کم ترین ترقی یافتہ ملک شامل ہیں۔

  • موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

    موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

    ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کیلئے انتباہ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے مئی میں ایک خبردار کیا تھا کہ اگلے پانچ سال میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے، جس کی وجہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ اور ایل نینو رجحان کی متوقع واپسی ہے مشرقی بحرالکاہل میں سطح آب کے غیر معمولی درجہ حرارت گرین ہاؤس گیسیں گلیشیئرز کے پگھلنے اور سمندر کی سطح میں اضافے کے ساتھ گرم سمندروں کا باعث بھی بن رہی ہیں جس سے موسم مزید شدید ہو جائے گا اور متحدہ عرب امارات ان سے متاثر ہو گا-

    بھارت نے دریائے ستلج میں ہزاروں کیوسک پانی چھوڑ دیا

    متحدہ عرب امارات کے قومی مرکز برائے موسمیات کے تحت بارش میں اضافے کے پروگرام کے حصے کے طور پر کام کرنے والے یوسف وہبی کے مطابق شدید گرمی اور شدید بارشوں سے روز مرہ کی زندگی سب سےزیادہ متاثر ہوگی یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق جولائی کو تاریخ کا گرم ترین مہینہ قراردیا گیا ہے جبکہ ناسا کے ایک سائنس دان کا کہنا ہے کہ یہ مہینہ ممکنہ طور پر’’ہزاروں نہیں تو سیکڑوں سال میں دنیا کا گرم ترین مہینہ‘‘ ہوگا۔

    بیٹی نے بوڑھے ماں باپ کو قتل کرنے کے بعد لاشوں کے ٹکڑے کر ڈالے

    متحدہ عرب امارات میں گذشتہ سال جولائی میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹروں نے رواں سال جولائی میں خبردار کیا تھا کہ درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرنے کے بعد لُو لگنے سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ جاری

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ جاری

    سمندری درجہ حرارت میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: سائنسدانوں نےخبردار کیا ہے کہ زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق سمندری درجہ حرارت میں حالیہ ہفتوں کے دوران بجلی کی سی تیز رفتاری سے ہونے والا اضافہ غیر معمولی ہے جس کی وضاحت ابھی کرنا ممکن نہیں –

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

    یہ ڈیٹا سیٹلائیٹس اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا گیا اور دریافت ہوا کہ سمندری درجہ حرارت میں گزشتہ 42 دن کے دوران مسلسل اضافہ ریکارڈ ہوا ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ رواں سال دنیا کو ایل نینو کی موسمیاتی لہر کا سامنا ہوگا ۔

    ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہےاس کے برعکس لانینا کے دوران وسطی اورمشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہےمارچ اور اپریل کے دوران سمندری درجہ حرارت میں عموماً کمی دیکھنے میں آتی ہے مگر اس سال کچھ غیر معمولی ہوا ہے۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    برٹش انٹارٹک سروے کے پروفیسر مائیک میریڈیتھ نے بتایا کہ اس دریافت نے سائنسدانوں کو سر کھجانے پر مجبور کر دیا ہے، درحقیقت سمندروں کا گرم ہونا ایک حقیقی سرپرائز اور تشویشناک امر ہے، ابھی یہ معلوم نہیں کہ ایسا مختصر المدت کے لیے ہوا ہے یا کسی سنگین بحران کا آغاز ہوا ہے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، مگر سمندری درجہ حرارت میں اضافہ موسمیاتی پیشگوئیوں سے کہیں زیادہ ہے، تاہم ابھی ہم نہیں جانتے کہ اصل واقعہ کیا ہے-

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    سمندری درجہ حرارت میں اضافہ متعدد وجوہات کے باعث تشویشناک ہے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ زیادہ درجہ حرارت پر سمندری پانی اوپر کی جانب جاتا ہے جس سے سمندری سطح میں اضافہ ہوتا ہےاسی طرح قطبین کا گرم پانی برفانی میدانوں کے پگھلنے کا عمل تیز کر دیتا ہے اور زیادہ درجہ حرارت سے سمندری ماحول بھی متاثر ہوتا ہے کچھ سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ یہ ایک علامت ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں توقع سے زیادہ تیز رفتاری سے ہو رہی ہیں۔

  • موسمیاتی تبدیلیاں،پنجاب میں گرمی کی شدت اورجنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے

    موسمیاتی تبدیلیاں،پنجاب میں گرمی کی شدت اورجنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے

    لاہور: پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( پی ڈی ایم اے) پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہیٹ ویو اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی: ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کی ہدایت پر ڈائریکٹر کوارڈینیشن کی زیر صدارت ہیٹ ویو اور فاریسٹ فائر بارے کمیٹی روم میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سول ڈیفنس، جنگلات، زراعت، تعلیم، لوکل گورنمنٹ انڈسٹریز حکام شریک ہوئے-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

    اجلاس میں ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے طارق محمود بخاری نےکہا کہ تمام متعلقہ ادارے ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاؤ اور انتظامات بارے پلان پی ڈی ایم اے کو جمع کروائیں۔ محکمہ تعلیم بچوں کے امتحانی شیڈول بارے فی الفور پی ڈی ایم اے کو آگاہ کرے۔

    انہوں نےکہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سےہیٹ ویو اورگرمی کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہےجبکہ گرمی کی شدت بڑھنے سے جنگلات میں آتشزدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے محکمہ جنگلات فاریسٹ فائر سےبچاؤ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر رپورٹ جمع کروائے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    طارق محمود بخاری نے یہ بھی بتایا کہ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں، ہیٹ ویو سے بزرگ شہری اور بچے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ بچاؤ کے لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہوگا ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر بارے عوام الناس کو موثر آگاہی فراہم کی جائے پی ڈی ایم اے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

  • دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں بڑا چیلنج ہیں،پاکستان متاثر ترین ملکوں میں شامل ہے،بلاول بھٹو

    دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں بڑا چیلنج ہیں،پاکستان متاثر ترین ملکوں میں شامل ہے،بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہے-

    باغی ٹی وی : قومی سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کے مطابق پیر کو ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے موسمیاتی تبدیلی، پاکستان کو درپیش مسائل اور یوکرین جنگ کے تناظر میں پیدا ہونے والے بحران اور اثرات پر بات کی-

    موسمیاتی تبدیلیوں سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، اجتماعی کوششیں لازم ہیں،وزیر اعظم

    وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں بڑا چیلنج ہیں، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہے، رواں سال پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات باعث پیدا ہونے والی بدترین سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے-

    وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سیلاب کے فوری بعد پاکستان کا دورہ کیا اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد انہوں نے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی اپیل کی تھی اس صورتحال میں حکومت پاکستان کو اس وقت متعدد چیلنجز درپیش ہیں، ان درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔

    پاکستان کوقرضوں میں ریلیف اتنا نہیں ملاجتناملنا چاہیے تھا،انتونیو گوتریس

    یوکرین جنگ کے بحران پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یوکرین بحران نے معیشتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں، اس سے پاکستان بھی متاثر ہوا ہے پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی، مستحکم افغانستان خطے کی سلامتی اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سب کی رائے ہے کہ یوکرین تنازع ختم ہو تاکہ انسانیت کو ماحولیات جیسے درپیش خطرات پر توجہ دی جا سکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

    سیلابی پانی کی صورتحال بہتر ہونے پر نواب شاہ ائرپورٹ پر بحالی کام تیزی سے جاری

  • موسمیاتی تبدیلیاں ایک عالمگیراورناقابل تردید حقیقت بن چکی ہیں،سعودی ماہرین موسمیات

    موسمیاتی تبدیلیاں ایک عالمگیراورناقابل تردید حقیقت بن چکی ہیں،سعودی ماہرین موسمیات

    موسمیاتی تبدیلیاں سعودی عرب کے خشک صحرا میں بھی سیلاب آگیا-

    باغی ٹی وی : جنوب مشرقی سعودی عرب کے ربع الخالی ریگستان میں نفود الدحی کے علاقے میں بارشوں کے باعث سیلابی ریلے داخل ہو گئے جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں-

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    ویڈیوز میں ربع الخالی صحرا کے کئی مقامات پر پانی کے ریلوں کو بہتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ امر حیران کن ہے کہ صحرائے ربع الخالی کو دنیا کے خشک ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔


    العربیہ میڈیا کے مطابق سعودی ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت ایک ایسے دور میں جی رہی ہے جس میں موسمیاتی تبدیلیاں ایک عالمگیر اور ناقابل تردید حقیقت بن چکی ہیں موسمیاتی تبدیلیاں لا محالہ آنے والی ہیں یہ تبدیلیاں دو حصوں میں تقسیم ہیں جو کہ عرب ممالک کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔ جبکہ ان کے یورپی ممالک اور بعض ایشیائی ممالک پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار

    سعودی عرب کے جنوب مغربی حصے جسے ربع خالی کہا جاتا ہے میں نمایاں تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ جزیرہ نما عرب اپنے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کرے گا۔


    اسے ماضی میں "ربع الخالی ” اس لیے کہا جاتا تھا کہ یہ علاقہ بارشوں سے خالی رہتا تھا تاہم حالیہ عرصے میں ہر سال بارش ہونے لگی ہے ربع الخالی کی ریت کے اندر دبی ہوئی وادیاں دوبارہ زندہ ہو گئی ہیں۔ یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ موسمی تبدیلیاں لامحالہ آ رہی ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا