Baaghi TV

Tag: موسمی تبدیلی

  • پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے،امریکا

    پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے،امریکا

    امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے معیشت اور موسمی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں-

    باغی ٹی وی: امریکی نائب معاون وزیر خارجہ الزبتھ ہورسٹ کا کہنا ہےکہ پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے، جبکہ حالیہ دہشت گرد حملوں پر تشویش اور جانی ومالی نقصان پر افسوس ہے، پاکستان کے لیے معیشت اور موسمی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں۔

    الزبتھ ہورسٹ نے پاکستانئی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین پائیدار شراکت داری ہے جبکہ پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات کے لیے پرامید ہیں امریکا اور پاکستان کی متعدد معاملات میں مشترکہ دلچسپی ہے اور امریکا پاکستانی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے، گزشتہ برس 9 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔

    آگ لگنے سے 18 سوڈانیوں سمیت 22 افراد زخمی

    انہوں نے کہا کہ امریکا کی طرف سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 250 ملین ڈالر رہی جبکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پاکستان کو 215 ملین ڈالر دیئے –

    ترک شیف براق اوزدیمرنے والد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

  • پاکستان: موسمیاتی  تبدیلی سے سیکڑوں بھیڑ بکریاں ہلاک

    پاکستان: موسمیاتی تبدیلی سے سیکڑوں بھیڑ بکریاں ہلاک

    سوات: پاکستان پر موسمی تبدیلی کے اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں، شمالی علاقوں میں جون میں غیر متوقع برفباری سے سیکڑوں بھیڑ بکریاں ہلاک ہو گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں موسمی تبدیلی کے اثرات کے طور پرغیر متوقع برف باری سے انسانوں کے ساتھ بڑی تعداد مں جانور بھی متاثر ہوگئے ہیں۔

     

    موسمیاتی تبدیلیوں کےاثرات:پاکستان میں تین دہائیوں میں3لاکھ افرادجان سےہاتھ…

    ضلعی انتظامیہ سوات کے مطابق دیر اور سوات کے سنگم پر چمبر بانڈہ اور لوڑہ بانڈہ میں حالیہ برف باری سے 15 سو سے زائد بھیڑ بکریاں ہلا ک ہو گئیں، جب کہ ایک چرواہے کی ہلاکت کی بھی ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کر دی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق گزشتہ روز ریسکیو 1122 کے عملے نے متاثرہ علاقے میں ریسکیو آپریشن کیا، اور چمبر بانڈہ میں 100 بھیڑوں کو بچایا۔ انتظامیہ کے مطابق پہاڑی علاقے میں غیر متوقع برف باری سے بھیڑ بکریاں چرانے والے چرواہے بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    محکمہ جنگلات کے ترجمان لطیف الرحمن نے بتایا کہ موسم گرما میں پہاڑی علاقوں کے لوگ بھیڑ بکریاں پہاڑوں کی چوٹیوں پر چرانے کے لیے لے جاتے ہیں، مئی کے مہینے سے اکتوبر تک بھیڑ بکریاں اونچے پہاڑوں پر ہوتی ہیں، لیکن حالیہ غیر متوقع برف باری نے چرواہوں اور جانوروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

    مارچ میں شدید گرمی اور جون میں کم درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں،ماہرین

    جون کے مہینے میں پاکستان کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی پڑتی ہے، لیکن اس بار جون کے مہینے میں خیبر پختون خوا کے پہاڑی علاقوں میں غیر متوقع برف باری کی وجہ سے میدانی علاقوں میں بھی جون کے مہینے میں موسم خوش گوار رہا۔

    پشاور میں 21 اور 22 جون کو رات کے وقت درجۂ حرات 16 ڈگری سنٹی گریڈ تک گر گیا تھا، محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر فہیم احمد نے بتایا کہ شاید یہ پہلی بار ہوا کہ جون میں موسم اتنا سرد ہو گیا ہے، جون کے مہینے میں پہلی بار ایسی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

    محمد فہیم نے بتایا کہ بابو سرٹاپ، چترال، اور سوات کے کچھ اونچے پہاڑوں پر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہلکی سی برف باری ہو جاتی ہے لیکن وہ دھوپ نکلتے ہی ختم ہو جاتی ہے، مگر یہ برف باری معمول سے زیادہ ہے، اس بار برف باری نیچے علاقوں میں بھی ہوئی ہے۔

    محکمہ ماحولیات کی جانب سے بھی جون کے مہینے میں ایسی برف باری کو پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات قرار دیے جا رہے ہیں۔