Baaghi TV

Tag: موسم گرما

  • پنجاب: اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ

    پنجاب: اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پنجاب کے تمام اسکولوں اور کالجز کے لیے سالانہ 190 تدریسی دن مکمل کرنا لازمی ہوگا،حالیہ برسوں میں تعطیلات میں مسلسل اضافہ تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، خاص طور پر اعلیٰ کلاسوں میں جہاں نصاب بروقت مکمل نہیں ہو پاتا، جس سے طلبا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

    بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق حکومت نے گرمیوں کی چھٹیاں کو 36 دن کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت تعطیلات دو ماہ 15 دن سے کم کر کے 6 ہفتے (42 دن) کردی جائیں گی،اس اقدام کا مقصد طلبا کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری اور نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ نجی aسکول ایسوسی ایشنز نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

    کمیٹی نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران 4 میٹنگز کیں اور تیسری میٹنگ لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے کی، نجی تعلیمی ادار وں نے سفارشات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکساں اور متوازن تعلیمی کیلنڈر تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا اور طلبا کو کورس ورک مکمل کرنے میں مدد دے گا۔

    پنجاب ایجوکیشن کرِکیولم اینڈ ٹیسٹنگ اتھارٹی (پی ای سی ٹی اے) اور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری) سفارشات کے بعد یکساں تعلیمی کیلنڈر تیار کریں گے،یہ کمیٹی لاہور ہائیکورٹ کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران تشکیل دی گئی تھی، جس میں تعلیمی اداروں میں تعطیلات میں اضافے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی کمیٹی کی رپورٹ اگلی سماعت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد تعلیمی کیلنڈر پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

  • ماہرین نے ہیٹ ویو کے کئی حیرت انگیز فوائد   بتادیئے

    ماہرین نے ہیٹ ویو کے کئی حیرت انگیز فوائد بتادیئے

    پاکستان اور بھارت سمیت اس وقت جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں،شدید گرمی باعث لوگ سر میں شدید درد، معدے کی تکلیف، قے، متلی، پٹھوں کے کھنچاؤ، ہیضہ اور اسہال کی شکایت کے ساتھ اسپتالوں اور کلینکس کا رخ کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیٹ ویو کے دوران خود کو سنبھال نہیں پاتے اور گر جاتے ہیں، کچھ لوگ بیٹھے بیٹھے بے حال اور بے ہوش ہوجاتے ہیں۔

    گرمی سے متعلق بیماریاں ہر سال ایک باقاعدہ معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن جیسے جیسے گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہوتی جاتی ہیں، یہ بیماریاں نئی ​​علامات کے ساتھ پھیلتی ہیں، موسم گرما میں، ہسپتال ایمرجنسی روم ہیٹ اسٹروک یا پانی کی کمی کی وجہ سے مریضوں سے بھر جاتے ہیں-

    ایسے میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہیٹ ویو سے صرف نقصان پہنچتا ہے؟ ماہرین کہتے ہیں ایسا نہیں ہے۔ بہت سے معاملات میں ہیٹ ویوز جسم کے لیے انتہائی کارگر بھی ثابت ہوتی ہیں،جتنی تیز دھوپ درجہ حرارت کی ٹک کے ساتھ بیماریوں کو بڑھاتی ہے، گرمی اتنی بری نہیں ہو سکتی جتنی کہ کوئی سوچتا ہے۔ اعلی درجہ حرارت کی ایک حد ہوتی ہے جس پر کوئی شخص قوت مدافعت پیدا کرسکتا ہے، جسم میں خلیوں کے نقصان کو کم کرسکتا ہے اور سوزش کو دور کرسکتا ہے۔

    سیکورٹی فورسز کے تین آپریشن،23 دہشتگرد جہنم واصل،5 جوان شہید

    لیکن کچھ شرائط ہیں جن کی پابندی کرنے کے لیے اس "انتہائی گرمی پر قابو پانے” کو صحت کے لیے فائدہ مند بنانا پڑتا ہے۔

    معرو ف جریدے "انڈیا ٹو ڈے” کی رپورٹ کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران جسم کا مدافعتی نظام مضبوط بھی ہوتا ہے اور تیزابیت کا خاتمہ بھی ہوتا ہے۔ بلند درجہ حرارت جسم میں خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل روکتا ہے ہیٹ ویو سے جسم کو نقصان بالعموم اس وقت پہنچتا ہے جب کوئی احتیاط نہ برتے، گھٹن زدہ ماحول میں رہنے اور برہنہ سر گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں ہیٹ ویو مہلک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کہتے ہیں ہیٹ ویو بھی ہمارے ماحول اور نظام کا حصہ ہے اس لیے اُس کے منفی اور مثبت دونوں پہلو ہیں۔ اگر پوری تیاری کے ساتھ ہیٹ ویو کا سامنا کیا جائے، ماحول کو صاف ستھرا رکھا جائے اور دھوپ میں بلا ضرورت نکلنے اور بھٹکنے سے گریز کیا جائے تو پٹھوں کا کھنچاؤ دور ہوسکتا ہے، مدافعتی نظام بہتر ہوسکتا ہے، خلیوں کو پہنچنے والا نقصان کم ہوسکتا ہے اور تیزابیت سے بہت حد تک نجات بھی مل سکتی ہے۔

    بھارت کے تین صدور کے معالج رہنے والے، پدم شری یافتہ، دہلی کے سر گنگا رام ہاسپٹل کے سینیر کنسلٹنٹ میڈیسن ڈاکٹر محسن ولی کہتے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران سب سے ضروری ہے پانی کی کمی نہ ہونے دینا، دھوپ میں نکلنا پڑے تو سائے میں آتے ہی پانی کی کمی پوری کرنی چاہیے، اگر دھوپ میں مستقل کام کرنا پڑے تو پہلے کسی طبی ماہر سے مشاورت کرلی جائے۔

    کراچی: درخت سے لٹکی ہوئی نوجوان کی لاش برآمد

    ڈاکٹر محسن ولی کہتے ہیں کہ شدید سردی میں ہمارا جسم کولڈ شاک پروٹینز اور شدید گرمی میں ہیٹ شاک پروٹینز پیدا کرتا ہے، ان پروٹینز کے بننے سے مدافعتی نظام بہتر ہوتا ہے، یہ پروٹینز اِس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ خلیوں کو جس وقت موت آنی چاہیے اُس وقت موت آنی ہی چاہیے۔ جسم سرطان زدہ ہو تو یہ عمل بے قابو ہو جاتا ہے موسم کی شدت خلیوں کی تشکیل میں بھی معاونت کرتی ہے اس کے نتیجے میں ہمارا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور یوں جسم کو دباؤ سے نجات ملتی ہے، یہ پورا عمل ذہن کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں ڈاکٹر میخائل پورومائنکو، ڈاکٹر انوراگ اگروال اور ڈاکٹر انوپما سردانا کی ماہرانہ آرا بھی شامل ہیں۔

    ڈاکٹر میخائل پورومائنکو، انسٹی ٹیوٹ آف سائٹولوجی اینڈ جینیٹکس نے اس کی تعریف اس طرح کی ہے: "ہیٹ شاک پروٹینز (HSPs) مخصوص پروٹین ہیں جو اس وقت بنتے ہیں جب خلیات کو ان کے معمول کے بڑھنے والے درجہ حرارت سے زیادہ درجہ حرارت پر مختصر طور پر بے نقاب کیا جاتا ہے۔”

    کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے حکومت دو ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا؟شیری رحمان

    HSPs کی ترکیب ایک عالمگیر رجحان ہے، جو انسانوں سمیت تمام پودوں اور جانوروں کی انواع میں پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر ناگپال، چیئرمین، انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ، مول چند ہسپتال، نے بتایا کہ شاک پروٹین کا علمی صلاحیتوں پر مثبت اثر پایا گیا ہے۔

  • موسم گرما میں چہرہ "کالا”،گھبرانے کی ضرورت نہیں

    موسم گرما میں چہرہ "کالا”،گھبرانے کی ضرورت نہیں

    موسم سرما کا اختتام، گرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے، شہر قائد کراچی میں گرمی تیز ہوتی ہے تو پاکستان کے دیگر علاقوں میں موسم گرما انتہائی سخت ہوتا ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی شہریوں کے لئے اذیت ناک بن جاتی ہے،موسم گرما میں پسینہ زیادہ آتا ہے تو وہیں کئی شہریوں کی جلد بھی متاثر ہونے لگی ہے، جلد کا رنگ کالا ہو جاتا ہے

    موسم گرما میں شہری جلد کا رنگ کالا ہونے کی وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیں،اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، موسم گرما میں جلد کو کالا ہونے سے بچانے کے لئے کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں بلکہ گھریلو ٹوٹکے استعمال کر کے موسم گرما میں جلد کو کالا ہونے سے بچایا جا سکتا ہے

    موسم گرما میں جلد کی کالے ہونے سے پریشان ہیں تو غم نہ کریں، گھر سے باہر نکلتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دھوپ میں نکلنے سے 20 منٹ قبل اپنے چہرے پر سن اسکرین لگائیں، اگر مسلسل دھوپ میں رہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہر دو سے تین گھنٹے بعد سن اسکرین کا استعمال کریں، اس سے آپکا چہرہ کالا نہیں ہو گا.چہرے کالا ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ موسم گرما میں دن میں کم از کم چار سے پانچ بار اپنے چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں، چہرہ دھونے سے پسینہ، گردوغبار ختم ہو جائے گا اور جلد چمکدوار ہو جائے گی،چہرے کو کالا ہونے سے بچانے کے لئے گھریلو چیزوں کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، قدرتی چیزوں کا استعمال کریں ،دہی، چنے کا آٹا، لیموں کا رس چہرے پر لگائیں،اور بعد میں دھو لیں اس سے چہرہ دھوپ سے متاثر نہیں ہو گا اور رنگ کالا نہیں ہو گا

    گھر سےباہر نکلتے وقت دھوپ میں ٹوپی کا استعمال کریں، پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، پانی کی کمی کی وجہ سے بھی جلد کی رنگت کالی ہو جاتی ہے،اپنی نیند پوری کریں، کھانا وقت پر کھائیں ، سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اسے ترک کر دیں، سگریٹ نوشی ترک کرنے سے بھی موسم گرما میں چہرے کی رنگت کالی ہونے سےبچا جا سکتا ہے،

    طبی و غذائی ماہرین کے مطابق تمام پھلوں کا بادشاہ آم ایک فرحت بخش موسمی پھل ہے، موسمی پھلوں میں قدرت نے بیش بہا خزانہ چھپا رکھا ہے، جہاں پھل کھانے سے مجموعی صحت پر طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں اِن کے چہرے پر بطور فیس ماسک کے استعمال سے بھی جِلد صاف شفاف، نرم و ملائم اور کھِل اٹھتی ہے، رنگت صاف ہوتی ہے آم کے استعمال سے چہرے پرکیل مہاسے نہیں نکلتے-

    گائے یا بھینس کے دودھ کی بالائی تقریبا پچاس گرام میں 6 سے 8 قطرے لیموں کا رس شامل کرکے اُسے چہرے پر مل لیں اور پھر 15 منٹ کے بعد چہرے کو نیم گرم پانی سے دھوئیں یہ عمل جہاں چہرے کو تروتازہ کرے گا وہاں اُسے کے سیاہ داغ بھی ختم کرے گا

    خشک گلاب کی پتیوں کو پیس کر سفوف بنا لیں پھر اس سفوف کو ہم وزن بیسن میں ملا کر رکھ لیں اور استعمال کے وقت تھوڑا سا آمیزہ لے کر دودھ ملا کر پیسٹ بنا لیں اور چہرے کو اچھی طرح دھوکر گلاب کے اس ابٹن کو چہرے اور گردن پر لگا لیں اور خشک ہونے پر پانی سے دھو کر صاف کر لیں اس سے چہرے پر سُرخی آتی اور رنگت نکھرتی ہے

    موسم گرما میں چہرے کی رنگت کالی ہونے سے بچانے کے لئے ان تدابیر پر عمل کریں، اگر کسی چیز سے الرجی ہو تو اپنے معالج سے رجوع کریں،

    شہر یار آفریدی پی ٹی آئی قیادت پر پھٹ پڑے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • موسم گرما میں پانی کے بحران کا خدشہ،ارسا اٰیڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب

    موسم گرما میں پانی کے بحران کا خدشہ،ارسا اٰیڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: موسم گرما میں پانی کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی : صوبوں کو پانی کی دستیابی اور تقسیم پر ارسا اتھارٹی نے 2 اپریل کو ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، ارسا اٰیڈوائزری کمیٹی کا اجلاس چئیرمین ارسا کی زیر صدارت ہوگا جس میں چاروں صوبائی وزرائے آبپاشی، واپڈا اور محکمہ موسمیات کے حکام شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق جون میں پانی کے بحران میں شدت کا خدشہ ہے، اگر جون میں بارشیں نہ ہوئیں تو تربیلا اور منگلا میں پانی کا ذخیرہ ختم ہو جائے گا، دسمبر اور وسط جنوری تک برفباری انتہائی کم ہوئی ہے، وسط جنوری اور فروری کی برف پگھل رہی ہے تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ تین لاکھ اور منگلا میں ایک لاکھ ایکٹر فٹ ہے، دریاوں میں پانی کا بہاو 70 ہزار کیوسک ہے اور ڈیموں سے پانی کا اخراج 95 ہزار کیوسک ہے۔

    حکومت کا کام کاروبارکرنا نہیں بلکہ نجی شعبے کو سازگار ماحول کی فراہمی ہے، وزیراعظم

    درجہ حرارت بڑھنے کے باوجود دریائے چناب میں پانی کا بہاو انتہائی کم ہے، مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا بہاو 14 ہزار کیوسک ہے، ایڈوائزری کمیٹی اجلاس میں دریاوں میں پانی کی دستیابی اور تقسیم کا تخمینہ لگایا جائے گا، تربیلا منصوبہ فائیو کی تعمیر کے باعث پانی کے ذخائر میں مسائل پر غور ہوگا-

    پرنسپل ایچی سن کالج سے اظہار یکجہتی کیلئے والدین اور طلبا کا گورنر ہاؤس کے …

    آئی جی پنجاب کو ایوارڈ ملنے پر یاسمین راشد نے جیل سے خط لکھ …

  • موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات

    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات

    گرمیوں کے موسم میں پانی کی اشد ضرورت ہے، خصوصا گرمیوں میں حاملہ خواتین کو اپنی صحت کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، ماہرین صحت کے مطابق حاملہ خواتین کو دوران حمل پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہئے، اس ضمن میں گرمیوں میں پینے کے لئے چار قدرتی مشروبات بتائے گئے ہیں حاملہ خواتین وہ پئیں اس سے انکی صحت بھی اچھی رہے گی اور پیاس بھی نہیں لگے گی

    ناریل کا پانی
    ناریل کا پانی حاملہ خواتین کے لئے گرمیوں میں بہترین ہے، اسکا خواتین کو باقاعدہ استعمال کرنا چاہئے، اس سے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہو گی، اس میں ضروری غذاائی اجزا بھی ہوتے ہیں ، ناریل کا پانی حاملہ خواتین کے لئے دیگر پانی کی نسبت فائدے مند ہوتا ہے،
    juice02

    لیموں کا پانی
    پاکستان میں عام سا مشروب، جس کا گرمیوں میں استعمال بڑھ جاتا ہے، لیموں پانی، حاملہ خواتین کو اسکا بھی استعمال کرنا چاہئے، لیموں پانی آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے،حاملہ خواتین کے لئے لیموں پانی انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے

    پھلوں کا جوس
    حاملہ خواتین کو اگر گرمی کی وجہ سے بھوک نہیں لگتی تو پھلوں کا جوس استعمال کریں،گرمیوں کے پھلوں کا ہی جوس خواتین کو استعمال کرنا چاہئے،گرمیوں کے پھل، آم، تربوز، آڑو کا جوس، انتہائی مفید ہے، طبی ماہرین حاملہ خواتین کے لئے تازے پھلوں کے جوس کو انتہائی اہم قرار دیتے ہیں،
    juice03

    سبزیوں کا جوس
    گرمی لگی ہو، پیاس بھی لگی ہو اور کچھ اچھا پینے کو دل کرے ، تو پھر گھر سے باہر جانے کی ضرورت نہیں، کچن میں جائیں اور گھر میں موجود سبزیوں کا جوس بنائیں، اور پی لیں. حاملہ خواتین کے لئے سبزیوں کھیرا، ٹماٹر کا جوس بہت ہی مفید ہے، سبزیاں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں، حاملہ خواتین کو دیگر مشروبات کے ساتھ ساتھ سبزیوں کے جوس کا بھی استعمال کرنا چاہئے،سبزیوں کا جوس پیتے وقت سلاد بھی ساتھ کھایا جا سکتا ہے

    juice04

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • 22 جون کوسال کا طویل ترین دن اورمختصر ترین رات ہوگی

    22 جون کوسال کا طویل ترین دن اورمختصر ترین رات ہوگی

    سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات کل بروز 22 جون ہوگا،ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے اور اس موقع کو خط سرطان (summer solstice) کہا جاتا ہے ۔

    باغی ٹی وی: ماہرین فلکیات کے مطابق اس روز دن کا دورانیہ 14 گھنٹے جبکہ رات 10 گھنٹوں کی ہوگی یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ تبدریج کم ہونا شروع ہوجائے گا اور دسمبرکی 22 تاریخ کو دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا 23 دسمبر کے بعد راتوں کا دورانیہ بڑھنا شروع ہوجائے گا دن مختصر ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح 22 دسمبر سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے-

    دنیا کے مختلف ممالک میں اسے موسم گرما کا پہلا دن قرار دیا جاتا ہے اور مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں خط سرطان سے مراد زمین کی وہ حالت ہے جب سورج آسمان پر اپنے طویل ترین راستے پر سفر کرتے ہوئے سب سے زیادہ بلندی پر پہنچتا ہے۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

    اس موقع پر قطب شمالی کا رخ لگ بھگ سورج کی جانب ہوتا ہے اور وہاں سورج کی روشنی کا دورانیہ گھنٹوں طویل بلکہ 24 گھنٹے تک بھی پہنچ جاتا ہے شمالی نصف کرے میں خط سرطان 20 سے 22 جون کے دوران ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرے میں ایسا 21 یا 22 دسمبر کو ہوتا ہے اور اس وقت وہاں موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے۔

    برٹش ائیرویز کا طیارہ 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ہچکولے کھانے لگا

    اس کے علاوہ جنوبی نصف کرہ میں دن چھوٹے اور راتیں چھوٹی ہوں گی، جبکہ شمالی نصف کرّہ میں راتیں چھوٹی اور دن لمبے ہوں گے، یہی صورتحال دسمبر میں الٹ ہوجاتی ہے، جب جنوبی نصف کرہ میں راتیں چھوٹی اور دن لمبے جبکہ دوسری جانب دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں خط سرطان کو زرخیری سے بھی منسلک کیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ملائشیا نے بھی بھارتی تیجا طیارے خریدنے سے انکار کر دیا

  • موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    طبی و غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے احتیاط سے غذا لینے کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر گرمیوں میں جب دن لمبے ہوتے ہیں اور زیادہ درجہ حرارت اورنمی آپ کےخون میں شوگرکی سطح پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اچھی طرح سےہائیڈریٹ ہونا، نشاستہ دار کھانوں سے پرہیز اور زیادہ فائبر والی غذا ذیابطیس کے شکار لوگوں کو گرم موسم میں صحت مند رہنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    پانی کی مناسب مقدار کے علاوہ ناریل کا پانی اور کھیرے کا جوس گرمیوں کی خوراک میں صحت بخش اضافہ ہیں ماہرینِ غذائیت نے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے موسم سرما کی مفید مشروبات، پھل اور سبزیاں بتائی ہیں۔

    مشروبات: شوگر فری لیموں پانی ، ناریل پانی ، تازہ پھلوں کا جوس ، ہربل چائے ، سبز یا کالی شکر کے بغیر چائے ، کھیرے کا جوس

    پانی کی کمی خون میں شوگر کی سطح کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ پانی ہاضمے میں بھی مدد کرتا ہے، جسم سے فضلہ کو صاف کرتا ہے اور بہت کچھ۔ پانی کی کمی کسی کی جسمانی صلاحیت اور دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    ذیابطیس کے مریضوں کے لیے، غیر نشاستہ دار غذاؤں کا استعمال اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خون میں شوگر کی سطح کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے سبزیاں اور نشاستہ دار سبزیاں صحیح خوراک پیش کرتی ہیں، جو ورزش کے ساتھ ساتھ صحت مند طرز زندگی بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ فائبر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے تازہ سبزیاں بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔

    سبزیاں: پالک ، بروکولی ، چقندر ، گوبھی ، پھلیاں

    پھل: اسٹرابیری ، بلیک بیریز ، بلیو بیریز ، نارنجی ، آڑو ، بیر ، ناشپاتی

    زیادہ تر تازہ پھل خون میں گلوکوز کی سطح میں تیزی سے اضافے کا سبب نہیں بنتے ہیں جیسا کہ کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل کھانے کی اشیاء جیسے روٹی۔ آپ کی گرمیوں کی خوراک میں فائبر سے بھرپور پھل جیسے کیلے، سیب اور یہاں تک کہ بیر کو شامل کرنا صحت کے لئے مفید رہے گا تازہ سبزیوں کا سلاد مفید ہوتا ہے-

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے