Baaghi TV

Tag: مولانا عبدالاکبر چترالی

  • قومی اسمبلی میں خواتین وزرا سے تلخ کلامی،مولانا عبدالاکبر چترالی نے معافی مانگ لی

    قومی اسمبلی میں خواتین وزرا سے تلخ کلامی،مولانا عبدالاکبر چترالی نے معافی مانگ لی

    جماعت اسلامی کے رہنما و چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے وفاقی وزیر شازیہ مری اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے تلخ کلامی پر معافی مانگ لی۔

    باغی ٹی وی :قومی اسمبلی میں عبدالاکبر چترالی کی شازیہ مری اور مریم اورنگزیب کے درمیان تلخی اس وقت ہوئی جب جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ میں حنا ربانی کھر کے موجودہ حالات میں افغانستان جانے کو مناسب نہیں سمجھتا۔

    ای کامرس پر و کے مالک حامد محمود عالمی ٹاپ 10 سی ای اوز میں شامل۔

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اکبر چترالی کا کہنا تھاکہ پچھلے دنوں افغانستان میں ہمارے قونصل خانے پر دہشت گرد حملہ کیا گیا، روزانہ کی بنیاد پر افغانستان سے حملے ہورہے ہیں۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان ایک وفد بھیجا جائے اور ان سے پوچھا جائے کیوں فائرنگ کی جاتی ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو یہ تفریق بڑھانا چاہتے ہیں، افغانستان اور پاکستان دو برادر ملک ہیں حنا ربانی کھر کو بھیجا گیا جس کا اچھا اثر نہیں ہوا وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر مملکت حنا ربانی کھر اور علما کے وفد کو افغانستان ایک ساتھ جانا چاہیے تھا۔

    اس دوران مولانا عبدالاکبر چترالی کی خواتین وزرا شازیہ مری، شیری رحمان اور مریم اورنگزیب سے شدید جھڑپ ہوئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    مسافرٹرین کی نئی کوچز کو قومی اثاثہ سمجھ کر استعمال کریں،خواجہ سعد رفیق

    اس موقع پر مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ حنا ربانی کھر ہماری وزیر مملکت ہیں، افغانستان جا کر بات چیت کی اور پوری قوم کی نمائندگی کی عبدالاکبر چترالی نے ایسا کیوں کہا کہ وہ خاتون ہیں ان کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

    وفاقی وزیر تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی سے متعلق جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کے بیان پربرس پڑیں اور کہا کہ یہ تنگ نظری کی سوچ ہے کہ ایک عورت نے افغانستان کا دورہ کیا اور چمن واقعہ ہوگیا۔

    شازیہ مری نے مولانا عبدالاکبر چترالی سے اپنے الفاظ واپس لے لیے اور اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا بعدازاں پی پی پی کی خواتین ارکان نے مولانا چترالی کے ریمارکس پر احتجاج کیا اس پر مولانا عبدلاکبر چترانی نے جواب دیا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔

    بعد ازاں عبدالاکبر چترالی نے اپنے الفاظ واپس لے لیے اور اپنےالفاظ پرمعافی بھی مانگی سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے مولانا عبدالاکبر چترالی سے الفاظ واپس کرادیئے۔

    تحریک انصاف کا اسمبلیوں کی تحلیل اور قومی اسمبلی سے استعفوں سے متعلق بڑا فیصلہ

  • نئی حکومت  ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

    اسلام آباد: جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے نئی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرانے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی کابینہ کے وزراء کو حلف برداری کے بعد اپنے منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے وزرا اپنی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترکام کریں گے-

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا

    اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی جیل میں قید ہیں، نئی حکومت پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے آواز اٹھائے اور اور امریکہ سے بات کرے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ ظلم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی عدالت نے پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ وہ 2003ء سے قید میں ہیں اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ہے جسے امریکی حکومت نے 2003ء میں اغوا کر کے جبراً غیر قانونی طور پر قید کیا ہوا ہے اور اس پر مسلسل امرىکى خفیه و خوفناک ایجنسی CIA کی جانب سے ظلم و جبر کىا جا رہا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام ف نے اپنی جماعت کے وزرا کے محکموں کا بتا دیا

    2002ء میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے پاکستان واپس آئیں مگر ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے امریکا ملازمت ڈھونڈنے کے سلسلہ میں دورہ پر گئیں۔ اس دوران میریلینڈ میں ڈاک وصول کرنے کے لیے ڈاک ڈبہ کرائے پر لیا اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔ FBI نے شک ظاہر کیا کہ یہ ڈاک ڈبہ دراصل القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کے لیے کرائے پر لیا گیا تھا۔

    امریکی ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئی۔ 30 مارچ، 2003ء کو اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ہوائی اڈا کی طرف روانہ ہوئی مگر راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکنز نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت ان کی عمر 30 سال تھی اور بڑے بچہ کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے کی ایک ماہ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کی گرفتاری کی خبر شائع ہوئی مگر بعد میں وزیروں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور ان کی والدہ کو دھمکیاں دی گئیں۔

    عالمی اداروں نے خیال ظاہر کیا کہ افغانستان میں امریکی جیل بگرام میں قیدی نمبر 650 شاید عافیہ صدیقی ہی ہے جو وہاں بے حد بری حالت میں قید تھی۔ پاکستانی اخبارات میں شور مچنے کے بعد امریکیوں نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی، 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کے حوالہ سے مقدمہ چلایا جا سکے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب حلف برداری کا معاملہ:حمزہ شہباز کی درخواست نا مکمل قرار دےکر واپس…

    انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی کہانی کو ناقابلِ یقین قرار دیا افغانستان میں امریکی فوجیوں نے دوران گرفتاری عافیہ کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا، تب امریکی فوجی معالجین نے عافیہ کی طبی حالت کو گلاسگو غشی میزان پر 3 (یعنی مرنے کے قریب) بتایا۔ تاہم امریکیوں نے الزام لگایا کہ عافیہ نے امریکی فوجی کی بندوق اٹھانے کی کوشش کی تھی جس پر انھوں نے اس پر گولیاں چلا دیں۔

    دسمبر 2009ء میں بالآخر کراچی پولیس نے عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کے 2003ء میں اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا 23 ستمبر، 2010ء میں نیویارک امریکی عدالت نے عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنائی۔ جون 2013ء میں امریکی فوجی زنداں فورٹ ورتھ میں عافیہ پر حملہ کیا گیا جس سے وہ دو دن بیہوش رہی۔ بالاخر وکیل کی مداخلت پر اسے طبی امداد دی گئی-

    1995ء میں پاکستانی نژاد امجد محمد خان سے نکاح ہوا۔ 1996ء میں ایک لڑکا محمد احمد اور 1998ء میں ایک لڑکی مریم پیدا ہوئی۔ 2002ء میں امجد خان نے طلاق دے دی۔ پھر 2003ء میں عمار بلوچی سے نکاح ہوا۔ اپریل 2010ء میں گیارہ سالہ لڑکی جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ عافیہ کے ساتھ لاپتہ ہونے والی ایک بیٹی ہے کو نامعلوم افراد کراچی میں عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے گھر چھوڑ گئے-

    پا کستان کی بھارت ،سویڈن اور ہالینڈ میں اسلاموفوبک واقعات کی شدید مذمت