Baaghi TV

Tag: مولانا فضل الرحمن

  • خیبر پختونخوا میں امن وامان اور  حکومت نام کی کوئی چیز  نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

    خیبر پختونخوا میں امن وامان اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اس ڈمی اسمبلی میں بیٹھنے کی ہمیں کوئی خواہش نہیں، جہاں لوگ ووٹ کسی کو ڈالتے ہیں اور کامیاب کوئی اور ہوتا ہے خیبر پختونخوا میں امن و امان ہے نہ حکومت نام کی کوئی چیز ہے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں لوگ اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔ اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے، ہم اس پاکستان میں امن چاہتے ہیں، ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے مذہب اسلام کے ساتھ بہت ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ہمارے لیے نظام حیات بنایا ہے، ہمارا ملک سرتاپا سود میں ڈوبا ہوا ہے، سارے ادارے اور بینک سودی نظام پر چل رہے ہیں جب کہ مدارس ختم کرنے کی خواہش اور سازش انگریزوں کی بھی تھی، عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے مدارس مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اگر 26 ویں آئینی ترمیم حکومت کی خواہش پر پاس ہوتی تو بڑی تباہی آتی، حکومت کا آئینی مسودہ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔حکومت کے آئینی مسودے میں فوجی عدالتوں کو مضبوط کیا گیا اور اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کیے گئے تھے، اس ڈمی اسمبلی میں بیٹھنے کی ہمیں کوئی خواہش نہیں، جہاں لوگ ووٹ کسی اور کو ڈالتے ہیں اور کامیاب کوئی اور ہوتا ہے۔ہمارے وسائل پر ہمارا اختیار ہے، یہ وسائل کسی کا باپ بھی ہم سے نہیں چھین سکتا۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، مضبوط حکومت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، معیشت کے اشاروں سے قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ نااہل حکمران بتائیں کہ کیا آلہ دین کا چراغ ملا ہے، حکومت معیشت کی بہتری کے دعوے کرتی ہے تو بتائیں کہ وسائل کہاں سے آئے۔

    مہنگےپیکج لینے والے عازمین کا حج سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط

    ریلوے پولیس میں بھرتی ، ٹیسٹ میں 75 فیصد لڑکے لڑکیاں فیل

    49 پارکس کی تزئین و آرائش کر رہے ہیں ، مرتضیٰ وہاب

    کار ڈیلرز حوالہ ہنڈی میں ملوث نکلے، نیٹ ورک بے نقاب

  • مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس بل باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمٰن، مفتی تقی عثمانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کی سپریم کونسل کا اجلاس جامعہ عثمانیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے بعد مندرجہ ذیل قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہوئی، قرار داد کا متن ہے کہ سوسائٹیز رجسٹرین ایکٹ کے تحت ایکٹ ترمیمی سوسائٹیز بل مورخہ 20-21 اکتوبر 2024 کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور اسی روز قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دستخط سے حتمی منظوری کے لیے ایوان صدر کو ارسال کر دیا گیا۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 28 اکتوبر 2024 کو صدر کی جانب سے غلطی کی نشاندہی کی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین و قانون کے تحت اسے قلمی غلطی گرادانتے ہوئے تصیح کردی اور تصیح شدہ ترمیمی بل مورخہ یکم نومبر 2024 کو ایوان صدر ارسال کر دیا۔ اسے صدر نے قبول کرتے ہوئے اس پر زور نہیں دیا، بعد ازاں صدر کی طرف سے 10 دن کے اندر مذکورہ ترمیمی بل پر کوئی اعتراض نہیں ہوا، البتہ 13 نومبر 2024 کو نئے اعتراضات لگادیے گئے جو کہ میعاد گزرنے کی وجہ سے غیر مؤثر تھے، نیز ایکٹ کے بعد دوبارہ اعتراض بھی نہیں لگایا جا سکتا تھا، لہذا یہ بل اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حوالے کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی نظیر موجود ہے، نیز اسپیکر نے اس بات کا اعتراض کیا ہے ان کے نزدیک یہ باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے اور انہیں صرف ایک ہی اعتراض موصول ہوا تھا، ہمارا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزیٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شریعت کا حکم ہے کہ حسن ظن سے کام لیا جائے، جو لوگ اقتدار و اختیار کے مالک ہوتے ہیں، ان سے ہمیشہ معقولیت، انصاف اور توازن کی امید کی جاتی ہے، لہٰذا اس وقت تک ہماری پوری سپریم کونسل کی رائے ہے کہ حکومت وقت ہماری اس قرداد کو معقول گردانتے ہوئے اسے تسلیم کرے گی اور اس پر عملدرآمد کرے گی۔مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ اگر اس کے برعکس کوئی صورتحال پیش آئی تو ہم بلاتاخیر مل بیٹھیں گے اور اس کے بعد کا لائحہ عمل اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے موقع پر بات چیت میں جس بل پر ہمارا اختلاف نہیں ہے، اسے بھی منظور کیا جائے، انہوں نے وعدہ کیا اس کو پاس کیا جائے گا اور وہ پاس ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر بل میں کوئی تبدیلی لائی گئی ہے، ہم نے تو نہیں لائے، تبدیلی بھی اسی حکومت نے لائی ہو گی، ظاہر ہے ہمارے لیے اس میں کوئی تنازع والی بات نہیں ہے، کیا انہوں نے اس بل کے پاس ہونے کے بعد کوئی اعتراض کیا؟مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کیا انہوں نے کوئی سوال اٹھایا؟ کوئی سوال نہیں اٹھایا بلکہ بل پاس ہونے کے ایک ہفتے کے اندر مجھے مبارکباد دینے کے لیے آنا چاہتے تھے لیکن ملاقات نہیں ہوسکی تھی، آج ڈیڑھ مہینے کے بعد سوال اٹھا رہے ہیں، ہم ان سے کوئی جھگڑا نہیں کررہے وہ ہمارے بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی سوال کرتے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے، لیکن ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جیسے یہ بل بڑا متنازع ہے، بل اتفاق رائے کے ساتھ پاس ہوا ہے۔ اس وقت اس کی آئینی و قانونی پوزیشن ہے کہ ہماری نظر میں وہ بل ایکٹ بن چکا ہے، اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے، ہمارے مدعے کو سمجھا جائے، ہم کسی کے مقابلے میں نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم ایوان صدر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے خلاف قانون اقدامات کیوں کیے، گزٹ کیوں نہیں کرایا؟ حکومت سے ہماری شکایت ہے کہ اس کا نوٹی فکیشن کیوں نہیں کرر ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانونی، آئینی راستے سے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، ہم منفی گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔واضح رہے کہ آج پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے دعویٰ کیا تھا کہ مدارس بل پر معاملات طے پا چکے ہیں اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

  • دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خان

    دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خان

    خیبر پختونخوا میں اے این پی اور جے یو ائی ف آمنے سامنے ،اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کا مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پختونخوا کی حکومت ہے کوئی حلوہ نہیں کہ ہر کوئی کھائے، ایمل ولی خان نے کہا حکومتوں کے بھوکے اور بھکاری نہیں، میں نے کسی بزرگ کی بڑی کرپشن کی بات نہیں کی، پختونخوا میں مذہب کے نام پر جو من و سلویٰ جاری ہے، ابھی اس کا ذکر بھی نہیں کیا،صوبائی صدر اے این پی نے کہا میں نے صرف گورنر کی بات کی، قوم کو پتہ ہے کہ وہ مولانا اور انکی پارٹی کیلئے شرم کا باعث بن چکا ہے، خود کا کیا دوسروں پر ڈالنا آسان ہے، اپنے سمدھی اور فیصلوں کو اپنانے کی ہمت پیدا کریں، ایمل ولی خان نے اے این پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری عظیم غلطی ہے کہ غلام علی کی حمایت کی اور میں اپنی یہ غلطی مانتا ہوں، اس نے مولانا کو کہا مجھ معلوم نہیں تھا کہ کے پی کے گورنر غلام علی کیسا بندہ ہے، آپ کے گھر کا بندہ ہے ، آپ انہیں خوب جانتے تھے، پھر بھی آپ نے انکو عوام پر مسلط کر دیا،ایمل ولی نے کہا کہ گورنر کے پی کے پر عدم اعتماد کرنے سے پیغام دیا جارہا ہے کہ میں سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کررہا ہوں، جبکہ میں صرف حقیقت بیان کررہا ہوں، ایمل ولی نے مولانا فضل الرحمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خاننے ایک بار پھر دہرایا ، گورنرپختونخوا جے یو آئی کیلئے باعث شرمندگی بن رہا ہے ،اس نے
    آنیوالے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا زیادہ تر امیدواران نامزد ہوچکے ہیں، ایمل ولی خان نے کہا اے این پی کسی بھی بیساکھی کی محتاج نہیں، عوام ہماری طاقت ہے اور رہے گی،ہم حکومت کے بھوکے نہیں، عوامی خدمت، حقوق اور امن کیلئے صف اول کا کردار ادا کرتے رہیں گے، ایمل ولی خان نے کہا کہ قوم نے موقع دیا تو اسی طرح خدمت کریں گے جس طرح ماضی میں کی ہے،

  • ‎مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے آف دی ریکارڈ گفتگو کو توڑ موڑ کر چلایا جارہا ہے

    ‎مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے آف دی ریکارڈ گفتگو کو توڑ موڑ کر چلایا جارہا ہے

    ترجمان جے یوآئی ف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے بیان کے حوالے سے وضاحت پیش کر کے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، ‎دبئی میں ہونے والے مذاکرات سے صرف جے یو آئی ہی نہیں بلکہ پوری پی ڈی ایم بے خبر ہے۔محمداسلم غوری نے اگے کہا کہ ‎دبئی میں ہونے والے مذاکرات پر اعتماد میں نہ لینے پر تحفظات ہمارا حق ہے ۔اور ‎جے یوآئی کے نزدیک اسمبلیوں کی مدت بڑھانا اور الیکشن کا التواء سیاسی نقصان ہوگا ۔ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ ‎عام انتخابات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے واضح موقف دیا ہے
    ‎پنجاب اور خیبرپختونخواہ الیکشن کے بارے میں اتحادی حکومت کا موقف مشترکہ تھا۔ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ ‎جے یوآئی پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد فوری الیکشن کرانےکی حامی تھی ۔اور ہمارا موقف اسٹریٹ پاور سے حکومت گرانا اور الیکشن کرانا تھا۔ترجمان جےیوآئی
    ‎عدم اعتماد کا راستہ ہمارا نہیں آصف علی زرداری کا تھا ۔وقت بتائے گا کہ عدم اعتماد کے موقف کے پیچھے کون کون سی طاقتیں تھی۔ترجمان جے یوآئی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا اسمبلیوں کی مدت کے خاتمے کا بیان باہمی مشاورت سے تھا۔اور ‎اسمبلیوں کی تحلیل کے بارے میں وزیراعظم کے موقف کی مولانا فضل الرحمان نے کل تائید کی ہے۔

  • پی ڈی ایم سربراہ نے ڈی آئی خان میں اہم منصوبو کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    پی ڈی ایم سربراہ نے ڈی آئی خان میں اہم منصوبو کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان )میں میگا پروجیکٹس کا افتتاح کر دیا۔ مولانا فضل الرحمان ڈیرہ اسماعیل خان سٹی پہنچے ، مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود اور مولانا عبید الرحمن بھی تھے، مولانا فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان سٹی میں مفتی محمود چوک سے قریشی موڑ تک بائی پاس روڈ اور قریشی موڑ سے مریالی موڑ تک یونیورسٹی روڈ اور قریشی موڑ سے رمک تک انڈس ہائی وے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

  • جی ایچ کیو یا جناح ہاؤس پرحملہ ہوگا تو پھرآرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا،مولانا فضل الرحمن

    جی ایچ کیو یا جناح ہاؤس پرحملہ ہوگا تو پھرآرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا،مولانا فضل الرحمن

    پی ڈی ایم کے سر براہ ، جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن نے ن لیگی رہنما، ایاز صادق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سردار ایاز صادق قابل احترام دوست ہیں ان کے بھائی کے انتقال پر افسوس ہوا،

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے جانبداری کا مظاہرہ کیا تو عوامی عدالت میں گئے عدلیہ پر تشویش کا اظہار کیا،ہم عدلیہ کے خیر خواہ ہیں اگر اس ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے تو اس پر بات ہوتی ہے، سوال یہ ہے ریاستی اداروں پر حملہ کیا گیا جب جی ایچ کیو یا کور کمانڈر پر حملہ ہوگا تو پھر آرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا، نئی صورتحال کا سامنا ہے جسے ماضی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ،کورٹ کے سامنے گملوں اور کیاریوں کی بھی حفاظت کرتے رہے،اختلاف رائے کے باوجود اتفاق رائے پر پہنچیں گے الیکشن مل کر لڑیں گے ہم الیکشن کے لوگ ہیں ،کسی معاملے پر دو ہزار اٹھارہ کو معیار نہیں سمجھتے ،ملکی صورتحال کو نئے ہنگاموں یا نئی پریکٹس کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں ہے علاقائی سطح پر ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں ،

    مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مہنگائی پر پریشانی یہی ہے ملکی معیشت اس حد تک گر چکی ہے نئی حکومت اسے اٹھا نہیں سکے گی،فوراََ الیکشن کی طرف جانا چاہیے انشااللہ عوام سمجھ رہی ملک کو دلدل کی طرف کس نے دھکیلا ہے کتنی دقت ہے, امید پیدا ہوگئی ہے معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے،عمران خان سے پہلے بھی مذاکرات نہیں کر رہے تھے اور اب بھی نہیں کر رہے،سپریم کورٹ کی جانبداری کیخلاف پی ڈی ایم نے احتجاج کیا تھا، عوام کی اس رائے کا احترام کرنا چاہیے، پی ٹی آئی نے کور کمانڈر ہاؤس، چقدرہ قلعہ، جی ایچ کیو, آئی ایس آئی دفتر پر حملہ کیا، اس صورت میں آرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا. ان کیلئے معافی کا لفظ کیوں استعمال کیا جارہا ہے.

    قبل اذیں جے یو آئی قائد مولانا فضل الرحمان کی وذیراعظم شہباذ شریف سے بھی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں وفاقی وزیر مواصلات اور مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود بھی موجود تھے، وزیرا عظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے دوران آئندہ بجٹ پرمشاورت اور ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عام شہریوں کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل

  • ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے،مولانا فضل الرحمٰن

    ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے،مولانا فضل الرحمٰن

    اسلام آباد: حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے سارے اختیارات پر قبضہ کرکے عدالتی مارشل لاء لگادیا۔

    باغی ٹی وی: مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بڑا انکشاف کیا کہ چھ افراد کے درمیان اسمبلی توڑنے کی تاریخ طے ہوئی، ملاقات میں الیکشن کا نیا شیڈول متعین ہوا اگلے سال مارچ میں الیکشن کرانے کی تاریخ طے ہوئی، طے ہونے کے باوجود وعدہ پورا نہیں ہوا، مذاکرات میں جنرل فیض کے ساتھ چوہدری پرویز الہی بھی تھے۔

    سوڈانی فوج اورریپڈ ایکشن فورسز کے درمیان جھڑپیں،دونوں کا صدارتی محل پر قبضہ کرنے کا …

    عدالت کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کی نفی کی جارہی ہے، ایسے لوگوں سے بات کرنے میں کوئی ملکی مفاد نہیں، ایکٹ بنا نہیں اور چیف جسٹس نے 8 رکنی بینچ بنادیا، کیا دوسرے فریق کی بات سنی گئی، ہم انسان اور سیاسی لوگ ہیں، ایسا نہیں کہ جانوروں کی طرح ہر چیز قبول کرتے رہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آئینی طور پر اختیارات تقسیم ہیں، ہر ادارہ کا اپنا دائرہ اختیار ہے، الیکشن کمیشن کے اختیارات آپ نے سلب کرلیے، یہاں تک کہ الیکشن کا شیڈول تک دے دیا، سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ہٹانا انتظامی معاملہ ہے، کہا گیا کہ رجسٹرار نہیں جائے گا، ہم نے آئین کا سہارا لیکر جبر کو تسلیم نہیں کرنا۔

    مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا آج کی اسٹیبلشمنٹ سے ماضی کی اسٹیبلشمنٹ سےدھاندلی کرانےکی تحقیقات کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے۔

    شہید ڈی ایس پی کا بھی تبادلہ کر دیاگیا

    انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون منظور کرتی ہے ابھی ایکٹ بنا بھی نہیں لیکن چیف جسٹس نے بینچ بنادیا، آئینی طور پر اختیارات تقسیم ہیں پھر کیوں مداخلت کی جارہی ہے، کسی ادارے کو دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    فضل الرحمٰن نے عمران خان سے کسی بھی مذاکرات کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سیاست کا غیر ضروری عنصر ہے، سیاست اتنی گرگئی ہےکہ ہم اس سےمذاکرات کی بات کرتے ہیں ہم اس سےکبھی مذاکرات نہیں کریںگے 2018 میں اس وقت کے اسٹیبلشمنٹ دھاندلی کی پشت پناہی کررہی تھی، کیا ہم موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کرسکتے ہیں کہ وہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے اس ناجائز، ظلم و دھاندلی کے جرم کا احتساب کرسکے گی۔

    مردم شماری میں 20 اپریل تک توسیع

    آصف زرداری کی اپوزیشن سے مذاکرات کی تجویز سے متعلق سوال کے جواب میں فضل الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اپنا سیاسی فلسفہ ہے،ہم نے پہلے بھی کہا تھا اسمبلیوں سے مستعفی ہوں اور نئے الیکشن کی طرف جائیں لیکن پی پی پی نے کہا عدم اعتماد لائیں ہم نے اتفاق کیا، ہماری بات مان لی جاتی تو آج الیکشن ہوچکے ہوتے اور ملک میں کوئی ہیجان نہ ہوتا، آج اسی کو ہم بھگت رہے ہیں، وہی مہنگائی آج ہمارے لیے مشکل کا باعث بن رہی ہے اور عمران خان اسے اپنی اڑان کےلیے استعمال کررہا ہے، اب ہم نئے تجربے نہیں کرسکتے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    انہوں نے کہا کہ ہمارے دھرنے کو اٹھانے کے لئے جنرل باجوہ کے نمائندےجنرل فیض،پرویز الہیٰ شجاعت اورہماری ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں طے ہوا تھا اسمبلیاں توڑ کے الیکشن کرائیں گے تاریخ بھی طے ہوئی تھی، لیکن دھرنا ختم ہونے کے بعد پھر وہ مکر گئے، کہا ایسی تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی تھی، اتنی ذمہ دار پوسٹس پر بیٹھنےوالےلوگ بھی ایسی کچی باتیں کرتےہیں، نہ چوہدری صاحبان کو آج تک احساس ہے کہ ہم نے زبان دی تھی، ایک وعدہ نہیں جنرل باجوہ اور فیض حمید کی کس کس بات کو روئیں گے، اب ان کے ادارے کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس بارے میں خود سوچیں تمام جماعتوں کا اتفاق ہے الیکشن اکٹھے ہوں گے، اس پورے قومی تصور کو عمران خان کے لیے قربان نہیں کرسکتے۔

    پی ٹی آئی رہنما علی زیدی گرفتار ہو گئے

  • دعوت ملتے ہی مولانا فضل الرحمن نے ہاں کردی

    دعوت ملتے ہی مولانا فضل الرحمن نے ہاں کردی

    اسلام آباد: آصف علی زرداری کی طرف سے عیشائیے کی دعوت ملتے ہی مولانا فضل الرحمن نے ہاں کردی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر سابق صدر آصف زرداری ،پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے کل اہم ملاقات کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سابق صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے، ملاقات میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق تفصیلی مشاورت ہوگی اور حکومتی اتحادیوں سے رابطوں سے متعلق تبادلہ خیال بھی کیا جائے گا،ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بھی گفتگو ہوگی۔

    واضح رہے کہ اپوزیشن حکومت پر دباو بڑھنے کیلئے پوری قوت سے میدان عمل میں اترنے کی تیاریاں کر رہی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کیخلاف 27 فروری سے لانگ مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے تو دوسری جانب حکومتی جماعت کی وکٹیں گرانے کیلئے اپوزیشن نے جوڑ توڑ کیلئے کوششوں کا عمل بھی شروع کر رکھا ہے۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بھی دعوے کررہی ہے کہ اپوزیشن کے 15 سے زائد ارکان کا ان سے رابطہ ہے، یہ ارکان اسمبلی کون ہیں ان کے نام بتانے کے حکومت گریز کررہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور اپوزیشن کے ان ارکان کے رابطوں کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے 7 ن لیگ کے ہیں ، 3 پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور باقی پانچ دیگر مختلف جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کے نام ظاہر کرنے سے معذرت کرلی گئی ہے

  • ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی:فضل الرحمان ہماری انشورنس:      جتنی مرضی سازشیں کرلیں:اللہ خیرکریں‌ گے:فوادچوہدری

    ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی:فضل الرحمان ہماری انشورنس: جتنی مرضی سازشیں کرلیں:اللہ خیرکریں‌ گے:فوادچوہدری

    اسلام آباد : ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی بن چکی:فضل الرحمان ہماری انشورنس:حکومت یہ پانچ سال پورے کرے گی اورپھراگلے5سال بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی ، ان شاللہ تعالیٰ‌،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظمم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے واضح انداز میں کہا ہے کہ اپوزیشن کے اپنے لوگ انکے ساتھ نہیں ہیں،ن لیگ فیملی لمٹیڈ پارٹی بن چکی۔ فضل الرحمان ہماری انشورنس ہیں، بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان جیسے لوگوں سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔

    ایک نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ن لیگ کے قائد نوازشریف کے باہرجانے پرمخالفت کی تھی، ان جیسا بندہ جب باہربیٹھ جاتا ہے تو پھر انٹرنیشنل ا سٹیبلشمنٹ کا پلیئر بن جاتا ہے،ان حقائق سے ن لیگی بھی واقف ہیں کہ اس وقت نوازشریف کے ساتھ کن عالمی قوتوں نے اپنے رابطے مضبوط کررکھے ہیں‌، سابق وزیراعظم پچھلی دفعہ بھی جب ملک آئے تو ڈیل کرکے آئے تھے، نوازشریف اگر واپس آجائیں گے تو پھرپتا چل جائے گا کیا ہو رہا ہے۔ ان کے بارے سب کوپتا ہے کسی ڈیل کے بغیرواپس نہیں آئیں گے، موجودہ اپوزیشن سے حکومت کوکوئی خطرہ نہیں۔

    اپوزیشن کے احتجاج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب تک اپوزیشن چار مارچ کر چکی ہے، 1300سے زائد مرتبہ یہ حکومت گرانے کی کوشش کرچکے ہیں، ساری اپوزیشن چوں، چوں کا مربہ ہے، میڈیا میں ان کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ مولانا پہلے لانگ مارچ میں بھی یہی کہتے تھے ادارے ایک پیج پرنہیں رہے، ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز، پی پی چیئر مین بلاول بھٹوبھی کہتے رہے حکومت چلی جائے گی، یہ وہی باتیں کر رہے ہیں جو پہلے لانگ مارچ میں کر رہے تھے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ اداروں اور وزیراعظم کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، ایسے مثالی تعلقات پہلے نہیں تھے، پیپلزپارٹی، (ن) لیگ نے تسلیم کرلیا ہے یہ علاقائی جماعتیں ہیں، اپوزیشن کو میچورہونے میں بڑا وقت لگے گا، بلاول بھٹو،مریم صفدرکوپہلے میئرکا الیکشن لڑنا چاہیے، کیا دنیا کا کوئی ملک مولانا فضل الرحمان جیسے شخص کو لیڈرمانے گا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چین کا کامیاب دورہ کیا، یہاں پر وزیراعظم کے کامیاب دورہ چین پربات نہیں ہوئی، جب تک حکومت تگڑی ہے کوئی نہیں چھوڑکرجائے گا، عقل مند لوگوں کوپتا ہے اگروزیراعظم کو چھوڑیں گے توتنہا رہ جائیں گے، خواجہ آصف جیسے لوگ کدھر ہیں، اپوزیشن کے اپنے لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں، مسلم لیگ(ن)فیملی لمٹیڈ پارٹی بن چکی ہے۔ فضل الرحمان ہماری انشورنس ہیں، بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان جیسے لوگوں سے کوئی خطرہ نہیں۔

  • مولانا فضل الرحمن سیاسی اخوت کو پارہ پارہ کرنےکےلیےچوہدری برادران کےگھرپہنچ گئے

    مولانا فضل الرحمن سیاسی اخوت کو پارہ پارہ کرنےکےلیےچوہدری برادران کےگھرپہنچ گئے

    لاہور:مولانا فضل الرحمن حکومت اور اتحادیوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کےلیے چوہدری برادران کے گھرپہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کیے جانے کے بعد سیاسی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے، مولانا فضل الرحمان نے چودھری برادران سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے حکومتی اتحادیوں سے رابطے شروع ہو گئے ہیں، پی ڈی ایم کے سربراہ نے چودھری برادران کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی سے ملاقات کی۔ مسلم لیگ ق کے ایم این اے چودھری سالک حسین اور جمیعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما بھی شریک ہوئے۔

    اس دوران مولانا فضل الرحمن نے چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی جبکہ چودھری برادران کیساتھ ملاقات کے دوران ملکی سیاسی معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔

    لیگی حلقوں کا دعویٰ ہےکہ ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمن دواتحادی بھائیوں یعنی چوہدری برادران اور عمران خان کے درمیان نفریں پیدا کرنے کے لیے دوران ملاقات بہت زیادہ نفرت انگیز پراپیگنڈہ کرتے رہے جس کو چوہدری برادران بڑے تحمل سے سنتے رہے

    شہبازشریف کل چوہدری برادران کی منتیں کرنے ان کے گھرجائیں گے،اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد سیاسی رابطے تیز ہو گئے ہیں، لیگی صدر شہباز شریف کی چودھری برادران سے کل ملاقات کرینگے۔اور چوہدری برادران کی منتیں‌ کریں‌گے کہ کسی نہ کسی طرح‌ ہماری جان عمران خان سے چھڑوا دیں اگرآپ نے مدد نہ کی تو پھر وہ خان ہمیں نہیں چھوڑے گا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وزیراعظم عمران خان کے تحریک عدم اعتماد کا لانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد سیاسی ماحول میں گرم ہو گیا ہے، سیاسی رہنما ایک دوسرے کے ساتھ رابطوں میں تیزی لا رہے ہیں۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کل چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کریں گے جس کے کے امور فائنل کر لیے ہیں، آج رات ملاقات کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی۔لیگی صدر ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی تیمارداری کے لئے کل ان کی رہائش گاہ پہنچیں گے اور ملاقات میں سیاسی معاملات پر بات چیت کریں گے۔

    ادھر اس حوالے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات کے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ وہ کل بھی عمران خان کے ساتھ تھے اور مستبقل میں بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں‌ گے

    ادھر اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ کے ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جو بات چوہدری برادران نے واضح کردی ہے وہ ہی پارٹی کی پالیسی ہے اور شہبازشریف کو نامراد لوٹنا پڑے گا کیوں کہ چوہدری برادران جس سے زبان کرتے ہیں اس پر پورا اترتے ہیں