Baaghi TV

Tag: مٹی

  • مٹی والی ٹرالیوں سے کارپٹ سڑکیں کچی بن گئیں

    مٹی والی ٹرالیوں سے کارپٹ سڑکیں کچی بن گئیں

    قصور
    سڑکوں پہ ٹرالیوں کا راج,تارکول سے بنی کارپٹ سڑکیں مٹی کہ تہہ جمنے سے کچی سڑکوں میں تبدیل،دھول مٹی اڑنے سے لوگ بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر اور خاص کر تحصیل قصور کے قرب و جوار کے گاؤں دیہات کی سڑکوں پہ مٹی سے لدے ٹریکٹر ٹرالی والوں کا راج ہے جنہوں نے سڑکوں کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ رکھا ہے
    مٹی سے لدی بغیر ترپال ٹرالیوں سے مٹی گرتی رہتی ہے جس کے باعث تارکول سے بنی کارپٹ سڑکیں مٹی کی تہہ جمنے سے کچی سڑکصں میں تبدیل ہو رہی ہیں اور مٹی کے جمنے کے باعث سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں
    قصور کے نواحی گاؤں کھارا میں چند سال قبل بننے والی رائیونڈ قصور روڈ ڈرین کیساتھ سے گاؤں آنے والی تارکول کی پختہ سڑک مٹی کی ٹرالیوں کے باعث ٹوٹ چکی ہے اور ساری سڑک پہ مٹی کی کئی تہیں بن گئی ہیں
    اس سڑک پہ دن رات مٹی والی ٹرالیاں گزرتی ہیں اور مٹی گراتی رہتی ہیں جس کے باعث لوگوں کا گزرنا دشوار ہے اور دھول مٹی اڑنے سے لوگ کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں

    اہلیان علاقہ نے ڈپٹی کمشنر قصور،اسسٹنٹ کمشنر قصور سے ٹرالی مالکان کی طرف سے سرکاری سڑک کو نقصان پہنچا کر لوگوں کو بیمار کرنے اور راستوں میں رکاوٹ ڈالنے پر ازخود نوٹس کا مطالبہ کیا ہے

  • چاند کی مٹی ایندھن اور آکسیجن پیدا کر سکتی ہے’:سائنسدانوں کا دعویٰ

    چاند کی مٹی ایندھن اور آکسیجن پیدا کر سکتی ہے’:سائنسدانوں کا دعویٰ

    بیجنگ : چاند کی مٹی ایندھن اور آکسیجن پیدا کر سکتی ہے’:سائنسدانوں کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چاند کی مٹی کو آکسیجن اور ایندھن میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔مطالعاتی جرنل ‘جول’ میں شائع تحقیق کے مطابق چاند کی مٹی میں فعال مرکبات ہوتے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن اور ایندھن میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

    نانجنگ یونیورسٹی کے مادی سائنس دان ینگ فانگ یاؤ اور زیگینگ زو ایک ایسا نظام وضع کرنے کی امید رکھتے ہیں جو چاند پر موجود دو سب سے زیادہ وسائل چاند کی مٹی اور شمسی تابکاری سے فائدہ اٹھائے۔

    چین کے Chang’e 5 خلائی جہاز کے ذریعے واپس لائی گئی چاند کی مٹی کا تجزیہ کرنے کے بعد ان کی ٹیم نے پایا کہ نمونے میں خاص مرکبات بشمول آئرن اور ٹائٹینیم سے بھرپور مادے موجود ہیں، جو سورج کی روشنی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کرتے ہوئے آکسیجن جیسی مطلوبہ مصنوعات بنانے کے لیے ایک عمل انگیز کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔مشاہدے کی بنیاد پر ٹیم نے “ایکسٹراٹریسٹریل فوٹو سنتھیسس” کی حکمت عملی تجویز کی۔

    چاند پر موجود خلا نوردوں کی طرف سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی چاند کی مٹی کے ذریعے عمل انگیز ہائیڈروجنیشن کے عمل کے دوران پانی کے الیکٹرولیسس سے جمع کیا جاتا ہے اور ہائیڈروجن کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔اس عمل سے میتھین جیسے ہائیڈرو کاربن حاصل ہوتے ہیں، جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ یہ حکمت عملی بیرونی توانائی نہیں بلکہ سورج کی روشنی کا استعمال کرتی ہے تاکہ مختلف قسم کی مطلوبہ مصنوعات جیسے پانی، آکسیجن اور ایندھن تیار کیا جا سکے جو چاند کی بنیاد پر زندگی کو سہارا دے سکتے ہیں۔ٹیم ممکنہ طور پر چین کے مستقبل کے قمری مشن کے ساتھ خلا میں نظام کی جانچ کرنے کا موقع تلاش کر رہی ہے۔

    یاؤ کا کہنا ہے کہ “ہم راکٹ کے پے لوڈ کو کم کرنے کے لیے ماحول کے اندر موجود وسائل کا استعمال کرتے ہیں، اور ہماری حکمت عملی ایک پائیدار اور قابل استطاعت ماورائے ارضی زندگی کے ماحول کا منظرنامہ فراہم کرتی ہے۔”

    اگرچہ چاند کی مٹی کی عمل انگیز کارکردگی زمین پر دستیاب عمل انگیز اشیا سے کم ہے، لیکن یاؤ کا کہنا ہے کہ ٹیم ڈیزائن کو بہتر بنانے کے لیے مختلف طریقوں کی جانچ کر رہی ہے، جیسے کہ قمری مٹی کو نانو ساختہ ہائی اینٹروپی مواد میں پگھلانا، جو ایک بہتر عمل انگیز ہے۔

    اس سے قبل، سائنس دانوں نے ماورائے زمین کی بقا کے لیے بہت سی حکمت عملیاں تجویز کی ہیں۔ لیکن زیادہ تر ڈیزائنوں کے لیے زمین سے توانائی کے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے۔

    مثال کے طور پر، ناسا کا پریزروینس مارس روور کے لیے ایک ایسا آلہ تیار کیا گیا جو کرہ ارض کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، لیکن یہ جہاز پر جوہری بیٹری سے چلتا ہے۔

    یاؤ کا مزید کہنا تھا کہ “مستقبل قریب میں، ہم خلائی پرواز کی صنعت کو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ جیسے 1600 کی دہائی میں ‘Age of Sail’ کی طرح جب سینکڑوں بحری جہازوں نے سمندر کا رخ کیا، اسی طرح ہم ‘Age of Space ‘ میں داخل ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ہم ماورائے ارضی دنیا کی بڑے پیمانے پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں پے لوڈ کو کم کرنے کے طریقے سوچنے کی ضرورت ہوگی، یعنی زمین سے ممکنہ حد تک کم سپلائی پر انحصار کرنا اور اس کے بجائے ماورائے زمین وسائل کا استعمال کرنا۔”

  • سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    فلوریڈا:سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے،اطلاعات کے مطابق سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔

    چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے جہاں ناسا کی جانب سے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی بار ایک خاتون اور ایک سیاہ فام مرد کو رواں دہائی کے آخر تک بھیجنے پر غور کیا جارہا ہے۔

    مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    تحقیق میں شامل روب فیرل کا کہنا تھا کہ مستقبل میں طویل خلائی مشنز میں ہم ممکنہ طور پر چاند کو ایک ہب یا لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کریں گے، تو تصور کریں کہ اگر ہم چاند کی مٹی میں پودے اگاتے ہیں جو پودوں کے ارتقائی تجربے سے بالکل مختلف ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟

    اس تحقیق کے لیے سائنسدان کئی برسوں سے کام کررہے ہیں، 15 سال قبل انہوں نے چاند کے نمونے فراہم کرنے کی درخواست کی تھی اور اس کی منظوری 18 ماہ قبل دی گئی۔

    ناسا کے اپولو 17 مشن میں جمع کی گئی چاند کی 4 گرام مٹی سب سے پہلے محققین کو دی گئی ، بعد ازاں مختلف اپولو مشنز کے نمونوں سے بھی مٹی فراہم کی گئی، جس کی مجموعی مقدار 12 گرام تھی۔

    سائنسدانوں نے انگوٹھے کے حجم کی ایسی پلاسٹک ٹرے کو گملے کے طور پر استعمال کیا گیا جن کو عموماً خلیات کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بعد ہر گملے کو چاند کی ایک گرام مٹی سے بھرا گیا ، پھر مختلف اجزا اور پانی کا اضافہ کرکے ان میں میتھی کے بیج بوئے ۔

    ان بیجوں کوآتش فشاں کی راکھ اور دیگر شدید ماحول کے نمونوں میں بھی کاشت کیا گیا اور محققین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے چاند کی مٹی میں بوئے گئے لگ بھگ تمام بیج اگنے لگے۔

    مگر اس مٹی میں پودوں کو نشوونما کے لیے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے پتے بڑھنے میں عام معمول سے کافی زیادہ وقت لگا جبکہ ان کی رنگت میں سرخی مائل سیاہ ہوگئی۔اس تحقیق کے نتائج جرنل کمیونیکشنز بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

  • منی موٹروے کے گڑھے کھڈے مٹی سے پر

    منی موٹروے کے گڑھے کھڈے مٹی سے پر

    قصور
    لاکھوں روپیہ روزانہ ٹول ٹیکس اکھٹا کرنے والے لاہور قصور فیور پور روڈ پر بنے گڑھے بجری تارکول کی بجائے مٹی سے پر کئے جانے لگے،دھول مٹی سے شہری سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق لاکھوں روپیہ روزانہ ٹول ٹیکس اکھٹا کرنے والی لاہور قصور فیروز پور روڈ منی موٹروے پر بنے بڑے بڑے گڑھے بجری و تارکول کی بجائے مٹی سے پر کئے جانے لگے ہیں جس کے باعث دھول مٹی اڑنے سے لوگ پریشان ہو گئے ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک سے روزانہ لاکھوں روپیہ اکھٹا کیا جاتا ہے مگر پھر بھی اس سڑک پر عرصہ دراز سے کوئی پیسہ نہیں لگایا گیا اگر سرکار نے اس سڑک کو مرمت نہیں کرنا تو کم از کم ٹول پلازہ فیس ہی نا لے
    اس روڈ کی حالت عام لوکل روڈز سے بھی بدتر ہے مگر ٹول پلازہ فیس سے لاکھوں روپیہ روزانہ اکھٹا کیا جاتا ہے پھر بھی سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے جو کہ محکمہ شاہرات،ضلعی و صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے

  • بغیر ترپال مٹی و ریت سے لدی ٹرالیوں کا راج

    بغیر ترپال مٹی و ریت سے لدی ٹرالیوں کا راج

    قصور
    ضلع بھر کی سڑکوں پر مٹی و ریٹ سے لدی بغیر ترپال ٹریکٹر ٹرالیوں کا راج،شہریوں کا گزرنا محال،ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں اور خاص کر تحصیل قصور میں مٹی و ریٹ سے لدی بغیر ترپال ٹرالیوں کا راج ہے جس کے باعث سڑکوں پر لوگوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے
    ایک تو سڑکیں انتہائی کم چوڑی ہیں دوسرا ٹرالی والے دوسرے لوگوں کو راستہ دینے کی زحمت ہی نہیں کرتے
    ترپال نا ڈالنے کی وجہ سے مٹی و ریت سڑکوں پر گرنے سے گزرنے والوں کی آنکھوں میں پڑتی ہے جس کے باعث موٹر سائیکل سواروں کے ابتک کئی حادثات ہو چکے ہیں
    اس بابت ضلعی انتظامیہ کو شہریوں کی طرف سے آگاہ بھی کیا گیا ہے مگر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی
    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور و کمشنر لاہور ڈویژن سے ازخود نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • بغیر ترپال،اوور لوڈڈ،اوور سپیڈنگ ٹرالیوں کا راج

    بغیر ترپال،اوور لوڈڈ،اوور سپیڈنگ ٹرالیوں کا راج

    قصور
    ضلع بھر خاص کر تحصیل قصور میں مٹی سے لڈی ٹرالیوں،ڈمپروں نے لوگوں کا جینا حرام کرکے رکھ دیا ،اوور لوڈنگ،اوور سپیڈنگ معمول،دھول مٹی گردو غبار عوام کا مقدر ،ٹریفک پولیس قصور خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں مٹی سے لڈی ٹرالیوں ،ڈمپروں نے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے
    خاص طور پر تحصیل قصور کی ہر چھوٹی بڑی سڑک پر انہی کا راج ہے یہ اوور لوڈڈ اوور سپیڈنگ ڈمپر و ٹرالیاں راستوں میں کسی کو آگے نکلنے نہیں دیتے اور سارے راستے دھول مٹی گردو غبار لوگوں پر ڈالتے ہیں جس سے لوگوں کے سڑکوں پر گزرنے کے ساتھ ساتھ جینا بھی دو بھر ہو چکا ہے
    یہ ٹرالیاں،ڈمپر ترپال کا ہرگز استعمال نہیں کرتے جس کے باعث مٹی گر کر سڑک پر سے اڑ اڑ کر لوگوں کی آنکھوں و جلد کا ستیاناس کرتی ہے اور کئی بیماریاں لوگوں کا مقدر بنتی ہیں
    اس ساری صورتحال کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے آنکھیں موندھ رکھی ہیں اور لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کا ان کو پورا پورا موقع دیا جا رہا ہے
    شہریوں نے ان بعیر ترپال اوور لوڈڈ اوور سپیڈنگ ٹرالیوں،ڈمپروں کے خلاف ڈی پی او قصور محمد صہیب اشرف سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • اوور لوڈڈ بغیر ترپال ٹرالیاں،ڈمپر خطرے کا باعث

    اوور لوڈڈ بغیر ترپال ٹرالیاں،ڈمپر خطرے کا باعث

    قصور
    پبلک ٹرانسپورٹ تو بند کروا دی گئی مگر بغیر ترپال اور لوڈڈ اوو سپیڈ مٹی و ریت کی ٹرالیاں، ڈمپر سڑکوں پر مٹی و ریت گرانے لگے ،شہری پریشان،نوٹس لینے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ و ضلعی پولیس کی جانب سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرواتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ تو بند کروا دی گئی ہے مگر بدقسمتی سے ضلع بھر کی سڑکوں پر مٹی و ریت سے اوور لوڈڈ اوو سپیڈ ٹرالیاں،ڈمپڑ بغیر ترپال کے اسی آن شان سے رواں دواں ہیں جو کہ مٹی و ریت سڑکوں پر گرا کر لوگوں کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں
    دھول مٹی کے باعث موٹر سائیکل و رکشہ سواروں کی آنکھیں ،گلہ خراب ہو رہی ہیں اور انہیں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    لوگوں نے ان بغیر ترپال اوور لوڈڈ اوو سپیڈ ٹرالیوں،ڈمپروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لوگوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں