Baaghi TV

Tag: مچھر

  • مچھر دن میں اور مکھیاں رات میں کیوں نظر نہیں آتیں؟

    مچھر دن میں اور مکھیاں رات میں کیوں نظر نہیں آتیں؟

    دن میں مکھی اور رات میں مچھر انسانوں کا جینا حرام کئے رکھتے ہیں کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ مچھر دن میں اور مکھیاں رات میں کیوں نظر نہیں آتیں اور اگر آتی ہیں تو اس حد تک فعال نظر کیوں نہیں آتیں؟

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق انسانوں کو خون چوسنے والی مادہ مچھر رات کے وقت ہی شکار کرتی ہے، اور انسانی خون محض بھوک مٹانے کے لیے نہیں بلکہ انڈوں کی تخلیق کے لیے استعمال کرتی ہے دن کے اوقات کا درجہ حرارت مچھروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مچھر رات کے اندھیرے میں ہی وار کرتے ہیں۔

    دوسری جانب دن کے اوقات انسانوں کو تنگ کرنے والی مکھی رات کے اوقات ایسے غائب ہوتی ہے کہ پھر نظر ہی نہ آئےایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ مکھیوں کو پولارائیزڈ لائٹ کی ضرور ہوتی ہے جس سے وہ دیکھ پاتی ہیں یہ پولارائیزڈ لائٹ دن کے اوقات مکھی کو نقل و حرکت میں مدد فراہم کرتی ہے، جبکہ رات کے اوقات نا پید ہوتی ہے،یہ بھی ہے کہ رات کا درجہ حرارت مکھیوں کو سست کر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات اگر کوئی مکھی رات کے اوقات نظر بھی آتی ہے تو وہ سست نظر آتی ہے جبکہ رات کے اوقات مکھیاں کسی ایسی جگہ پناہ لیتی ہیں جہاں وہ دن کے اجالے تک اپنے جسم کے درجہ حرارت کو رات کے ٹھنڈے درجہ حرارت سے کم نہ ہونے دیں۔

    امریکا نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے،ایران

    برطانوی بادشاہ چارلس سوئم کینسر میں مبتلا

    غزہ جانے والے انسانی امداد کے ٹرکوں پر انتہاپسند اسرائیلیوں کا حملہ

  • مچھر اور مکھیوں کو گھروں سے دور بھگانے کا آسان گھریلو ٹوٹکا،ویڈیو

    مچھر اور مکھیوں کو گھروں سے دور بھگانے کا آسان گھریلو ٹوٹکا،ویڈیو

    عالمی ادارہ صحت کا دعوی ہے کہ مچھر دنیا کا سب سے خطرناک جاندار ہےجس کی وجہ یہ ہے کہ مچھر کی بدولت ملیریا، ڈینگی اور اب مختلف ممالک میں زیکا وائرس جیسے امراض پھیل رہے ہیں جن کے نتیجے میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں-

    باغی ٹی وی : سکون میں خلل ڈالنے والے مچھر انسانی صحت کیلئے بھی نقصان دہ ہیں اورمتعدد بیماریوں سے دوچارکرسکتے ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں مچھر اور مکھیوں کو گھروں سے بھگانے کا طریقہ بتایا گیا ہے،جو کافی پہلے سے چلا آرہا ہے اور خاصا آزمودہ بھی ہے،اس سے مچھروں سے باآسانی پیچھا چھوٹ سکتا ہے-
    https://x.com/HiddenTips_/status/1733600110536540468?s=20
    اس کے لیے ایک عدد بڑے سائز کا لیموں یا لائم لیں، اس کو درمیان سے دو حصوں میں کاٹ لیں،اس کے بعد آدھے حصے کو نیچے سے تھوڑا کاٹ لیں تاکہ وہ اپنی سطح پربا آسانی ٹھہر سکے،اس کے بعد اسی آدھے لیموں کے درمیان میں ایک چھوٹی موم بتی فکس کردیں پھر چند عدد لونگ لیموں کے دونوں حصوں پر لگا دیں، پھر 4 عدد ٹوتھ پکس بھی لگا لیں،اس کے بعد لیموں کے دوسرے آدھے حصے کو ان ٹوتھ پکس پر لگا کر موم بتی کو جلا کر گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں پر رکھ دیں-

  • مچھروں کی بہتات ،شہری ملیریا سمیت مختلف بیماریوں کا شکار

    مچھروں کی بہتات ،شہری ملیریا سمیت مختلف بیماریوں کا شکار

    قصور
    مچھروں کی بہتات،شہری ملیریا سیمت کئی خطرناک بیماریوں کا شکار،انتظامیہ نے عرصہ دراز سے مچھر مار سپرے نہیں کیا،شہری پریشان،انتظامیہ سے مچھر مار سپرے کرنے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور میں مچھروں کی بہتات ہو گئی ہے
    مچھروں کی افزائش میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث شہری ملیریا سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    ملیریا کے باعث لوگ بیمار ہو کر گھروں میں پڑے ہیں
    ضلعی انتظامیہ و ڈینگی سکواڈ کی بے حسی عروج پہ ہے
    عرصہ دراز سے مچھر مار سپرے نہیں کیا گیا جس کے باعث مچھروں کی افزائش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور و سی ای او ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ مچھر مار سپرے کیا جائے تاکہ مچھروں کی افزائش رکے اور لوگ مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہ کر مختلف قسم کی بیماریوں سے بچ سکیں

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔

    ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

    مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔

    اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔

    2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    لاہور:سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا ہیں ، ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کررہے ہیں تو دوسری طرف وبائی امراض کے پھیلنے کی وجہ سے تکلیف اورپریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں ، ان حالات کے پیش نظرماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگرسیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بہت زیادہ نقصان کا سبب بن سکتے ہیں‌

    سندھ کے مختلف علاقوں میں زہریلے مچھر کاٹنے سے خطرناک بیماریاں شروع ہوگئی ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں میں زہریلے مچھروں کے کاٹنے سے جلدی امراض ہو رہے ہیں ، ایک ریسکیو ورکر کے زخموں کی حالت ہے جو چند دن جھڈو میرپور خاص رہ کر آیا ہے، سیلاب زدگان کی حالت کیا ہوگی جو مستقل وہیں بیٹھے ،

     

    اس سلسلے میں وہاں موجود فلاحی جماعت کے سوشل ورکز کا کہنا ہے کہ مچھر کے تباہ کُن حملوں سے بچنے کا واحد حل مچھردانی ہے مگران بے بس اور بے حال لوگوں کو مچھر دانیاں کون فراہم کرے گا ، یہ بھی کسی نہ کسی ذمہ داری لینا ہوگی

     

    ادھرماہرین صحت اور فلاحی اداروں نے سیلاب زدہ علاقوں میں 50 لاکھ افراد کے بیمار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے مطابق ڈاکٹر شہزاد علی خان پاکستان میں سیلاب سے اب تک 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، چند ہفتوں میں لاکھوں افراد آلودہ پانی اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے متاثر ہوں گے۔

    ڈاکٹر شہزاد علی خان کا کہنا ہے کہ سیلابی علاقوں میں ٹائیفائیڈ اور ہیضے کی مشترکہ ویکسین ہر شخص کو لگائی جائے۔ماہر امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق سیلابی علاقوں میں ڈینگی، ملیریا، خسرہ اور پولیو پھیلنے کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

    ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ بچوں میں ویکسی نیشن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

  • ڈینگی کا وار تیز،ضلعی انتظامیہ نے سپرے نا کیا

    ڈینگی کا وار تیز،ضلعی انتظامیہ نے سپرے نا کیا

    قصور
    کوٹ اندرون موریگیٹ،کوٹ بدر دین،و دیگر علاقوں میں ڈینگی بخار خطرناک حد تک بڑھ گیا ،انتظامیہ نے تاحال مچھر مار سپرے نا کیا،لوگ پریشان

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی ڈینگی بخار کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے
    قصور اور گردونواح میں ڈینگی کے وار تیز سے تیز تر ہو رہے ہیں خاص کر قصور شہر میں اندرون کوٹ موریگیٹ،کوٹ بدر دین،کوٹ رکندین و دیگر علاقوں میں ڈینگی بخار بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی ہٹ ڈھرمی کے باعث ابھی تک مچھروں کے خاتمے کی سپرے نہیں کی گئی جس پر شہری سخت پریشان ہیں کیونکہ ڈینگی کے وار تیز سے تیز تر ہو رہے ہیں اور لوگ بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ رہے ہیں

    شہریوں نے ڈی سی قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر قصور و گردونواح میں فوری طور پر مچھر مار سپرے کیا جائے تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کم ہو اور لوگ ڈینگی جیسے مہلک مرض سے محفوظ رہ سکیں

  • محکمہ صحت و میونسپل کی نااہلی،مچھر کی بہتات

    محکمہ صحت و میونسپل کی نااہلی،مچھر کی بہتات

    قصور
    محکمہ صحت و میونسپل کی نااہلی سے مچھر کی بہتات ہو گئی،ڈینگی مچھر کی افزائش کے ساتھ دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ،عرصہ دراز سے سپرے نہیں کی گئی

    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں محکمہ صحت اور میونسپل کی نااہلی کی بدولت مچھر کی بہتات ہو گئی ہے جس کے باعث ڈینگی مچھر کی افزائش کے ساتھ ساتھ ،ملیریا،جلدی امراض و دیگر موذی امراض کے پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے
    ہر سال مچھر سے بچاؤ سے کی جانے والی سپرے عرصہ دراز سے نہیں کی گئی جس کے باعث مچھر کی افزائش بڑی تیزی سے ہو رہی ہے
    شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گل سے نوٹس لے کر علاقے میں مچھر سے بچاؤ کی سپرے کروانے کی استدعا کی ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے

  • ڈینگی سے بچنے کیلئے احتیاط

    ڈینگی سے بچنے کیلئے احتیاط

    قصور
    ضلعی انتظامیہ کی ڈینگی مچھر کی پیدائش روکنے کیلئے لاروا کے خاتمے کے حوالے سے سرگرمیاں تیز ہو گئیں ہیں اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کے ڈینگی ورکرز کی کارکردگی اور انتظامات کو چیک کرنے کے لئے تحصیل چونیاں کے نواحی علاقوں میں ہنگامی دورے شروع ہو گئے ہیں
    اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کا تحصیل چونیاں کے نواحی علاقے کوٹ سندراس کا دورہ اور چیکنگ کی گئی
    جبکہ سی ڈی سی سپروائزر سمیت دولیڈی ہیلتھ ورکرز ڈیوٹی سے غیر حاضر تھیں
    اس پر اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے ڈیوٹی سے غیر حاضری پر سی ڈی سی سپر وائزر اور دونوں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیئے ہیں