Baaghi TV

Tag: مچھر

  • مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں  حیران کن انکشاف

    مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    حالیہ سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مچھر انسانوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک منظم اور حساس حیاتیاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقات کے بڑھتے ہوئے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مچھر پہلے سے زیادہ ’چناؤ کرنے والے‘ ہوتے ہیں وہ انسانوں کو تلاش کرنے کے لیے بو، جسمانی کیمسٹری، حرارت اور بصری اشاروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنا اگلا شکار منتخب کر سکیں۔

    اکثر یہ منظر عام ہوتا ہے کہ کچھ افراد مچھروں کے حملوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں جبکہ دوسرے تقریباً محفوظ رہتے ہیں سائنسدانوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ انسانی جسم کی مخصوص بو، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور جلد کی کیمیائی ساخت وہ بنیادی عوامل ہیں جو مچھروں کو اپنے شکار کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    مچھر اپنے شکار کو تلاش کرنے کے لیے سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کئی میٹر کی دوری سے سونگھ لیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لمبے قد کے حامل افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جو زیادہ گہری سانس لیتے ہیں (جیسے ورزش کے بعد)، مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں انسانی جلد پر قدرتی طور پر بیکٹیریا کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو پسینے کو مختلف کیمیکلز (جیسے لیکٹک ایسڈ اور یورک ایسڈ) میں تبدیل کرتی ہے ہر انسان کے جسم میں ان کیمیکلز کی مقدار مختلف ہوتی ہے، اور جن لوگوں کے جسم سے ان کی بو زیادہ آتی ہے، مچھر ان کا زیادہ رخ کرتے ہیں-

    سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، مچھروں کی ترجیح میں خون کی اقسام بھی شامل ہوتی ہیں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ O بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جبکہ اس کے بعد بلڈ گروپ A والے افراد کو زیادہ کاٹا جاتا ہے مچھر جسمانی حرارت (گرمی) کے بھی بہت حساس ہوتے ہیں زیادہ درجہ حرارت، مشقت یا ورزش کے دوران نکلنے والا پسینہ مچھروں کو فوری طور پر راغب کرتا ہے لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اصل میں جسم کی قدرتی بو اس سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہےمختلف مطالعات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الکحل کا استعمال کرنے والوں کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن جاتے ہیں-

    Rockefeller University کی تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جن افراد کی جلد پر قدرتی طور پر موجود کاربوکسلک ایسڈز زیادہ ہوتے ہیں، وہ مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں ہر انسان سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جسے مادہ مچھر بہت دور سے بھی محسوس کر سکتے ہیں وہ افراد جو زیادہ CO₂ خارج کرتے ہیں جیسے بڑے جسم والے بالغ افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جنہوں نے حال ہی میں ورزش کی ہو انہیں زیادہ مچھر کاٹتے ہیں کیونکہ وہ آسانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ جسم کی گرمی اور نمی بھی مچھروں کو قریب آ کر شکار تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

    مچھر ان لوگوں کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں جو گہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، جیسے کالا، نیوی بلیو اور سرخ، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی CO₂ محسوس کر چکے ہوں۔ اس کے مقابلے میں ہلکے رنگ جیسے سفید اور سبز کم پرکشش ہوتے ہیں۔

    مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
    ماہرین صحت کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ہیں:

    DEET، picaridin یا قدرتی تیل پر مشتمل ریپیلنٹس کا استعمال،صبح اور شام کے اوقات میں مکمل بازو اور ٹانگیں ڈھانپنے والے کپڑے پہننا، ہلکے رنگوں کا انتخاب، کھڑا پانی ختم کرنا جہاں مچھر افزائش پاتے ہیں،کھڑکیوں پر جالیاں اور پنکھوں کا استعمال

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھر جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا کہ کچھ لوگ ’مچھر میگنیٹ‘ کیوں ہوتے ہیں، مستقبل میں بہتر ریپیلنٹس اور بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا، ویسٹ نائل وائرس اور زیکا سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔

  • گوگل کا  3 کروڑ 20 لاکھ  مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل کا 3 کروڑ 20 لاکھ مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں، گوگل کا یہ منصوبہ “ڈی بگ“ پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہےمچھر دنیا کے خطرناک ترین حشرات میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا ،رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔

    فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔

    ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعا ت میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

  • مچھر دن میں اور مکھیاں رات میں کیوں نظر نہیں آتیں؟

    مچھر دن میں اور مکھیاں رات میں کیوں نظر نہیں آتیں؟

    دن میں مکھی اور رات میں مچھر انسانوں کا جینا حرام کئے رکھتے ہیں کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ مچھر دن میں اور مکھیاں رات میں کیوں نظر نہیں آتیں اور اگر آتی ہیں تو اس حد تک فعال نظر کیوں نہیں آتیں؟

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق انسانوں کو خون چوسنے والی مادہ مچھر رات کے وقت ہی شکار کرتی ہے، اور انسانی خون محض بھوک مٹانے کے لیے نہیں بلکہ انڈوں کی تخلیق کے لیے استعمال کرتی ہے دن کے اوقات کا درجہ حرارت مچھروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مچھر رات کے اندھیرے میں ہی وار کرتے ہیں۔

    دوسری جانب دن کے اوقات انسانوں کو تنگ کرنے والی مکھی رات کے اوقات ایسے غائب ہوتی ہے کہ پھر نظر ہی نہ آئےایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ مکھیوں کو پولارائیزڈ لائٹ کی ضرور ہوتی ہے جس سے وہ دیکھ پاتی ہیں یہ پولارائیزڈ لائٹ دن کے اوقات مکھی کو نقل و حرکت میں مدد فراہم کرتی ہے، جبکہ رات کے اوقات نا پید ہوتی ہے،یہ بھی ہے کہ رات کا درجہ حرارت مکھیوں کو سست کر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات اگر کوئی مکھی رات کے اوقات نظر بھی آتی ہے تو وہ سست نظر آتی ہے جبکہ رات کے اوقات مکھیاں کسی ایسی جگہ پناہ لیتی ہیں جہاں وہ دن کے اجالے تک اپنے جسم کے درجہ حرارت کو رات کے ٹھنڈے درجہ حرارت سے کم نہ ہونے دیں۔

    امریکا نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے،ایران

    برطانوی بادشاہ چارلس سوئم کینسر میں مبتلا

    غزہ جانے والے انسانی امداد کے ٹرکوں پر انتہاپسند اسرائیلیوں کا حملہ

  • مچھر اور مکھیوں کو گھروں سے دور بھگانے کا آسان گھریلو ٹوٹکا،ویڈیو

    مچھر اور مکھیوں کو گھروں سے دور بھگانے کا آسان گھریلو ٹوٹکا،ویڈیو

    عالمی ادارہ صحت کا دعوی ہے کہ مچھر دنیا کا سب سے خطرناک جاندار ہےجس کی وجہ یہ ہے کہ مچھر کی بدولت ملیریا، ڈینگی اور اب مختلف ممالک میں زیکا وائرس جیسے امراض پھیل رہے ہیں جن کے نتیجے میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں-

    باغی ٹی وی : سکون میں خلل ڈالنے والے مچھر انسانی صحت کیلئے بھی نقصان دہ ہیں اورمتعدد بیماریوں سے دوچارکرسکتے ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں مچھر اور مکھیوں کو گھروں سے بھگانے کا طریقہ بتایا گیا ہے،جو کافی پہلے سے چلا آرہا ہے اور خاصا آزمودہ بھی ہے،اس سے مچھروں سے باآسانی پیچھا چھوٹ سکتا ہے-
    https://x.com/HiddenTips_/status/1733600110536540468?s=20
    اس کے لیے ایک عدد بڑے سائز کا لیموں یا لائم لیں، اس کو درمیان سے دو حصوں میں کاٹ لیں،اس کے بعد آدھے حصے کو نیچے سے تھوڑا کاٹ لیں تاکہ وہ اپنی سطح پربا آسانی ٹھہر سکے،اس کے بعد اسی آدھے لیموں کے درمیان میں ایک چھوٹی موم بتی فکس کردیں پھر چند عدد لونگ لیموں کے دونوں حصوں پر لگا دیں، پھر 4 عدد ٹوتھ پکس بھی لگا لیں،اس کے بعد لیموں کے دوسرے آدھے حصے کو ان ٹوتھ پکس پر لگا کر موم بتی کو جلا کر گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں پر رکھ دیں-

  • مچھروں کی بہتات ،شہری ملیریا سمیت مختلف بیماریوں کا شکار

    مچھروں کی بہتات ،شہری ملیریا سمیت مختلف بیماریوں کا شکار

    قصور
    مچھروں کی بہتات،شہری ملیریا سیمت کئی خطرناک بیماریوں کا شکار،انتظامیہ نے عرصہ دراز سے مچھر مار سپرے نہیں کیا،شہری پریشان،انتظامیہ سے مچھر مار سپرے کرنے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور میں مچھروں کی بہتات ہو گئی ہے
    مچھروں کی افزائش میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث شہری ملیریا سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    ملیریا کے باعث لوگ بیمار ہو کر گھروں میں پڑے ہیں
    ضلعی انتظامیہ و ڈینگی سکواڈ کی بے حسی عروج پہ ہے
    عرصہ دراز سے مچھر مار سپرے نہیں کیا گیا جس کے باعث مچھروں کی افزائش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور و سی ای او ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ مچھر مار سپرے کیا جائے تاکہ مچھروں کی افزائش رکے اور لوگ مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہ کر مختلف قسم کی بیماریوں سے بچ سکیں

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔

    ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

    مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔

    اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔

    2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    لاہور:سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا ہیں ، ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کررہے ہیں تو دوسری طرف وبائی امراض کے پھیلنے کی وجہ سے تکلیف اورپریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں ، ان حالات کے پیش نظرماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگرسیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بہت زیادہ نقصان کا سبب بن سکتے ہیں‌

    سندھ کے مختلف علاقوں میں زہریلے مچھر کاٹنے سے خطرناک بیماریاں شروع ہوگئی ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں میں زہریلے مچھروں کے کاٹنے سے جلدی امراض ہو رہے ہیں ، ایک ریسکیو ورکر کے زخموں کی حالت ہے جو چند دن جھڈو میرپور خاص رہ کر آیا ہے، سیلاب زدگان کی حالت کیا ہوگی جو مستقل وہیں بیٹھے ،

     

    اس سلسلے میں وہاں موجود فلاحی جماعت کے سوشل ورکز کا کہنا ہے کہ مچھر کے تباہ کُن حملوں سے بچنے کا واحد حل مچھردانی ہے مگران بے بس اور بے حال لوگوں کو مچھر دانیاں کون فراہم کرے گا ، یہ بھی کسی نہ کسی ذمہ داری لینا ہوگی

     

    ادھرماہرین صحت اور فلاحی اداروں نے سیلاب زدہ علاقوں میں 50 لاکھ افراد کے بیمار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے مطابق ڈاکٹر شہزاد علی خان پاکستان میں سیلاب سے اب تک 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، چند ہفتوں میں لاکھوں افراد آلودہ پانی اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے متاثر ہوں گے۔

    ڈاکٹر شہزاد علی خان کا کہنا ہے کہ سیلابی علاقوں میں ٹائیفائیڈ اور ہیضے کی مشترکہ ویکسین ہر شخص کو لگائی جائے۔ماہر امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق سیلابی علاقوں میں ڈینگی، ملیریا، خسرہ اور پولیو پھیلنے کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

    ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ بچوں میں ویکسی نیشن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

  • ڈینگی کا وار تیز،ضلعی انتظامیہ نے سپرے نا کیا

    ڈینگی کا وار تیز،ضلعی انتظامیہ نے سپرے نا کیا

    قصور
    کوٹ اندرون موریگیٹ،کوٹ بدر دین،و دیگر علاقوں میں ڈینگی بخار خطرناک حد تک بڑھ گیا ،انتظامیہ نے تاحال مچھر مار سپرے نا کیا،لوگ پریشان

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی ڈینگی بخار کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے
    قصور اور گردونواح میں ڈینگی کے وار تیز سے تیز تر ہو رہے ہیں خاص کر قصور شہر میں اندرون کوٹ موریگیٹ،کوٹ بدر دین،کوٹ رکندین و دیگر علاقوں میں ڈینگی بخار بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی ہٹ ڈھرمی کے باعث ابھی تک مچھروں کے خاتمے کی سپرے نہیں کی گئی جس پر شہری سخت پریشان ہیں کیونکہ ڈینگی کے وار تیز سے تیز تر ہو رہے ہیں اور لوگ بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ رہے ہیں

    شہریوں نے ڈی سی قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر قصور و گردونواح میں فوری طور پر مچھر مار سپرے کیا جائے تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کم ہو اور لوگ ڈینگی جیسے مہلک مرض سے محفوظ رہ سکیں

  • محکمہ صحت و میونسپل کی نااہلی،مچھر کی بہتات

    محکمہ صحت و میونسپل کی نااہلی،مچھر کی بہتات

    قصور
    محکمہ صحت و میونسپل کی نااہلی سے مچھر کی بہتات ہو گئی،ڈینگی مچھر کی افزائش کے ساتھ دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ،عرصہ دراز سے سپرے نہیں کی گئی

    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں محکمہ صحت اور میونسپل کی نااہلی کی بدولت مچھر کی بہتات ہو گئی ہے جس کے باعث ڈینگی مچھر کی افزائش کے ساتھ ساتھ ،ملیریا،جلدی امراض و دیگر موذی امراض کے پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے
    ہر سال مچھر سے بچاؤ سے کی جانے والی سپرے عرصہ دراز سے نہیں کی گئی جس کے باعث مچھر کی افزائش بڑی تیزی سے ہو رہی ہے
    شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گل سے نوٹس لے کر علاقے میں مچھر سے بچاؤ کی سپرے کروانے کی استدعا کی ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے

  • ڈینگی سے بچنے کیلئے احتیاط

    ڈینگی سے بچنے کیلئے احتیاط

    قصور
    ضلعی انتظامیہ کی ڈینگی مچھر کی پیدائش روکنے کیلئے لاروا کے خاتمے کے حوالے سے سرگرمیاں تیز ہو گئیں ہیں اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کے ڈینگی ورکرز کی کارکردگی اور انتظامات کو چیک کرنے کے لئے تحصیل چونیاں کے نواحی علاقوں میں ہنگامی دورے شروع ہو گئے ہیں
    اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کا تحصیل چونیاں کے نواحی علاقے کوٹ سندراس کا دورہ اور چیکنگ کی گئی
    جبکہ سی ڈی سی سپروائزر سمیت دولیڈی ہیلتھ ورکرز ڈیوٹی سے غیر حاضر تھیں
    اس پر اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے ڈیوٹی سے غیر حاضری پر سی ڈی سی سپر وائزر اور دونوں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیئے ہیں