Baaghi TV

Tag: مڈل ایسٹ

  • سعودی خاتون لیں گی مس یونیورس مقابلے میں حصہ

    سعودی خاتون لیں گی مس یونیورس مقابلے میں حصہ

    سعودی خاتون پہلی بار مس یونیورس مقابلے میں حصہ لینے جا رہی ہیں،

    سعودی عرب کی حسینہ ماڈل رومی القحطانی جس کی عمر 27 برس ہے، سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار مس یونیورس کے مقابلے میں جار ہی ہیں، رومی القحطانی نے مس یونیورس کے مقابلے میں حصہ لینے کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا ، القحطانی کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ وہ اس مقابلے میں سعودی عرب کی نمائندگی کریں گی، مس یونیورس کے مقابلے میں سعودی عرب کی طرف سے تاریخ میں یہ پہلی شرکت ہوگی

    مس یونیورس کا مقابلہ رواں برس ستمبر میں میکسیکو میں منعقد ہوگا جس میں دنیا بھر کے کئی ممالک کی حسینائیں شرکت کریں گی،

    رومی القحطانی کا تعلق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے ہے، وہ ماڈل ہیں اور سوشل میڈیا پر کافی مشہور ہیں،رومی القحطانی نے دانتوں اور منہ کی بیماریوں اور علاج کے حوالے سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور انہیں عربی، فرانسیسی اور انگریزی زبانیں بہت اچھے طریقے سے بولنا آتی ہیں،رومی القحطانی نے کئی عالمی مقابلوں میں حصہ لے کر اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے،رومی القحطانی اس سے قبل مس عرب پیس، مس پلانیٹ، مس مڈل ایسٹ اور دیگر مقابلوں میں شرکت کرچکی ہیں،وہ مس ​​سعودی عرب، مس مڈل ایسٹ، مس عرب ورلڈ پیس اور مس ویمن (سعودی عرب) سمیت کئی ٹائٹلز جیت چکی ہیں

    مقابلہ حسن’’ مس یونیورس‘‘ میں پاکستانی حسینائیں بھی حصہ لیں گی

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

  • دنیا اقتدار  اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ۔ ماموزئے تنگ ہر چینی ، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہر پاکستانی۔ اس کے علاوہ ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں ز ندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے۔ ان کے ہمسفر نہ کوئی گوگی ،نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے، آج کی سیاسی جماعتوں میں یہ سب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ لکھنے والا کیا تاریخ لکھے گا؟ اس طرح کے سیاستدانوں جن کے ہمراہ اس قسم کی مخلوق ہوتو اپنے ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدار میں پھینک دیتا ہے ۔ سیاستدان اخلاقیات سے عاری اور منافقت کے چلتے پھرتے نمونے بن چکے ہیں۔ حیرت ہے یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے اور یہ ادارے ملکی بقا اور قومی سلامتی کی علامت ہوتے ہیں ان اداروں کو نہ صرف بدنام کیا جا رہا ہے بلکہ گھٹیا اور غلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اس جرم میں ملکی سیاسی جماعتیں ملوث ہیں ۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر ڈال کر خود کو معصوم قرار دیتے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ان قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔امریکہ سے لے کر مغربی ممالک اور مڈل ایسٹ میں ان قومی سلامتی کے اداروں کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ ان اداروں کو بدنام یا کمزور کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    مسجد اقصٰی کا مستقبل نہ امریکہ نہ ہی اسرائیل اور نہ ہی عالمی دنیا کے کسی مسلم ممالک کے ہاتھ میں ہے مسجد اقصٰی کا مستقبل وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے ۔ اس کی وہی حفاظت کرے گا جس پر وردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا۔ آج کے عالمی حکمرانوں سمیت مسلمان حکمرانوں کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں اور اپنے اپنے مفادات ،آج کی دنیا میں قیامت کا سماں برپا ہے ۔ نفانفسی کا عالم ہے ۔ دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں لگی ۔مگر ان انسانوں کو کون سمجھائے دولت اور حکمرانی خدا پاک کی طرف سے عطا کردہ آزمائشی تحفہ ہے۔ یہ قدرت کا دنیا پر ایک بطور امتحان ہے تاہم یاد رکھیئے نشیب وفراز کی کنجی صرف خدا پاک کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں فرعون کے نقش قدم پر چلے توکیا کہا جا سکتا ہے۔؟

  • "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    گرین شیٹ اور لائٹس سے مزین یہ روم اسٹوڈیو کہلاتا ہے. بالی ووڈ سے لے کر نیوز چینلز اور حتیٰ کہ یوٹیوب چینلز تک سبھی اس کو حسب اسطاعت استعمال کرتے ہیں. یہاں تک کہ بالی ووڈ کی کئی اقساط پر مشتمل سیریز اور موویز اس ایک کمرے میں بنتی ہیں. ان گرین ، بلیو یا دیگر شیٹس کو بنیادی طور پر کروما شیٹس کہا جاتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایڈیٹنگ میں اس کروما کو کٹ کرکے رنگ بھرنگے ساکن اور متحرک بیک گراؤنڈز وغیرہ سیٹ کیے جاتے ہیں. جن کرداروں کو حقیقت سے ہٹ کر دکھانا ہو تو ان کو بھی ان کروما شیٹس میں کچھ اسطرح سے کیمرے کے سامنے لایا جاتا جس میں بعد از ایڈیٹنگ ان کی ہیئت ہمیں عجیب و غریب دکھتی ہے.

    آپ بھی کہتے ہوں گے کہ عبداللہ نے یہ کیا بتانا شروع کردیا اور کوئی ان چیزوں کا ماہر مجھ سے ہزار درجہ بہتر یہ ساری چیزیں بیان کرے گا لیکن آج آفس میں اسٹوڈیو کی تصویر بنائی تو میرے ذہن میں بھی کوئی بات نہیں تھی بس فوٹو گرافی کی عادت کے تحت تصویر بنا لی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر اور اس سے قبل بھی اکثر اوقات اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو مختلف حادثات و واقعات میں کنفیوز اور پھر اسی کنفیوزن میں مختلف تبصرے اور تجزیئے کرتے دیکھتے ہیں تو ہنسی بھی آتی اور دکھ بھی ہوتا کہ ہم لوگ کب سطحیت سے نکل کر بین السطور دیکھنا شروع کریں گے. ہم کب اس بات پر غور کریں گے دنیا کے اس اسٹوڈیو میں ہدایت کار کیسے مختلف واقعات کو کروما شیٹس پر سیٹ کرتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے چیزیں آتی ہیں تو بالکل بدلی ہوئی اور ہم اسی کو حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں( جیسے ارطغرل ڈرامے اور اردگان کی تقاریر کو ہمارا جذباتی نوجوان عمران خان کی تقاریر کی طرح سریئس لے کر جذباتی ہوجاتا ہے).
    حالیہ ایران و امریکہ تنازعے میں اور اس سے قبل کی شام و عراق کی بربادیوں کیفیت بھی ایسی ہی ہے. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح اردگان بہت اچھا لیڈر ہے مگر صرف ترکی کے لیے ترکی سے باہر دیگر مسلم ممالک اور اقوام کے لیے وہ دوسروں سے کم نہیں ہے جو فقط اپنے مفادات دیکھتے ہیں ایسے ہی اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ ایران کے آنجہانی جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات بے پناہ ہیں اس کی قابلیت اور لیاقت ایسی کہ ملڑی اکیڈمیز میں پڑھائی جائے لیکن اس کا سارا کچھ ایران کے لیے تھا امت مسلمہ کے لیے نہیں البتہ شام و عراق کے کھنڈرات میں بہت بڑا کردار اس جنرل قاسم سلیمانی اور اس کی تیار کردہ فورسز کا بھی ہے.
    میں نے دن میں بھی یہ بات کی تھی کہ مڈل ایسٹ میں پکی ہوئی کچھڑی کے معاملات کو آپ فقط فیسبک کی دو چار پوسٹس سے نہیں سمجھ سکتے اور جب سمجھ ہی نہیں سکتے تو ان پر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہاں کے ٹوٹل کردار تو کروما شیٹس کے پیچھے چھپے ہوئے اور آپ کے سامنے اصل حیثیت میں موجود ہی نہیں ہے. فقط شام کو لیں تو شام میں ایران، روس، ترکی، امریکہ، داعش، فری سیرین آرمی و دیگر گروپس براہ راست موجود تھے اسکے علاوہ دیگر ممالک کے سپانسرڈ گروپس کی تعداد بیسیوں سے متجاوز تھی اور یہ سب کردار باہم دست و گریباں تھے اور ہیں. آپ جب تک ان سب کے مفادات، آپس کے تعلقات، آپس کی دشمنیوں کو نہیں سمجھتے تب تک آپ کیا سمجھیں گے.
    لہذا اپنے دوستوں کو کہوں گا کہ ہر موضوع اور ہر موقعہ پر تبصرے اور تجزیئے دینا ضروری نہیں ہے بلکہ حالات اور کرداروں کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی تلاشنا چاہیے یہ نہ ہوکہ موویز اور ڈراموں کی طرح عالمی ہدایت کاروں کے اسٹیج کردہ یہ فکشن اور خون سے بھری یہ رئیل اسٹوریز میں مختلف لوگوں کا کردار آپ کو دھوکہ دے دے اور کوئی ولن آپ کی نظر میں ہیرو ٹھہر جائے.
    انتہائی ضروری نوٹ: یہ چند الفاظ میں نے انتہائی حد تک غیر جانبدار ہوکر لکھے ہیں میرے لیے بہت آسان تھا کہ جذباتی ہوکر الفاظ کا نوحہ لکھوں، شام و عراق میں شہید ہونے والے امت مسلمہ کے جواہرات کا ماتم لکھوں اور لوگوں کو بتاؤں آپ جن کو ہیروز سمجھتے ہیں ان کے کردار کی وجہ سے کتنے لاکھوں مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے شہید ہوئے اور کروڑوں آج جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah