Baaghi TV

Tag: مکالمہ

  • جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں کار حادثہ کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمے میں جج مختلف نوعیت کی درخواستوں پر ایک جامع فیصلہ دے سکتا ہے؟ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ جج صاحب نے حکم جاری کیا ہے تو ایک جامع فیصلہ دیا جاسکتا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ آپ کی قابلیت کا معیار ہے؟آپ کو قانون کا پتہ ہی نہیں کہ اس کیس میں ایک فیصلہ ہوسکتا تھا یا نہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ آپ میری تضحیک کررہے ہیں، میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ہوں کسی کی وکالت نہیں عدالت کی معاونت کررہا ہوں آپ میری تضحیک نہیں کرسکتے،جس جج نے فیصلہ دیا اس کی کیا قابلیت ہے؟ جس جج نے فیصلہ دیا کیا آپ اس کے خلاف فیصلہ دیں گے؟

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں،سپریم کورٹ نے کار حادثے کا مقدمہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھجوا دیا.ٹرائل کورٹ نے کار حادثے کے ملزم عمیر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اسلام آبادہائیکورٹ نے بھی کار حادثہ کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھجوا دیا تھا جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی

  • مکالمہ,,,,!  از:نساء بھٹی

    مکالمہ,,,,! از:نساء بھٹی

    نساء بھٹی
    مکالمہ,,,,!
    آدم تو ہے مٹی
    یہ ہے حقیر سمجھ لے
    ابلیس میرا نام ہے شعلوں سے بنا ہوں!
    میں اس سے ہوں بہتر کہ ہوں آگ کا پیکر
    یہ سر میرا اس کے کبھی آگے نہ جھکے گا
    ہوّں اس سے فروتر , تو میں افضل ہی رہوں گا.
    پھر رب نے کہا!
    "جا میری جنت سے نکل جا
    پھٹکار ہے تجھ پر
    یہاں تو اب نہ رہے گا”
    کہنے لگا تو رب ہے ذرا بات میری مان
    دے مجھ کو ذرا مہلت کے لے آدم مجھے پہچان.
    میں اس کی ذریت کو بہکا کہ رہوں گا,
    فی نار جہنم انہیں پہنچا کہ دم لوں گا.
    آسان ہدف میرا یہ تیرے بشر ہوں گے
    پھر ساتھ میرے حشر میں یک صف کھڑے ہوں گے
    یوں خوشنما کر دوں گا میں اپنا ہر ہرچنگل
    کہ کرتے رہیں گے یہ آپس ہی میں دنگل
    آئی یہ ندا!
    جا تجھے مہلت ہے حشر تک
    جو تیرا ارادہ ہے جا , پورا ذرا کر,
    مخلص میرے بندوں کو تو بہکا نہ سکے گا.جو تیرا ارادہ ہے کبھی کر نہ سکے گا.
    جو تیری سنے گا,وہ ہوگا میرا کافر
    جو کفر کرے گا وہی ہوگا تیرا ہم سر
    تم سب کے لئے ہوگا جہنم کا یہی گھر.
    روؤ گے وہاں چیخو گے فریاد کرو گے
    "پھر عمر رواں دے دے گناہ اب نہ کریں گے”
    شعلوں میں گھرو گے,پیو گے جام حمیم
    نہ پاؤ گے بلکل مجھے اس روز تم رحیم
    تو آج بھی لعین ہے اس روز بھی ہوگا
    مردود ہے مردود ہے مردود رہے گا…