Baaghi TV

Tag: مہنگا

  • کہیں سستے پٹرول کی پیشکش تو کہیں مہنگے پٹرول پر احتجاج

    کہیں سستے پٹرول کی پیشکش تو کہیں مہنگے پٹرول پر احتجاج

    راجستھان: بھارتی ریاست راجستھان میں پیٹرول پمپ مالک نےپلاسٹک کی تھیلیاں جمع کرنےکےعوض سستا پٹرول دینےکا اعلان کردیا۔غیرملکی میڈیا رپورٹ کےمطابق اشوک کمار نامی پیٹرول پمپ کےمالک نےیہ پیشکش پلاسٹک شاپر کے استعمال کے باعث بڑھتی آلودگی سےنمٹنے کے لیے دی ہے۔

    15 اگست کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    ان کا کہنا ہے کہ شہری استعمال شدہ تھیلیاں جمع کروا کر 1 روپے سستا پیٹرول حاصل کر سکتے ہیں، قدرتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اس طرح کی مہم ناگزیر ہے۔پیٹرول پمپ کے مالک نے 15 جولائی سے 3 ماہ کے لیے اس مہم کا آغاز کیا تھا، اس کے لیے انہوں نے ایک ڈیری برانڈ کے ساتھ معاہدہ بھی کیا تھا۔

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دینے کا عندیہ دے دیا

    اب تک پمپ پر شہری 700 سے زائد پلاسٹک کی تھیلیاں جمع کروا کر سستا پیٹرول حاصل کر چکے ہیں۔پیٹرول پمپ کے مالک کا کہنا ہے کہ ابھی لوگوں میں معلومات کی کمی کے باعث اچھا فیڈبیک نہیں مل رہا، اس لیے ممکنہ طور پر اس مہم کو مزید 6 ماہ جاری رکھیں گے۔

    جبکہ دوسری طرف نگلادیش میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنز کا گھیراؤ کرلیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 51.7 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 42.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پٹرول 89 ٹکا سے بڑھ کر 135 ٹکا ہوگیا جب کہ ڈیزل کی قیمت 114 ٹکا ہوگئی۔

    حکومت کا پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لٹر کمی کا اعلان

    وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ ریٹیل سطح پر قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ تیل کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں پر سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ہے۔ ملک زیادہ سبسڈی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

    خیال رہے کہ بنگلادیش کی تاریخ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ بلند ترین اضافہ ہے۔ جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنز کا گھیراؤ کرلیا۔

  • حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے مقرر ہوگئی۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہوگئی۔

    اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 18 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 230 روپے 26 پیسے ہوگی۔لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی 18 روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے اور نئی قیمت 226 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    علاوہ ازیں پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر عائد کی گئی ہے جبکہ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر 5، 5 روپے پیٹرولیم لیوی عائد کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصںوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے باعث یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا ایم ای ایف پی، معاشی نظم و ضبط ضروری ہے، یکم جولائی سے مزید معاشی مشکلات ہوسکتی ہیں، یکم جولائی سے مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، میمورینڈم آف اکنامکس اینڈ فنانشنل پالیسیز معاشی نظم و ضبط لازم قرار دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایم ای ایف پی پر بات چیت جاری ہے، یکم جولائی سے پٹرول پر5 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ 10 روپے لیوی عائد ہو سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے بجلی مزید مہنگی ہوسکتی ہے، توانائی کے نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف ملا ہے، سرکاری اداروں میں نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف بھی ملا ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ مزید کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کیلئے دو ارب ڈالر کی دو قسطیں جاری کرنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کے رواں ہفتے پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ میں بتایا کہ ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزہ کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسی فریم پروگرام کی کاپی موصول ہوگئی ہے۔

  • سری لنکا : پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں،حالات مزید خراب ہوگئے

    سری لنکا : پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں،حالات مزید خراب ہوگئے

    کولمبو:سری لنکا کی حکومت نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا ہے کہ اس نے پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ 15 فیصد اضافے کے ساتھ ڈیزل کی قیمیت 460 روپے یا 1.27 ڈالر فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کی نئی قیمت 550 روپے یا 1.52 ڈالر ہے

    ایندھن کا بحران:سری لنکا میں اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند

    یہ اعلان وزیر توانائی کنچنا ویجیسکیرا کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا جب انہوں نے تیل کی نئی کھیپ سے متعلق کہا تھا کہ اس میں غیرمعینہ مدت تک تاخیر ہوگی۔ ویجیسکیرا نے صارفین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پمپ سٹیشنوں کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے سے گریز کریں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ملک میں تیل کی سپلائی تقریباً دو دن کے لیے کافی تھی لیکن حکام نے اس کو ضروری خدمات کے لیے رکھا ہے

    اگر اسی طرح چلتا رہا تو ملک سری لنکا کی طرف جائے گا، عمران خان

    ادھرامریکی محکمہ خزانہ اور وزارت خارجہ سے ایک وفد ’ضرورت مند سری لنکن شہریوں‘ کی مدد کے لیے کولمبو پہنچ گیا ہے۔ امریکی سفیر جولی چنگ نے کہا ہے کہ ’سری لنکن شہریوں کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی چیلنج کا سامنا ہے۔‘ امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں اس نے سری لنکن شہریوں کی مدد کے لیے 158.75 ملین ڈالر کی نئی مالی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے پہلے ہی ایک ہنگامی اپیل کی تھی کہ وہ دو کروڑ 20 لاکھ آبادی والے جزیرہ نما ملک کے کمزور طبقے کے لیے 47 ملین ڈالر اکٹھا کرے گا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک اعشاریہ سات ملین شہریوں کے لیے ’زندگی بچانے والے امداد‘ کی ضرورت ہے۔ شدید قلت اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ہر پانچ میں سے چار افراد نے اپنے کھانے میں کمی کر دی ہے۔

    معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    ملک میں پیٹرول کی کمی وجہ سے ہسپتالوں کے عملے کی حاضری میں بھی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ سنیچرہفتے کو سری لنکن وزیراعظم نے پارلیمان کو خبردار کیا تھا کہ مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہماری معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔‘ سری لنکا کی حکومت نے کہا اپریل میں کہا تھا کہ ممکنہ بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہی ہے۔ سری لنکا کی حکومت 51 بلین ڈالر کا غیرملکی قرض دینے سے قاصر ہے

  • امریکہ میں گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور

    امریکہ میں گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور

    واشنگٹن :امریکہ میں گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور،اطلاعات کے مطابق ہفتہ تک امریکہ میں ایک گیلن ریگولر گیس کی اوسط 5 امریکی ڈالرسے تجاوز کرگئی ہے

    یوکرین جنگ:امریکہ میں چالیس سالہ مہنگائی کےتمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    اس حوالےسے اے اے اے نامی ادارے کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق یہ ایک گیلن گیس کے لیے سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی اوسط قیمت ہے، سی این این نے بھی اسے ایک بہت بڑی قیمت قرار دیا ہے جو کہ اس سے پہلے نہیں تھی

    اے اے اے نامی ادارے کےاعدادوشمار کے مطابق صرف ایک سال پہلےامریکہ میں ایک گیلن گیس کی قیمت 3امریکی ڈالرتک تھی، گیس کی قیمتیں ریکارڈ بلندی پر نہیں ہیں۔ یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، افراط زر سے ایڈجسٹ ریکارڈ جون 2008 میں قائم کیا گیا تھا جب ان کی اوسط $5.38 فی گیلن تھی۔

    سال 2022 میں دنیا کےدس مہنگےترین شہر:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی

    خام تیل کا ایک بیرل اب 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے، جو ایک ماہ پہلے 100 امریکی ڈالرسے کم تھا۔ متعدد تجزیہ کاروں اور EIA نے پیش گوئی کی ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی۔شاید اسی حوالے سے اے اے اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا پٹرول کے لیے امریکہ کی سب سے مہنگی ریاست ہے، جس کی اوسط قیمت 6.43 امریکی ڈالرفی گیلن ہے، جو ایک ماہ قبل 5.85امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتیں بھی اس وقت بہت زیادہ ہیں جو کہ اہستہ آہستہ عوام کی پہنچ سے دورہوتی جارہی ہیں ،۔ ڈیزل کی اوسط قیمت 5.765 ڈالر فی گیلن ہو گئی ،گیس کی قیمتوں کا پتہ لگانے والے OPIS کے توانائی کے تجزیہ کے عالمی سربراہ ٹام کلوزا کے مطابق، اس موسم گرما کے آخر تک پٹرول کی قومی قیمیت 6 امریکی ڈالرکے قریب ہو سکتی ہے۔

  • ڈالر پھر مہنگا ہو گیا، سونے کی فی تولہ قیمت میں 500 روپے کا اضافہ

    ڈالر پھر مہنگا ہو گیا، سونے کی فی تولہ قیمت میں 500 روپے کا اضافہ

    ملک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر 33 پیسے مہنگا ہوکر 197 روپے 92 پیسے پر بند ہوا۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 198 روپے پر برقرار ہے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی آج منفی رجحان رہا اور کاروبار کے اختتام پر 100 انڈيکس 943 پوائنٹس کم ہوکر 41 ہزار 290 پر آگيا۔

    https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1532679815408623616/photo/1

    معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کےلیے 6ارب ڈالر کا قرض موقوف رکھے جانے اور ایک ارب ڈالر کی قسط کے عدم اجراء سے پیدا ہونے والی غیریقینی صورتحال کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی نسبت روپیہ کمزور رہا۔

    دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11 ڈالر کے اضافے سے 1867ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ اور دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 500 روپے اور 429روپے کا اضافہ ہوگیا ہے.

    عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 139100 روپے ہوگئی اور فی دس گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 119256روپے ہوگئی۔

    تاہم اسکے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1570روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1346.02 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

  • پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    لاہور:پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل ،اطلاعات کے مطابق اس وقت سے جب سے موجودہ حکومت نے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں اس وقت سے لیکر اب تک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہےجس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے وزیرخزانہ شوکت ترین جوکہ اس وقت مشیرخزانہ تھے نے پٹرولیم لیوی ہر ماہ 4 روپے بڑھانے کا ایک پریس کانفرنس میں حماد اظہر کے ساتھ اعلان کیا تھا

    یاد رہے کہ 22 نومبر 2021 کو سابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شوکت ترین نے کہا تھا کہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 30 روپے تک لے جانی ہے اس لیے ہر ماہ 4 روپے بڑھائیں گے۔

     

    انہوں نے اس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مذاکرات طے پاگئے ہیں، ان مذاکرات میں ہم اپنے موقف پر کھڑے رہے، عالمی ادارہ 1 ارب ڈالر قرض فراہم کرے گا۔

    سابق وزیراعظم کے مشیر برائے امور خزانہ نےاس وقت مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف ایگریمنٹ کامیابی سے مکمل ہوا، عالمی مالیاتی ادارے نے ٹیکس ریفارمز جاری رکھنے کا کہا ہے۔

    22 نومبر 2021 کے دن پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، ٹیکس نظام میں بہتری، اخراجات میں استحکام اور مالیاتی نظم وضبط سے بہتری ممکن ہے۔

    سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نے کہا تھا ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے، قیمتیں بڑھائیں گے تو غریب کے اوپر دباؤ بڑھے گا۔

    یاد رہے کہ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سےمذاکرات میں ہم نے زراعت سمیت کچھ شعبوں کو بچایا، ٹیکس قوانین میں بہتری اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہوں گی۔

    وزیر اعظم مشیر برائے امور خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی مہنگی کرنے پر رضامندی پہلے ہوگئی تھی، اسٹیٹ بینک کے بارےمیں ترمیم کا مارچ میں کہا گیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے 500 ملین ڈالر لیے تھے، معاہدے سے پیچھے ہٹنا مشکل ہوگیا تھا، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم ہم نے کرانی ہے، اسے خودمختاری دینے پر پہلے ہی اتفاق کرچکے تھے۔

    شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے کا ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جی ایس ٹی کے استنیٰ ہٹانے ہیں، پٹرولیم لیوی 10 ارب روپے کرنے کا کہا تھا وہ توہم نہیں کرسکیں گے۔

    ادھر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو بطورثبوت حکومتی حمایتی یہ کہہ کر پیش کررہے ہیں کہ یہ قیمت تو بڑھنی ہی بڑھنی تھی کیونکہ اس کا معاہدہ شوکت ترین آئی ایم ایف سے کرچکے تھے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے بننے والی امپورٹڈ حکومت کی قوم نے 30 روپے فی لٹر پٹرول میں اضافے کی صورت میں قیمت ادا کرنا شروع کردی ہے۔انہوں نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت کی طرف سے ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، نااہل اور بے حس حکومت نے روس کے ساتھ 30 فیصد سستا تیل خریدنے کے ہمارے معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا۔

    عمران خان نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اس کے برعکس امریکا کا سٹریٹجک اتحادی ہونے کے باوجود بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر ایندھن کی قیمتوں میں 25 روپے فی لٹر کمی کی۔ اب ہماری قوم کو مہنگائی کی ایک اور بڑی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور کیروسین آئل 30 روپے مہنگا ہوگا، فیصلے کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف پروگرام نہیں مل سکتا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مشکلات کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا، آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف سے انکار کیا ہے، عمران خان کے فارمولا پر جاؤں تو پٹرول 205 روپے لیٹر ہو جائے گا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ سے روپے کو استحکام ملے گا، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے، جیسےہی روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا قیمتیں نیچے آئیں گی، وزیراعظم شہباز شریف نے یہ مشکل فیصلہ لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں فیصلے سے ہماری سیاست کو نقصان پہنچے گا۔

    سماجی ابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر خزانہ نے لکھا کہ پٹرول کی نئی قیمت 179 روپے 86 پیسے فی لٹر ، ڈیزل کی فی لٹر قیمت 174 روپے 15 پیسے ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کو فیول سبسڈی ختم کرنے پر 90 کروڑ ڈالر قرض کی قسط جاری کرینگے۔

  • عرب ممالک میں کشیدگی، تیل کی قیمتیں7سال کی بلند ترین سطح پر:نقصان غریب ملکوں کو

    عرب ممالک میں کشیدگی، تیل کی قیمتیں7سال کی بلند ترین سطح پر:نقصان غریب ملکوں کو

    لاہور:عرب ممالک میں کشیدگی، تیل کی قیمتیں7سال کی بلند ترین سطح پر:نقصان غریب ملکوں کو،اطلاعات کے مطابق عرب ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات تیل کی قیمتوں پر بھی پڑنے لگےاور قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ابوظہبی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک پاکستانی جاں بحق ہوگیا تھا ، اس حملے کے بعد تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر قیمت میں 1 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جو کہ پچھلے 7 سال میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    اس حوالے سے ماہرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نئے جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے باعث پوری مارکیٹ میں مشکل صورتحال کے آثار سامنے آئے ہیں اوربرینٹ کے خام کی قیمت بڑھ کر 85 سینٹ یا 1 فیصد بڑھ کر 87 اعشاریہ 33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، اس سے قبل ایسا 29 اکتوبر 2014 کو ہوا تھا جب 1 روز میں 87 اعشاریہ 55 ڈالر فی بیرل تک پہنچا تھا۔

    اسی طرح یو ایس ویسٹ انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں ایک اعشاریہ 13 یا 14 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جو کہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہے جبکہ پیر کے روز امریکہ میں عام تعطیل کی وجہ سے تجارت معطل رہی۔

    حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل کی مدد سے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بھی خبردار کیا گیا کہ وہ مزید اہداف کو بھی نشانہ بنائیں گے جبکہ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ ان دہشت گرد حملوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    معاشی تجزیہ کار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ سخت سرد موسم بھی ہے کیونکہ گرمی کے لیے ایندھن کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔

    امارات کی تیل کمپنی نے کہا کہ میزائل حملے کے بعد بھی اپنے مقامی اور بین الاقوامی خریداروں کے لیے تیل کی بلاتعطل سپلائی کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق توقع ہے کہ اس سال طلب رسد سے بڑھ جائے گی کیونکہ دنیا 2 سال کے لاک ڈاؤن کے بعد کھل رہی ہے اور معمول کی زندگی کی طرف آ رہی ہے جبکہ طلب اور رسد میں توازن پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔

    معاشی ماہر نے کہا کہ اگر موجودہ جغرافیائی و سیاسی تناؤ جاری رہتا ہے اور اوپیک پلس کے ارکان ہر روز چار لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور 100 ڈالر کے نشان کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

    اوپیک میں شامل تیل پیدا کرنے والے کچھ ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ پیداوار کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاکہ کمیابی اور سرمایہ کاری کی کمی سے بچا جا سکے جو کہ روس اور اتحادیوں کے ساتھ ایک معاہدے کا حصہ بھی ہے جس کو اوپیک پلس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ معاہدے کے مطابق چار لاکھ بیرل تیل ہر روز فراہم کیا جائے گا۔

  • کورونانےچین جیسی عالمی طاقت کوگھٹنےٹیکنے  پرمجبورکردیا:پٹرولیم مصنوعات میں اضافے پراضافہ

    کورونانےچین جیسی عالمی طاقت کوگھٹنےٹیکنے پرمجبورکردیا:پٹرولیم مصنوعات میں اضافے پراضافہ

    بیجنگ:دنیا بھر میں جاری توانائی کے بحران نے بڑے بڑے ممالک کی چولیں ہلادی ہیں، ایک طرف تیل و گیس مہنگا ہونے سےمہنگائی کی لہر آئی ہوئی ہے، کئی امیر ملکوں سے بھی بجلی کی راشننگ کی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں، برطانیہ میں پیٹرول کے لئے لوگ گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہیں، تو دوسری جانب دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین میں لوڈ شیڈنگ کی نوبت آگئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اس سے قبل چین کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی ایور گرینڈ گروپ بھی دیوالیہ ہونے کے دھانے پر پہنچ گئی ہے، جسے اب چینی کمپنی سہارا دینے کےلئے کوشاں ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لاکھوں فیکٹریاں اور کارخانے بند ہیں اور بیجنگ جیسے عالمی شہر میں بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، دوسری طرف چینی حکام کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر تو قابو پالیا جائے گا لیکن کورونا کی وجہ سے تباہ حال معیشت کو سنبھالنے میں وقت لگ سکتا ہے

    ادھر کورونا نے چین جیسی عالمی طاقت کو گھٹنے ٹیکنےپرمجبورکردیا:پٹرولیم مصنوعات میں اضافے پراضافہ ،اطلاعات کے مطابق چین میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا گیا۔

    چین کے نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) کے مطابق ہفتے سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 140 یوآن (تقریباً 21.96 امریکی ڈالر) فی ٹن اور 135 یوآن فی ٹن اضافہ ہوگا۔

    قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار کے تحت اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 50 یوآن فی ٹن سے زیادہ تبدیلی آتی ہے اور 10 کام کے دنوں تک اسی سطح پر رہتی ہے تو چین میں پٹرول اور ڈیزل جیسی ریفائنڈ آئل مصنوعات کی قیمتیں اسی کے مطابق ایڈجسٹ کی جائیں گی۔

    این ڈی آر سی نے کہا کہ چین کی تین بڑی آئل کمپنیوں یعنی چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن، چائنا پیٹرو کیمیکل کارپوریشن اور چائنا نیشنل آف شور آئل کارپوریشن مستحکم سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے تیل کی پیداوار کو برقرار رکھیں اور نقل و حمل کو آسان بنائیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔