Baaghi TV

Tag: مہنگائی کا طوفان

  • عید کی آمد کے پیش نظر ہر کسی کی من مانیاں،مہنگائی کا خودساختہ طوفان

    عید کی آمد کے پیش نظر ہر کسی کی من مانیاں،مہنگائی کا خودساختہ طوفان

    قصور
    عید کی آمد کے پیش نظر مہنگائی اور لوگوں کی من مانیاں شروع،ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق عیدالاضحیٰ کی آمد کے پیش نظر ہر بندے نے اپنی مرضی کے ریٹس مقرر کرکے اپنی من مانیاں شروع کر دی ہیں جبکہ سرکاری نرخوں پر چیزوں کی فراہمی بہت مشکل ہو گئی ہے
    عید قربان قریب آتے ہی قصائی نخرے دکھانے لگے ہیں اور اپنے نرخ بھی بڑھا دیئے ہیں قصائیوں کی جانب سے
    پہلے دن بکرا ذبح کرنے کے 10 ہزار، گائے 18 ہزار اور دوسرے دن بکرا 6 ہزار جبکہ گائے کے 10 ہزار نرخ مقرر کئے گئے ہیں
    دوسری سمت عید قریب آتے ہی ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں
    کرایوں میں خودساختہ اضافہ کر دیا گیا ہے
    یکطرفہ کرایہ میں 40 سے 50 روپیہ تک اضافہ کیا گیا ہے
    نیز اسی طرح دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کیا گیا ہے اور جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ عید کے پیش نظر زیادہ منافع لینا ہمارا حق ہے
    شہریوں نے آر ٹی سیکرٹری، اے سی قصور اور ڈی سی قصور فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ،مہنگائی کا نیا طوفان،پریشان عوام

    اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ،مہنگائی کا نیا طوفان،پریشان عوام

    قصور
    گھی،کوکنگ آئل و دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے شہری سخت پریشان،مہنگائی کا نیا طوفان
    تفصیلات کے مطابق قصور میں مہنگائی کی ماری عوام گھی،آئل و دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے مذید پریشان ہو کر رہ گئی ہے
    اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آیا ہے
    صرف چینی کی قیمت کم کرکے دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے لوگ سخت پریشان ہو کر رہ گئے ہیں
    صوفی گھی کی قیمت 470 روپیہ سے 540 روپیہ کر دی گئی ہے اسی طرح سبزیوں و پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے
    ہول سیل ریٹ میں چینی 50کلو تھیلا 6200
    ،رحمت گھی 12کلو 6000
    ،خیبر گھی 12کلو 5940
    ،سلطان گھی 10کلو 5300
    سلطان آئل 10لیٹر 5400
    ،وائٹل 85 گرام کارٹن 20000
    ،وائٹل پاؤچ کارٹن 14800
    ،وائٹل 430گرام 19000
    ،دال مونگ چاند 50کلو 18000
    ،دال چنا سپریم 50 کلو 17500
    ،دال چنا بٹل 50 کلو 16000
    ،چنا سفید موٹا 50کلو 16500
    کائنات سیلہ نیا 50کلو 11500/12000
    ،کائنات کچی نئی50کلو 12500/13000
    ،کچی چھوٹی 86سپری50کلو 7250 ہیں جبکہ یہ نرخ سرکاری حد تک ہیں دکانداروں کو ان ریسٹس پر چیزیں نہیں ملتی بلکہ اس سے زیادہ قیمتوں پر ملتی ہیں اس لئے دکاندار مہنگی چیزیں خرید کر مذید مہنگی بیچنے پر مجبور ہیں
    ماضی قریب میں بلیک مارکیٹنگ حضرات پر لگام کسی گئی تھی جس کے باعث کچھ سکون ہوا ہے شہریوں نے ایک بار پھر سے ان لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی درخواست کی ہے نیز شہریوں نے استدعا کی ہے کہ اپنے زیادہ ٹیکس کی وصولی کی خاطر کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافہ دینا سراسر زیادتی ہے

  • قبل از  رمضان مہنگائی کا طوفان،نوٹس کی استدعا

    قبل از رمضان مہنگائی کا طوفان،نوٹس کی استدعا

    قصور
    قبل از رمضان ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا،ضروریات زندگی کی تمام اشیاء سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پہ فروخت،روزے دار سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں آمد رمضان سے قبل ہی گراں فروشوں نے حسب سابق کی طرح اس بار بھی مصنوعی مہنگائی کرکے ماہ مقدس میں روزے داروں کو تنگ کرنے کی رسم کو خوب پورا کیا ہے
    ضرورت زندگی کی تقریباً تمام اشیاء سرکاری نرخوں کی بجائے من مانی قیمتوں پہ فروخت کی جا رہی ہیں جس کے باعث مہنگائی کے مارے روزے داروں کو مشکلات کا سامنا ہے
    پھلوں،سبزیوں، مشروبات،چکن،مٹن،بیف و دیگر ضروریات زندگی کی تمام اشیاء غریب کی پہنچ سے باہر ہیں جبکہ بیشتر گراں فروش بڑے بڑے دکاندار حضرات جو کہ مسلسل حاجی صاحبان بھی ہیں، بلیک منی کما کر عمرہ کی سعادت حاصل کرنے ارض مقدس پہ روانہ ہو چکے ہیں اور جو پیچھے موجود ہیں وہ لوگوں کو مہنگی چیزیں بیچنا اپنا فریضہ سمجھ کر خوب ادا کر رہے ہیں
    شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ ایسے ناسوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ غریب کو زندہ رہنے میں کچھ تو آسانی ہو

  • مہنگائی کا طوفان برقرار،سانسیں اکھڑنے لگیں

    قصور
    مہنگائی کا طوفان نا تھم سکا،عوام پریشان

    تفصیلات کے مطابق 5 سال قبل شروع ہونے والے مہنگائی کے طوفان نے تھمنے کی بجائے شدت اختیار کر لی ہے جس کے باعث غریب آدمی کی دو وقت کی روٹی تو چھنی ہی تھی اب سانسیں بھی اکھڑنے لگی ہیں مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر حکمران انجان بنے بیٹھے ہیں اور ان کے پاس تسلیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں
    ہر روز مہنگائی بڑھتی ہی جا رہی ہے
    ضروریات زندگی کی تمام اشیاء قوت خرید سے باہر چکی ہیں
    ہر روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس پہ لوگ سوچ سوچ کر مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    پیاز 240 روپیہ کلو،آٹا 150 روپیہ فی کلو، کوکنگ آئل 470 روپیہ فی کلو،دودھ 180 روپیہ فی کلو، مرغی گوشت 659 روپیہ فی کلو فروخت ہو رہا ہے
    مڈل کلاس اور غریب طبقہ کیلئے تو سانس لینا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے
    جبکہ دوسری جانب الیکشن کمپین کی مد میں کھربوں روپیہ لگایا جا رہا ہے
    غریب سوچ رہے ہیں کہ اگر الیکشن کمپین کی بجائے پیسے غرباء کی بحالی میں لگائے جائیں تو کیا غربت میں کمی واقع نہیں ہو سکتی؟ اور اگر ہو سکتی ہے تو غریب کو شاید غریب رکھنا ہی مشن جمہوریت ہے