Baaghi TV

Tag: میانمار

  • میانمار فوج کی مقامی گاؤں میں منعقدہ تقریب میں فائرنگ،7 افراد ہلاک متعدد زخمی

    میانمار فوج کی مقامی گاؤں میں منعقدہ تقریب میں فائرنگ،7 افراد ہلاک متعدد زخمی

    میانمار :مقامی گاؤں میں فوج کی جانب سے ایک تقریب پر فضائی بمباری کے نتیجے میں7 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق میانمارکی فوج نے علاقے ساگاینگ کے گاؤں میں منعقدہ تقریب پر بمباری کی جس سے گاؤں کے7 لوگ ہلاک اور 5 زخمی ہوئے جن میں سے کچھ کی لاشیں جھلس کر شناخت سے باہر تھیں-

    امریکہ شام کے وسائل پرڈاکہ ڈال رہا ہے،ایسا نہیں ہونے دیں گے:چین

    عینی شاہدین کے مطابق بمباری سے درجنوں مکانات تباہ ہوگئے، بجلی اور مواصلات کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے دوسری جانب فضائی حملے پر میانمارکی فوج کی جانب سےکوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    جنوب مشرقی ایشیائی ملک تقریباً دو سال قبل فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے بحران کا شکار ہے، جس سے جمہوریت کی جانب ایک دہائی کے عارضی اقدامات کا خاتمہ ہوا، جس سے عالمی غم و غصہ پیدا ہوا اور گھریلو مخالفین کو گوریلا افواج قائم کرنے پر اکسایا گیا۔

    واضح رہےکہ میانمارکی فوج ملک میں علیحدگی پسندوں کے خلاف مصروف ہے تاہم اس پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں اور آپریشنز کے دوران بےگناہ افراد کو قتل کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار کے فوجی حکمرانوں پر جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائدکرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ میانمار کی فوج کو ہتھیاروں اور جہازوں کے لیے ایندھن کی فراہمی کو روکا جائے۔

    ویتنام میں کرپشن الزامات پر صدر مستعفی

  • بھارت کی ریاستی دہشت گردی:میانمارکی فضائیہ نے گھُس کرمارا

    بھارت کی ریاستی دہشت گردی:میانمارکی فضائیہ نے گھُس کرمارا

    رنگون:بھارت کی ریاستی دہشت گردی:میانمارکی فضائیہ نے گھُس کرمارا ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے شکار ایک اور ہمسایہ ملک میانمار سے بڑی خبرآئی ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ بھارت ہمسائیہ ممالک میں دہشت گردی سے باز نہیں آرہا

    اطلاعات ہیں کہ بھارت کے اس رویے سے تنگ میانمار کی فضائیہ نے بھارت سے جڑے اسرحدی علاقے میں فضائی کارروائی کی ہے اور ان فضائی حملوں میں تھانتلانگ میں چن نیشنل آرمی کے ٹھکانوں کو لڑاکا جدید طیاروں سے نشانہ بنایا گیا،اطلاعات کے مطابق بھارت کے اندر بھی کچھ کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ میانمار کی فضائیہ کی طرف سے اس حملے میں خواتین سمیت تنظیم سے منسلک متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فضائی حملے میں تنظیم کے کیمپ وکٹوریا ہیڈکوارٹر کی متعدد عمارات، گھر تباہ ہوئے

    بھارت کی روایتی دہشت گردانہ پالیسی سامنے آئی ہے اور یہ بھی معلوم ہو اہے کہ مکتی باہنی طرز پر میانمار کی سرحد پر بھارت نے یہ مبینہ تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں،میانمار میں سیاسی عدم استحکام پھیلانے کے لیے چن نیشنل فرنٹ 1988 سے سرگرم ہے

    چن نیشنل فرنٹ نامی سیاسی تنظیم کا مسلح ونگ چن نیشنل آرمی کے نام سے میانمار میں دہشت گردی کارروائیوں میں ملوث ہے۔میانمار میں دہشت گرد تنظیم کے خلاف کارروائی سے خطے کے امن کا سب سے بڑا دشمن چہرہ سامنے آ گیا

    ثابت ہو گیا بھارت بطور ریاست پورے جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی کا کنٹرول روم ہے،پاکستان، افغانستان، سری لنکا سمیت خطے کے دیگر ممالک پہلے ہی بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ ہیں،میانمار کی حکومت بھی تنگ آ کر بڑا ایکشن لینے پر مجبور ہو گئی،میانمار کے فوجی ایکشن سے بھارت کی دہشت گردی کا نیا چہرہ دنیا کے سامنے آیا

    بھارت دہشت گردوں کو ہتھیار، تربیت و دیگر وسائل فراہم کرنے کے لیے پیسے کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے ،کچھ عرصہ قبل اکانومسٹ نے 44 بھارتی بنکوں کی مشکوک ٹرانزیکشنز کا پتہ چلایا تھا،یہ مشکوک ٹرانزیکشنز مبینہ طور پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے کی گئی تھیں،بھارت کا اپنے علاقوں آسام، کرناٹکا میں دہشت گرد تربیتی کیمپ آپریٹ کرنے کا معاملہ عالمی سطح پر بھی اٹھایا جا چکا،نیپال بھی اپنی سرحد پر بھارتی دھونس و دہشت گردی کا شکار ہے، سرحدی کشیدگی و جھڑپیں معمول بن چکا

    اروناچل پردیش میں بھارت نے چین کے ساتھ بھی پنگے بازی کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور یہ کہ میانمار کے آج کے ایکشن نے ثابت کر دیا پورے خطے میں بھارت کی بدمعاشی کو اب کوئی ملک برداشت کرنے کو تیار نہیں

  • میانمار کی فوج جمہوری حکومت کو فی الفور بحال کرے:اقوام متحدہ کا سخت پیغام

    میانمار کی فوج جمہوری حکومت کو فی الفور بحال کرے:اقوام متحدہ کا سخت پیغام

    جنیوا: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے میانمار کی فوجی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور ملک میں جمہوری حکومت کو بحال کریں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے میانمار فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں نہ ختم ہونے والے ڈراؤنے خواب کو روکنے کے لیے جمہوری حکومت کی بحالی بے حد ضروری ہے۔ اس کے بغیر ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں۔

    انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ میانمار کی فوجی حکومت اپنے لوگوں کی بات سنیں، سیاسی قیدیوں کو رہا کریں اور اقتدار جمہوری حکومت کو منتقل کردیں۔ ملک اور خطے میں استحکام اور امن کا یہی واحد راستہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ میانمار کی فوجی حکومت کے ساتھ ایک پانچ نکاتی امن منصوبے پر اتفاق تو ہوا ہے لیکن اب تک نافذ نہیں ہوسکا جو قابل تشویش بات ہے۔

    خیال رہے کہ میانمار میں گزشتہ برس فروری میں فوج نے بغاوت کرکے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور حکمراں آنگ سان سوچی سمیت کئی سیاست دانوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

    جس پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔فوجی حکومت نے مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کی کوشش اور اس دوران 2 ہزار سے زائد مظاہرین ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے۔

    فوجی حکومت نے ارکان اسمبلی اور جمہوریت کے حامی کارکن سمیت 5 افراد کو پھانسی بھی دی تاہم فوجی حکومت کے خلاف مزاحمت تاحال جاری ہے۔ ملک کے علیحدگی پسند عسکری گروپس بھی فوجی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • میانمار: کنسرٹ پر فضائی حملے میں 50 افراد ہلاک

    میانمار: کنسرٹ پر فضائی حملے میں 50 افراد ہلاک

    میانمار میں اقلیتی گروپ کی جانب سے منعقدہ کنسرٹ پر فضائی حملے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے "دی وائر” کے مطابق میانمار میں حکمران فوج، اپوزیشن گروپوں اور میڈیا کے ساتھ تنازعہ میں ایک نسلی اقلیتی گروپ کی طرف سے منعقدہ کنسرٹ میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے، پیر کو کہا گیا کہ اقوام متحدہ اور مغربی سفارتخانوں نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

    امریکا: سکول میں فائرنگ سے دوخواتین سمیت 3 افراد جاں بحق،متعدد زخمی

    میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ شمالی ریاست کیچن میں تین طیاروں نے حملہ کیا جس میں شہری، مقامی گلوکاروں اور کیچن انڈیپینڈنس آرمی (کے آئی اے) کے افسران ہلاک ہوئے، ملٹری نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    دی وائر کے مطابق بی بی سی برمی نے بتایا کہ یہ ہپاکانت ٹاؤن شپ کے اے نانگ پا علاقے میں ہوا اور کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ نیوز سائٹ اراوادی نے مرنے والوں کی تعداد تقریباً 100 بتائی آزاد ذرائع نے فوری طور پر اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوجی حکومت کے ترجمان نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور سرکاری ٹی وی کی جانب سے رات کو نیوز بلیٹن میں بھی اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا –

    مخالفین کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگانے کے بعد میانمار کی فوج نے علاقے میں ہونے والے حملوں کے جائز جواب کے طور پر فضائی حملوں کا دفاع کیا ہے۔

    امریکا کا صحافی ارشد شریف کی موت پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    فوج نے کہا کہ اس کی افواج KIA اور مسلح گروپوں کی طرف سے اس کی افواج پر گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں اور دیگر حملوں کا جواب دے رہی ہیں اور یہ کہ وہ بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کو پورا کرتی ہے۔

    فوج نے ایک ملٹری ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا، "سکیورٹی فورسز کے طور پر، وہ باغیوں سے لڑنے کے لیے ذمہ دار ہیں، جو کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے گزشتہ برس منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد میانمار لڑائی جھگڑوں کی لپیٹ میں ہے، ملک بھر میں مسلح اور مزاحمتی تحریکیں جاری ہیں، جنہیں فوج زبردستی کچل رہی ہے۔

    کے آئی اے کے ترجمان ناو بو نے فون پر بتایا کہ کیچن آرمی کے سیاسی ونگ کے قیام کی 62 ویں سالانہ تقریب کو نشانہ بنایا گیا یہ انتہائی غیر اخلاقی اور غلط عمل تھا جسے جنگی جرائم میں شما
    تازہ ترینر کیا جاسکتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب سے بغاوت شروع ہوئی ہے، میانمار آرمی اور حریف کے آئی اے کے درمیان جھگڑے جاری ہیں، کچین کے لوگوں کی خودمختاری کے لیے یہ لڑائی وقفے وقفے سے تقریباً 6 دہائیوں سے جاری ہے، کے آئی اے فوجی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کی حمایت کرتی ہے۔

    بجلی کی ترسیل کیلئے سعودیہ اور بھارت کا زیر سمندر کیبلز بچھانے کے منصوبے پر غور

    میانمار میں اقوام متحدہ نے بتایا کہ انہیں حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش اور دکھ ہے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے غیر مسلح شہریوں کے خلاف فورسز کا استعمال غیر مناسب اور ناقابل قبول ہے۔

    میانمار میں سفارتی مشنز بشمول آسٹریلیا، برطانیہ، امریکا اور یورپی یونین کے اراکین نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوجی حکومت بحران اور عدم استحکام کی ذمہ دار ہے اور یہ شہریوں کی حفاظت کی پرواہ نہیں کرتی-

    میانمار میں شیڈو نیشنل یونٹی گورنمنٹ نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اور فوری طور پر مظالم بند کروائیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوج نے اقوام متحدہ پر متعدد بار تنقید کی ہے، وہ اسے میانمار کے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپریشن میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین (آسیان) کی سربراہی کرنے والے کمبوڈیا نے بتایا کہ آسیان کے وزرائے خارجہ رواں ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے جس میں میانمار کے بحران پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ہیکرز کا ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر حملہ

  • میانمار کی عدالت نے جاپانی فلم ساز کو 10 سال قید کی سزا سنادی

    میانمار کی عدالت نے جاپانی فلم ساز کو 10 سال قید کی سزا سنادی

    میانمار کی عدالت نے جاپانی فلم ساز کو 10 سال قید کی سزا سنادی۔

    باغی ٹی وی : ” روئٹرز” کے مطابق جاپانی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے جمعرات کو بتایا کہ فوج کے زیر اقتدار میانمار کی ایک عدالت نے ایک جاپانی دستاویزی فلم ساز کو بغاوت اور مواصلاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    ارب پتی تاجر مکیش امبانی اور ان کی اہلیہ کو قتل کی دھمکیاں

    26 سالہ تورو کوبوتا کو جولائی میں میانمار کے مرکزی شہر ینگون میں ایک احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت، یہ بتایا گیا تھا کہ اسے امیگریشن قانون کو توڑنے اور حکمران فوج کے خلاف اختلاف کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

    وزارت کے اہلکار نے فلمساز کے وکیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوبوٹا کو بدھ کو بغاوت کے جرم میں تین سال اور ٹیلی کمیونیکیشن کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    تاہم، میانمار میں میڈیا نے جیو نتا کی کمیونیکیشن ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اسے سزائیں بیک وقت سنائی جائیں گی۔

    جاپانی وزارت خارجہ نے شہری کی سزا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 26 سالہ نوجوان فلم ساز کو اکسانے کے جرم میں تین سال اور ٹیلی کمیونیکیشن کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر 7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    جاپانی وزارت کے اہلکار نے بتایا کہ امیگریشن کنٹرول قانون کی اس کی مبینہ خلاف ورزی پر عدالت کی سماعت 12 اکتوبر کو ہونی تھی ہم میانمار کے حکام سے مسٹر کبوٹا کی جلد رہائی کے لیے کہہ رہے ہیں، اور ہم ایسا کرتے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    نیپال کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جنسی زیادتی کیس میں گرفتار

    میانمار کے فوجی ترجمان کو تبصرہ کرنے کی کال کا جواب نہیں دیا گیا جیو نتا کا کہنا ہے کہ میانمار کی عدالتیں آزاد ہیں اور گرفتار کیے گئے افراد کو مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔

    میانمار گزشتہ سال فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ جیو نتا نے اختلاف رائے کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہوئے سیاست دانوں، بیوروکریٹس، طلباء، صحافیوں اور غیر ملکیوں سمیت ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    ایک جاپانی فری لانس صحافی کو پچھلے سال گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر بغاوت مخالف مظاہروں کی کوریج میں جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام تھا۔ بعد میں اسے جنتا کے ساتھ یہ کہتے ہوئے رہا کیا گیا کہ ان کی رہائی دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو تسلیم کرتے ہوئے تھی۔

    تھائی لینڈ کے چائلڈ کئیر سینٹر میں فائرنگ،بچوں سمیت31 افراد ہلاک

  • میانمار:  فوجی ہیلی کاپٹروں کی اسکول پر فائرنگ سے 6 بچے ہلاک اور 17 زخمی

    میانمار: فوجی ہیلی کاپٹروں کی اسکول پر فائرنگ سے 6 بچے ہلاک اور 17 زخمی

    میانمار میں فوجی ہیلی کاپٹروں کی اسکول پر فائرنگ سے 6 بچے ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق اسکول پر فائرنگ کا واقعہ گزشتہ جمعےکو سیگنگ ریجن کے ایک گاؤں میں پیش آیا میانمار کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے ایک اسکول کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 6 بچے ہلاک اور17 زخمی ہوئے۔

    خبر ایجنسی کو مقامی افراد نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سےکچھ بچے موقع پر ہی چل بسے تھے۔

    تاجکستان اور کرغیزستان میں گھمسان کی جنگ،24 ہلاکتیں:جنگ بندی بھی کام نہ آئی

    دوسری جانب میانمارکی فوج نےدعویٰ کیا ہےکہ باغی فورسز پرحملوں کے لیےاسکول کی عمارت اورمقامی افراد کو ڈھال کے لیے استعمال کر رہے تھے، ہیلی کاپٹر علاقے میں تلاشی کے لیے گئے تھے کہ نیچےسےان پرفائرنگ کی گئی جس کے بعد ردعمل میں جوابی کارروائی کی گئی جس میں چند افراد مارے گئے۔

    چین میں کورونا بس قرنطینہ سینٹر جاتے ہوئے حادثے کا شکار، 27 مریض ہلاک،20 زخمی

    دوسری جانب کرغیزستان اور تاجکستان کی سرحد پر جھڑپوں میں مجموعی طور پر 24 افراد مارے گئے جب کہ 80 سے زیادہ زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں شہری بھی شامل ہیں۔کرغیزستان نے الزام عائد کیا ہے تاجکستان کی فوج نے صوبے بادکند میں راکٹ برسائے جس کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا۔

    دوسری جانب تاجکستان کا دعوی ہے کہ کرغیزستان کی فوجوں نے سرحد پر اپنی پوزیشن تبدیل کیں اور ہماری سرزمین پر دیہاتیوں پر گولیاں برسائی تھیں۔ خیال رہے کہ دونوں ممالک میں روسی فوج کے اڈے بھی ہیں جس کے باعث روس نے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر متفق کیا تھا۔

  • میانمارکی سابق سربراہ آنگ سان سوچی کوایک اورمقدمےمیں سزا سنادی گئی

    میانمارکی سابق سربراہ آنگ سان سوچی کوایک اورمقدمےمیں سزا سنادی گئی

    میانمار کی فوجی عدالت نے سابق رہنما اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو ایک اور مقدمے میں تین سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ نوبل انعام یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر میانمار کی پہچان بننے والی آنگ سان سوچی گزشتہ سال ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد سے ہی زیر حراست ہیں، ان پر نومبر 2020 کے عام انتخابات میں سازباز کا الزام تھا-

    برمی مسلمانوں کی قاتل آنگ سان سوچی نے اقوام متحدہ کےالزامات کو مسترد کر دیا

    77 سالہ آنگ سان سوچی کا دورہ حکومت گزشتہ سال یکم فروری کو فوجی بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوا تھا، جس کے بعد سے وہ زیر حراست ہیں آنگ سان سوچی پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور انتخابی دھوکا دہی سمیت متعدد مقدمات چلائے گئے-

    مقامی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 11 سال قید کی سزا سنائی تھی کرپشن کیس میں مزید 6 سال قید کی سزا کے بعد ان کی مجموعی سزا 17 سال ہوگئی تھی اب ایک اور مقدمے میں تین سال قید بامشقت کی سزا 20 سال ہو گئی ہے-

    میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز،دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی

    "ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے”: میانمار کے اساتذہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے

    میانمار میں فوجی بغاوت ، پاکستان کا رد عمل آگیا

    امریکا نے آنگ سانگ سوچی کی اس سزا کو انصاف اور قانون کی حکمرانی کی توہین قرار دیا تھا امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غیر منصفانہ طور پر حراست میں لیے گئے تمام جمہوری طور پر منتخب عہدیداروں سمیت آنگ سان سوچی کو فوری طور پر رہا کرے۔

    میانمار میں فوجی بغاوت انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کی وجہ سے ہوئی۔ میانمار کی فوج نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

    کرپشن کا الزام: میانمارکی سابق رہنما کو مزید 6 سال قید کی سزا

  • کرپشن کا الزام: میانمارکی سابق رہنما کو مزید  6 سال قید کی سزا

    کرپشن کا الزام: میانمارکی سابق رہنما کو مزید 6 سال قید کی سزا

    میانمار کی فوجی عدالت نے سابق رہنما اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو کرپشن کے الزام میں مزید 6 سال قید کی سزا سنادی ہے جس سے ان کی سزا 17 سال ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : 77 سالہ آنگ سان سوچی کا دورہ حکومت گزشتہ سال یکم فروری کو فوجی بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوا تھا، جس کے بعد سے وہ زیر حراست ہیں-

    برمی مسلمانوں کی قاتل آنگ سان سوچی نے اقوام متحدہ کےالزامات کو مسترد کر دیا

    آنگ سان سوچی پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور انتخابی دھوکا دہی سمیت متعدد مقدمات چلائے گئے، مقامی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 11 سال قید کی سزا سنائی تھی کرپشن کیس میں مزید 6 سال قید کی سزا کے بعد اب اس کی مجموعی سزا 17 سال ہوگی۔

    خبرایجنسی کےمطابق آنگ سان سوچی عدالت میں اچھی صحت میں نظر آئیں اور انہوں نے اپنی تازہ ترین سزا کے بعد کوئی بیان نہیں دیا۔

    میانمار کی عدالت نے معزول صدر کو سنائی سزا

    امریکا نے آنگ سانگ سوچی کی اس سزا کو انصاف اور قانون کی حکمرانی کی توہین قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر منصفانہ طور پر حراست میں لیے گئے تمام جمہوری طور پر منتخب عہدیداروں سمیت آنگ سان سوچی کو فوری طور پر رہا کرے۔

    میانمار میں سفید ہاتھی کی پیدائش نے لوگوں کو حیران کر دیا

    رپورٹ کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کی وجہ سے ہوئی۔ میانمار کی فوج نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

    میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز،دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی

    "ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے”: میانمار کے اساتذہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے

    میانمار میں فوجی بغاوت ، پاکستان کا رد عمل آگیا

  • میانمار میں  سفید ہاتھی کی پیدائش نے لوگوں کو حیران کر دیا

    میانمار میں سفید ہاتھی کی پیدائش نے لوگوں کو حیران کر دیا

    مغربی میانمار کے ایک علاقے میں سفید ہاتھی کی پیدائش نے لوگوں کو حیران کر دیا-

    باغی ٹی وی : خبررساں ادارے ’گلوبل نیو لائٹ آف میانمار‘ کے مطابق گزشتہ ماہ جولائی کے آخر میں بدھ کے روز ایک نایاب سفید ہاتھی کی پیدائش نے لوگوں کو حیران کردیا بہت سے لوگ بدھ مت کی اکثریت والے ملک میں سفید ہاتھی کی پیدائش کو نیگ شگون قرار دیتے ہیں۔

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    اخبار نے بتایا کہ ریاست راکھائن میں 23 جولائی کو پیدا ہونے والے اس ہاتھی کا وزن پیدائش کے وقت 80 کلو گرام تھا جب کہ اس کی لمبائی تقریباً 70 سینٹی میٹر تھی۔

    سرکاری اخبار کے مطابق نومولود سفید ہاتھی کی آٹھ خصوصیات میں سے سات خصوصیات ہیں، جن میں "موتی کی رنگ کی آنکھیں”، "سفید کھال” اور "مخصوص دم” شامل ہیں 33 سالہ ماں زر نان ہلا کی دیکھ بھال ایک سرکاری ٹمبر کمپنی کر رہی ہے۔


    سرکاری چینل سے نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق ہاتھی کا بچہ جس کا نام ابھی تک نہیں رکھا گیا اپنی ماں کے ساتھ پانی میں کھیلتا دکھائی دیا بہت نایاب سفید ہاتھیوں کو کچھ جنوب مشرقی ایشیائی بدھ ثقافتوں میں خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے جو انہیں شاہی خاندان کی علامت سمجھتے ہیں۔

    چین نے تائیوان کی متعدد غذائی مصنوعات کی درآمدات معطل کر دیں

    سرکاری میڈیا نے اشارہ کیا کہ چھ سفید ہاتھی دارالحکومت نیپیداو میں قید ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ریاست راکھین اور ایاروادی (جنوبی) سے ہے۔

    میانمار میں گزشتہ سال فوجی بغاوت اور اس کے اختلاف کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے بعد، سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کا ردعمل خاموش یا مشکوک تھا کیا میں کلر بلائنڈ ہوں اگر یہ مجھے صرف بھورا لگتا ہے؟” ایک صارف نے پوسٹ کیا ہاتھی صرف پرانے زمانے میں اہم تھے ایک اور نے کہا۔ ’’اب بیچارے ہاتھی کو جیل جانا پڑے گا‘‘۔

    بھارت میں جڑواں پہاڑوں پر واقع غاروں میں پہلی صدی قبل مسیح کی درسگاہیں دریافت

  • میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز،دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی

    میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز،دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی

    میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہےمیانمار کی سابق حکمران آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 50 سال سے غیر فعال موت کی سزا دوبارہ فعال ہوئی ہے میانمار کی فوجی حکومت نے سوموار کو جن چار افراد کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کیا ان پر مقامی اخبار گلوبل نیو لائٹ کے مطابق ’پُر تشدد اور غیر انسانی دہشت کی کارروائیاں‘ سرانجام دینے کا الزام تھا۔

    پھانسی پانے والے افراد میں سے ایک 41 سالہ فیو زیا تھا ہیں، جن کا تعلق سوچی کی سیاسی جماعت سے تھا۔ انہیں گذشتہ سال نومبر میں فوجی حکومت نے گرفتار کیا تھا اور ایک ٹریبونل نے انہیں رواں سال جنوری میں سزائے موت سنائی تھی فیو زیا تھا 1988 میں اس وقت کی فوجی حکومت کے خلاف طلبہ کی بغاوت میں پہلی مرتبہ سیاسی منظر نامے پر ابھرے تھے۔

    پھانسی پانے والے دوسرے شخص 53 سالہ کیا من یو ہیں، جو ’جمی‘ کے نام سے زیادہ مشہور تھے جمی ایک جمہوری کارکن تھے اور انہیں بھی فوجی ٹریبونل نے سزائے موت دی تھی۔ ان پر فوجی حکومت کے خلاف کئی حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ ان مبینہ حملوں میں سے ایک رنگون کی مسافر ٹرین میں کیا گیا جس میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔

    جمی 2008 میں اس وقت کی فوجی حکومت کے دوران بھی جیل جا چکے ہیں۔ اس وقت ان کے گانوں کے بول نے فوجی حکومت کو پریشان کیا تھا اور انہیں کالعدم تنظیم کی رکنیت اور غیر ملکی کرنسی رکھنے کے الزام میں قید کی سزا ہوئی تھی۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اسسٹنس ایسوسی ایشن فار پولیٹیکل پرزنرز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ سال فوجی بغاوت کے بعد سے دو ہزار 114 عام شہری سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں قتل اور گرفتاریوں پر نظر رکنے والی اس غیر سرکاری تنظیم کے مطابق اب تک 115 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

    پیر کو دی جانے والی پھانسیوں پر قومی اور عالمی سطح پر مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہےہیومن رائٹس واچ کے قائم مقام ایشیا ڈائریکٹر ایلائینے پیئرسن نے کہا ہے کہ ’میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے چار افراد کو پھانسی دینا سراسر ظلم ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سزائیں انصاف کے برعکس اور سیاسی عزائم کے پیش نظر رکھنے والی عدالتی کارروائی کے بعد دی گئی ہیں۔ فوجی حکومت کا ظلم اور انسانی زندگی کی بے وقعتی فوجی بغاوت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹریس نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’جینے کے حق، آزادی اور شخصی حفاظت کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔