Baaghi TV

Tag: میجر محمد اکرم شہید

  • میجر محمد اکرم شہیدکی 53ویں برسی، سروسز چیفس اور مسلح افواج پاکستان کا خراج عقیدت

    میجر محمد اکرم شہیدکی 53ویں برسی، سروسز چیفس اور مسلح افواج پاکستان کا خراج عقیدت

    راولپنڈی: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور مسلح افواج پاکستان نے میجر محمد اکرم شہید( نشان حیدر) کی 53ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کے مطابق میجر محمد اکرم شہید 19 مئی 1971 کو ہلی (مشرقی پاکستان) میں 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کی کمانڈ کر رہے تھے، جہاں انہوں نے علاقے کا بہادری سے دفاع کیا اور دشمن کو پیش قدمی نہ کرنے دی بعد ازاں 03 دسمبر 1971 کو انہیں دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا اور انہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے دشمن کے 3 ٹینک تباہ کر دیئے دشمن سے لڑائی کے دوران میجر محمد اکرم شدید زخمی ہوئے اور 5 دسمبر 1971 کو شہادت کو گلے لگا لیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق میجر محمد اکرم کی شہادت مادر وطن کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کی جانب سے دی گئی غیر معمولی قربانیوں میں سے ایک قربانی یاد دلاتی ہےآئیے ان ہیروز کو یاد رکھیں جنہوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر فخر ہے۔

  • شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے

    شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے

    اسلام آباد:شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے،اطلاعات کے کے مطابق قوم آج میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاسواں یوم شہادت منا رہی ہے۔ میجرمحمد اکرم شہید نے اپنی جان وطن عزیز کی خاطر قربان کرتےہوئے اس قوم اور وطن کے دفاع کووہ قوت بخشی جس کا مظہر آج بھی ہورہا ہے

    میجر اکرم شہید نے 1971 کی جنگ میں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور وطن پر قربان ہو گئے۔

    میجر محمد اکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں 4 اپریل 1938 کو پیدا ہوئے۔میجر اکرم شہید اپنے ننھیال ڈنگہ میں پیدا ہوئے لیکن ان کا موضع نکہ کلاں،جہلم سے تعلق تھا جو جہلم میں واقع ہے۔ان کی یادگار بھی جہلم میں شاندار چوک کے ساتھ جہلم میں بنائی گئی ہے جب کہ تاریخ جہلم اور شہدائے جہلم از انجم سلطان شہباز میں ان کے مکمل سوانح موجود ہیں۔ نیز پروفیسر سعید راشد نے ان کے حوالے سے ایک کتاب شہید ہلی لکھی تھی۔

    میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا 50 واں یوم شہادت، 1971 کی جنگ میں جرات اور بہادری کی عظیم داستان رقم کی جس پر قوم کو آج بھی ناز ہے۔ جنگ کے دوران میجر اکرم شہید نے مشرقی پاکستان کے محاذ پر کمال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے فضائی، آرٹلری اور آرمڈ کے بڑے حملوں کو ناکام بنایا۔ میجر اکرم جوانوں کے ہمراہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا 15 روز تک بہادری سے مقابلہ کرتے رہے۔ اس دوران پاک فوج کی اہم سپلائی لائن پر دشمن کے حملے ناکام بناتے ہوئے میجر اکرم پانچ دسمبر 1971ء کو جام شہادت نوش کر گئے۔

    بہادری اور جرات کی نئی داستان رقم کرنے پر میجر اکرم شہید کو پاک فوج کے اعلی ترین اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ میجر اکرم شہید نے ملٹری کالج جہلم سے فارغ التحصیل ہو کر مارچ 1961ء میں 28ویں پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 1963ء کو پاس آئوٹ ہو کر فرنٹیئر فورس ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔

    انہیں اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کا اعزاز بھی ملا، میجر محمد اکرم 13 اکتوبر 1963ء کو انفینٹری بٹالین کا حصہ بنے، اپنے بہترین ریکارڈ پر انہیں ستمبر 1970ء میں ملٹری انٹیلی جنس کورس کی تکمیل پر میجر کے عہدے پر ترقی ملی۔