میر رضا کیس میں مقتول کی لاش کو تیزاب سے جلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہےکہ فارنزک لیب بھیجی گئی شرٹ میں معلوم ہوا کہ رضا کے ہاتھ اور چہرے پر تیزاب پھینکا گیا، تیزاب پھینکنے کا مقصد شناخت کو مٹانا تھا تاکہ کوئی اسے پہچان بھی نہ سکے۔
دوسری جانب میر رضا کیس کی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ہوگا، قتل سمیت تمام زاویوں سے میر رضا کی موت کی تحقیقات کی جائیں گی، 5 رکنی کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی، ایس ایس پی علی رضا سیکرٹری ہوں گے۔
ہفتے کو میر رضا کی قبرکشائی کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے دائیں ران اور جبڑے پر فریکچر کے شواہد بھی ملے جب کہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبے بھی تھے۔
یہ کیس اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا تھا جب سوشل میڈیا پر یہ الزامات سامنے آئے کہ گلستانِ جوہر کا یہ گیسٹ ہاؤس سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، جہاں میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا،ان الزامات پر شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی ہے کہ نامعلوم افراد ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لہٰذا اس مہم کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔
اس دوران سندھ حکومت نے عوامی دباؤ اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش انتیس جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔
عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی، اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔
تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔
