Baaghi TV

Tag: میزائل حملہ

  • ایرانی کاروائی سے اسرائیلی مظالم سے دنیاکی توجہ ہٹ گئی،جنرل (ر) عبدالقیوم

    ایرانی کاروائی سے اسرائیلی مظالم سے دنیاکی توجہ ہٹ گئی،جنرل (ر) عبدالقیوم

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل رعبدالقیوم نے کہا ہے کہ بلوچستان کے صوبے میں پاکستانی سرحد کے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں کوہ سبز پر ایران کا میزائل اور ڈرون حملہ نہ صرف ایک جارحانہ عمل اور ہماری فضائی حدود اور بین الاقوامی قوانین کی بلااشتعال خلاف ورزی تھی بلکہ ایران کی جانب سے کی جانے والی ایک حیران کن سفارتی غلطی بھی تھی جس سے اسرائیلی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹ گئی۔

    پریس بریفنگ دیتے ہوئے جنرل ر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ایک پڑوسی مسلمان اور دوست ملک کے اندر اس طرح کی سخت دشمنانہ کارروائی کرتے ہوئے، ایران نے نادانستہ طور پر پوری دنیا میں امریکی ڈرون حملوں کا جواز بھی پید ا کر دیا ہے جس میں عراق میں 2020 میں ہونے والے ڈرون حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پاکستان برسوں تک کلبھوشن یادیو کی ایران میں نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا لیکن اس کے ٹھکانے پر چھاپہ اسی وقت ہوا جب وہ پاکستانی علاقے میں تھا۔ افغانستان اور ایران دونوں میں ہماری مغربی سرحدوں سے متصل ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا تھا لیکن چونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی، اس لیے ایسا نہیں کیا گیا۔

    جنرل ر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ایٹمی پاکستان کے پاس خطے میں سب سے مضبوط مسلح افواج موجود ہیں جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہیں جیسا کہ ہم نے اس وقت کیا تھا جب بھارت نے بالاکوٹ پر حملہ کیا تھا۔ اس لیے ایرانی کے بدقسمت اور غیر متوقع جارحانہ اقدام پر ردعمل ظاہر کرنا ضروری ہو گیا۔ اس لیے پی اے ایف کو ایرانی صوبہ بلوچستان میں بی ایل اے کے تربیتی کیمپوں پر حملہ کرنے کے لیے درست ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا، تاہم ہم بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کرتے ہیں اور علاقائی یا بین الاقوامی امن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر تمام ممالک بھی ایسا ہی کریں گے . بین الاقوامی قانون کی بے حرمتی اور دیگر ممالک کی علاقائی حدود اور فضائی حدود کی خلاف ورزی سے انتشار پیدا ہوگا جس سے کمزور ممالک بہت زیادہ خطرے میں پڑ جائیں گے۔ پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستان حکومت اور مسلح افواج کے اس طرح کی دشمنانہ کارروائیوں کا فوری جواب دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔ ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ ان کے انقلاب کے بعد ایران کو سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیا گیا لیکن پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا رہا۔ ایران کے ساتھ ہماری 900 کلومیٹر لمبی سرحد ہے جسے ہم دہشت گردی، منشیات اور اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے باہمی طور پر منظم کر رہے ہیں۔ ایران پہلا ملک تھا جس نے 1947 میں پاکستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ ہم نے 1999 میں ایف ٹی اے پر دستخط کیے اور پاک ایران مشترکہ بزنس کونسل کا حصہ بنے۔ ہم نے بہت اطمینان کے ساتھ ایران سعودی عرب کے تعلقات کو سراہا اور ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑے رہے جس نے کشمیر کاز کی حمایت کی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کا موجودہ عمل ہمارے لیے افسوسناک ہے جسے سفارتی اور دو طرفہ طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم چین کے شکر گزار ہیں جس نے تحمل کی سفارش کی اور ثالثی کی پیشکش بھی کی۔

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

  • ہمارا ہدف دہشتگرد تھے،پاکستانی شہری نہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    ہمارا ہدف دہشتگرد تھے،پاکستانی شہری نہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    ایران آبزورو کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ میں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو یقین دلایا کہ ہم پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم کسی کو بھی اپنی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہمارا ہدف پاکستان میں ایرانی دہشت گرد رہے ہیں پاکستانی شہری نہیں۔ہم عراق اور پاکستان کی سلامتی کو ایران کی سلامتی سمجھتے ہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ جیش العدل کے دہشت گرد پاکستان میں مارے گئے ہیں،پاکستان نے اس گروپ کو دہشت گرد قرار دینے کی ایران کی درخواست کو بارہا نظر انداز کیا ،

    پاکستان کو خبردار کیا تھا ،ایران کے غیر ذمہ دار بیانات اور الزامات
    ایران کے پارلیمانی امور کے نائب صدر محمد حسینی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خبردار کیا تھا ایسے لوگوں کو ایران آنے سے روکے جویہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو مار دیتے ہیں، ایران کی طرف سے ایسا ردعمل آنا فطری تھا،ایرانی وزیر دفاع محمدرضااشتیانی کا کہنا تھاکہ ایران اپنی سلامتی کیلئے کوئی حدود مقرر نہیں کرے گا،ہم دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کے اقدام پر ردعمل کا حق رکھتے ہیں جو ہمارے لوگوں کے حقوق کی پامالی کا باعث بنتا ہے

    جس وقت ایران نے پاکستان پر حملہ کیا اس وقت بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر ایران میں موجود تھا ۔جے شنکر اپنے دو روزہ دورے پر بھارت پہنچا تھا ۔ اس دورے کا مقصد چاہ بہار بندرگاہ کوفعال بنانا اور اسرائیل غزہ میں جاری جنگ پر ایران اور بھارت کا متفقہ لائحہ عمل بنانا تھا ۔ایسے میں بھارتی طرز پر پاکستان پر حملہ ایران اور بھارت کے ایک پیج ہونے کی دلیل ہے۔ اس حملے کے ساتھ ہی بھارتی اور پی ٹی آئی اکاؤنٹس نے پاکستانی اداروں کیخلاف آسمان سر پر اٹھا لیا۔ پی ٹی ائی سوشل میڈیا ٹیم نے جس طرح کا افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا ہے یہ بتاتا ہے کہ یہ اٹیک پاکستان کی تمام دشمن قوتوں نے مل کر پوری پلاننگ سے کیا ہے۔ جس میں ملک دشمن سوشل میڈیا سیلز اپنی مذموم پروپیگنڈا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کررہا ہے جبکہ بھارت اس سلسلے میں عالمی سطح پر پروپیگینڈا کرنے میں مصروف ہے۔ اور پاکستان کو دھمکیاں دینے میں مصروف ہے۔ اور پی ٹی آئی اندرون ملک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کررہی ہے یہ تین طرفہ حملہ ہے۔ ایسے میں محب وطن پاکستانیوں کو ہر اس اکاؤنٹ پر نظر رکھنی چاہیے جو پاکستان کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوششیں کرے ۔ کیونکہ اس کاروائی کا مقصد گوادر پورٹ کو غیر فعال کرنا اور پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ پاکستان کے سبھی دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنائیے اپنے ملک اپنے اداروں پر پورا بھروسہ رکھیں۔ بھارت واسرائیل اور ایران کی اس مشترکہ کاوش کو ہم نے مکمل ناکام بنانا ہے.

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی

  • اسرائیلی صدر کے دورہ  کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے یو اے ای پر حوثی باغیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملہ کیا گیا ہے جسے یو اے ای نے ناکام بنا دیا ہے

    اماراتی وزارت دفاع کے مطابق فضا میں تباہ کیے جانے والے میزائل کا ملبہ غیرآباد علاقےمیں گرا اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متحدہ عرب امارات پر یہ تیسرا بیلسٹک میزائل حملہ تھا ،حوثی باغی یو اے ای پر ڈرون حملے بھی کر چکے ہیں، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیلی صدر یو اے ای کے دورے پر ہیں ،یو اے ای حکام نے کامیابی سے میزائل حملے کو ناکام بنایا .خبر رساں ادارے کے مطابق حوثی باغیوں کو ایرانی حمایت حاصل ہے،

    امریکا نے حوثی باغیوں کی جانب سے یو اے ای پر حملے کی مذمت ہے، 17 جنوری کو بھی ایک حملہ ہوا تھا ،یو اے ای کا کہنا ہے کہ ہمارا دفاع مستحکم ہے، اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ تازہ ترین میزائل حملہ آدھی رات کو روکا گیا اور اس کا ملبہ ایک غیر آباد علاقے پر گرا۔

    حوثی باغیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل کے صدر ابوظہبی کے دورے پر ہیں اور انہوں نے ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کی اور سیکورٹی سمیت دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے،خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی صدر نے ابوظہبی میں رات گزاری، اسرائیلی صدر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے باوجود وہ یو اے ای کا دورہ جاری رکھیں گے،اسرائیلی صدر نے آج پیر کو دبئی ایکسپو کا بھی دورہ کرنا ہے

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہاسرائیل کے صدر پورے خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں، ایسے وقت میں حوثی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ خلیجی ملک میں ہوائی ٹریفک معمول کے مطابق ہے اور تمام پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ اتحادی جنگی طیاروں نے یمن میں موجود میزائل لانچروں کو تباہ کر دیا ہے۔

    سعودی عرب پر بارہا میزائل اور ڈرون حملے کرنے والے حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ یمن میں "مداخلت” بند نہیں کرتا وہ متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

    دوسری جانب عرب فوجی اتحاد کی جانب سے 24 گھنٹوں میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 25 ٹارگٹڈ حملے کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی 11 فوجی گاڑیاں اور 80 سے زیادہ باغیوں کو ہلاک کرنےکا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ہیرزوگ امارات کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی صدر ہیں اور ان سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی دسمبر میں یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں معاہدوں پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے کو "ابراہام ایکارڈ” کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ممالک اور اسرائیل خطے میں ایران اور اس کی اتحادی افواج و ملیشیا کے بارے میں یکساں تحفظات رکھتے ہیں۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

  • اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    تل ابیب :اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کی بندرگاہ لطاکیہ پر ایک مہینے میں دوسری بار حملہ کیا ہے۔

    شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لطاکیہ پر فضائی حملہ کیا گیا، اسرائیل نے لطاکیہ پورٹ پر متعدد میزائل داغے، اسرائیلی میزائلوں نے لطاکیہ پورٹ کےکنٹینریارڈ کو نشانہ بنایا،جس سے وہاں آگ لگ گئی اور بھاری مالی نقصان ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میزائلوں سے قریب موجود ایک اسپتال اور چند رہائشی عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔شامی حکام کی جانب سے حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوجی ترجمان نے شام میں فضائی حملےکی خبرپر ردعمل سےگریز کرتے ہوئے کہا ہےکہ غیرملکی میڈیا کی خبروں پر ردعمل نہیں دیتے۔اس سے قبل 7 دسمبر کو بھی اسرائیل کی جانب سے لتاکیہ پورٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    امریکی اتحاد کے ترجمان کول ہارپر کا کہنا تھا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کے اعلان کے مطابق ان کا کردار جنگی سے مشورتی میں تبدیل ہو جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی سربراہی میں نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ عالمی اتحاد کی عراق میں کوئی فوجی چھاونی نہیں ہے۔

    ہارپر نے الجزیرہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اتحاد کے فوجی، صوبہ الانبار کی عین الاسد چھاونی، کردستان علاقے میں اربیل اور بغداد میں مشترکہ آپریشنل کمانڈ سینٹر میں موجود ہیں۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ عالمی اتحاد نے ابھی تک عراق میں جنگی کردار ادا نہیں کیا ہے بلکہ ان کی نئی ذمہ داری، عراقی فوج اور کرد میلیشیا پیشمرگہ کی ٹریننگ اور ان کو مشورے دینا ہے۔

    امریکی فوج کے اس کمانڈر نے کہا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق اتحاد کے فوجیوں کا کردار جنگی سے مشورتی کردار میں بدل جائے گا، اسی لئے اس نئے کردار کے ساتھ عراق میں ہمارا باقی رہنا، بغداد حکومت کی درخواست کی وجہ سے ہے۔

    ہارپر کا کہنا تھا کہ عراق کے اندر امریکی فوجیوں پر ہونے والے نقصان کے بارے میں امریکی اتحاد کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔

  • مسلم ممالک عالم اسلام کےمسائل کےحل کےلیےاسلام آباد جمع:پیچھےسےحوثیوں نےسعودی عرب پرحملہ کردیا

    مسلم ممالک عالم اسلام کےمسائل کےحل کےلیےاسلام آباد جمع:پیچھےسےحوثیوں نےسعودی عرب پرحملہ کردیا

    ریاض: مسلم ممالک عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد جمع:پیچھے سے حوثیوں نے سعودی عرب پرحملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق عرب اتحادی افواج نے سعودی شہر پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کو ناکام بنادیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کو ایک بار پھر ناکام بناتے ہوئے ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کردیا گیا۔ عرب اتحادی افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے سعودی شہر خمیس مشیط کو نشانہ بنایا تاہم بروقت کارروائی کے باعث ڈرون فضا میں ہی تباہ ہوگیا جب کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    عرب اتحاد افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے اندر حوثی باغیوں کے خلاف 19 حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں 80 کے قریب حوثی باغی مارے گئے جب کہ متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    واضح رہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے آئے روز یمن کی سرحد سے منسلک سعودی شہروں پر میزائل یا ڈرون سے حملے ہوتے رہتے ہیں تاہم عرب اتحادی افواج نے متعدد بار ان حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

    یاد رہے کہ کستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔ یہ اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر طلب کیا گیا ہے جو اسلامی تعاون تنظیم کا چیئرمین ہے۔

    پاکستان کی دعوت پر اجلاس میں 22 ممالک کے وزرائے خارجہ، 10 نائب وزرائے خارجہ سمیت 70 وفود شریک ہیں