Baaghi TV

Tag: میزائل

  • پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، تاہم اسے کسی بھی بیرونی جارحیت سے اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھارت کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نظرانداز کرتا ہے اور اس کی دوہری پالیسی کو سامنے لایا۔ "پاکستان کبھی بھی دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا، لیکن امریکہ کیوں پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے خوفزدہ ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت سزائیں کیوں عائد کرتا ہے جبکہ کوئی بھی ملک پاکستان سے کبھی کسی خطرے کا شکار نہیں ہوا۔سعد رفیق نے کہا کہ "پاکستان کا جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام صرف اپنے دفاع کے لیے ہے، اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے دفاعی توازن کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی حکام کو خطے میں طاقت کے توازن اور اسٹریٹجک استحکام کو خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔”

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی کوشش کی ہے اور وہ اپنے دفاعی وسائل کو بڑھانے کا حق رکھتا ہے تاکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی دوہری پالیسیوں سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے دفاعی پروگرام پر ناپسندیدہ دباؤ ڈالنے کی بجائے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

  • پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے امریکی تشویش بڑھتی ہی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی

    امریکہ کے نائب قومی سلامتی مشیر جان فائنر نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں نمایاں پیشرفت کر رہا ہے اور اس کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکا کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ جان فائنر نے ایک تقریب کے دوران خطاب میں کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ ترقی صرف پاکستان کے دفاعی شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے روابط اور خطے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے۔ پاکستان کی طرف سے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں تیز رفتار پیشرفت عالمی طاقتوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے، کیونکہ ان میزائلوں کی رینج اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں بلکہ امریکی سرزمین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔جان فائنر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی بیلسٹک میزائل کی صلاحیتوں میں اس اضافے سے علاقائی طاقتوں کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔عالمی برادری کو اس نئی حقیقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔

    امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ اگر کھل کر بات کی جائے تو پاکستان کے اقدامات کو امریکا کے لیے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے سوا کچھ اور سمجھنا مشکل ہے،ہ پاکستان نے بیلسٹک میزائل سسٹمز سے لے کر ایسی میزائل ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو اسے بڑے راکٹ موٹرز کے تجربات کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر یہ جاری رہا تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے بہت آگے امریکا تک اہداف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت ہوگی۔

    پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے میں امریکی تشویش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں اس نوعیت کے مسائل ہمیشہ حساس رہے ہیں، خاص طور پر جب بات جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کی ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔ پاکستان کی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا ارتقاء اس کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے اثرات کا مقابلہ کرنا اور خطے میں اپنے دفاعی اثرات کو مستحکم کرنا ہے۔

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

  • امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے امریکا کی جانب سے پاکستان کی چار نجی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

    منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کس بنیاد پر پاکستان کی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رہا ہے؟ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام انتہائی غیر منصفانہ اور جابرانہ ہے کیونکہ وہ خود تاریخ میں کئی سنگین جنگی جرائم کا مرتکب ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ "امریکہ خود ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا چکا ہے اور نسل کشی میں ملوث اسرائیل کی مالی امداد کر رہا ہے۔” حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ امریکہ نے عراق میں ایٹمی ہتھیاروں کے جھوٹے دعوے کرکے لاکھوں افراد کو قتل کیا، اسی طرح ویتنام اور افغانستان میں بھی امریکی فوجیوں نے بے شمار انسانی جانوں کا ضیاع کیا۔امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ "امریکہ وہ ملک ہے جس نے لاکھوں افراد کو قتل کیا اور آج وہ ہماری نجی کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کریں۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ میں سردی کی شدت میں اضافے کے باوجود اسرائیل دہشت گردی اور نسل کشی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ "غزہ میں 45 ہزار لاشیں مل چکی ہیں لیکن ملبے تلے کتنے اور افراد شہید ہوئے ہیں، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔” انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور یہ ایک سنگین انسانی بحران ہے۔انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی صورتحال پر سخت موقف اپنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ نے 20 جنوری تک یرغمالیوں کی رہائی نہ ہونے پر کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ عالمی برادری کو اسرائیل کے خلاف سخت قدم اٹھانا چاہیے۔”

    امیر جماعتِ اسلامی نے بتایا کہ ان کی جماعت غزہ میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہے تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے، مگر انہوں نے کہا کہ یہ کام حکومت کا ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اپیل کی کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں فعال کردار ادا کرے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسرائیل کے جرائم کے خلاف آواز بلند کرے۔

    پاکستان کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک کی زراعت کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر مافیا کو فائدہ پہنچا رہی ہے، اور کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے سے گریز کر رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا اور مڈل مین اپنے مفادات کے لئے سرگرم ہیں اور کسانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 29 دسمبر کو اسلام آباد میں ایک بڑا ملین مارچ کرے گی جس میں غیر مسلم بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مارچ انسانیت کے خلاف جنگ کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ "یہ صرف فلسطین یا غزہ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پورے انسانی معاشرتی نظام کے خلاف ایک جنگ ہے اور ہم اس میں حصہ ڈالیں گے۔”

  • میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    امریکا نے پاکستان کے چار اہم اداروں پر پابندی عائد کردی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں مدد فراہم کی ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کے مطابق، ان اداروں کی سرگرمیاں پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کو مزید تقویت دینے کے لیے اہم رہی ہیں۔امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ان چار اداروں پر پابندیاں اس بات کی بنیاد پر عائد کی جا رہی ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان میں وہ خصوصی وہیکل چیسز (گھومنے والی گاڑیاں) شامل ہیں جو بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

    ان اداروں میں شامل ہیں:
    نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (NDC) – اسلام آباد میں واقع یہ ادارہ پاکستان کے دفاعی پروگراموں کا اہم حصہ ہے۔
    اختر اینڈ سنز – کراچی میں قائم ایک دفاعی ادارہ۔
    ایفیلیٹس انٹرنیشنل – کراچی میں قائم ایک اور دفاعی ادارہ۔
    روک سائیڈ اینٹرپرائزز – کراچی کا ایک اور ادارہ جس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کے ترسیلی ذرائع کی ترقی میں معاونت کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں لگائی جا رہی ہیں۔

    پاکستان کا شدید ردعمل
    پاکستان نے امریکا کی جانب سے ان چار اداروں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو شدید طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس اقدام کو متعصبانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کا یہ اقدام خطے میں فوجی عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے اور عالمی سطح پر اس کے خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی پابندیاں پاکستان کے اسٹریٹجک اعتماد کو نظرانداز کرتی ہیں، جو 24 کروڑ عوام کی حمایت پر مبنی ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک مقدس امانت ہے، جس کی حفاظت اور اس کے تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی پالیسیوں میں یہ امتیازی سلوک عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

    پاکستان کا موقف ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل اور دیگر اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد نہ صرف قومی دفاع کو مضبوط بنانا ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس نوع کی پالیسیاں خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں اور عالمی سطح پر اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر عالمی سطح پر مزید بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو دور کیا جا سکے۔

  • روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس نے یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر جدید ترین میزائل ’اوریشنک‘ سے حملہ کیا ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق، اس صنعتی کمپلیکس میں یوکرین بیلسٹک میزائل نظام تیار کر رہا تھا،حملے کے بعد صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک ہنگامی خطاب میں بتایا کہ اس کارروائی کے لیے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا، جس پر ہائپرسونک ہتھیار نصب تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میزائل ایک سیکنڈ میں 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے اور دنیا میں کوئی دفاعی نظام اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پیوٹن نے یوکرین کے اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

    دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے سخت ردعمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روس نے یوکرینی سرزمین کو ہتھیاروں کی تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ روسی میزائل حملہ جنگ کو مزید بڑھا دے گا،نئے بیلسٹک میزائل کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماسکو امن نہیں چاہتا۔

    قبل ازیں یوکرین نے برطانوی فراہم کردہ اسٹارم شیڈو میزائلز روس کے اندر اہداف پر داغے ہیں،اگرچہ برطانیہ اور یوکرین نے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے روس میں استعمال کی تصدیق نہیں کی، لیکن برطانوی میڈیا میں ان کے استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔ٹیلیگرام پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں روس کے کورِسک علاقے میں ان میزائلوں کے ملبے کو دکھایا گیا ہے۔ کورِسک یوکرین کی سرحد سے متصل روس کا علاقہ ہے۔برطانیہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ برطانوی ٹینک، اینٹی ٹینک میزائلز اور دیگر فوجی سازوسامان یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے تحت روس کے اندر استعمال ہو سکتے ہیں۔تاہم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد تھیں۔

  • بیلسٹک میزائل پروگرام کے سپلائرز پر امریکی پابندیاں،پاکستان کا ردعمل

    بیلسٹک میزائل پروگرام کے سپلائرز پر امریکی پابندیاں،پاکستان کا ردعمل

    امریکا کی بیلسٹک میزائل پروگرام کے سپلائرز پر پابندیوں کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،جلد تفصیلی مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا،کسی ثبوت کے بغیر تجارتی اداروں کی ایسی فہرستیں ماضی میں بھی پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق کے الزامات پر سامنے آتی رہی ہیں، ہم تازہ ترین امریکی اقدامات کی تفصیلات سے واقف نہیں ہیں،معلومات لے رہے ہیں.

    واضح رہے کہامریکا نے بیلسٹک میزائلوں اور کنٹرولڈ میزائل آلات اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے الزام میں 5 اداروں اور ایک فرد پر پابندیاں عائد کی ہیں،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پابندیوں میں ایک چینی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، 3 چینی کمپنیوں اور ایک چینی فرد شامل ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے معاملے کی تصدیق کردی ہے،امریکی ترجمان میتھیو ملر کے مطابق چینی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے شاہین 3 اور ابابیل سسٹمز اور ممکنہ طور پر بڑے سسٹمز کیلئے راکٹ موٹرز کی جانچ کے آلات کی خریداری میں پاکستان کے ساتھ کام کیا، امریکا کہیں بھی ممنوعہ ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور متعلقہ خریداری کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتا رہے گا۔

    امریکا کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے چینی ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور متعددکمپنیوں پر پاکستان کے جوہری میزائل پروگرام کو مواد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پابندیاں عائد کردیں،رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک بیان میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف آٹومیشن فار مشین بلڈنگ انڈسٹری نے پاکستان کے ساتھ شاہین-3 اور ابابیل سسٹم اور ممکنہ طور پر بڑے نظام کے لیے راکٹ موٹرز ٹیسٹنگ کے لیے کام کیا ہے،امریکی پابندیوں کی زد میں چینی کمپنی ہوبے ہوا چینگڈا انٹیلی جینٹ اکیوپمنٹ کمپنی، یونیورسل انٹرپرائزز اور شیان لونگڈے ٹیکنالوجی ڈیولپکنٹ کمپنی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قائم انوویٹو اکیوپمنٹ اور ایک چینی شہری بھی آگئے ہیں،انہوں نے پابندیوں کے باوجود میزائل ٹیکنالوجی آلات منتقل کرلیا ہے،

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

  • پاک فوج کا 400 کلومیٹر کی رینج والے فتح 2 گائیڈڈ میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک فوج کا 400 کلومیٹر کی رینج والے فتح 2 گائیڈڈ میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک فوج نے 400 کلومیٹر کی رینج والے فتح 2 گائیڈڈ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے آج 400 کلومیٹر رینج کے ساتھ فَتح- II گائیڈڈ راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا، جو ہدف کو عین نشانہ بنانے اور میزائل دفاعی نظام کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی ہماری روایتی جنگی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جدید ترین نیوی گیشن سسٹم، منفرد رفتار اور قابل تدبیر خصوصیات سے لیس، فتح II انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے اور کسی بھی میزائل دفاعی نظام کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، الفتح -II کو پاکستان کے آرٹلری ڈویژنز میں شامل کیا جا رہا ہے،چیف آف جنرل اسٹاف اور مسلح افواج کے اعلیٰ افسران نے تجربے کا مشاہدہ کیا.

    صدرمملکت، وزیراعظم شہباز شریف ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف اور تمام سروسز چیفس نے اس شاندار کامیابی پر حصہ لینے والے فوج کے جوانوں اور سائنسدانوں کو مبارکباد دی ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاک فوج و سائنسدانون کو فتح ٹو گائیڈڈ راکٹ سسٹم کے کامیاب تجربے پر مبارکباد دی اور کہا کہ پر امید ہوں کہ فتح ٹو گائیڈڈ راکٹ سسٹم پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط کرے گا. فتح ٹو گائیڈڈ راکٹ سسٹم پاک فوج اور سائنسدانوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے. پاک فوج اور سائنسدانوں کی محنت دن بہ دن پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بناتی جا رہی ہے.

    پاکستان نے فتح 2 میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

    واضح رہے کہ پاکستان نے 2021 میں مقامی طور پر تیار کردہ گائیڈڈ راکٹ سسٹم فتح-ون کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔فتح ون میزائل گائیڈڈ ملٹی لانچ میزائل سسٹم کاحصہ ہے۔ میزائل روایتی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہتھیاروں کا نظام پاک فوج کو دشمن کی سرزمین پر مزید اندر تک ہدف کی درستگی کی صلاحیت فراہم کرے گا۔

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا۔

  • پاکستان کے میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام،امریکا نے لگائی چار کمپنیوں پر پابندی

    پاکستان کے میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام،امریکا نے لگائی چار کمپنیوں پر پابندی

    پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق الزامات اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے امریکی فیصلے پر ترجمان وزارت خارجہ کا رد عمل سامنے آیا ہے

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ کسی ثبوت کے بغیر تجارتی اداروں کی ایسی فہرستیں ماضی میں بھی پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے تعلق کے الزامات پر سامنے آتی رہی ہیں، ہم تازہ ترین امریکی اقدامات کی تفصیلات سے واقف نہیں ہیں، ماضی میں ہم نے کئی ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں محض شک کی بنیاد پر فہرستیں بنائی گئی ہیں، اس وقت بھی ملوث اشیاء کسی کنٹرول لسٹ میں نہیں تھیں لیکن انہیں تمام دفعات کے تحت حساس سمجھا جاتا تھا، ہم نے کئی بار نشاندہی کی ہے کہ اس طرح کی اشیاء کے جائز شہری تجارتی استعمال ہوتے ہیں، برآمدی کنٹرول کے من مانے اطلاق سے گریز کرنا ضروری ہے، سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی یقینی بنانے کے معروضی طریقہ کار کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت کی ضرورت ہے، پاکستان کی خواہش ہے کہ برآمدی کنٹرول کے امتیازی اطلاق سے جائز تجارتی صارفین کو نقصان نہ پہنچے، پاکستان برآمدی کنٹرول کے سیاسی استعمال کو مسترد کرتا ہے،درحقیقت عدم پھیلاؤ کے کنٹرول کو استعمال کرنے کے دعویداروں نے بعض ممالک کے لیے جدید فوجی ٹیکنالوجیز کے لیے لائسنس کی ضروریات کو ختم کر دیا ہے،یہ دوہرا معیار ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے، پاکستان ایٹمی پھیلاؤ پر کنٹرولز کے سیاسی استعمال کا مخالف ہے

    امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کے الزام میں چار بین الاقوامی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے،واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے جن کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں سے تین چین اور ایک کا تعلق بیلا روس سے ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے پروکیورمنٹ نیٹ ورکس کو روک کر عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے جس کے تحت آج ایگزیکٹو آرڈر نمبر 13382 کے مطابق بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل کے ذمہ دار چار اداروں کو نامزد کر رہے ہیں، ان اداروں میں سے تین کا تعلق چین اور ایک بیلاروس سے ہے جنہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرامز بشمول اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کے لیے آلات فراہم کیے ہیں،جن اداروں کو ہم آج نامزد کر رہے ہیں ان میں بیلاروس کا منسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ، چینی کمپنیاں لانگ شیان ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، تیانجن کریٹیئو سورس انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ اور گرینپیکٹ کمپنی لمیٹڈ شامل ہیں ، یہ کمپنیاں ایسی سرگرمیوں یا لین دین میں ملوث پائی گئی ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ یا ان کی ترسیل کے ذرائع میں عملی طور پر تعاون کیا یا جن سے عملی طور پر تعاون کرنے کا خطرہ لاحق ہے جس میں پاکستان کی طرف سے ایسی اشیا کی تیاری، نقل و حمل، منتقلی یا استعمال، حاصل کرنے یا رکھنے کی کوششیں شامل ہیں،

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بیلاروس میں قائم منسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو خصوصی گاڑیوں کی چیسس فراہم کرنے کے لیے کام کیا، چینی کمپنی لانگ شیان ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ پر الزام ہے کہ اس نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو متعلقہ سامان فراہم کیا،چینی کمپنی تیانجن کریٹیئو سورس انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ پر امریکہ نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام میں متعلقہ آلات فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے،چین ہی کی تیسری کمپنی گرینپیکٹ کمپنی لمیٹڈ پر الزام لگایا کہ اس نے پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو کے ساتھ مل کر بڑے قطر والی راکٹ موٹروں کی جانچ کے لیے آلات کی فراہمی کے لیے کام کیا،ان پابندیوں کے نتیجے میں نامزد کمپنیوں اور ان سے وابستہ افراد کی امریکہ میں تمام پراپرٹیز اور مفادات کو بلاک کر دیا گیا ہے اور ان کی اطلاع محکمہ خزانہ کے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کو دی جانی چاہیے،تمام افراد یا ادارے جو ان پابندی کی شکار کمپنیوں میں بالواسطہ یا بالواسطہ50 فیصد یا اس سے زیادہ سے زیادہ شراکت رکھتے ہیں کو بھی بلاک کر دیا جائے گا.

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے مغربی کنارے کو متاثر کرنے والی غیر مستحکم سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ایک شخص اور دو اداروں پر پابندی لگائی ہے،امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لیہاوا کے بانی اور رہنما بین زیون پر پابندی لگائی گئی ہے  لیہاوا اور اس کے اراکین فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں یا دھمکیوں میں ملوث رہے ہیں، اور حساس یا غیر مستحکم علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ، محکمہ خزانہ نے دو اداروں، ماؤنٹ ہیبرون فنڈ اور شلوم اسیراچ پر بھی پابندی لگائی ہے، جو دو امریکی نامزد انتہا پسندوں کی جانب سے فنڈ ریزنگ مہمات میں ان کے کردار کے لیے ہیں، جو پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہمیں مغربی کنارے میں حالیہ دنوں میں تشدد میں اضافے پر گہری تشویش ہے اور ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متشدد انتہا پسند آباد کاروں کے حملوں کو روکنے کے لیے تمام مناسب اقدامات کرے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔ ضرورت پڑنے پر امریکہ احتساب کو فروغ دینے کے لیے اضافی اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • دو برس بیت گئے،بھارتی میزائل کے پاکستان میں گرنے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہ ہو سکی

    دو برس بیت گئے،بھارتی میزائل کے پاکستان میں گرنے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہ ہو سکی

    بھارتی براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے کے دو سال مکمل ہوگئے ہیں،بھارت خطے میں بالادستی قائم کرنے کیلئے میزائل ٹیکنالوجی کو وسعت دینے میں مصروف ہے تا ہم دو برس گزرنے کے باوجود ابھی تک انکوائری رپورٹ جاری نہ ہو سکی،

    بھارتی غیر ذمہ داری خطے میں عدم استحکام پیدا کرسکتی ہے، بھارتی براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے کے واقعے نے ثابت کیا کہ ہتھیاروں کے حوالے سے بھارت کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی نظام مشکوک ہے،9 مارچ 2022ء کو بھارت کا براہموس میزائل پاکستان کے علاقے میاں چنوں میں آگرا تھا،بھارت نے پاکستان کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اسے انسانی غلطی قرار دیا تھا،

    بڑے بڑے ہتھیار رکھنے والے بھارت کے پاس سنبھالنے کی صلاحیت نہیں، براہموس میزائل کا پاکستان کے علاقے میں گرنا ٹیکنالوجی پر سوالیہ نشان ہے، واقعہ کی دو سال بعد بھی رپورٹ جاری نہیں کی گئی جو بڑی نا اہلی ہے۔ میزائل واقعے کے بعد بھارت نے ذمہ دار تین اہلکاروں کو برطرف کیا تھا مگر رپورٹ منظر عام پر نہ آئی،براہموس میزائل کو پاکستان ایئر ڈیفنس سسٹم نے دیکھ لیا تھا جب وہ فائر ہوا تھا، میزائل کا پاکستان میں گرنا اقوام متحدہ کے آرٹیکل (2)4 کی خلاف ورزی ہے،واقعہ کی مشترکہ تحقیقات کے مطالبے پر بھارت نے کوئی توجہ نہ دی، اس طرح کی غیر ذمہ داری خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے،پاکستان نے اس واقعہ پر صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، افواج پاکستان مستقبل میں بروقت جواب دینے کیلئے مکمل چوکس اور منظم ہیں

    بھارتی حکومت کاکہنا ہے کہ پاکستانی حدود میں براہموس میزائل فائر کرنے کے واقعے پر عالمی سطح پر بھارت اور بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ گئےتھے،واقعے کے بعد برطرف کیے گئےبھارتی فضائیہ کےافسران کی جانب سے دہلی ہائیکورٹ میں برطرفیوں کےخلاف درخواست میں بھارتی حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرواتے ہوئے اعتراف کیا کہ براہموس میزائل گرنے کے واقعے سے پڑوسی ممالک سے تعلقات بھی متاثر ہوئے۔ بھارتی سرکار نے دہلی ہائی کورٹ میں ونگ کمانڈر ابھینو شرما کی جانب سے ملازمت سے برطرفی کی درخواست کے خلاف جواب جمع کرایا جس میں ونگ کمانڈر سمیت تین بھارتی فضائیہ (IAF) افسران کی برطرفی کا جواز پیش کیا گیا،حکومت نے کہا کہ ان افسران کی سنگین غفلت کی وجہ سے حکومت کو 24 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس غلطی کی وجہ سے ریاست کی سلامتی پر وسیع پیمانےپرمنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں بھارتی حکومت نے اعتراف کیا کہ پاکستانی حدود میں میزائل گرنے سے عالمی سطح پر بھارت اور بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ گئےتھے، بین الاقوامی برادری نے بھی واقعے کی تفصیلات جاننے کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھایا تھا۔علاوہ ازیں معاملے کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کی سروس کو ختم کرنے کا ایک شعوری اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا۔

    بھارتی میزائل کا پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ،چین کا تحقیقات کا مطالبہ

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

  • بھارت کا جوہری صلاحیت کے حامل میزائلوں کی خریداری کے معاہدہ

    بھارت کا جوہری صلاحیت کے حامل میزائلوں کی خریداری کے معاہدہ

    نئی دہلی: بھارت نے اپنی بحریہ کے لیے 2 ارب 36 کروڑ ڈالر کی لاگت سے جوہری صلاحیت کے حامل ’’برہموس سپرسونگ کروز‘‘ میزائلوں کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کردئیے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزارت دفاع نے براہموس میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ برہموس ایرو اسپیس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ معاہدے کیے ہیں اور میزائلوں کو بھارتی بحریہ کی جنگی بیڑے اور تربیتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا-

    وزارت نے کہا کہ یہ معاہدہ ان پانچ بڑے سرمائے کے حصول کے معاہدوں میں شامل ہے جس پر بھارتی وزارت دفاع نے ’’میک ان انڈیا‘‘ اقدام کو مزید فروغ دینے کے لیے دستخط کیے تھے، پانچ معاہدوں میں مگ 29 طیاروں کے لیے ایرو انجنوں، قریبی ہتھیاروں کا نظام، اور ہائی پاور ریڈار اور ہندوستانی دفاعی افواج کے لیے شپ بورن برہموس سسٹم کی خریداری شامل ہے۔

    قصور:کچرے کے ڈھیرپرپھینکے گئے نومولود کو آوارہ کتوں نے مار دیا

    مسائل کے حل کیلئے سب کو نیت نیتی سے کام کرنا ہوگا،بلاول بھٹو

    الیکشن 2024: پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،اپسوس سروے