Baaghi TV

Tag: میزبان

  • خواتین سے  بدسلوکی کے الزامات،سی این این کا اینکر برطرف

    خواتین سے بدسلوکی کے الزامات،سی این این کا اینکر برطرف

    خواتین سے بدسلوکی کے الزامات کے بعد سی این این نے اپنے معروف اینکر ڈان لیمن کو برطرف کر دیا-

    باغی ٹی وی : سی این این کے ڈان لیمن نے اعلان کیا ہے کہ انہیں حال ہی میں دوبارہ شروع ہونے والےمارننگ شو میں آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی 17 سال بعد ”برطرف“ کردیا گیا ہےخواتین سے بدسلوکی کے الزامات کے بعد سی این این سے برطرف کیے جانے والے اینکر ڈان لیمن نے نیٹ ورک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سی این این نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مارننگ شو کے شریک میزبان ڈان لیمن سے علیحدگی اختیارکرلی ہے۔

    فاکس نیوزنےاپنے مقبول ترین ٹاپ ریٹیڈ میزبان”ٹککرکارلسن” کو نوکری سے فارغ کر دیا

    57 سالہ لیمن پیر کو معمول کے مطابق اپنے پروگرام میں نظرآئے اور اسی روز ان کی برطرفی کی خبر سامنے آگئی لیمن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سی این این میں 17 سال کام کرنے کے بعد میں نے سوچا تھا انتظامیہ میں سے کسی میں تو اتنی شائستگی ہوگی کہ مجھے براہ راست بتائیں، کسی بھی وقت مجھے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ میں نیٹ ورک میں وہ کام جاری نہیں رکھ سکوں گا جسے میں نے پسند کیا۔

    نیٹ ورک نے برطرفی کی وجہ کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا۔ تاہم پیر کی سہ پہر ایک دوسرے بیان میں لیمن کی وضاحت کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انھیں انتظامیہ سے ملاقات کا موقع دیا گیا ۔

    سوڈان میں آج سے تین روزہ جنگ بندی کا اعلان

    یہ برطرفی ایک اور بڑے ٹی وی میزبان کی رخصت کے بعد سامنے آئی ہے، ڈان لیمن کے اعلان سے چند لمحے قبل فاکس نیوز نے اعلان کیا تھا کہ وہ پرائم ٹائم میزبان ٹکر کارلسن سے علیحدگی اختیارکررہے ہیں۔

    طویل عرصے سے نیٹ ورک کا حصہ رہنے والے لیمن سی این این کےمارننگ پروگرام کے شریک میزبان تھے تاہم رواں سال کے اوائل میں اقوام متحدہ کی سابق سفیر اور جنوبی کیرولائنا کی گورنر نکی ہیلی سے متعلق تبصرے کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    دوران پروازامریکی ائیرلائن کے طیارے سے پرندہ ٹکرا نے کے باعث آگ لگ گئی

    لیمن نے فروری میں کہا تھا کہ نکی ہیلی ’اپنےعروج ’ پرنہیں تھیں، جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ کسی خاتون کو 20، 30 اور شاید 40 سال کی عمر میں اس کے عروج پر سمجھا جاتا ہے ڈان لیمن نے اپنی شریک خواتین میزبانوں پوپی ہارلو اور کیٹلان کولنز کے اعتراضات کے جواب میں مزید کہا تھا کہ میں صرف حقائق بیان کررہا ہوں کہہ رہا ہوں –

    سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں لیمن کو ”ٹیلی ویژن پر سب سے بیوقوف آدمی“ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے فاکس نیوز نے ٹکر کارلسن کی برطرفی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    کینیا میں مبینہ طور پر فاقہ کشی سے مرنیوالے فرقہ کے 47 افراد کی لاشیں …

  • فاکس نیوزنےاپنے مقبول ترین  ٹاپ ریٹیڈ میزبان”ٹککرکارلسن” کو نوکری سے فارغ کر دیا

    فاکس نیوزنےاپنے مقبول ترین ٹاپ ریٹیڈ میزبان”ٹککرکارلسن” کو نوکری سے فارغ کر دیا

    امریکی ٹی وی فاکس نیوز نے اپنے مقبول ترین مگر انتہائی متنازعہ میزبان ٹککرکارلسن اور ان کے سینیئر ایگزیکٹو پروڈیوسر جسٹن ویلز کو فوری طورپر فارغ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: فاکس نیوز کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اور کارلسن نے ’علیحدگی‘ پر اتفاق کیا ہے۔ دو پیراگراف کے مختصر بیان میں اس اچانک فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    کارلسن کا نام ڈومینین ووٹنگ سسٹم کیس میں بھی آیا تھا جبکہ میزبان پران کی سابقہ پروڈیوسر نے جنسی ہراسانی کا الزام بھی لگایا تھا 53 سالہ کارلسن کا آخری ٹی وی پروگرام جمعہ 21 اپریل کو ہوا تھا، امریکی میڈیا کے مطابق میزبان کے شوکو نسل پرست اورامیگرینٹ مخالف تصورکیا جاتا تھا۔

    لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کارلسن کی برطرفی کا فیصلہ’اوپر’ سے آیا ہے، جن میں فاکس کے چیئرمین روپرٹ مرڈوک اور ان کے بیٹے لاچلن بھی شامل ہیں۔

    کارلسن کو ایک انتہائی بااثرشخصیت سمجھا جاتا ہے، ان کے شوزاکثر کنزرویٹوز اورریپبلکن پارٹی کے لیے ایجنڈا طے کرتے ہیں۔ کارلسن کے پروگرام میں امیگریشن، جرائم، نسل، جنس اور جنسیت جیسے معاملات اٹھائے جاتے ہیں وہ فاکس نیوز کے ٹاپ ریٹیڈ میزبان تھے۔

    اگرچہ کارلسن اکثرڈونلڈ ٹرمپ سے عوامی طور پراتفاق کرتے تھے جن کی سیاست نے حالیہ برسوں میں ریپبلکن پارٹی کو تبدیل کردیا ہے ، لیکن وہ کبھی کبھار سابق صدرکے سیاسی خیالات سے اختلاف بھی کرتے دکھائی دیتے تھے۔

    کارلسن کے فاکس نیوز سے جانے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل فاکس نیوز نے 2020 کے صدارتی انتخابات کی کیبل نیٹ ورک کی کوریج پر ووٹنگ مشین کمپنی ڈومینین کی جانب سے ہتک عزت کا مقدمہ نمٹا دیا تھا۔

    مقدمے میں ڈومینین کا موقف تھا کہ فاکس نیوز کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف دھاندلی کے جھوٹے دعوے سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا ہے۔اس کیس نے ٹیکسٹ پیغامات سے متعلق انکشافات کو جنم دیا جو کارلسن کے نجی خیالات کو ظاہرکرتے تھے۔

    ڈومینین کے وکیلوں نے عدالتی دستاویزات میں حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کارلسن کے شو کا کچھ حصہ ہتک آمیز تھا۔ کارلسن کا ٹرمپ کے ساتھ تازہ ترین انٹرویو دو ہفتے قبل سامنے آیا تھا۔ ڈومینین کیس میں انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزبان نے نجی طور پرسابق صدر کے بارے میں کہا تھا کہ ، ’میں ان سے شدید نفرت کرتا ہوں‘۔

    ٹکرکالسن کے فاکس نیوزسے جانے لے اعلان کے بعد نیویارک میں مرڈوک کے زیر کنٹرول کمپنی فوکس کارپوریشن کے حصص کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔ کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ڈومینین کی جانب سے دائر ہتک عزت کا مقدمہ نمٹانے کے لیے 78 کروڑ 70 لاکھ ڈالر (63 کروڑ 10 لاکھ پاؤنڈ) ادا کرے گی۔