Baaghi TV

Tag: میشا شفیع

  • پیکا آرڈیننس کے سیکشن 20 کیخلاف میشا شفیع کی درخواست سماعت کیلئے منظور

    پیکا آرڈیننس کے سیکشن 20 کیخلاف میشا شفیع کی درخواست سماعت کیلئے منظور

    مشیا شفیع جن کا علی ظفر کے خلاف ہراسانی کا کیس چل رہا ہے ابھی تک یہ الزام کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا یعنی عدالتی کاروائی ابھی تک کی جتنی بھی ہوئی ہے اس میں دونوں فریقین میں سے کسی ایک کو سچا یا جھوٹا قرار نہیں دیا گیا ۔تاہم میشا اور علی ظفر دونوں کے پرستار ان کو سوشل میڈیا پر کافی سپورٹ کرتے ہیں لیکن جب سے کیس عدالت میں چل رہا ہے ان فریقین کی طرف سے ایک دوسرے پرالزامات لگانے کا سلسلہ تھم چکا ہے ۔اب حال ہی میں میشا شفیع کے وکیل نے پیکا آرڈیننس کے سیکشن 20کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں دی جسے سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے ۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے میشا شفیع کے خلاف فوجداری کارروائی سے روکتے ہوئے گلوکارہ کی درخواست حکم امتناع جاری کر دیا۔اس حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا کہ اگلی سماعت تک ہتک عزت پر میشا شفیع کے خلاف فوجداری کارروائی روک دی جائے، گلوکارہ کے خلاف سول مقدمہ جاری رہے گا۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی
    یاد رہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسمنٹ کے الزمات لگائے ہیں اور کیس کا فیصلہ تاحال نہیں آسکا۔
    ۔۔۔۔

  • ہتک عزت کیس :عدالت کا میشا شفیع کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

    ہتک عزت کیس :عدالت کا میشا شفیع کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم

    لاہور کی سیشن عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے بذریعہ ویڈیو لنک بیان پر جرح کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے میشا شفیع کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصئلات کے مطابق گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے ہتک عزت کے کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے جرح مکمل کروانے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    میشا شفیع نے قانون کو مذاق سمجھا ہوا ہے،عدالت کا اظہار برہمی

    درخواست میں میشا شفیع نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کینیڈا میں مقیم ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکتی، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت میں بیان پر جرح ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے۔

    عدالت نے میشا شفیع کی درخواست مسترد کردی اور سماعت کے بعد سیشن عدالت نے آئندہ سماعت7 اپریل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ میشا شفیع نے ہتک عزت کے کیس میں جرح مکمل کروانے کے لیے گزشتہ ماہ فروری میں عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ بیرون ملک رہنے کی وجہ سے ان کی جرح ویڈیو لنک کے ذریعے مکمل کی جائے۔

    میشا شفیع کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد

    میشا شفیع کی درخواست پر علی ظفر نے اپنے وکلاء کے ذریعے سیشن کورٹ میں اپنا مؤقف جمع کرواتے ہوئے گلوکارہ کی درخواست کی مخالفت کردی علی ظفر نے عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ میشا شفیع کی درخواست جرمانے کے ساتھ واپس کی جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں تھیں –

    عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

    علی ظفر نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا تھا کہ محترمہ (میشا شفیع) سے بڑی عزت سے صرف ایک سوال پوچھئے گا کہ وہ کیا حقیقت ہے جس کے نمایاں ہوجانے کے ڈر سے وہ عدالت سے اتنے سال کہتی رہیں کہ کووڈ میں کینیڈا سے عدالت نہیں آسکتیں مگر پھر کوک اسٹوڈیو کے لیے فوراً آپہنچیں اور پھر عدالت کو بتائے بغیر اپنی جرح بیچ میں چھوڑ کر واپس چلی گئیں؟-

    سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں…

    علی ظفرکی میشا شفیع کی درخواست جرمانے کیساتھ مسترد کرنے کی استدعا

  • عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

    عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

    لاہور ہائیکورٹ سے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کر دیں جس پر اداکار و گلوکار علی ظفر کا ردعمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع کی ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنےکی درخواست پر سماعت ہوئی ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں-

    میشا شفیع سمیت دیگر نے اپنے خلاف درج ایف آئی اے کے مقدمے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    میشا شفیع نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا جبکہ ایف آئی اے نے ملزمان کا موقف لیے بغیر مقدمہ درج کیا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے۔


    علی ظفر نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا ہے محترمہ (میشا شفیع) سے بڑی عزت سے صرف ایک سوال پوچھئے گا کہ وہ کیا حقیقت ہے جس کے نمایاں ہوجانے کے ڈر سے وہ عدالت سے اتنے سال کہتی رہیں کہ کووڈ میں کینیڈا سے عدالت نہیں آسکتیں مگر پھر کوک اسٹوڈیو کے لیے فوراً آپہنچیں اور پھر عدالت کو بتائے بغیر اپنی جرح بیچ میں چھوڑ کر واپس چلی گئیں؟


    علی ظفر نے ایک اور ٹوئٹ میں مزید کہا کہ اور پھر نہایت احترام سے پوچھیے گا کہ کیا وہ میرے ہرجانے کے کیس میں جہاں ان کو ان کا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا جار ہاہے، اپنی جرح مکمل کروانے کے لیے اس ہفتے کی 12 تاریخ کو عدالت آئیں گی؟ یا پھر سے نہیں آئیں گی؟‘‘۔

  • سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں ادارے پر برس پڑیں

    سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں ادارے پر برس پڑیں

    حال ہی میں نجی خبر رساں ادارے دنیا نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا مہم کیس میں عدالت نے دنیا نیوز میشا شفیع اور لینا غنی کو آخری موقع دیتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں جس کی تردید لینا غنی نے کی ہے-

    باغی ٹی وی : اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لینا غنی کا کہنا تھا کہ سچ کہوں تو یہ سب بہت غیر حقیقی لگتا ہے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن میں ایس اپڈیٹس پوسٹ کعروں گی کہ میں جیل میں نہیں ہوں، کبھی کبھی مجھے اپنی زندگی سے جوڑنا اتنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اگر میں گرفتار ہو جاتی ہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ میرا فون میرے پاس ہو گا اس لیے کال نہ کریں اس کے بجائے پیغام بھیجیں تاکہ میں بعد میں پیغامات پڑھ سکوں –

    لینا غنی نے کہا کہ اس خبر کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟اس بارے میں لینا نے بتایا کہ ایک دوست نے پریشان ہو کر مجھے فون کیا کہ کیا میں جیل میں ہوں جب میں نے بتایا کہ میں نہیں ہوں تو اس نے مذاق کیا کہ وہ مجھے جیل میں ملنے کے لیے ٹفن لے کر تیار ہےلیکن مذاق ایک طرف جب میں نے مضمون پڑھا حالانکہ میں جانتی تھی کہ یہ سچ نہیں ہے پھر بھی مجھے بہت دُکھ ہوا-

    لینا غنی کا کہنا تھا کہ جب بھی ایسی خبریں گردش کرتی ہیں تو میں مختلف انداز میں متحرک ہو جاتایہوں۔ ابھی میں خوش ہوں۔ کیونکہ یہ سست صحافت نہیں یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ یہ بُرائی ہے. اس قسم کی صحافت کا ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ اور یہ تقریباً ہمیشہ ایسے لوگوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے جو بولتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کس طرح کوئی نیوز ایجنسی اس حکم کے باوجود غلط رپورٹنگ کر سکتی ہے کہ وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے میرے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ہمیں اس بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے کہ انہیں دوسرے کیسز کی تفتیش اور رپورٹ کیسے کرنی چاہیے جو شاید اتنے ہائی پروفائل نہیں ہیں۔

    لینا غنی نے دنیا نیوا ہر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا کرنا ہے دنیا ٹی وی؟ آپ کی غلچ اور جعلی رپورٹنگ تو دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے-

    دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلانے کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع کی مستقل حاضری معافی اور پلیٹر مقرر کرنے کی درخواست مسترد کردی مقامی عدالت نے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا-

    علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کی سماعت لاہور کی ضلع کچہری عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک نے کی، جس دوران دونوں فریقین کے وکلا نے دلائل مکمل کیےعدالت میں میشا شفیع نے درخواست دائر کی تھی کہ انہیں مستقل طور پر حاضری سے استثنیٰ قرار دیا جائے گلوکارہ کے وکیل کی جانب سے دائرہ کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع بیرون ملک ہیں، انہیں حاضری سے معافی دی جاٸے اور ان کی جگہ پلیڈر مقرر کرنے کی اجازت دی جائے –

    لاہور کی ضلع کچہری عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک نے تین دن قبل کیس کی سماعت کی تھی، جس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا چار صفحات کے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں عدالت نے ملزمان کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میشا شفیع اور ماہم جاوید کی حاضری معافی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست مسترد کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم حاضری سے ٹرائل متاثر ہو رہا ہے۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میشا شفیع نے قانون اور انصاف کے عمل کو مذاق بنایا ہوا ہے اور وہ عدالت کے ساتھ عدالت سے چھپن چھپائی کھیل رہی ہیں۔

    عدالت نے تحریری فیصلہ میں لکھا کہ میشا شفیع اور ماہم جاوید کی عدم حاضری کے باعث ٹرائل بری طرح متاثر ہورہا ہےعدالت نے میشا شفیع اور ماہم جاوید کو آخری موقع دیتے ہوئے ان کے قابل ضمانت گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیےعدالت نے ادکارہ عفت عمر کی حاضری معافی کی درخواست بھی مسترد کی اور اپنے ریمارکس میں لکھا کہ ملزمان نے درخواست میں قانون کے مطابق بات نہیں کی۔

    عدالت نے ملزمان علی گل پیر اور لینا غنی کی چالان سے بری کرنے کی درخواست بھی مسترد کی اور ریمارکس میں لکھا کہ ملزمان کے جس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے علی ظفر کے خلاف مہم چلائی گئی وہ آج بھی موجود ہےعدالت نے تحریری حکم نامے میں لکھا کہ علی گل پیر اور لینا غنی نے عدالت میں خود تسلیم کیا کہ انہوں نے ٹوئٹس کیں۔

    عدالت نے گلوکارہ کی درخواست مسترد کردی، ساتھ ہی عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے احکامات کو بھی جاری رکھا عدالت نے ملزمہ کو 19 مارچ کو پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا-

    عدالت نے 9 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران میشا شفیع اور ماہم جاوید کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور انہیں پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    گزشتہ سماعت کے دوران ملزمہ عفت عمر، فیضان رضا، حسیم الزمان، فریحہ ایوب، علی گل اور لینا غنی نے حاضری مکمل کروائی تھی اس سے قبل گزشتہ ماہ جنوری میں ہونے والی سماعت میں بھی میشا شفیع پیش نہ ہوسکی تھیں، جس پر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

    مذکورہ کیس میں میشا شفیع نے 21 دسمبر 2021 کو ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جب کہ دیگر ملزمان نے بھی حاضری سے مستثنیٰ سے متعلق عدالت سے رجوع کر رکھا تھا علی ظفر کے خلاف تمام ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کا فیصلہ عدالت نے 24 دسمبر 2021 کو محفوظ کرلیا تھا، جسے ممکنہ طور پر عدالت آئندہ ماہ تک سنائے گی۔

    میشا شفیع اور علی گل پیر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف گلوکار علی ظفر نے سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی منظم مہم چلانے کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کا مقدمہ ابتدائی طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں 2018 میں دائر کروایا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے تقریبا 2 سال تک تفتیش کی تھی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے دو سال تک تفتیش کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دسمبر 2020 میں اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، گلوکار علی گل پیر اور حمنہ رضا سمیت 9 افراد کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

  • سوشل میڈیا مہم کیس : میشا شفیع کی درخواست :اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا:انتظارشروع

    سوشل میڈیا مہم کیس : میشا شفیع کی درخواست :اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا:انتظارشروع

    لاہور:سوشل میڈیا مہم کیس : میشا شفیع کی درخواست پر فیصلہ محفوظ،اطلاعات کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا مہم کیس میں میشا شفیع کی حاضری معافی اور ان کا پلیڈر مقرر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس فیصلے کے بعد بہت سے حالات کےبدل جانے کے امکانات ہیں‌

    دوسری طرف میشا شفیع اور علی ظفر کے کیس کی سماعت کرنے والے جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا، میشا شفیع کے وکیل نے درخواست میں موقف اپنایا کہ میشاء بیرون ملک مقیم ہیں لہٰذا حاضری کی معافی اور ان کی جگہ پلیڈر مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے میشاء شفیع اور ماہم جاوید کی حاضری معافی کی درخواستیں بلاجواز قرار دے کر مسترد کر دی تھیں۔جس کے بعد مشیا شفیع بہت زیادہ دباو میں‌ تھیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے ملزمان کو 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروا کے پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہےعدالت نے ملزمہ عفت عمر، فیضان رضا، حسیم الزمان، فریحہ ایوب، علی گل اور لینا غنی کو بھی طلب کر رکھا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ یہ کیس مزید دلچسپ صورت حال اختیار کرجائے گا

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ایف آئی اے نے علی ظفر کی مدعیت میں میشا شفیع سمیت 8 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا تھا جس کے مطابق میشا شفیع سمیت ملزمان نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کی مہم چلائی، مذکورہ ملزمان اپنی صفائی میں عدالت کے سامنے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکے۔

    دوسری طرف علی ظفر کا کہنا ہے کہ وہ بہت پُرامید ہیں‌ کہ انصاف ان کو سرخرو کرے گا اور وہ کامیاب لوٹیں گے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”466414″ /]

  • جنسی زیادتی کیس : میشا شفیع عدالت کے ساتھ زیادتی کرگئی:عدالت کی طرف سے قابل ضمانت وارنٹ جاری

    جنسی زیادتی کیس : میشا شفیع عدالت کے ساتھ زیادتی کرگئی:عدالت کی طرف سے قابل ضمانت وارنٹ جاری

    لاہور:جنسی زیادتی کیس : میشا شفیع عدالت کے ساتھ زیادتی کرگئی:عدالت کی طرف سے قابل ضمانت وارنٹ جاری،اطلاعات کے مطابق علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کی مہم چلانے کا کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    لاہور کی سیشن عدالت میں میشا شفیع ہتک عزت دعویٰ پر سماعت ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے کیس پر سماعت کی، عدالت کے روبرو پیش نہ ہونے پر میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی کچہری کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔

    عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کو 50ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے، عدالت نے میشا شفیع کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی۔ذرائع کے مطابق میشا شفیع کینیڈا میں ہونے کے باعث عدالت پیش نہیں ہوئیں بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 19 فروری تک ملتوی کردی۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر علی ظفر کے وکیل کو دلاٸل دینے کا حکم دے دیا، مقدمے میں نامزد ملزمہ عفت عمر، فیضان رضا، حسیم الزمان، فریحہ ایوب، علی گل اور لینا غنی نے پیش ہو کر حاضری مکمل کروائی۔

    ایف آئی اے نے علی ظفر کی مدعیت میں میشا شفیع سمیت آٹھ ملزمان کے خلاف چالان پیش کررکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی مگر ملزمان اپنے الزامات کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکے۔

  • میشا شفیع کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد، قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    میشا شفیع کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد، قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور:مقدمے میں میشا شفیع کی جانب سے مجسٹریٹ کے روبرو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ مجسٹریٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    معروف سنگر علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے مقدمے میں لاہور کی مقامی عدالت نے میشا شفیع کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    سوشل میڈیا پر جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں مہم چلانے پر ایف آئی اے نے علی ظفر کی مدعیت میں میشا شفیع کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    مقدمے میں میشا شفیع کی جانب سے مجسٹریٹ کے روبرو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ مجسٹریٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    مجسٹریٹ نے میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو 8 فروری کو طلب کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ میشا شفیع ہتک عزت کے کیس میں 4 اور 5 جنوری کے علاوہ 8 جنوری کو بھی عدالت میں پیش ہوئی تھیں جب کہ 10 جنوری کو بھی وہ عدالت میں پیش ہوئیں مگر کیس کی سماعت نہ ہوسکی اور انہیں اگلی سماعت پر طلب کرلیا گیا۔

    گلوکارہ میشا شفیع 10 جنوری کو بھی عدالت میں جرح کے لیے پیش ہوئیں اور اپنی حاضری مکمل کروائی، فاضل جج کے رخصت پر ہونے کے باعث ڈیوٹی جج نے سماعت کیے بغیر ہتک عزت کیس کی کارروائی ملتوی کردی اور میشا شفیع کو آئندہ سماعت پر دوبارہ عدالت پیش ہونے کا حکم دیا۔

    دوران سماعت علی ظفر کے وکلا نے میشا شفیع کے کیس کو ڈیوٹی جج کو سماعت کا اختیار دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کاروائی کیے بغیر ہی سماعت ملتوی کی۔

    اس سے قبل میشا شفیع 8 جنوری کو بھی جرح کے لیے پیش ہوئی تھیں جب کہ 4 اور تین جنوری کو بھی ان سے جرح کی گئی تھی۔

  • علی ظفرہرجانہ کیس: مجھے واقعے کی تفصیلات یاد نہیں،میشا شفیع کا عدالت میں بیان

    علی ظفرہرجانہ کیس: مجھے واقعے کی تفصیلات یاد نہیں،میشا شفیع کا عدالت میں بیان

    سیشن کورٹ لاہور میں گلوکار علی ظفر کے دعویٰ پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی :گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف سو کروڑ روپے کے دعوی پر سماعت جاری ہے ایڈیشنل سیشن جج خان محمود نے کیس پر سماعت کی گلوکار علی ظفر کی جانب سے علی رضا کاظم سنئیر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے جرح کی-

    علی ظفر کے وکیل نے پوچھا کہ کیا آپ بتا آسکتی ہیں کہ آپ نے رہائشی کے لئے کینیڈا کا ہی کیوں انتخاب کیا ؟ میشا نے کہا کہ یہ میرا اور میری فیملی کا مشترکہ فیصلہ تھا-

    علی ظفر کے وکیل نے پوچھا کہ آپ کے سابقہ مینجر کا نام کیا تھا؟ میشا نے کہا کہ میرے سابق مینجر کا نام فہد الرحمن تھا –

    علی ظفرمیشا شفیع ہراسگی کیس: سماعت کے بعد گواہ عفت عمر میڈیا سے "بھاگ”گئیں

    وکیل نے پوچھا کیا آپ نے اپنے مینجر کے خلاف اپنے پیسے کو لینے کا کیس کیا؟ میشا نئ جواب میں کہا کہ ہم نے اس سے پیسے نکلوا لئے تھے-

    وکیل نے پوچھا آپ کے سابق مینجر نے آپ کے خلاف بلیک میل کرنے کا الزام لگایا تھا ؟ جی بالکل ایسا ہے میشا شفیع نے جواب دیا

    وکیل نے جرح کے دوران پوچھا کہ کیا آپ اس بات کو مانتی ہیں آپ نے اپنے سابق مینجر کو بلیک میل کیا تھا؟ میشا شفیع نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بالکل بھی نہیں میں نے ایسا ہرگز نہیں کیا-

    علی ظفر میشا شفیع کیس: عفت عمرکو جرح کے دوران ایک بار پھر چکر آ گئے

    وکیل نے کہا کہ کیا آپ ثابت کر سکتی ہیں کے آپ کے مینجر نے آپ ساتھ دھوکا کیا اور پیسے لیکر فرار ہو گیا؟ اس بات کے گواہ موقع پر موجود لوگ ہیں اور میں اپنے پیسے لینے کے لئے اس سے رابطہ کیا جو کہ ہرگز بلیک میل نہیں ہے کیا آپ کو پتہ کے آپ کے مینجر کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ آپ اسکو بلیک میل کرتی تھی کیا آپ نے اپنے مینجر کے خلاف کوئی کارروائی عمل لائی؟

    ان سوالات پر میشا نے کہا کہ اس پر میں کوئی جواب نہیں دینا چاہوں گی مجھے نہیں معلوم اس کے پاس کیا ہے اور کیا نہیں اور میں نے اپنے مینجر کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی-

    وکیل نے کہا کہ آپ کے مینجر نے پوسٹ کیا کہ آپ نے ان کو شو شروع ہونے سے پانچ منٹ پہلے سٹیج پر جانے سے منع کردیا، جس پر میشا نے کہا بالکل بھی ایسا نہیں شو اپنے مقرر کردہ وقت پر منعقد ہوا تھا اور میری پرفامنس بہت شاندار تھی-

    عفت عمر کے گھر کھانے کی تصویر عدالت میں پیش،علی ظفر اور میشا شفیع کے وکلاء میں تلخ…

    وکیل نے پوچھا آپ کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے؟ میشا نے کہا جی بالکل جب شو اپنے مقرر وقت پر ہوا اور وہاں پر ہزاروں کی تعداد میں شائقین موجود تھے۔

    وکیل نے پوچھا کیا آپ اپنے نے اپنے مینجر کی پوسٹ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا ؟ میشا نے کہا میں نے ضروری نہیں سمجھا کہ میں خود سے بنائے گئے کسی بھی الزام کا جواب دوں-

    وکیل نے پوچھا کہ کیا آپ نے تالیہ ایس مراز کے بارے سنا ہے؟ میشا نے کہا جی مجھے سنا ہے اور میں نے تقریبا دو دہائیوں کے بعد اسکے بارے میں سنا ہے –

    وکیل نے جرح کی کہ کیا آپ جانتی ہیں انہوں نے آپ پر کیا الزام لگایا تھا؟ میشا نے کہا کہ جی مجھے پتہ ہے پر میں نے وہ پوسٹ خود سے نہیں پڑھیں ہے-

    علی ظفر کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کے مقدمے میں اداکارہ عفت عمر نے عبوری ضمانت…

    وکیل نے کہا کہ تالیہ مراز نے الزام لگایا کہ آپ کا مختلف ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کیساتھ غیر مناسب تعلق ہے- میشا نے کہا یہ بالکل درست نہیں ہے میں اس کے الزام کو نہیں مانتی-

    وکیل نے کہا کہ کیا آپ نے اس پوسٹ کو لوگوں میں آکر ماننے سے انکار کیا؟ میشا نے کہا کہ میں نے آج تک یہ پوسٹ نہیں پڑھیں بس لوگوں سے سناہے-

    علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ آپ نے تالیہ ایس مرزا کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کیوں نہیں کی؟ میشا نے جواب دیا کہ اگر میں ہر الزام پر قانونی کاروائی کرتی رہوں گی تو اپنی زندگی کام اور بچوں پر توجہ نہیں دے سکوں گی اور میرے پاس ہر الزام پر جواب دینے کا وقت نہیں ہے-

    وکیل نے کہا کہ کیا یہ درست ہے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر دوسرے لوگوں پرغلط الزامات لگاتے ہیں اور لوگوں کو تنگ کرتے ہیں، جس پر میشا نے جواباً کہا کہ جی ایسا ہوسکتا ہے-

    دھمکی دینا بند کرو میں ہر بار حقائق اور ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں حقیقت کو بے نقاب کروں گا علی ظفر کا گلالئی اسماعیل کو منہ توڑ جواب

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہورکی سیشن عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع ہتک عزت کے دعویٰ میں پیش ہوئیں، گلوکارعلی ظفر کے وکلا نے میشا شفیع کے بیان پر 5گھنٹے جرح کی تھی میشا شفیع نے مذکورہ کیس میں اپنا بیان دسمبر 2019 میں ریکارڈ کروایا تھا اور اب دو سال بعد ان سے جرح کی جا رہی ہے۔

    جرح کے دوران میشا شفیع نے بتایا کہ میشا شفیع نے بتایا میں کینیڈا کی مستقل رہائشی ہوں نیشنلٹی نہیں ، آخری بار نومبر میں پاکستان آئی، ایک لائیو پرفامنس اور ایک ریکارڈنگ کی،میری آمدنی کا ذریعہ پاکستان ہی ہے 2020 کی کمائی بھی 2021 جتنی ہی تھی میں نہ صرف کینیڈا بلکہ پاکستان میں بھی ٹیکس ادا کرتی ہوں سال 2019 میں میری کمائی ایک کروڑ روپے تک جب کہ 2021 میں 35 لاکھ روپے تک تھی۔

    علی ظفر کےخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے الزام میں میشا شفیع اور عفت عمر سمیت 9 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج

    علی ظفر کے وکلا نے گلوکارہ سے پوچھا کہ 2019 میں نجی مشروب کمپنی کے ساتھ بطور جج کام کرنے سے انہیں کتنی رقم ملی؟ جس پر گلوکارہ نے بتایا کہ انہیں ایک کروڑ روپے تک معاوضہ ملا۔

    گلوکار کے وکلا نے میشا شفیع سے پوچھا کہ کیا مشروب کمپنی سے ان کی رضامندی کے تحت معاہدہ ہوا تھا؟ جس پر گلوکارہ نے بتایا کہ ’ہر سال معاہدہ کیا جاتا ہے اور وہ 2017 اور 2018 میں بھی مذکورہ کمپنی کے ساتھ کام کر چکی تھیں۔

    میشا نے کہا کہ 2018 میں ایک ٹویٹ کیا ، میرا مقصد خود کو محفوظ کرنا تھا نہ کہ شو کی ریکارڈنگ روکنا، میں اپنے کام سے متعلق تمام ذمہ داریاں ادا کرتی ہوں، معاملہ آپس میں حل نہیں ہو رہا تھا اسلئے میں میڈیا پر آئی اور آواز اٹھائی۔

    جرح کے دوران وکلا نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس بات کو مانتی ہیں کہ ان کے کیس کی باعث علی ظفر کو مالی نقصان پہنچا؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ انہیں معلوم ہے کہ ایسا ہوا ہے۔

    لاہور کی سیشن عدالت نے میشا شفیع اور ان کے گواہوں طلب کر لیا

    وکلا نے ان سے دریافت کیا کہ علی ظفر کو کیا نقصانات ہوئے؟ جس پر میشا شفیع نے کہا کہ نام خراب ہو سکتا ہے اور کمائی بھی متاثر ہوسکتی ہے ساتھ ہی میشا شفیع نے جرح کے دوران مزید کہا کہ لیکن اس کے باوجود علی ظفر کی فلم ’طیفا ان ٹربل‘ نے ریکارڈ کمائی کی میری ٹوئٹ کے باوجود علی ظفر کو عالمی برانڈز اور شوبز انڈسٹری کے ایوارڈز دیئے گئے۔

    میشا نے کہا کہ علی ظفر کو صدارتی ایوارڈ دیا گیا جبکہ انہیں گورنر پنجاب کے ’ایمبیسیڈر آف پیس‘ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا وزیر اعظم پاکستان عمران نے بھی علی ظفر کو اپنی ’یونیورسٹی نمل‘ کا ایمبیسیڈر منتخب کیا علی ظفر کو 2018 میں ’شان پاکستان ایوارڈ‘ سے بھی نواز گیا علی ظفر کو یو اے ای کا ’گولڈن ویزا‘ بھی ملا اور شاید وہ ملک کے پہلے آدمی ہیں جس کو ایسے ویزا سے نوازا گیا۔

    گلوکارہ نے جرح کے دوران بتایا کہ علی ظفر نے بہت سارے انٹرنیشنل موبائل برانڈز کے کے ساتھ معاہدے کیے اور ان کے ساتھ کام کیا اور یہ سب کچھ ان کی ٹوئٹ کے بعد ہوا جو کہ علی ظفر کے پچھلے سالوں سے بہت بہتر ہے اتنے سارے ایوارڈز اور شہرت کے بعد انہیں نہیں لگتا کہ علی ظفرکو کوئی مالی نقصان پہنچا ہوگا یا ان کی شہرت خراب ہوئی ہوگی۔

    علی ظفر کے وکیل نے جرح کے دوران میشا سے اس کی واٹس ایپ پیغام جو میشا نے ملاقات کے بعد علی ظفر کو بھیجا تھا جہاں اس نے ہراساں کرنے کے واقعے کا الزام لگایا جس میں کہا گیا تھا "جامنگ میں بہت اچھا وقت گزرا” کے بارے تناظر میں سوال کیا کہ کیا آپ نے بہت اچھا وقت گزارا؟ ہاں یا نہ؟-

    گلوکارہ میشا شفیع سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے والے ایف آئی اے افسر کومعطل…


    وکیل کے اس سوال پر میشا نے کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ وہ کچھ ٹائم لینا چاہتی ہیں میشا نے مزید کہا کہ انہیں واقعات کی تفصیلات یاد نہیں ہیں تاہم گلوکارہ میشا شفیع کے بیان پر جرح مکمل نہ ہوسکی،عدالت نے سماعت آج صبح دس بجے تک ملتوی کردی تھی-

    بعد ازاں میشا شفیع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر سے مصالحت کی خبریں مسترد کردیں انہوں نے کہا کہ میرا یہ یقین ہے زندگی میں جو بھی مشکل وقت آتا ہے وہ اتفاقاً نہیں آتا،یہ ساری مشکل اور ساری ذلت جو میں نے بولنے سے لے کر اب تک دیکھی ہے ،میں خواتین اور بچوں کو کوئی نا کوئی تحفہ دیکر ہی جاؤں گی میں یہ کیس خواتین کے حقوق کیلئے لڑ رہی ہوں، اگر صلح کرنا ہوتی تو عدالت میں تلخ سوالات کا جواب نہ دے رہی ہوتی۔

    علی ظفر نے صارفین سے آن لائن سوشل میڈیا عدالتوں کے بارے میں رائے مانگ لی

    میشا نے کہا کہ پہلے دن سے میرا شوہر اس معاملے پر سب سے بڑا میرا حمایتی ہے،ہمارے معاشرے میں اس طرح کا کیس پہلے کبھی دیکھا نہیں،تجربے کے بعد ہی بندہ سیکھتا ہے،اس کیس کے بعد ہم شاید ہی روشن خیالی کی طرف جا سکیں۔

    واضح رہے کہ خبریں تھیں کہ گلوکارہ اور اداکارہ میشا شفیع جنہوں نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا وہ نجی طور پر اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں2018 میں عالمی می ٹو تحریک کے عروج کے دوران، میشا نے کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کا شکار ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کا الزام علی ظفر پر لگایا۔

    علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے عوامی معافی کا مطالبہ کر دیا۔ کئی سالوں تک غیر حل شدہ کیس اور سماعت کے بعد میشا شفیع اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن عوامی طور پر نہیں اداکارہ میشا شفیع نے دعویٰ کیا کہ اگر علی ظفر بدتمیزی پر معافی مانگیں تو وہ مسئلہ حل کرنے کو تیار ہیں۔

    یاد رہے کہ میشا شفیع سے قبل ان کی والدہ صبا حمید بھی مذکورہ کیس میں جرح مکمل کر چکی ہیں جب کہ ان سے قبل علی ظفر اور ان کے تمام گواہان بھی 2019 میں ہی جرح مکمل کر چکے تھے۔

    انڈسٹری میں گالیاں کس نے دیں؟ میشا شفیع کی گواہ عفت عمر سے وکیل کی جرح،کیا ملا…

    اسی کیس میں میشا شفیع نے اگست 2019 میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں متعدد مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا اور پہلی مرتبہ گلوکار نے انہیں اپنے سسرالیوں میں ہونے والی پارٹی کے دوران نامناسب انداز میں چھوا تھا۔

    اسی طرح ان کے شوہر محمد محمود نے جنوری 2020 میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا اور اب تینوں افراد سمیت میشا شفیع کے دیگر گواہوں سے بھی علی ظفر کے وکلا جرح کریں گے۔

    میشا شفیع کے بعد ان کے شوہر اور ان کے دیگر گواہوں کی جرح مکمل ہوگی، جس کے بعد ممکنہ طور پر عدالت مذکورہ کیس کا فیصلہ سنائے گی۔

    علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا کیس اس وقت دائر کیا تھا جب کہ اپریل 2018 میں گلوکارہ نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، جنہیں انہوں نے مسترد کردیا تھا۔

    بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس پر گزشتہ ساڑھے تین سال سے سماعتیں جاری ہیں۔

    سموکنگ ویڈیو لیک ہونے پر علیزے شاہ نے بڑا فیصلہ کر لیا

  • "شریف سیاستدانوں” کے بعد گلوکاربھی عدالتوں کو چکردینے لگے:چکرا دینی والی چکردے گئی

    "شریف سیاستدانوں” کے بعد گلوکاربھی عدالتوں کو چکردینے لگے:چکرا دینی والی چکردے گئی

    لاہور:”شریف سیاستدانوں” کے بعد گلوکاربھی عدالتوں کو چکردینے لگے:چکرا دینی والی چکردے گئی ،اطلاعات کے مطابق معروف گلوکارہ میشا شفیع نے دبئی کنسرٹ میں میں شرکت کا اعلان کردیا جبکہ عدالت بلاتی ہے تو وہ حیلے بہانی کرکے عدالت میں پیش نہیں ہوتیں۔

    ذرائع کے مطابق گلوکارہ میشا شفیع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ’28 تاریخ کو دبئی ایکسپو میں کنسرٹ کے لیے آرہی ہوں، واضح رہے کہ علی ظفر کیس میں میشا شفیع عدالت کو مسلسل حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دے چکی ہیں۔

    یہ بھی یاد رہےکہ اس سے پہلے عدالت نے مستقل حاضری کی میشا شفیع کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔

    ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس سےقبل کئی بار عدالت نے انہیں بلایا تھا تو میشا شفیع نے کہا تھا کہ سفری اخراجات نہیں کرسکتی، علی ظفر کی جانب سے سفری اخراجات اٹھانے کی پیشکش پر بھی وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئی تھیں۔

     

     

    واضح رہے کہ میشا شفیع کی جانب سے سوشل میڈیا پر علی ظفر پر الزامات کا کیس زیر سماعت ہے، علی ظفر کی جانب سے عدالت میں میشا شفیع کو طلب کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

    درخواست میں گلوکار نے موقف اختیار کیا کہ میشا شفیع اتوار کو کنسرٹ کے لیے دبئی جارہی ہیں پیر کو انہیں طلب کیا جائے۔

    میشا شفیع کو عدالت کی جانب سے پیر کے روز پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میشا شفیع پیر کے روز عدالت میں پیش ہوں ورنہ کارروائی ہوگی۔

     

  • میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیاں شدید گولہ باری ، جنگ کی  تیاریاں  ، علی ظفر کو اس جنگ میں 200 کروڑ کا نقصان ہوسکتا ہے

    میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیاں شدید گولہ باری ، جنگ کی تیاریاں ، علی ظفر کو اس جنگ میں 200 کروڑ کا نقصان ہوسکتا ہے

    لاہور:گلوکارہ اوراوراداکار ایک ہی فیلڈ کے دوشہسوار مگر اگر مزاج مختلف ہوں تو پھر کوشش کے باوجود بھی یہ مزاج اکھٹے نہیں رہ سکتے جیسے گلوکارہ میشا شفیع اور اداکار علی ظفر نے کر دکھایا ، اطلاعات ہیں کہ گلوکارہ میشا شفیع نے ادکار وگلوکار علی ظفر پر 2 سو کروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کردیا۔ میشا شفیع اور علی ظفر نے ایک دوسرے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کردیا ہے

    میشا شفیع کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سیشن کورٹ میں گلوکارعلی ظفر کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ علی ظفر کے جھوٹے الزامات سے میری شہرت کو نقصان پہنچا

    ذرائع کے مطابق گلوکارہ میشا شفیع کا کہنا تھا کہ علی ظفر نے میڈیا پر میرے خلاف مختلف جھوٹے الزامات عائد کیے اور علی ظفر نے کہا کہ میشا شفیع نے پیسوں اور لالچ میں آکر جنسی ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں قانون اور معزز عدالت کا اخترام کرتی ہوں

    اداکارہ حمائمہ ملک کی محبت ، کی محبت بھری داستان ، بن گیا سلطان

    میشا شفیع کی طرح اداکار وگلوکار علی ظفرنے بھی عدالت کو صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک شریف شہری ہوں اور میشا شفیع جھوٹی خاتون ہے، میشا نے کینڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے مجھ پر جھوٹا الزام عائد کیا جب کہ میں قانون اور عدالت کا احترام کرتا ہوں لیکن میشا شفیع قانون اور عدالت کو نہیں مان رہی۔