Baaghi TV

Tag: میوزک

  • گلوکار ساحر علی بگا اور یوکرینی گلوکارہ کے گانے کی تیاریاں شروع

    گلوکار ساحر علی بگا اور یوکرینی گلوکارہ کے گانے کی تیاریاں شروع

    کراچی: پاکستانی گلوکار ساحر علی بگا اور یوکرینی گلوکارہ و اداکارہ کمالی کا نیا پنجابی ریمکس گانا ”لٹھے دی چادر” ریلیز کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔

    باغی ٹی وی: نعمان حیدر کی پروڈکشن میں بننے والے گانے کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹین آرم میوزک پلیٹ فارم سے ریلیز کیا جائے گا، اس گانے کی تحریر و کمپوزیشن عرفان سلیم کی جبکہ میوزک مجتبیٰ علی نے ترتیب دیا ہے۔

    گلوکار ساحر علی بگا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے پہلے گانوں کی طرح یہ پنجابی ثقافت کا ہردلعزیز گانا "لٹھے دی چادر” ایک یادگار گیت ثابت ہوگا اس کی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ نے بھی ساتھ پرفارم کیا ہے، اس گانے کی پروڈکشن بین الاقوامی معیار کے مطابق کی گئی، میوزک کے دلدادہ افراد کو اچھی موسیقی کے ساتھ اپنا کلچر بھی دیکھنے کو ملے گا۔

    سارہ خان اور بلال عباس بھارتی ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے

    جوانی میں کئی بار خود کشی کا سوچا،مجھے اپنی زندگی بیکار لگتی تھی،اے آر رحمان

    منگنی شدہ اداکارائیں میرے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیتی تھیں،آغا علی

  • میوزک بجانے پر چھ افراد گرفتار

    میوزک بجانے پر چھ افراد گرفتار

    افغان طالبان کی اخلاقی پولیس نےموسیقی بجانے کے الزام میں چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مقامی نشریاتی ادارے ’طلوع نیوز کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ شمالی صوبے بلخ میں پیش آیا جہاں ایک گھریلو نوعیت کی تقریب جاری تھی۔ جبکہ عالمی میڈیا طالبان کے ایک مقامی اہلکار کے مطابق ان افراد کو افغان شہر مزار شریف سے گرفتار کیا گیا ہے جہاں ایک گھریلو تقریب میں موسیقی بجائی جا رہی تھی۔

    تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔ طالبان حکومت موسیقی کے فروغ کو بدعنوانی کی ایک شکل قرار دیتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موسیقی نوجوانوں کی گمراہی اور معاشرے کی تباہی” کا سبب بنتی ہے۔

    جبکہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے قومی ٹیلی وژن پر بھی موسیقی نشر کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ حال ہی میں شادی ہال کے مالکان کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ موسیقی کا اہتمام کرنے سے گریز کریں۔ شادیوں اور اسی طرح کی دیگر تقریبات میں سخت گیر احکامات سے متصادم سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ کئی افغان فنکار اور موسیقار مغربی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار
    میں آج تک اقربا پروری کا شکار نہیں‌ہوئی غنا علی
    انڈر 23 ایشین کپ 2024 کوالیفائرز کیلئے 23 رکنی سکواڈ کا اعلان
    حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
    تاہم اس سے قبل افغانستان کے صوبہ ہرات سے افغان طالبان کی جانب سے موسیقی کے آلات جلانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ یاد رہے کہ افغان طالبان نے اقتدار سنبھالتے ہی خواتین کے تعلیم حاصل کرنے سمیت موسیقی اور گلوکاروں پر سخت ترین پابندی عائد کی تھی۔

  • 2 جولائی  گلوکار محمد عزیز کا یوم پیدائش

    2 جولائی گلوکار محمد عزیز کا یوم پیدائش

    محمد عزیز (پیدائش: 2 جولائی 1954) بالی ووڈ، بنگالی اور اوڈیا فلمی صنعتوں میں ایک ہندوستانی پلے بیک گلوکار ہے۔ ان کا عرفی نام مُنّا اور اصل نام سید محمد عزیز النبی ہے۔ موسیقی اور محمد رفیع کے پرجوش عاشق ہونے کی وجہ سے انہوں نے بچپن سے ہی گانا شروع کر دیا، عزیز نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بنگالی زبان کی فلم جیوتی سے کیا۔ وہ 1984 میں ایک پروڈیوسر کے رشتہ دار کے حوالے سے ممبئی آئے تھے۔ ان کی پہلی ہندی فلم امبر (1984) تھی۔

    عزیز نے اپنے میوزیکل کیریئر کا آغاز کولکتہ کے ریسٹورنٹ غالب بار میں بطور گلوکار کیا۔ انہیں اس وقت وقفہ ملا جب میوزک ڈائریکٹر انو ملک نے انہیں بالی ووڈ اداکار امیتابھ بچن کی اداکاری والی فلم مرد کا گانا مرد تنگے والا گانے کے لیے لیا۔ لوگوں نے سوچا کہ یہ شبیر کمار کا گانا ہے اور گانا ہٹ ہو گیا اور عزیز مقبول گلوکار بن گئے۔ عزیز اوڈیا فلم انڈسٹری میں مصروف ہیں۔ انہوں نے 1985 سے کئی اوڈیا بھجن، نجی البمز، اور اوڈیا فلمی گانے گائے ہیں۔ ان کے کچھ اوڈیا بھجن مشہور ہیں۔ انہوں نے ہندوستان اور بیرون ملک اسٹیج شوز کیے ہیں اور انہیں بہترین مرد پلے بیک گلوکار کے ایوارڈ کے لیے دو مرتبہ نامزد کیا گیا ہے۔ محمد عزیز لکشمی کانت پیارے لال کے بہت قریب تھے۔ لکشمی پیارے کے بعد، ان کا کیریئر نیچے چلا گیا اور دوسرے میوزک ڈائریکٹر کمار سانو، ادت نارائن جیسے دوسرے گلوکاروں کو لینے لگے۔

    اپنے عروج پر، وہ محمد رفیع کا وارث سمجھا جاتا تھا۔ وہ ان نایاب گلوکاروں میں سے ایک ہیں جو ساتویں نوٹ (ساتواں سر) میں گا سکتے ہیں – جیسے ان کا گانا "سارے شکوے گلے بھلا کے کہو” ہے۔ لکشمی پیارے نے انکی صلاحیت کو بہت جلد پہچان لیا اور انہیں اپنی بہت سی فلموں میں دہرایا۔
    انہوں نے مشہور اداکاروں جیسے کہ امیتابھ بچن، گووندا، رشی کپور، متھن چکرورتی اور کئی دیگر کے لیے پلے بیک سنگنگ کی ہے۔ بالی ووڈ میں، لتا منگیشکر، آشا بھونسلے، انورادھا پوڈوال اور کویتا کرشنامورتی جیسی معروف خاتون گلوکاروں کے ساتھ ان کے جوڑے خاص طور پر بعد کے دو گانے بے حد مقبول رہے ہیں۔ موسیقی کی باصلاحیت جوڑی لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ ان کا تعاون اس حد تک کامیاب رہا ہے کہ انہیں 1980 کی دہائی کے آخری اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں اپنے عروج پر محمد رفیع کا وارث سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے رابن سے شادی کی اور ان کی ایک بیٹی ثنا عزیز ہے۔
    محمد عزیز کا انتقال ممبئی میں 27 نومبر 2018 کو دل کا دورہ پڑنے سے ہوا، ان کی عمر 64 سال تھی۔

    ان کے چند ہٹ گانے یہ ہیں:

    1. تو مجھے قبول میں توجھے قبول (خدا گواہ)
    2. جانے دو جانے دو مجھے جانا ہے (شہنشاہ)
    3. اے جی او جی لو جی سنو جی (رام لکھن)
    4. پھول گلاب کا لاکھوں میں ہزاروں میں (بیوی ہو تو ایسی)
    5. میں تیری محبت میں پاگل ہوجاؤنگا مجھے ایسا لگتا ہے (تری دیو)
    6. انگلی میں انگوٹھی انگوٹھی میں نگینہ (رام اوتار)
    7. تیری بےوفائی کا شکوہ کرو تو یہ (رام اوتار)
    8. ایک آندھیرا لاکھ ستارے (آخیر کیوں)
    9. مجھکو پینا ہے پینے دو (پھول اور انگارے)
    10. دل کس نے تورا یوں تنہا کس نی چھوڑا (دیاوان)
    11. جب جب تیری نظر سے ملتی ہے میری نظر (رکھ والا)
    12. میٹھی میٹھی سردی ہے (پیار کیا ہے پیار کریں گے)
    13. میںہ سے مینا سے نہ ساقی سے (خودغرض)
    14. لو جا رہا ہے کوئی (اولاد)
    15. تو کل چلا جائے گا (نام)
    16. ہم تمہیں اتنا پیار کریں گے (بیس سال بعد)
    17. پیار ہمارا امر رہا گا (مدت)
    18. ساون کا مہینہ آیا (ای ملن کی رات)
    19. تم سے بنا میرا جیون (خطروں کی کھلاڑی)
    20. اے وطن تیری لے (کرما)

  • آڈیو ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)آڈیو اور ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے یہ کسی کی بھی ہوں صحیح ہوں یا فیک کیا ہم نوجوان نسل کو کس طرف لے کر جارہے ہیں۔ کسی بھی ملک کے نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں کیا ہم ان کا مستقبل سنوار رہے ہیں کیا آنے والا کل پاکستان کا نوجوان سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔ مغربی ممالک کو گالیاں دینے والے مذہبی ٹھیکیدار کہاں ہیں؟ ملک کو کنگال کرنے کے بعد اب ملک کے مستقبل نوجوانوں سے یہ گندہ کھیل جاری ہے جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جاسکتا،

    آلودہ فضا سے بیمار ہونے والوں میں کراچی کی عوام سرِ فہرست ہے:ماہرین صحت نے…

    بلاشبہ سوشل میڈیا نے ابلاغی مقام حاصل کرلیا ہے روایتی صحافت پیچھے رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کو تعمیری کام کے لئے استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر افراد پر تیشہ زنی کی جگہ امن‘ حیا‘ پاکیزگی‘ رشتوں کے احترام کی بحالی معاشرے سے فحاشی اور عریانی کو ختم کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی جائیں۔ اس سلسلے میں علماء اور مشائخ اپنا کردار ادا کریں۔ اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشرے کو درپیش اہم مسائل خاندانی نظام کا تحفظ‘ بزرگوں کا احترام‘ معاشرتی رواداری‘ عریانی اور فحاشی کے رائے عامہ کی بیداری بچوں کی تربیت کی آگاہی کی طرف توجہ دیں۔ عالمی دنیا میں اجازت کے بغیر کسی کی نجی زندگی سے متعلق معلومات کو شیئر کرنا قانونی طور پر قابل سزا جرم ہے۔

    کورونا کی پھرسے ابھرتی لہر:قبرستان بھرگئے:چینی حکومت نئے قبرستانوں کا سوچنے لگی

    کیا اس کو سیاست کہتے ہیں یہ زوال ہے سیاستدان ہوش کے ناخن لیں ملک کے مستقبل نوجوان نسل کو کیسی تربیت دی جارہی ہے۔ گجرات کے چوہدری ہوں یا عمران ہو یا آصف علی زرداری ہو یا پھر مسلم لیگ (ن) ہو خدارا اس ملک پر رحم کریں نوجوان نسل کا اور اس ملک کا مستقبل یہ نوجوان بچے اور بچیاں ہیں اقتدار کی خاطر ان سے کھیلنا بند کریں۔ اس طرح کے کھیل تماشے سیاست نہیں جمہوری زوال کا نام دیا جاسکتا ہے۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج میوزک کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج میوزک کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    1982میں میوز ک کے عالمی دن منانے کا آغاز ہوا ،تب سے آج تک پوری دنیا میں اکیس جون کو میوزک کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے میوزک کے متوالے اس دن کو بھرپور انداز میں مناتے ہیں۔پاکستان کی دھرتی پر بننے والا میوزک پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے یہاں کے گلوکار ہوں یا میوزیشنز سب نے پاکستان کا نام اپنے کام اپنے سروں کی بنا پر روشن کیا۔ آج کے دن ملک بھر میں موسیقی سے جڑے افراد تنظیموں کے اہتمام منعقد کئے جانے والی تقریبات کا حصہ بنیں گے ۔اس دن کو منانے کا مقصد تمام ملکوں کی ثقافت کو موسیقی کے زریعے اجاگر کرنا ہے ۔ پاکستانی موسیقی کی بات کی جائے تو یہاں عظیم گلوکار اور موسیقار گزرے ہیں جنہوں نے

    اپنے زمانے میں آگے کے سو سال کا کام کیا ان کے بنائے ہوئے گیت آج بھی مقبول ہیں۔میوزک کو روح کی غذابھی کہا جاتا ہے اچھا میوزک انسان کے موڈ کو مزید اچھا کر دیتا ہے ۔میوزک کے اس عالمی دن کے حوالے سے ہم امید کرتے ہیں کہ آج کے دن موسیقی کے فروغ اور اسکو در پیش مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا جائے گا بلکہ اس کا حل بھی نکالا جائیگا ۔کچھ گلوکار ایسے گزرے ہیں جن کا نام ان کے کام کی وجہ سے رہتی دنیا تک رہے گا اس میں نور جہاں، مہد ی حسن ، نصرت فتح علیخان اور رفیع لتا و دیگر قابل ذکر ہیں۔

  • یوارڈ نہ ملنے کی وجہ سے کے کے کبھی پریشان نہیں ہوئے تھے:شنکر مہادیون

    یوارڈ نہ ملنے کی وجہ سے کے کے کبھی پریشان نہیں ہوئے تھے:شنکر مہادیون

    میوزک ڈائریکٹر شنکر مہادیون نے ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ میرے اور کے کے کے درمیان بہت زیادہ دوستی تھی یہاں تک کہ ہم فلموں میں بھی نہیں آئے تھے جب سے ہماری دوستی تھی ۔ہم ایکدوسرے کے ساتھ مل کر جنگلز گایا کرتے تھے اور ایسے ہی تجربات بعد میں فلموں میں بھی کئے۔ شنکر نے یہ بھی بتایا کہ کے کے بہت زیادہ فیملی کے ساتھ رہنے والے انسان تھے ان کے پاس جو بھی فری وقت ہوتا تھا،پارٹیوں میں جانے کی بجائے فیملی کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دیتے تھے ۔وہ باقاعدہ طور پر اپنے کام سے کچھ دنوں کا وقفہ لیکر فیملی کے ساتھ رہتے تھے وہ سوشل میڈیا کے بھی شوقین نہیں تھے یہاں تک کہ ان کے پاس وٹس ایپ نمبر بھی نہیں تھا انہیں اگر کال کرنی ہوتی تھی تو ڈائریکٹ نمبر پر کرنی پڑتی تھی ۔

    شنکر نے یہ بھی کہا کہ کے کے نے بہت اچھا گایا لیکن جس حساب سے اچھا گایا اس حساب سے انہیں ایوارڈز نہیں ملے اور یہ چیز ان کو کبھی پریشان نہیں کرتی تھی وہ اپنی دھن میں مست رہتے تھے اور کام کرتے رہتے تھے ۔ کے کے شوز کے معاملے میں بھی بہت سلیکٹیو تھے ہر کسی کا شو نہیں کر تے تھے .
    واضح رہے کہ گلوکار کے کے گزشتہ دنوں دل کا دورپ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے ان کے انتقال کی خبر سن کر نہ صرف بالی وڈ بلکہ پاکستان کی شوبز انڈسٹری اور پرستار دکھی ہیں.

  • کوک اسٹوڈیو سیزن 14 کا گانا”پسوڑی” پاکستانی پاپ  کیلئے دنیا بھر میں ڈور اوپنر قرار

    کوک اسٹوڈیو سیزن 14 کا گانا”پسوڑی” پاکستانی پاپ کیلئے دنیا بھر میں ڈور اوپنر قرار

    بین الاقوامی خبررساں ادارے "دی گارجئین” نے اپنے حال ہی میں شائع کئے گئے آرٹیکل میں پاکستانی گلوکار علی سیٹھی اور گلوکارہ شائی گل کے عالمی سطح پر ہٹ گانے "پسوڑی” کو پاکستانی پاپ کے لیے دنیا بھر میں ڈور اوپنر قرار دیا ہے-

    باغی ٹی وی : دی گارجئین میں شائع کردہ پسوڑی کے بارے لکھے گئے آرٹیکل میں کہا گیا کہ اسلام آباد کے ریڈیو اسٹیشنوں سے لے کر دہلی کے نائٹ کلبوں اور کھٹمنڈو میں ہاؤس پارٹیوں تک، یہ ایک ایسا گانا ہے جس سے بچنا حالیہ مہینوں میں ناممکن ہےجیسے ہی پاکستانی گلوکار علی سیٹھی اور ان کی ساتھی شائی گل کی طرف سے پسوڑی کی مخصوص دھنیں سنائی دیتی ہیں، اکثر اس کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔

    اور یہ صرف جنوبی ایشیا میں نہیں ہے فروری میں ریلیز ہونے کے بعد سے، یہ گانا، جو روایتی اور جدید موسیقی کے اثرات کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، ایک عالمی رجحان بن گیا ہے اور سالوں سے پاکستان کی مقبول ترین موسیقی کی برآمدات میں سے ایک ہے اسے یوٹیوب پر 111 ملین سے زیادہ بار دیکھا سنا گیا، یہ سپاٹی فائے کے عالمی وائرل چارٹس میں سرفہرست ہونے والا پہلا پاکستانی گانا تھا، اور اس کے آفیشل عالمی گانوں کے چارٹ میں جگہ بنانے والا پہلا پاکستانی گانا تھا۔

    سیٹھی، ایک کلاسیکی تربیت یافتہ موسیقار کے ساتھ ساتھ ایک گلوکار، موسیقار اور افسانہ نگار، پاکستان کے مقبول ترین پاپ اسٹارز میں سے ایک بن گئے ہیں، حالانکہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ وہ خود کو ایک "ایک ڈائاسپورک آواز” کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    یہ گانا سرحدوں کو عبور کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے، خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان، ثقافت کی ایک طویل روایت کو جاری رکھتے ہوئے ان دونوں ممالک کو متحد کیا گیا ہے جہاں سیاست ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ بھارت میں، پاکستانی ڈیلی سوپ سب سے زیادہ مقبول ٹیلی ویژن شوز میں سے ہیں، جب کہ پاکستان میں لوگ بالی ووڈ فلموں اور موسیقی کو شوق سے دیکھتے اور سنتے ہیں-

    13 سال بعد "اوتار2” کا پہلا ٹیزر جاری

    پسوڑی، جس کا تقریباً ترجمہ "مشکلات” کے طور پر ہوتا ہے، سیٹھی کے انکاؤنٹرس سے آیا جو بھارت اور پاکستان کے درمیان موجود اکثر ناقابل تسخیر دیواروں کے ساتھ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بھارت کا دورہ کرنے اور پرفارم کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ غزلیں ممنوعہ محبت کی پرانی کہانی پر مبنی ہیں، اور پنجابی میں لکھی گئی ہیں، جو ہندوستان اور پاکستان دونوں میں بولی جانے والی زبان ہے۔

    علی سیٹھی نے کہا کہ یہ کئی سالوں سے میری زندگی میں چل رہا ایک تھیم رہا ہے مجھے اپنے ہندوستانی مداحوں اور دوستوں کے ساتھ پردے کے ذریعے مشغول ہونا پڑا، ایسا نہ ہو کہ ہم ان انتہا پسند عناصر کی توجہ مبذول کر لیں جن کا کام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سخت سرحد کو برقرار رکھنا ہے۔ "لہذا میں کئی مہینوں سے ممانعت کے موضوع پر غور کر رہا تھا۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کلاسیکی اور لوک روایات جن پر گانا گایا جاتا ہے، جس میں قوالی موسیقی کی صوفی روایات بھی شامل ہیں، تقسیم سے بہت پہلے آچکی تھیں اور اس لیے ان کو ہندوستانی یا پاکستانی کے طور پر مرتب نہیں کیا جا سکتا تھا، اور اس کے دونوں اطراف میں صدیوں پرانی جڑیں تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسا گانا لکھنا چاہتے تھے جو "کلاسیکی محسوس ہو لیکن عصری زندگی سے بھی مطابقت رکھتا ہو”، لیکن اعتراف کیا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ پورے خطے میں اتنا مقبول ہو جائے گا۔

    عید کے تہوار پر پہلا حق پاکستانی فلموں کا ہے، امر خان

    علی سیٹھی لاہور کے ایک اعلیٰ اور پڑھے لکھے گھرانے سے ہیں، ہارورڈ میں تعلیم حاصل کی اور اب نیویارک میں رہتے ہیں نے انہیں اور ان کی موسیقی کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جو پاکستان کے بہت سے دوسرے فنکاروں کو نہیں ملتا تھا۔

    ذوالفقار جبار خان، جو کوک اسٹوڈیو کے اس حالیہ سیزن کے پروڈیوسر اور کیوریٹر، زلفی کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے کہا کہ جس لمحے انہوں نے پسوڑی کو سنا تھا، میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر جوش و خروش دوڑ رہا ہے میں نے اسیٹھی سے کہا کہ جب لوگ اسے سنیں گے تو وہ نہیں جان پائیں گے کہ انہیں کس چیز نے متاثر کیا اور یہ گانا عالمی سطح پر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    زلفی نے کہا کہ پسوڑی کی مقبولیت نے پاکستانی پاپ میوزک کے لیے "محبت کے عالمی دروازے” کھول دیے ہیں اور "چارٹس کو بار بار دیکھنے کا موقع بھی کھل گیا ہے”۔

    انہوں نے کہا کہ ایمانداری سے میں مستقبل کے لیے بہت پرجوش ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ پاکستان دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہم ایسا کرتے رہیں، ہمیں اپنے ترقی پسند اور فنکارانہ پہلو کو دنیا تک پہنچاتے رہنا چاہیے۔

    پاکستانی فلموں کی ریلیز کا معاملہ :جاوید شیخ کا وزیر اعظم سے معاملے پر ایکشن لینے…