Baaghi TV

Tag: میونخ

  • میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی۔میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

    جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر گئی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے۔ یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے۔ اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین۔امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔ امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

    پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی۔جرنل عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکیات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے۔ جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت، اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے۔

    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے۔ عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا۔

    پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے۔ سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں۔

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس،توازن کا آئینہ دار فورم!

    بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ،دنیا کو پرامن بنا دیں گی؟
    کانفرنس میں فیلڈ مارشل کی موجودگی،پاکستان عالمی اتحادکیلئے ناگزیر
    دنیا تیزی سے بدل رہی،اسلام آباد محض مبصر نہیں،فعال فریق ہے

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرہی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے،یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے،اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی،جب روس،یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین،امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں،کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیاء کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے،امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا،اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے،پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے،جنوبی ایشیاء کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لئے اہمیت رکھتا ہے،پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے،یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے،عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا،پاکستان کے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے،سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے،اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں گے

  • ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود ایران کیساتھ مذاکرات کے نئے دور کیلئے تیار ہیں ،سعودی وزیرخارجہ

    ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود ایران کیساتھ مذاکرات کے نئے دور کیلئے تیار ہیں ،سعودی وزیرخارجہ

    میونخ: سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کے 4 ادوار میں ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود مذاکرات جاری رکھیں گے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کےمطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2016 سےتعلقات منقطع ہیں دونوں ملکوں نے تعلقات کی بحالی کے لیے گذشتہ سال عراق کی میزبانی میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا میونخ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے چار ادوار میں ناکامی کے باوجود پانچویں دور میں شریک ہوں گے۔

    تاہم سعودی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ بحال ہوا تو اس اقدام کو علاقائی خدشات دور کرنےکے لیے یہ’’نقطہ آغاز ہونا چاہیے نہ کہ اختتامی نقطہ‘‘ الریاض ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے حتمی طور معاملات طے پانے کے لیے ایران کو ہمسایہ ممالک بنیادی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ خواہش کا اظہار کرنا ہوگا انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک نیاطریقہ کار تلاش کرلیا جائے گا۔

    اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے شکوہ کیا کہ اب تک ایران کی جانب سے ان نکات پر ٹھوس پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ جو دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے لیے بے حد ضروری ہے۔

    شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایران حوثیوں کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون کے پرزوں کے ساتھ ساتھ روایتی ہتھیار بھی مہیا کرتارہا ہے جبکہ ایران اور حوثی گروپ دونوں اس الزام کی تردید کرتے ہیں انھوں نے یمن میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں تعطل کا شکار امن کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس تنازع کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے لیکن اس کے باوجود ہم پرعزم ہیں اور ہم اقوام متحدہ کے ایلچی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی دھماکہ خیز مواد سےبھری کشتی تباہ کردی

    میونخ میں کانفرنس سےا یران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بھی خطاب کیا، انھوں نے بھی اس خواہش کا اعادہ کیا کہ ایران جتنا ممکن ہو اتنی جلدی ایک اچھے معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم ایسا تب ہی ممکن ہے جب دوسرا فریق بھی سیاسی فیصلہ کرے ۔

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا امریکا فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرے۔

    قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی سربراہی کرنے والے رابرٹ مالے نے ایران سے 4 امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جسے ایران نے امریکا میں قید اپنے شہریوں سے مشروط کیا تھا۔

    قبل ازیں جرمن چانسلر اولف شولز نے بھی اس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے حکمرانوں کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، ابھی خود پر پابندیاں ہٹانے کے لیے ایران کے پاس کچھ وقت بچا ہے تاہم جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    مسئلہ فلسطین: اسرائیل کا اقوام متحدہ سے تعاون نہ کرنے کا اعلان

    خیال رہے سعودی عرب شیعہ ایران کی یمن کی جنگ اورلبنان کے علاوہ خطے بھر میں مداخلت پر نالاں ہے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت نے بیروت کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کونقصان پہنچایا ہے اور سعودی عرب کے علاوہ یواے ای کے بھی لبنان کے ساھ تعلقات سردمہری کاشکار ہیں ۔

    رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے صدرابراہیم رئیسی نے کہا تھا کہ اگرالریاض باہمی افہام و تفہیم اور احترام کے ماحول میں مذاکرات کے انعقاد پر آمادہ ہے تو تہران مزید بات چیت کوتیار ہے۔

    واضح رہے کہ 2019ء میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔سعودی عرب نے ایران پراس حملے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ تہران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ یمن بحران پر اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے جہاں سعودی عرب سمیت عرب اتحاد ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف لڑ رہا ہے۔

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط