Baaghi TV

Tag: میو اسپتال

  • مریم نواز  کی طبیعت ناساز،علاج کیلئے  میو اسپتال پہنچ گئیں

    مریم نواز کی طبیعت ناساز،علاج کیلئے میو اسپتال پہنچ گئیں

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کندھے کی تکلیف کی وجہ سے میو اسپتال پہنچ گئیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے عام مریضوں کی طرح اپنی پرچی اسپتال کے کاؤنٹر سے خود بنوائی،مریم نواز کو کندھے میں تکلیف کے باعث اسپتال لایا گیا جہاں انکی ایم آر آئی کی گئی، وزیراعلیٰ نے کسی مہنگے پرائیویٹ اسپتال کی بجائے میو اسپتال جانے پر ہی اصرار کیا۔

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھیں ڈاکٹرز نے مریم نواز کا معائنہ کرکے ادویات تجویز کیں جس کے بعد وہ واپس روانہ ہوگئیں۔

  • میو اسپتال واقعہ ، 3 نرسز غفلت کی مرتکب قرار

    میو اسپتال واقعہ ، 3 نرسز غفلت کی مرتکب قرار

    میو اسپتال میں انجکشن کے ری ایکشن سے2 مریضوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے میں انکوائری کمیٹی نے 3 نرسز کو غفلت کی مرتکب قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق تینوں نرسز کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کا آغاز ہوگیا ہے،محکمہ صحت پنجاب کا کہنا ہے تینوں نرسز کو غفلت برتنے پر شو کاز نوٹس بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔تینوں نرسز پر سیفٹریکزون انجکشن کو تیار کرنے میں غفلت برتنے کا الزام ہے،میو اسپتال میں 9 مارچ کو 16 مریضوں کو انجکشن لگنے کے بعد ری ایکشن رپورٹ ہوا۔

    دوسری جانب وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ میو اسپتال واقعہ پر تحقیقاتی کمیٹی نے تمام پہلوؤں سے مکمل چھان بین کی۔
    میو اسپتال انتظامیہ، نرسز کی نمائندہ اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی ٹیم نے حقائق اکٹھے کئے،تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نرسوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ۔

    بلاول بھٹو،وزیراعلیٰ سندھ اور متحدہ کی جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت

    جعفرا ایکسپریس حملہ، محسن نقوی کا وزیر اعلیٰ بلوچستان سے رابطہ

    اسلام آباد اور گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش شروع

    ایران کی بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت

  • انجیکشن سے ہلاکت انسانی غلطی کی وجہ سے ہوئی، وزیرصحت پنجاب

    انجیکشن سے ہلاکت انسانی غلطی کی وجہ سے ہوئی، وزیرصحت پنجاب

    لاہور: وزیرصحت پنجاب سلمان رفیق نے میو اسپتال لاہور میں انجکشن کے مبینہ ری ایکشن کو انسانی غلطی قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں میواسپتال میں انجیکشن سے ہلاکت کے معاملے سلمان رفیق کا کہنا تھاکہ انجیکشن سے ہلاکت انسانی غلطی کی وجہ سے ہوئی، انجیکشن پاؤڈر تھا اس کو محلول بنانے میں غلطی ہوئی،مریضوں کو تیسری خوراک دی گئی تھی، پہلی دو خوراک لگانے سے کوئی ری ایکشن نہیں ہوا، 6 ہزار انجیکشن کا اسٹاک اسپتال میں آیا، مختلف ڈپارٹمنٹس میں یہ انجیکشن مریضوں کو لگا ئے گئے لیکن انجیکشن کا ردعمل صرف چیسٹ وارڈ میں ہوا، پاؤڈر کی رپورٹ آج شام تک اور محلول کی رپورٹ کل تک آجائے گی۔

    سینیٹر ثانیہ نشتر کا استعفی منظور

    وزیرصحت پنجاب نے کہا کہ یہ انجیکشن لاہور کے مختلف اسپتالوں کے علاوہ نارووال بھی گیا تھا، اینٹی بائیوٹک کو بنانے کی تربیت نرسز کو دی جاتی ہے، رپورٹ سامنے آنے کے بعد نرسز کے خلاف سخت کارروائی ہو گی، 400کے قریب نئی نرسز بھرتی ہوئی ہیں، میو ا سپتال میں ابھی مزید نرسز بھرتی ہوئی ہیں، اس وارڈ میں دو نرسز ڈیوٹی پر موجود تھی، انہوں نے محلول بنانے میں غلطی کی۔

    سلمان رفیق کا کہنا تھاکہ میواسپتال میں دواؤں کا اسٹاک موجود تھا، ایم ایس کی نا اہلی تھی کہ دوائیں مریضوں تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔

    چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان،کوئی پاکستانی شامل نہیں

    واضح رہے کہ میو اسپتال لاہور کے چیسٹ وارڈ میں ٹیکے کے مبینہ ری ایکشن سے جان کی بازی ہار جانے والے مریضوں کی تعداد 2 ہوگئی،میو اسپتال لاہور کی چیسٹ وارڈ میں کیفٹرکسون انجکشن کے مبینہ ری ایکشن سے گزشتہ روز 36 سالہ مریضہ نورین جاں بحق ہو گئی تھی اور 15مریض متاثر ہوئے تھے،متاثرہ مریضوں میں سے دولت خان نامی مریض آج دم توڑ گیا، دولت خان وینٹی لیٹر پر تھا۔

    قومی کرکٹر حارث رؤف کے ہاں بیٹے کی ولادت

  • میو اسپتال میں انجیکشن کا ری ایکشن ،18 مریض متاثر، ایک کی موت

    میو اسپتال میں انجیکشن کا ری ایکشن ،18 مریض متاثر، ایک کی موت

    لاہور کے میو اسپتال میں پھیپھڑوں کے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے انجیکشن سے 18 مریضوں کو شدید ری ایکشن ہوا ہے جبکہ متاثرہ مریضوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لاہورکے میو اسپتال کے ری ایکشن سے 18 مریض متاثرہوئے ہیں جبکہ 2 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہیں۔واقعہ سینہ چھاتی وارڈ میں پیش آیا، انجیکشن کے ری ایکشن سے 2 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔سی ای او میو اسپتال پروفیسر ہارون حامد نے بتایا کہ انتظامیہ نے انجیکشن کا استعمال فوری روک دیا ہے، واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی، جبکہ متاثرہ مریضوں کا بہترین علاج جاری ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دو دن قبل میو اسپتال کا اچانک دورہ کیا تھا جہاں مریضوں اور تیمارداروں نے شکایات کے انبار لگا دیے تھے، ناقص سہولیات اور بدانتظامی پر وزیراعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کی سخت سرزنش کی تھی۔دورے کے دوران مریم نواز نے ایم ایس میو اسپتال کو فوری عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسپتال میں عوام کو درپیش مسائل کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے دورہ میو اسپتال کے دوران برطرف سی ای او اور ایم ایس کی جگہ نئے افسران کی تعیناتی کردی گئی۔اسپتال کے سی ای او پروفیسر احسن نعمان کی جگہ پروفیسر ہارون حامد کو اسپتال کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کردیا گیا، پروفیسر ہارون حامد کو3 ماہ کے کیلئے عارضی طور پر تعنیات کیا گیا۔دوسری جانب گریڈ 20 کے پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر احتشام الحق کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے تبادلہ کرکے ڈاکٹر فیصل مسعود کی جگہ ایم ایس میو اسپتال تعینات کر دیا گیا۔

    کراچی،جرائم کا سلسلہ نہ تھم سکا، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

    ہر محب وطن قومی اداروں کے ساتھ دلی احترام سے کھڑا ہے،عبدالعلیم خان

    وفاقی حکومت کونقصان ہو گا تو پیپلز پارٹی کو بھی ہو گا، کھیئل داس کوہستانی

    فیس بک پر مریم نواز کے خلاف تنقید ، ڈاکٹر پر مقدمہ درج

    اسلام آباد: خواتین کو گاڑی سے اتار کر تشدد،ملزم گرفتار

  • چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پر 8 سو ملین کی خرد برد کے الزامات نیب ،اینٹی کرپشن اور گورنر پنجاب سب حرکت میں.

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پر 8 سو ملین کی خرد برد کے الزامات نیب ،اینٹی کرپشن اور گورنر پنجاب سب حرکت میں.

    لاہور، چیف ایگزیکٹو آفیسر میو اسپتال ڈاکٹر اسد اسلم کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی
    نیب ،اینٹی کرپشن اور گورنر پنجاب سب حرکت میں، چیف ایگزیکٹو آفیسر میو اسپتال ڈاکٹر اسد اسلم کی پی ایچ ڈی ڈگری،اختیارات سے تجاوز،اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر ریکارڈ طلب کرلیا گیا۔

    ڈاکٹر اسد اسلم کی جانب سے پی ایچ ڈی کے18 کریڈٹ آور پورے نہیں کئے گئے اور نہ ہی مطلوبہ امتحان پاس کیا گیا۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ڈاکٹر اسد اسلم کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کی تصدیق نہیں کی۔شہری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز اسد اسلم نےچار سال سے پانچ سے زیادہ ایڈیشنل چارج سنبھال رکھے ہیں جو کہ پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کے رولز کے مطابق 6 مہینے سے زائد نہیں لگ سکتے۔

    درخواست گزار کے مطابق ڈاکٹر اسد اسلم مختلف عہدوں پر اضافی چارج پر تعینات ہیں جن میں سی ای او میو اسپتال،پرنسپل کالج آف پتھامولوجی اور سرکاری ملازم ہوتے ہوئے ڈاکٹر اسد اسلم مقبول احمد بلاک کی تعمیر کرنے والی پرائیویٹ پارٹی کے پراجیٹ ڈائریکٹربھی ہیں جس میں 8 سو ملین کی خرد برد کے الزامات بھی ہیں.