Baaghi TV

Tag: میڈیا

  • میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    اسلام آباد:میڈیا ،صحافیوں اورمحترم شخصیات کےخلاف مریم نوازکا پراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق مریم نواز کی مبینہ آڈیو کا معاملہ اس قدر حساس ہوگیا ہے کہ اب توہرصحافی اوراینکرپرسن مریم نواز کی سازشوں سے خوف کھانے لگا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صحافیوں نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے اورمحفوظ رہنے کے لیے ہاتھ پاوں مارنے شروع کردیئے ہیں‌

    اس حوالے سے اسلام آباد سے اہم خبریں آرہی ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا کے دیگربڑے بڑے ناموں‌ کومریم نواز کی پراکسی سے بچانے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے آگے بڑھ کرکچھ کرنے کا عزم کیا ہے ، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عالیہ حمزہ نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے کےلیے چیئرمین پیمرا کو خط بھی لکھ دیاہے

    عالیہ حمزہ نے چیئرمین پیمرا کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ خدا را مریم صفدر کے خلاف کاروائی کریں ورنہ یہ بہت نقصان کرے گی

    عالیہ حمزہ نے خط میں‌ یہ بھی یاد دلوایا ہے کہ میں پہلے بھی دو خطوط لکھ چکی، جن کا تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌کہ ایک بار پھر آپ کی توجہ مریم صفدر کی پےدر پے آنیوالی آڈیوز سے متعلق لکھ رہی ہوں‌

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں کہ جناب چیئرمین اس طرح‌ تو دنیا میں‌ کہں بھی ہوتا جس طرح مریم نواز اپنی گینگ کے ساتھ مل کرکررہی ہیں‌، عالیہ کہتی ہیں‌کہ مریم نواز کی آڈیو لیک آزاد میڈیا کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ مریم صفدر مبینہ آڈیو میں سینئر صحافی حسن نثاراور ارشاد بھٹی پر الزامات لگارہی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے بڑے دکھ کے ساتھ چیئرمین پیمرا کو یہ بھی بتایا کہ جناب ! مریم صفدر نےسینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبات کلمات بھی کہے ، ان کی توہین کی ، ان کی کردار کُشی کی لیکن مہذب اور جمہوری ہونے والوں میں سے کسی نے مریم نواز کے اس رویے کی مذمت تک نہ کی

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ لیکڈ آڈیو میں مریم نواز اور پرویز رشید نےصحافیوں کو بھونکنے والے کتے قرار دیا۔ مبینہ آڈیو میں پرویز رشید،مریم صفدر کو جیو گروپ کو ہدایات دینے پر بات کر رہے ہیں۔ جسں میں وہ سینئر صحافی حسن نثار، ارشاد بھٹی، مظہر عباس، ستار بابر پر ن لیگ کے مؤقف کے خلاف جانے کے گھٹیا الزامات لگا رہے ہیں۔

    عالیہ حمزہ نے اپنے خط میں میڈیا گروپ کو کنٹرول کرنےاور ان کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کے حوالےسے کہا ہے کہ رشید مریم صفدر کو میر شکیل سے باز پرس کرنے کی درخواست کر رہے ہیں، عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ کتنی بد قسمتی ہے ہماری کہ ایک شرپسند خاتون کھلے عام "ریوڑیاں”بانٹ رہی ہے،پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ مبینہ آڈیو میں مریم صفدر دو باسکٹس نصرت جاوید اور رانا جواد کو بھجوانے کا ذکر ہے۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کا کردار کارکردگی صفر اور پیسے کے زور پر صحافت کو خرید کر اپنےحق میں پروگرام کروائےجاتے ہیں، جو حق میں نہیں بولتا اس کےخلاف گالیاں بولی جاتی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے اس موقع پر ایک سوالیہ انداز سے میں‌ یہ بھی لکھا ہے کہ کیا یہ ہے میڈیا اور صحافیوں کی ٹوٹل اوقات ان نابالغ قومی لیڈران کی نظر میں؟

    عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کا مکروہ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہورہا ہے۔ان لوگوں نے اپنی کرپشن عوام سے چھپانے کے لئے ہر ادارے میں کرپٹ لوگوں کو پروان چڑھایا۔ میڈیا کی آزادی ن لیگ مافیاز نے یرغمال بنا رکھی ہے۔ صحافتی تنظیمیں سوال کریں کہ یہ مجرمہ کس طرح آزادی راے پر نقب لگا سکتی ہے؟

    عالیہ حمزہ نے ایک ٹیکنیکل سوال بھی پوچھا ہے کہ کیا مجرمہ مریم صفدر کی جیو نیوز نے ایچ آر یا پروگرام کوآرڈینیٹر ہے؟؟جو اپنی من پسند خبروں اور بتائی ہوئی جھوٹی باتوں کو جیو پر نشر کرنے کے احکامات صادر کرتی رہی ہیں۔ ان چند کرپٹ لوگوں کی وجہ سے سارا میڈیا یرغامال بنا ہوا ہے۔ عالیہ حمزہ نے آخر میں‌ لکھا ہے کہ مجھے آپ کے منصب سے امید ہے پیمرا اختیارات کہ اندر رہ کر مریم صفدر اور پرویز رشید کا اختساب ضرور کرینگے۔

  • پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 پر صدر مملکت نے کیے دستخط

    پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 پر صدر مملکت نے کیے دستخط

    صدر مملکت نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021پر دستخط کر دیئے

    اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ خطاب میں عارف علوی نے کہا آج تاریخی قانون پر دستخط کئےگئے ہیں صحافی ہمیشہ دباؤ میں کام کرتے رہے ہیں جعلی خبروں کی ذریعے معاشرے میں افراتفری پھیلائی جاتی ہے افغانستان کوجھوٹی خبروں نے برباد کردیا پاکستان میں فیک نیوزکی یلغار ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ءپر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ءکے تحت پہلی مرتبہ پاکستان میں ورکنگ جرنلسٹس کو وہ حقوق فراہم کئے ہیں جو فرسٹ ورلڈ کے صحافیوں کو دستیاب ہیں،میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ءکا کریڈٹ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو جاتا ہے، ایکٹ کی تیاری میں صحافی تنظیموں سمیت تمام صحافتی گروپوں کے ساتھ مشاورت کی گئی،حکومت اور وزارت اطلاعات کا فرض ہے کہ وہ ورکنگ جرنلسٹس کے پیچھے کھڑی ہوں،پاکستان میں ایک طبقہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ یہاں پریس کو آزادی حاصل نہیں،پاکستان میں اگر فری پریس نہیں تو دنیا میں کہیں بھی پریس فری نہیں ہوگا، پریس کی آزادی کی جب بات آتی ہے تو ہم اپنا موازنہ تھرڈ ورلڈ اور مسلم ورلڈ سے نہیں بلکہ فرسٹ ورلڈ سے کرتے ہیں،ہمارے ہاں ڈیفیمیشن کے لاز نہیں ہیں، اس طرح ہمارے ہاں پریس کو فرسٹ ورلڈ سے بھی زیادہ آزادی حاصل ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان آزادیوں کو ہم نے سیٹھوں کے لئے رکھ دیا ہے، ورکنگ جرنلسٹس کو جو حقوق ملنا چاہئے تھے، نہیں مل رہے تھے، میڈیا پروفیشنلز ایکٹ کے تحت ہم نے ورکنگ جرنلسٹس کو حقوق دینے کی کوشش کی ہے، جب کیمرہ مین کوئی ایونٹ کور کر رہا ہوتا ہے تو کیمرہ بچانا اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے،ہم نے اس ایکٹ کے تحت لازم کر دیا ہے کہ مالکان کیمرہ مینوں کو ایسے ایونٹس پر بھیجیں گے تو ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے کیمرہ مینوں کو تحفظ فراہم کریں، میڈیا پروفیشنلز ایکٹ میں ورکنگ جرنلسٹس کی ملازمت کو بھی تحفظ دیا گیا ہے،ہم پہلی مرتبہ صحافیوں کے لئے ایک آزاد کمیشن لائے ہیں جو شکایات کا 14 دن کے اندر فیصلہ کرے گا، اس ایکٹ میں ورکنگ جرنلسٹس کو مالکان اور حکومتی افسران سے بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، بہت سے افسران کو یہ پسند نہیں کہ ان کے محکموں میں کرپشن کی خبریں اخبارات میں آئیں،اس قانون کے ذریعے ہم نے ایک ایسا ماحول تشکیل دینے کی کوشش کی ہے کہ صحافیوں کو فرسٹ ورلڈ کے صحافیوں کی طرز پر تحفظ فراہم کیا جا سکے،اس ایکٹ کے تحت صحافی کی ایک جامع تعریف کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کا فائدہ ان ورکنگ جرنلسٹس کو ہوگا، جو واقعی کام کر رہے ہیں، مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بارے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ایف یو جے کے ساتھ ہماری بات چیت چل رہی ہے، اس پر ہم بہت قریب ہیں، ہم جلد متفقہ لاءلے کر آئیں گے، وزیراعظم جہاں بھی ذمہ داری لگاتے ہیں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی نمایاں تبدیلی لائیں، اس ایکٹ کے لئے انتھک کوششوں پر وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کے مشکور ہیں،

    سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل 2021 پر مبارک ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے عملی طور پر یہ کر دکھایا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے 8 نومبر 2021 اورسینیٹ نے 19 نومبر 2021 کو صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلزکے تحفظ (ایکٹ ) بل 2021 کی منظوری دی تھی اس بل کے تحت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو حق رازداری حاصل ہو گا ،انہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انجام دہی اور آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہوگا، انہیں نجی زندگی ، گھر اورذاتی خط و کتابتکی پرائیویسی،اپنی خبر کے ذرائع کو مخفی رکھنے کا حق،اورکسی بھی فرد یا ادارے کی جانب سے جبر، تشدد، خوف و ہراس، دھونس، دھمکی اور جبری گمشدگی کے خلاف تحفظ حاصل ہو گا ،انہیں خبر کا ذریعہ بتانے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکے گا، اس بل کے تحت انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے قوانین کی میڈیا پروفیشنلز کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو روکنے کے خلاف ناحق استعمال کی روک تھام کی جائے گی۔میڈیا مالکان صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو مقرر کردہ میعارات کے تحت لائف اینڈ ہیلتھ انشورنس فراہم کریں گے،میڈیا مالکان صحافیوں کو وقت پر تنخواہ دینے کے بھی پابند ہوں گے۔ بل کے مطابق صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ، شکایات کی آزادانہ تفتیش اور فوری ازالہ کیلئے آزاد کمیشن قائم کیا جائے گا، کمیشن میں پاکستان بار کونسل، پی ایف یو جے، نیشنل پریس کلب، پی آر اے، وزرات انسانی حقوق ، وزارت اطلاعات و نشریات کے نمائندے شامل ہوں گے۔

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    وفاقی حکومت کمیشن کے چیئرپرسن کا دو سال کے لئے تقرر کرے گی، کمیشن میں کم از کم تین خواتین ارکان شامل ہوں گی ۔ بل کے تحت آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی زندگی اور سکیورٹی کے حق کو یقنیی بنا یا جائے گا ،کوئی شخص، ادارہ ایسا اقدام نہیں کر سکے گا جس سے کسی صحافی اور میڈیا پرو فیشنلز کے حق زندگی اور حفاظت کی خلاف ورزی ہو ۔ حکومت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی جبری یا رضا کارانہ گمشدگی، اغوا یا اٹھائے جانے کے خلاف تحفظ دے گی ۔وہ بلاخوف و خطر اپنا کام کر سکیں گے ، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کا حق رازداری کوئی شخص، افسر، ایجنسی یا ادارہ پامال نہ کرے۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کا حق اظہار رائے رائج قوانین کے مطابق ہو گا ۔ بل کے تحت قو میت، نسلی، مذہبی منافرت کو ہوا دینے والے اور امتیاز ، دہشت یا تشدد کو بھڑکانے والے مواد پر پابندی ہو گی ۔نسلی،لسانی، ثقافتی یا صنفی نفرت پھیلانے والے مواد کی تخلیق پر بھی پابندی ہو گی ۔ بل کے تحت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کیلئے یہ بات لازم قرار دی گئی ہے کہ ایسے مواد کی اشاعت نہیں کی جائے گی جس کے غلط یا جھوٹا ہونے کا ان کو علم ہو، جو ایسا کرنے میں ناکام ہو گا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا ۔سرکاری ملازم یا ادارے کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز پر تشدد، نازیبا زبان کے استعمال کی صورت میں متاثرہ اس کے خلاف14 دن اندر کمیشن کے سامنے شکایت درج کرا سکیں گے ۔ وفاقی محتسب یا متعلقہ ادارہ 14 دن کے اندر ہراسگی کے خلاف تفتیش اور قانونی کارروائی کے اقدامات کرے گا۔ صحافی کی شکایت پر کمیشن مشاورتی کمیٹی قائم کرے گا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ شکایت کو سننا چاہئے یا نہیں ،کمیشن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی شکایت پر قانونی کارروائی ہو ۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو دھمکی ، تشدد ، جبر کے حوالہ سے کسی کو بھی قانونی کارروائی سے استثنی حاصل نہیں ہو گا ۔متاثرہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلزکو قانونی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ بل کے تحت کمیشن صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی شکایت پر حکومت،خفیہ ادارے یا اتھارٹی سے معلومات حاصل کرے گا، ان سے رپورٹ ، دستاویزات ، ڈیٹا یا شواہد طلب کریگا۔ متعلقہ حکومت ، ایجنسی یا ادارہ 14روز میں تحقیقات اور کارروائی کرے گا ، کمیشن کے پاس تقریبا سول کورٹ جیسے اختیارات ہوں گے، جرائم کمیشن کی حدود سے باہر ہوئے تو معاملہ کومجسٹریٹ کے پاس بھجوا دے گا ،کمیشن کی سامنے سماعت عدالتی سماعت تصور ہو گی ، اچھی نیت سے کئے گئے اقدمات پر کمیشن اور افسران کو استثنی حاصل ہو گا ۔میڈیا پروفیشنلز کے خلاف دھمکی آمیز ، جابرانہ اورمتشدد کارروائیوں کو فوری اور موثر تفتیش اور قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    موٹرسائیکل پر گھر چھوڑنے کے بہانے ملزم کی خاتون سے زیادتی

    88 قبحہ خانوں پر چھاپوں کے دوران 417 ملزمان گرفتار

    لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

    13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

  • آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    سیمینار پی ایف یو جے کی جاری جدوجہد کا حصہ ہے، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی مزدور اور صحافی مدعو
    کے یو جے کی جنرل کونسل 13 فروری 2021 کو کراچی پریس کلب میں ہوگی، مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ

    ملک میں آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت سیمینار 6 فروری 2021 کو مقامی ہوٹل میں ہوگا سیمینار میں ملک کی سیاسی قیادت، سینئر صحافیوں، سول سوسائٹی اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا گیا ہے اس موقع پر پی ایف یو جے کی 70 سالہ جدوجہد پر مبنی کتاب کی رونمائی اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی ویب سائٹ کا اجرا بھی کیا جائے گا ۔ سیمینار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی* *جانب سے ملک میں صحافت کو درپیش مسائل پر آگاہی اور ان کے حل کی تلاش میں جاری سیمینارز کا تسلسل ہے اس سلسلے کا پہلا سیمینار 14 جنوری 2021 کو لاہور میں ہوا تھا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں سیمینار کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں طے پایا کہ سیمینار میں تمام سیاسی جماعتوں، حکومتی نمائندوں، سینئر صحافیوں، وکلا اور ڈاکٹرز سمیت سول سوسائٹی کے ارکان اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں سیمینار، کتاب کی رونمائی اور ویب سائٹ کے اجرا کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئیں جو انتظامات کو حتمی شکل دیں گی* ۔ *اجلاس میں پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے فیصلے کے تحت 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل کراچی پریس کلب میں ہوگی۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اپنے تمام ارکان سے درخواست کی ہے کہ وہ سیمینار اور جنرل کونسل میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں.

  • ملتان :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے اہم گفتگو،ترجیحات سے  آگاہ کر دیا

    ملتان :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے اہم گفتگو،ترجیحات سے آگاہ کر دیا

    ملتان : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں کہ کل میری امریکہ کے وزیر خارجہ سیکریٹری لنکن سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ انہوں نے لنکن کو ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ سیکرٹری لنکن کے تجربات خطے کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کو وزیراعظم عمران کی ترجیحات سے متلعق تفصیلی آگاہ کیا۔ افغان عمل، دہشت گردی ، ماحولیات اور کلائمیٹ چینج پر عمران خان کے ویژن سے آگاہ کیا ہے

  • سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی آواز: علی حسین مرزا

    سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی آواز: علی حسین مرزا

    وہ تمام صحافی جن کا تعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا آن لائن یوٹیوب چینلز اور ویب پورٹلز سے ہوتا ہے ان کو تھانہ کچہری اور جائے واقعہ وغیرہ پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ فی زمانہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا پر خبر پہلے پہنچتی ہے اور زیادہ وائرل ہوتی ہے۔ انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا سے وابستہ چینلز اور پیجز سے وابستہ صحافی حضرات الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی نسبت زیادہ دماغ کھپائی کرتے ہیں۔ وقت کم ہوتا ہے اور فی الفور خبر بریک کرنا ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی تیزرفتاری اپنی جگہ لیکن خبر بریک ہوکر وائرل ہونے میں سوشل میڈیا زیادہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڑے بڑے اور کامیاب الیکٹرانک میڈیا ہاوسز بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں تاکہ انکو رینکنگ ملے۔ المختصر سوشل میڈیا کی طاقت کا ہر صحافتی ادارہ معترف ہے لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیوں؟ صحافت پیغمبرانہ فعل ہے۔ اور یہ فعل کسی ایک طبقے کی میراث نہیں ہے۔ سچ کو آشکار کرنے کے لیے ایمانداری بروئے کار لائی جاتی ہے ناکہ بیجز اور مائیک اور ہرے بھرے لوگوز۔

    سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کی آواز

    بقلم: علی حسین باغی ٹی وی اوکاڑہ

  • جائیں تو کہاں جائیں؟ — احمد ندیم اعوان

    جائیں تو کہاں جائیں؟ — احمد ندیم اعوان

    پاکستانی میڈیا کو اب تک 4 ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

    پہلا دور سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کا تھا۔ جس کے خبرنامہ میں صدر، وزیر اعظم کی سرکاری تقریبات، وزیر اطلاعات وغیرہ کے پالیسی بیان، ملک میں ہونے والا بڑا حادثہ، کھیل، شوبز کی خبریں اور آخر میں موسم کا حال سنا کر سب امن سکون کی شنید سنائی جاتی تھی۔ اس دور میں مالاکنڈ ڈویژن میں زیادہ بارش اور بلڈ پریشر کے مریض کم ہوتے تھے۔

    پھر اخبارات کا دور آیا۔ حکومت مخالف خبریں شایع ہونا شروع ہوئیں اور ساتھ ہی سینسر شپ بھی۔ قلم کے مزدور باز نہ آتے۔ روز کسی نئے انداز سے معلومات عوام تک پہنچا دیتے۔ آزادی صحافت کے لیے کوڑے کھانے والوں کے قلم کی کاٹ سے ایوانوں میں رہنے والے پریشان ہوجاتے۔ گرفتاریاں، کریک ڈاون اور اخبارات کو بند کرنے کے احکامات روز کا معمول تھا۔
    سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    پھر نجی ٹی وی چینلز کے آنے کے بعد نہ صرف میڈیا فاسٹ ہوا بلکہ کمرشل بھی ہوگیا۔ صحافیوں کی تنخواہیں بہتر ہونے کے ساتھ صحافت نایاب ہوگئی۔ یار دوستوں کو کہتے سنا۔ پہلے اخبار میں صحافت کرتے تھے۔ اب چینل میں نوکری کرتے ہیں۔ چینل بھی تقسیم ہیں۔ ایک حکومت کا حامی تو دوسرا مکمل مخالف، ایک پرو آرمی تو دوسرا آرمی مخالفت میں کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔ ایسے میں کس پر اعتبار کریں
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سب چھوڑیں اب بات کرتے ہیں دور حاضر کی۔ موبائل نے سب کو فوٹوگرافر اور سوشل میڈیا نے سب کو صحافی بنادیا ہے۔ حقائق کیا ہیں اسے چھوڑیں بس اپنے لیڈر کو درست اور مخالف کو ننگا کرنا مشن ہے۔ مشرقی اقدار، روایات، اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ کبھی بیٹیاں سانجھی ہوتی تھیں اب مخالف سیاسی پارٹی کی ہوگئی ہیں۔

    کبھی دنیا بہت بڑی ہوا کرتی تھی۔ بھی گلوبل ویلیج بن گئی اور اب سوشل میڈیا نے اسے ایک اندھیرا کنواں بنا دیا ہے۔ جہاں ہمیں اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں جو خوش فہمی یا مایوسی میں مبتلا کردیتے ہیں۔

    ماضی کے میڈیا پر الزام تھا کہ وہ مرضی کی خبریں دکھاتے ہیں۔ مگر آج سوشل میڈیا کے کسی اسٹیٹس یا ٹوئیٹ پر آنکھ بند کر کے اعتبار کریں تو معلوم ہوتا ہے فیک اکاونٹ ہے۔

    اب آپ ہی بتائیں۔ ہم جائیں تو کہاں جائیں؟

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.