Baaghi TV

Tag: میڈیکل کالجز

  • پامی نے پاکستان میڈیکل کمیشن کے9 مئی کو بلائے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا

    پامی نے پاکستان میڈیکل کمیشن کے9 مئی کو بلائے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا

    لاہور:پامی ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج کے طورپر 9مئی کو پی ایم سی کی طرف سے ڈینٹل کالجز کو میڈیکل کالجزمیں ضم کرنے کے حوالے سے انعقاد کی جانے والی میٹنگ کا بائیکاٹ کریں گے۔پامی پہلے ہی پی ایم سی کی جانب سے جاری کردہ ڈینٹل کالجز کو میڈیکل کالجز میں ضم کرنے کے مراسلے مسترد کرتے ہوئے وضاحت مانگ چکی ہے کہ واضح کیا جائے کہ قانون کے کس سیکشن تحت ڈینٹل کالجز کو میدیکل کالجز میں ضم کیا جاسکتا ہے ۔ اگر قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ہے تو پی ایم سی کو ابہام اور جھوٹ پھیلانے سے باز رہنا چاہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی آبزرویشن کے بعد پاکستان میڈیکل کمیشن کے ممبران کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے کہ وہ اپنی سیٹوں پر براجمان رہیں۔پامی ایگزیکٹو سیکرٹری آفتاب احمد کاکہنا ہے کہ پامی پہلے ہی پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے ڈینٹل کالجز کو میڈیکل کالجز میںضم کرنے کے مراسلے کو مسترد کرچکی ہے۔آئندہ نو مئی کو رکھے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔قانون کے تحت ڈینٹل کالجز کی آزاد حیثیت ہے۔مذکورہ معاملے پر پامی ہر طرح سے قانون کے مطابق ڈینٹل کالجز کادفاع کرے گی،پی ایم سی ڈینٹل کالجز میں اپنی خراب داخلہ پالیسیوں کا دفاع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

    پی ایم سی کی بڑی غلطی تھی کہ سرکاری اور پرائیویٹ کالجوں میں داخلوں کا ایک ہی وقت رکھا تھا اور داخلوں کی تاریخ بھی ایک ہی تھی ۔ پی ایم سی کو آخر میں سمجھنا ہوگا کہ ایم بی بی ایس کا میرٹ ہمیشہ بی ڈی ایس سے زیادہ ہوتا ہے اور طلباءکی پہلی ترجیح ایم بی بی ایس میں داخلہ لینا ہوتا ہے جبکہ بی ڈی ایس میں داخلہ ان کی آخری ترجیح ہوتی ہے۔پرائیویٹ سیکٹر میں بی ڈی ایس کے داخلے سرکاری سیکٹر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلے کرنے کے بعد ہی کیے جاسکتے ہیں۔

    پی ایم سی کو پبلک سیکٹر میں ایم بی بی ایس کالجوں میں داخلے کے لیے یقینی طور پر حتمی اختتامی تاریخ دینا چاہیے اور پھر پبلک سیکٹر میں ایم بی بی ایس کالجوں کے داخلے مکمل کرنے کے کم از کم تین ہفتوں کے بعد پرائیویٹ سیکٹر میں بی ڈی ایس میں داخلے کرنے کی آخری تاریح دینی چاہیے۔ پی ایم سی پبلک سیکٹر کے میڈیکل کالجزمیں داخلے مکمل کرنے کے بعد سرکاری ڈینٹل کالجز میں داخلوں کی حتمی تاریخ کا اعلان کرے اور جب سرکاری ڈینٹل کالجز میں داخلے مکمل ہوجائیں تو کم ازکم تین ہفتوں کا وقف دینے کے بعد پرائیویٹ ڈینٹل کالجز میں بی ڈی ایس کی سیٹوں پر داخلے کرنے کی حتمی تاریخ دی جائے۔ اگرمذکورہ پالیسی پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو تمام کالجوں میں تمام مختص نشستیں آسانی سے پر ہو جائیں گی۔

  • پی ایم سی کی پالیسی غلط، سب میڈیکل کالجز کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہئے، سنیٹر عثمان

    پی ایم سی کی پالیسی غلط، سب میڈیکل کالجز کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہئے، سنیٹر عثمان

    قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے میڈیکل کے طالبعلموں کا پی ایم سی کے باہر احتجاج۔
    پی ایم سی نے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں میڈیکل کی نشستیں 265 سے کم کرکے 29 کردیں. ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر فیض اچکزئی کی بھی مظاہرے میں شرکت. ینگ ڈاکٹرز کا طالبعلموں کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا ۔
    پی ایم سی کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، میڈٰیکل کی نشستیں کم کرنے سے میڈیکل کے شعبے کو دھچکا لگے گا،
    دور دراز کے علاقوں میں پہلے کی میڈٰیکل سہولیات ناپید ہیں،
    سنیٹر عثمان بھی طلبہ سے اظہار یکجہتی کے لیے پہنچ گئے انکا کہنا ہے کہ پی ایم سی کےباہر احتجاج ہورہا ہے 265 طلباء کو بحال کیا جائے، ریاست اور اس کے اداروں کی پالیسی ہے کہ غریب والدین کے بچے ڈاکٹر نہ بنیں، پی ایم سی کی ناروا پالیسی ہے فاٹا کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے، فاٹا میں مسلسل دھشتگردوں کے مسلط کیا جارہا ہے اور علاقہ مکینوں کے ساتھ زیادتی کی گئی
    ،ہزاروں لوگ شھید ہوئے پیپلز پارٹی کے دور میں لاکھوں لوگ گم ہوئ۔فاٹا میں 2 لاکھ 22 ہزار گھروں کو گرایا گیا، آج بھی دو لاکھ لوگ کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو وعدے کیے پورے نہیں ہوئے، فاٹا کے عوام کو 150 میڈیکل کہ سیٹس بھی نہیں دی جارہی ہیں فاٹا میں گزشتہ 19 سال میں 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، فاٹا کے طلباء کو اسکالر شپ ڈی جائے معدنیات سے بھرے علاقے کو نظر انداز کیا جارہا ہے ،سنیٹ میں یہ اس مسئلے کو اٹھائینگے میڈیکل کی سیٹس ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،
    پی ایم سی کی پالیسی غلط ہے سب میڈیکل کالجز کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہئے