Baaghi TV

Tag: میڈ ان پاکستان

  • پاکستان نے اپنی چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا دی

    پاکستان نے اپنی چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا دی

    پاکستان نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنی چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ”میڈ ان پاکستان“ جی پی ٹی کا بیس ماڈل تیار کرلیا گیا، جسے ”ذہانت اے آئی“ کے نام سے لانچ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں اس کی رونمائی کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں آئی ٹی ماہرین سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی۔اس منصوبے کی بانی اور آئی ٹی ایکسپرٹ مہوش سلیمان علی کا کہنا ہے کہ ”ذہانت اے آئی“ کو مختلف مراحل سے گزارنے کے بعد کامیابی سے لانچ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا سینٹرز میں طویل محنت کے بعد یہ خواب حقیقت میں بدلا۔

    مہوش سلیمان نے کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے دنیا کا مقابلہ کرنا ہے، اس لیے ہمیں دن رات محنت کرنا پڑی۔ یہ چیٹ جی پی ٹی مختلف زبانوں میں دستیاب ہوگی اور پاکستانی اپنے ڈیٹا سرور کے ذریعے اسے استعمال کر سکیں گے۔تقریب میں بڑی تعداد میں آئی ٹی ماہرین اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے، جنہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 10 دہشتگرد ہلاک، کیپٹن شہید

    کوہلی، روہت، بمراہ کیلئے بُری خبر،بھارتی بورڈ نےصاف انکار کر دیا

    ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، سی ڈی اے کے 4 افسران گرفتار

  • یومِ آزادای کے موقع پراہل پاکستان کےلیےتحفہ:ملک کی پہلی الیکٹرک کار متعارف

    یومِ آزادای کے موقع پراہل پاکستان کےلیےتحفہ:ملک کی پہلی الیکٹرک کار متعارف

    کراچی :روشنیوں کے شہر کراچی میں پاکستان کے 75ویں یومِ آزادی کے موقع پر ملک کی پہلی الیکٹرک کار کی رونمائی کردی گئی۔پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر، ڈائس فاؤنڈیشن(DICE) نے ملک کی پہلی نور ای سیونٹی فائیو( Nur-E 75 ) متعارف کرا دی ہے۔

     

    ’’میڈان پاکستان الیکٹرک کار‘‘اوورسیز پاکستانیوں کا کمال:انقلاب آگیا

    الیکٹرک گاڑی کوڈائس فاؤنڈیشن نے تیار کیا جو پاکستانی تارکین وطن کی طرف سے چلائی جانے والی امریکہ میں قائم ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، گاڑی کو تیار کرنے میں مقامی تعلیمی اداروں اور صنعت کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے۔پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار کا نام Nur-E رکھا گیا ہے جبکہ الیکٹرک کار کمپنی کا نام (JaXari ) ایک 12ویں صدی کے سائنسدان اسماعیل الجزری کے نام پر رکھا گیا ہے۔

     

     

    اس الیکٹرک کار کی اہم خصوصیات میں 5 سیٹیں ہیں، رفتار کی بات کی جائے تو یہ کار 107ایچ پی 80 کے ڈبلیو ہے، ویل/ ٹائروں کا سائز آر 16 205/55، چارجنگ 7 سے 8 گھنٹے ہے جبکہ فاسٹ چارجنگ دو گھنٹے میں ہوجاتی ہے۔

     پاکستان میں پہلی دفعہ کوریا سے امپورٹ کی جانے والی الیکٹرک کاریں حادثے کا شکار

    گاڑی کی قیمت کا فیصلہ ابھی کمپنی کی جانب سے نہیں کیا گیا مگر امکان ہے جلد ہی اس کی قیمت بھی سامنے آجائے گی۔نقاب کشائی کی تقریب آج شام 4.00 بجے شروع ہوئی اور پروٹو ٹائپ کو چمک دھمک سے دکھایا گیا۔

     

    تیز بارش آندھی کے باوجود کے الیکٹرک کی زبردست کارکردگی سامنے آگئی

    Nur-E ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن یہ پاکستانی آٹو موٹیو انڈسٹری کی طرف سے اٹھایا جانے والا ایک عظیم اور اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ DICE فاؤنڈیشن تجارتی طور پر پروٹو ٹائپ تیار کرنے کے لیے کافی سرمایہ کاری کرنےکا ارادہ رکھتی ہے، جس میں 3 سال لگ سکتے ہیں۔

  • وزیراعظم صاحب نوٹس لیں:پاکستان میں گتّے کی گاڑیاں بننے لگیں

    وزیراعظم صاحب نوٹس لیں:پاکستان میں گتّے کی گاڑیاں بننے لگیں

    لاہور:وزیراعظم صاحب نوٹس لیں:پاکستان میں گتّے کی گاڑیاں بننے لگیں ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر کچھ ایسے مناظرپیش کیئے جارہے ہیں جن کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں واقعی ہے گتے کی چادروں پر مشتمل گاڑیاں بن رہی ہیں ،

    ادھر اس حوالے سے تازہ واقعی میں احتشام الحق نامی شہری نے وزیراعظم کو پیغام دیتے ہوئے یہ درخواست کی ہے کہ جناب اس ملک میں گاڑیوں والے پیسے بڑی بھاری اور لوہے اورجست یا پھر سٹیل سے بنی گاڑیوں کی بولی لگا کرفروخت کرتے ہیں لیکن حقیقت مین یہ گاڑیاں‌ گتے سے بی ہوئی گاڑیوں سے بھی ہلکی ہیں‌

     

    اس حوالے سے احتشام الحق نے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک حادثے میں تباہ ہونے والی گاڑی اس طرح نظرآرہی ہے جیسے کہ یہ گتے یا کاغذ سے بنائی گئی تھے ، جو کہ ہلکی سی چوٹ کے ساتھ ہی کاغذ کی طرح سکڑ گئی

    احتشام یہ کہتے ہیں کہ لوگ بیچارے جمع پونجی جوڑ کرگاڑیاں لیتے ہیں اور کمپنیوں‌ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اتنے زیادہ پیسے لے کر ان کوگاڑی کے انجن کو کاغذ کی طرح ہلکی لوہے یا جست کی چادر سے لپیٹ کرکسٹمر کو دے دیتے ہیں ،

    وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ کیا وزیراعظم یہ نہیں دیکھ سکتے؟ گتے کا ڈبہ اس سے زیادہ مضبوط اور محفوظ ہو سکتا ہے جسے "میڈ ان پاکستان آلٹو” کہا جاتا ہے۔ خدا کے لیے، اسے بند کرو