Baaghi TV

Tag: نائن الیون

  • طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیئے ہیں،صد مملکت

    طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیئے ہیں،صد مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی مدد کر رہا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

    ایک بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر جرائم میں شراکت دار بن گئے ہیں، کچھ ممالک ناصرف ان کی براہِ راست مالی معاونت کرتے ہیں بلکہ انہیں تکنیکی اور عسکری ذرائع بھی فراہم کرتے ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک ہیں صدرِ پاکستان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر عالمی رہنماؤں اور ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ملنے والی ہمدردی اور حمایت نے مشکل وقت میں پاکستانی عوام اور متاثرہ خاندانوں کو حوصلہ دیا ہےان کے مطابق یہ پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی اور اس کے پیچھے موجود پرتشدد نظریات کے خلاف جنگ ایک عالمی جدوجہد ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشتگردی کا مقابلہ کوئی ایک ملک اکیلے نہیں کر سکتا پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار پناہ، سہولت یا آزادی دی جاتی ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکا ہوا تھا جس میں 33 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

  • امریکی عدالت کا نائن الیون کے مرکزی مجرم خالد شیخ کےساتھ پلی بارگین معاہدہ منسوخ

    امریکی عدالت کا نائن الیون کے مرکزی مجرم خالد شیخ کےساتھ پلی بارگین معاہدہ منسوخ

    امریکی اپیل کورٹ نے نائن الیون کے مرکزی مشتبہ مجرم خالد شیخ محمد کے ساتھ ہونے والے پلی بارگین معاہدے کو منسوخ کر دیا-

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت خالد شیخ محمد کو سزائے موت سے بچایا جانا تھا اور اس کے ذریعے ان کے کیس سے جڑی طویل قانونی کارروائی کو انجام تک پہنچایا جا سکتا تھایہ معاہدہ 2001 کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے کچھ لواحقین میں غصے کا باعث بنا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسے گزشتہ سال منسوخ کر دیا تھالائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ متاثرین کے خاندانوں اور امریکی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمات کی کارروائی دیکھی جائے۔

    خالد شیخ محمد کے ساتھ ساتھ 2 دیگر مبینہ ساتھیوں (ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی) کے ساتھ پلی بارگین معاہدے گزشتہ سال جولائی میں طے پائے تھے یہ فیصلہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ مقدمات برسوں کی پیشگی قانونی چالوں کے بعد حل کی طرف بڑھ رہے ہوں، جب کہ ملزمان اب بھی کیوبا میں گوانتانامو بے کی فوجی جیل میں قید تھے۔

    لیکن لائیڈ آسٹن نے معاہدے کے اعلان کے 2 دن بعد انہیں منسوخ کر دیا اور کہا کہ اس اہم معاملے کا فیصلہ ان کے اختیار میں ہونا چاہیےمتاثرہ خاندانوں، ہمارے فوجی جوانوں اور امریکی عوام کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ ان مقدمات میں فوجی کمیشن کے ٹرائل ہوتے دیکھ سکیں۔

    خالد شیخ محمد کون ہیں؟

    خالد شیخ محمد 14 اپریل 1965 کو کویت میں پیدا ہوئے اُن کے والد مقامی مسجد کے پیش امام تھے اور اُن کا تعلق پاکستان سے تھا خالد نے 16 سال کی عمر میں اسلامی تنظیم ’اخوان المسلمون‘ کی رکنیت حاصل کی تھی سنہ 1983 میں سیکنڈری سکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے ’نارتھ کیرولائنا ٹیکنیکل یونیورسٹی‘ میں داخلہ لیا اور وہاں میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے لگے یہاں اُن کی ملاقات عرب طلبا کا ایک گروپ سے ہوئی جو یہاں پہلے سے ہی زیرِ تعلیم تھے۔

    اس گروپ کے افراد کی مذہبی معاملات میں دلچسپی کے باعث انھیں یونیورسٹی کے باقی طلبا ’ملاز‘ کہتے تھے دسمبر 1986 میں خالد نے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کر لی مگر اس دوران وہ شدت پسندی سے متعلقہ معاملات میں کافی آگے جا چکے تھےسنہ 1987 میں خالد شیخ محمد اسامہ بن لادن کے ساتھ ملے اور افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف ’جنگِ جاجی‘ میں شریک ہوئے۔

    نائن الیون حملوں کے سہولت کار اور سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو پر حملہ کرنے والے رمزی یوسف بھی خالد شیخ محمد کے بھتیجے تھے۔ رمزی یوسف نے سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اگرچہ رمزی کا مشن ناکام ہوا لیکن اس کا شدت پسندوں کی اُس وقت کی اُبھرتی ہوئی نسل پر گہرا اثر پڑا تھا۔

    ٹام میک ملن اپنی کتاب ’فلائٹ 93: دی سٹوری آف دی آفٹرمیتھ اینڈ دی لیگیسی آف امریکن کریج آن 9/11‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 1993 کے حملے نے انتہا پسندوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی تھی کہ امریکی سرزمین پر حملہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔‘

    افغانستان میں تربیتی کیمپ میں اپنے تجربے اور رابطوں کی بدولت رمزی یوسف جعلی پاسپورٹ کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھیوں کی ایک ٹیم بنائی تھی اور بموں سے لدی کرائے کی وین ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نارتھ ٹاور کے گیراج میں بھجوا دی۔

    اس دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے عمارت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا یوسف نے سوچا تھا لیکن وہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر کی سڑکوں پر دہشت پھیلانے میں کامیاب رہے تھےیہیں سے دنیا میں انتہا پسندی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا اور اس دوران رمزی یوسف امریکہ سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

    ولید محمد بن عطاش

    ولید محمد صالح مبارک بن عطاش بھی القاعدہ کے اہم رکن ہیں اور ان پر بھی نائن الیون کے حملے کے الزامات کے ساتھ ساتھ پر دہشت گردی کی سازش، شہریوں پر حملہ کرنے، جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل اور املاک کو تباہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ایک یمنی شہری ہیں اور ان پر ہائی جیکنگ، دہشت گردی کرنے اور اس کی مالی معاونت کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی حکومت نے چار دیگر افراد سمیت ولید بن عطاش پر 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

    بن عطاش پر خاص طور پر الزام ہے کہ اسامہ بن لادن نے انھیں امریکی ویزا حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ امریکہ کا سفر کر سکیں اور پائلٹ کی تربیت حاصل کر سکیں تاکہ وہ بالآخر ہائی جیکنگ میں حصہ لے سکیں۔

    ان پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے 1999 میں امریکی ویزے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے القاعدہ کے لیے تحقیق جاری رکھی اور نائن الیون کے ہائی جیکرز کے لیے سفر کی سہولت فراہم کیاگرچہ ولید بن عطاش کو مبینہ طور پر اپریل 2003 میں گرفتار کر کے امریکی حراست میں منتقل کر دیا گیا تھا لیکن ستمبر 2006 تک اسے گوانتانامو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

    مصطفیٰ احمد الہوساوی

    مصطفیٰ احمد آدم الہوساوی ایک عرب شہری ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کے لیے ایک اہم مالی سہولت کار کے طور پر کام کیا۔

    ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ کےمطابق امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مصطفیٰ الہوساوی نے نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے لیے فلائٹ سکولوں کی تحقیق میں مدد کی اور کئی ہائی جیکروں کے بینک اکاؤنٹس کا انتظام کیا اگرچہ الہوساوی کو مبینہ طور پر مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے امریکی حراست میں منتقل کر دیا گیا تھا، لیکن اسے ستمبر 2006 تک گوانتانامو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

  • نائن الیون میں مرنے والے ہزاروں افراد شناخت  کے منتظر

    نائن الیون میں مرنے والے ہزاروں افراد شناخت کے منتظر

    نیویارک شہر میں میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے 1,103 متاثرین کی باقیات کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق نیویارک کے میڈیکل ایگزامینر کا دفتر اب بھی ڈی این اے کے نئے پروفائلز بنا رہا ہے، لیکن اس وقت تک کوئی نیا متاثرہ شخص شناخت نہیں ہو سکا۔ پچھلے سال میں دفتر نے 37 نئے ڈی این اے پروفائلز بنائے، مگر اب تک ان میں سے کسی کی بھی شناخت نہیں ہو سکی۔جنوری 2024 میں نئے ڈی این اے سیکوینسنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے جان بالانٹائن نیون کی شناخت کی گئی، جو حملے کے وقت ساؤتھ ٹاور کی 105 ویں منزل پر موجود تھے۔تقریباً 7,000 انسانی باقیات جن میں سے کچھ ناخن کی نوک جتنی چھوٹی ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے میڈیکل ایگزامینر کے دفتر میں پڑی ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کی سست رفتاری کی وجہ سے زیادہ تر کیسز حل نہیں ہو سکے۔

    11 ستمبر کے متاثرین کے معاوضے کیلئے قائم فنڈ (وی سی ایف) کی سربراہی کرنے والے چارلس جی وولف کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ان کی اہلیہ کیتھرین کی باقیات کبھی شناخت کی جائیں گی۔ وولف کا کہنا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ کیتھرین، جو اس دن ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نارتھ ٹاور کی 97ویں منزل پر تھیں، ہلاک ہو چکی ہیں۔چارلس وولف کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے ان کی اہلیہ کی باقیات کبھی شناخت نہیں ہو سکیں گی۔ وولف نے اپنی اہلیہ کی ذاتی اشیاء، بشمول ان کا ہیئر برش چیف میڈیکل ایگزامینر کے دفتر (او سی ایم ای) کو سونپ دی تھیں، لیکن وہ امید کھو چکے ہیں۔وولف کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ کے جانے کا احساس انہیں سکون دیتا ہے کہ وہ کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوئیں۔

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ11 ستمبر کے متاثرین کی شناخت کا عمل جاری ہے اور یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے، لیکن امید ہے کہ مزید متاثرین کی شناخت مستقبل میں کی جا سکے گی۔

    یاد رہے کہ امریکا میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 2001 کے نائن الیون دہشتگرد حملوں کو 23 برس ہو گئے۔11 ستمبر کے روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے علاوہ پینٹاگون اور پنسلوینیا میں بھی طیاروں سے حملے کیے گئے تھے جس میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس دن امریکی ایئرلائن کے 2 مسافر طیارے 18 منٹ کے وقفے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دونوں عمارتوں سے ٹکرائے، ان واقعات میں 3 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔اس حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا عندیہ دیا تھا۔امریکا نے اُسی سال القاعدہ کو ذمہ دار قرار دے کر افغانستان پر حملہ کردیا تھا، جس کا آغاز 7 اکتوبر کو افغانستان میں ‘آپریشن اینڈیورنگ فریڈم’ کے نام سے کیا گیا۔

  • امریکا: دہشتگردی کی بڑی کارروائی، نائن الیون حملوں کو 23 برس  بیت گئے

    امریکا: دہشتگردی کی بڑی کارروائی، نائن الیون حملوں کو 23 برس بیت گئے

    نیویارک: میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے،11 ستمبر2001 کو امریکا میں دہشتگردی کی بڑی کارروائی ہوئی تھی۔

    باغی ٹی وی : ہائی جیکنگ کے بعد امریکی ائیرلائن کے 2 مسافر طیارے 18 منٹ کے وقفے سے ٹکرائے جانے پرورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاور زمین بوس ہوئے دہشتگردوں نے تیسرا طیارہ واشنگٹن میں پینٹاگان سے ٹکرایا اس کے بعد چوتھا طیارہ ہدف پر پہنچنے سے قبل گر کر تباہ ہوا ہوگیا، نائن الیون حملوں میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ نے دنیا کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا،اس حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا عندیہ دیدیا تھا اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور اس کے بعد افغانستان میں امریکی قیادت میں جنگ شروع ہوئی تھی، جس کا آغاز 7 اکتوبر کو افغانستان میں ‘آپریشن اینڈیورنگ فریڈم’ کے نام سے کیا گیا۔

    کل رات کسی نے زبردستی کہیں نہیں بٹھایا، علی امین گنڈا پور

    نائن الیون حملوں کے بعد دنیا بھر میں پاکستان امریکا کا سب سے اہم اور دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بن کر سامنے آیا سابق صدر پرویز مشرف نے جہاں افغان طالبان کے خلاف امریکی و نیٹو سپلائی کیلئے پاکستانی سرحدیں کھول دیں، وہیں قوم کو بتائے بغیر کئی پاکستانی ہوائی اڈے اور دیگر عسکری سہولیات بھی امریکا کو دے دیں۔

    پی سی بی نے قومی انڈر-19 تھری ڈے چیمپئن شپ اور ون ڈے انڈر-19 کپ …

  • امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    نیویارک: امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی: 11 ستمبر2001 کو امریکا میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی ہوئی تھی ہائی جیکنگ کے بعد دو طیارے ٹکرائے جانے پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاور زمین بوس ہوئے جس کے سبب تین ہزار افراد سے زائد افراد ہلاک ہوئے دہشت گردوں نے تیسرا طیارہ واشنگٹن میں پینٹاگان سے ٹکرایااس کے بعد چوتھا طیارہ ہدف پر پہنچنے سے قبل گر کر تباہ ہوا ہوگیا،نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ نے دنیا کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔

    اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور اس کے بعد افغانستان میں امریکی قیادت میں جنگ شروع ہوئی تھی اس انسانیت سوز سانحے میں تین ہزارامریکی اورغیر ملکی باشندے مارے گئے جبکہ چھ ہزارسے زائد افراد زخمی ہوئے اورمالی نقصان کا تخمینہ دس ارب ڈالر لگایا گیا، واقعے پر اس وقت کے صدر جارج واکر بُش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور اُسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے افغانستان پر حملہ کردیا۔

    نیوزی لینڈ نے ورلڈ کپ کیلئے اپنے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    جس کے بعد پوری دُنیا کی بدلتی حالت سب نے دیکھی امریکہ نے افغانستان کے بعد عراق پرحملہ کیا اور پھر یکے بعد دیگرے پوری دُنیا ہی اس آگ کی لپیٹ میں آگئی سانحہ نائن الیون کی وجہ سےدنیا بھر میں وار آن ٹیرر کی عالمی مہم شروع کی گئی جس میں اب تک لاکھوں افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟

  • نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    آج سے 21 برس قبل 11 ستمبر 2001 بروز منگل خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کئے ان میں سے دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت تیسرے طیارے کا ہدف پینٹاگون اور چوتھے طیارے کا ہدف ممکنہ طور پر واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل تھی ۔

    چار طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ تھے اور انہوں نے جہاز اڑانے کی تربیت بھی امریکہ میں ہی حاصل کی تھی ان لوگوں کا مقصد ایک ہی دن امریکہ کے اہم اور حساس مقامات پر حملہ کر کے دنیا کی توجہ امریکہ کے مظالم کی طرف مبذول کروانی تھی ۔

    امریکی وقت کے مطابق صبح 08.46 منٹ پر پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ٹاور کی 93 نمبر سے 99 نمبر تک منزلوں کو شدید نقصان پہنچا، میڈیا کے لئے یہ انتہائی اہم خبر تھی موقع پر فوراً میڈیا کوریج شروع ہو گئی اور لائیو کوریج کے دوران ہی پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کے تقریباً 18 منٹ بعد 09.03 منٹ پر دوسرا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا جسے کروڑوں لوگوں نے لائیو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

    طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اور تقریباً 2606 افراد کی ہلاکت ہوئی ان ہلاک شدگان میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو حادثے کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ حادثے میں زخمی ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک ہوئے ۔

    تیسرے اغوا شدہ طیارے نے امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09.37 پر نشانہ بنایا اس حملے میں عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے، چوتھا طیارہ اپنی ممکنہ منزل پر طیارے میں موجود مسافروں یا عملے کی مزاحمت کی وجہ سے نہ پہنچ سکا اور مقامی وقت کے مطابق 10.03 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا ۔

    ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں، تمام طیاروں کے مسافروں عملے اور ہدف عمارتوں میں موجود لوگوں سمیت مجموعی طور پر 2977 افراد مارے گئے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا، حملہ کرنے والے ہائی جیکروں نے اپنے تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ وہ اپنے ایک ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔

    امریکہ نے تحقیقات کے نتیجے میں ان حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا اور القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن پر خالد شیخ محمد کے ذریعے دہشت گرد حملے کی پلاننگ کرنے اور حملے کے لئے دہشت گردوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اسامہ بن لادن کا اس وقت قیام افغانستان میں تھا چنانچہ امریکی حکومت نے اس وقت کی افغانستان کی حکومت کے سربراہ ملا عمر سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    افغانستان کی حکومت نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے حوالے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اسامہ افغانستان میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر انہوں نے بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال کیا ہے تو ہم ان کے اس طرزِ عمل کی بالکل حمایت نہیں کرتے آپ ہمیں اسامہ کے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کریں ہم ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں گے ۔

    طاقت کے نشے میں چور جارج ڈبلیو بش نے ملا عمر کی اس آفر کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن ملا عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ جارج بش نے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا اس حملے کے نتیجے میں افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا لیکن امریکہ اسامہ بن لادن کو ختم نہ کر سکا۔

    امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور انکار پر پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔

    پاکستان کی افغانستان میں جنگ کے دوران مبہم پالیسیوں کی وجہ سے طالبان اور القاعدہ دونوں پاکستان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مختلف گروپوں نے ردعمل کے طور پر پاکستان میں خودکش دھماکے شروع کر دیئے ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر شدید بوجھ پڑا جبکہ ان مہاجرین میں موجود جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور سیاحت تقریباً ختم ہو گئی ۔

    ملاعمر بعد میں بیمار ہو کر فوت ہوئے،نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانا موبے رکھا گیا جہاں سے ان کے بارے میں مزید خبر نہیں ہے جبکہ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارے گئے ابھی حال ہی میں اسامہ کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی بھی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں ہیں ۔

    امریکہ 20 سال افغانستان میں اپنا گولہ بارود ضائع کر کے اور معیشت کی تباہی کر کے واپس جا چکا ہے افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت آ گئی ہے القاعدہ بھی اپنے نئے سربراہ کے ساتھ پرانے نظریات پر کام کر رہی ہے، القاعدہ سے بڑی شدت پسند تنظیم داعش کا بھی ظہور اور قلع قمع ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے اس گناہ بے لذت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے اور اس وقت پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا کہ اب اس کے اتحادی اور مخالف دونوں اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔

  • سانحہ نائين اليون کو21 برس بيت گئے

    سانحہ نائين اليون کو21 برس بيت گئے

    لاہور:نائن اليون حملوں کو اکيس برس بيت گئے، گیارہ ستمبر دو ہزار ايک ميں امریکا کے شہر نیویارک میں دہشت گردی کی وہ کارروائی ہوئی تھی جس نے دنیا کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔

    گيارہ ستمبر دو ہزار ايک وہ منگل کا دن تھا جب خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کر کے انہیں نیویارک اور واشنگٹن میں اہم عمارتوں سے ٹکرانے کے منصوبے پر عمل کیا۔

    تین طیارے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جب کہ ایک ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی گر کر تباہ ہوگیا۔ ان حملوں میں تین ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    اس واقعے کو نائن الیون حملوں کے نام سے یاد کيا جاتا ہے اور یہ حملے نہ صرف امریکیوں بلکہ پوری دنیا کے لیے اکيسويں صدی کے اذیت ناک ترین واقعات میں ایک قرار دیے جاتے ہیں۔

    11 ستمبر 2001ء صبح قریباً آٹھ بجے یہ حادثات پے در پے رونما ہوئے ۔ پہلے ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ 757 نیو یارک کے 110 منزلہ ٹاور سے ٹکرایا اس کے اٹھارہ منٹ بعد ہی دوسرا بوئنگ 757 بھی دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا ۔ دو مسافر ہوائی جہاز نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا گئے جن سے یہ عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ اس کےٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک اور اغوا شدہ مسافر جہاز بوئنگ 757 بھی امریکی محکہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹا گان پر گرایا گیا جس سے پینٹا گان جزوی طور پر تباہ ہو گیا ۔ ۔ آدھے گھنٹے بعد ایک اور جہاز کے متعلق خبر آئی کہ جسے اغوا کر کے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جایا جا رہا تھا یہ بھی بوئنگ 757 تھا جسے پنسلوانیا کے مقام پر لڑاکا طیاروں کے ذریعے مار گرایا گیا ۔

    پہلے صبح 8 بج کر 46 منٹ پر سب سے پہلے 5 دہشت گردوں نے امریکن ہوابازی کا مسافر طیارہ فلائٹ -11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور -1 سے ٹکرا دیا ۔ اور اس کے کچھ دیر بعد 9 بج کر 30 منٹ پر ایک دوسرا طیارہ یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 175 کو بھی جنوبی ٹاور -2 سے ٹکرا دیا ۔ اور اسی وقت 9 بج کر 37 منٹ پر پینٹاگان کی عمارت سے بھی پانچ ہائی جیکروں کے ہاتھوں اغواہ شدہ طیارہ امریکی ایئرلائنز پرواز 77 گرایا گیا ۔ مزید تھوڑی دیر بعد تیسرا طیارہ جو یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 93 تھا اس کو 4 ہائی جیکروں نے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جانے کی کوشش کی ۔ مگر شانکس ولی ، پنسلوانیا کے قریب لڑاکا طیاروں کے ذریعے اسے مار گرایا گیا ۔ یہ وقت تھا 10 بج کر 30 منٹ ۔ ان تمام حملوں میں جہازوں میں موجود تمام مسافر مارے گئے ۔ ختم ہونے سے پہلے کئی مسافروں نے اپنے اپنے موبائل سیل کے ذریعے اپنے مختلف جگہوں پر فون کر کے اطلاعات دیں ۔ ان تمام اطلاعات کو بعد میں منظم کیا گیا تا کہ اس حادثے میں ہونے والے اندرونی واقعات کو تفصیل سے جوڑا جا سکے ۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    واشنگٹن: صدر جوبائیڈن نے امریکا میں منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون کے متاثرین میں برابر برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں منجمد افغان فنڈز کی مالیت 7 ارب ڈالر ہے جسے واپس کرنے کے بارے میں اب تک تذبذب کی شکار جوبائیڈن انتظامیہ نے آخر کار فیصلہ کرلیا امریکی صدر کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 7 ارب ڈالرز میں سے ساڑھے تین ارب افغان عوام اور ساڑھے تین ارب نائن الیون حملے کے متاثرین کو ادا کئے جائیں گے۔

    بھار ت میں کالعدم” تحریک طالبان انڈیا "کے قیام کا اعلان

    جمعے کو دستخط کیے جانے والے صدارتی حکمنامے کے مطابق انتظامیہ نیویارک کے فیڈرل ریزور میں منجمد افغان اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکے گی اور ان اثاثوں میں ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کی فلاح اور افغانستان کے مستقبل پر خرچ کیے جا سکیں گے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نائن الیون متاثرین کو رقم کی ادائیگی عدالتی فیصلہ آنے تک معطل رہے گی البتہ عدالت نے اجازت دی تو افغان عوام کو ساڑھے تین ارب ڈالر فوری طور پر ادا کردیئے جائیں گے۔

    امریکی صدر کے حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منجمد فنڈز میں ساڑھے تین ارب ڈالرز افغان عوام تک پہنچانے کے کا طریقہ کار طے کرلیا ہے تاکہ یہ رقم طالبان کے ہاتھ نہ لگے۔

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    جمعہ کو یہ صدارتی حکمنامہ ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکی حکومت کو گیارہ ستمبر کے حملوں میں متاثرہ خاندانوں کی طرف سے دائر کردہ مقدمات میں جواب جمع کرانے کی عدالت کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب طالبان کے ترجمان نے اس امریکہ فیصلہ کو ’چوری‘ اور ’اخلاقی انحطاط‘ کی نشانی قرار دیا ہے۔

    قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے اس فیصلے کے بعد ٹویٹ میں رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے فنڈز پر قبضہ کرنا ’چوری‘ ہے اور ’انسانی اور اخلاقی انحطاط‘ کے سب سے نچلے درجے پر گرنے کی نشانی ہے۔

    واضح رہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا نے افغان فنڈز منجمد کردیئے تھے رواں برس اگست کے وسط میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا میں موجود 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ پر بظور حکومت ہمارا حق ہے جب کہ اس فنڈز کے حصول کے لیے نائن الیون متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا-

    نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین، زخمیوں اور متاثرین نے گزشتہ برس نومبر میں ایک احتجاجی مظاہرے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا افغانستان کے منجمد فنڈز سے معاوضہ دیا جائے۔

    نائن الیون کے سازشی نظریات پر یقین رکھتا ہوں آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ…

    خیال رہے کہ امریکا میں 7 ارب ڈالرز کے افغان فنڈز منجمد ہیں جب کہ نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والوں کے 150 خاندانوں نے زر تلافی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے دس سال قبل 7 ارب ڈالر مالیت کا زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر گزشتہ برس لواحقین اور متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی حکم کی پاسداری میں زرتلافی کی رقم امریکا میں منجمد افغانستان کے 7 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز طالبان کو دینے کے بجائے اس ہمیں معاوضہ ادا کیا جائے۔

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد

    جبکہ ماضی میں طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا ’مسائل‘ کا باعث بن سکتا ہے جس کے باعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے اگست 2021 میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ملک کی معاشی حالات مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ نے خدشہ کا اظہار کیا کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے