Baaghi TV

Tag: نااہلی

  • الیکشن کمیشن سزا  کے بعد کسی کو نااہل قرار دے سکتا ہے،عدالت

    الیکشن کمیشن سزا کے بعد کسی کو نااہل قرار دے سکتا ہے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ ،توشہ خانہ میں بانی پی ٹی آئی کی نااہلی اور پی ٹی آئی کو ڈی لسٹ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی
    جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے پانچ عدالتی فیصلے بنچ کے سامنے رکھ دیے،علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس تحقیقات کر کے نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔الیکشن کمیشن کو 26 اے کے تحت نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ریفرنس فائنل کرتے وقت وجوہات موجود ہونا ضروری ہے۔الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں ہےای سی پی کے پاس کسی کو نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔الیکشن کمیشن کا دائر اختیار بڑا محدود ہے۔الیکشن کمیشن کا کام صاف شفاف انتخابات کروانا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق نااہلی 63 ون پی کے تحت کی گئی۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سیکشن 173 کے تحت الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا،سیکشن173 کے تحت کون فیصلہ کر سکتا ہے۔علی ظفر نے کہا کہ سیشن جج فوجداری کے سیکشن 173 کے تحت فیصلہ کر سکتا ہے

    جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن سزا ہونے کے بعد کسی کو نااہل قرار دے سکتا ہے۔جسٹس شمس محمود مرزا نے کہا کہ ہمارے سامنے دائرہ اختیار کا معاملہ ہے۔علی ظفر نے کہا کہ جی ہم نے دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس کا اختیار ہے یا نہیں۔

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    نااہلی فیصلہ، احتجاج میں چند لوگ کیوں نکلے؟ عمران خان برہم

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا ہے

    ویڈیو، اللہ کرے میں نااہل ہو جاؤں، عمران خان اپنی نااہلی کو بھی درست قرار دے چکے

    واضح رہے کہ 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر 19 ستمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا ،الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قرار دے دیا ہے۔

  • نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان نے نااہلی کے معاملے پر اپیل کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست بیرسٹر علی ظفر نے دائر کی،عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے تحائف ڈیکلیئر نہ کرنے کے غلط الزام پر بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کا ریفرنس بھیجا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر عمران خان کو میانوالی سے ڈی سیٹ کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمران خان کو انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ کا لارجربینچ الیکشن کمیشن کے خلاف اپیل پر سماعت کر رہا تھا مگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل واپس لینے کی استدعا منظور کرنے سے انکار کردیا، اسلام آبادہائیکورٹ کےحکم کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ لارجربینچ کارروائی آگے نہیں بڑھا پا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں اپیل پر جلد سماعت کی عمران خان کی یہ دوسری درخواست ہے، ایک درخواست پہلے بھی علی ظفر نے دائر کی تھی،

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • مودی کی نااہلی کی درخواست دائر کرنیوالے کے علاج کا حکم

    مودی کی نااہلی کی درخواست دائر کرنیوالے کے علاج کا حکم

    بھارتی وزیراعظم مودی کی نااہلی کیخلاف درخواست دینے والے درخواست گزار کا عدالت نے علاج کروانے کا حکم دے دیا، عدالت نے نااہلی کی درخواست مسترد کر دی

    دہلی ہائیکورٹ میں بھارتی وزیراعظم مودی کی نااہلی کی درخواست دائر کی گئی تھی، عدالت میں درخواست کی سماعت ہوئی تودلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کر دی، ڈویژن بینچ نے درخواست گزار پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ درخواست گزار کو علاج کی ضرورت ہے، عدالت نے حکم دیا کہ مقامی حکام درخواست گزار پر نظر رکھیں،

    دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم ٹھیک ہو؟ یہ درخواست غیر ضروری ہے، دہلی ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس منموہن کی صدارت میں بینچ نے سماعت کی تھی، عدالت نے درخواست مسترد کی اور فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے الزامات مضحکہ خیز ہیں،وہ کسی ذہنی پریشانی کا شکار لگ رہا اور اسے طبی علاج کی ضرورت ہے،

    درخواست گزار کیپٹن دیپک کمار نے سنگل بنچ کے حکم کو ڈویژن بنچ میں چیلنج کیا تھا،دہلی ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزار نے بھارتی وزیراعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ کی نااہلی کی استدعا کی تھی، درخواست میں کہا تھا کہ انہوں نے جھوٹا حلف اٹھایا ،مودی نے قومی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی،درخواست میں مودی پر چھ برس کے لئے الیکشن لڑنے پر پابندی لگانے کی بھی استدعا کی گئی تھی.

    واضح رہے کہ بھارت میں انتخابات ہو چکے ہیں اور مودی ایک بار پھر وزیراعظم بن چکے ہیں، کانگریس رہنما راہول اپوزیشن لیڈر بن چکے ہیں، مودی نے گزشتہ روز پارلیمان سے خطاب بھی کیا تھا.

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    ‏اڈیالہ جیل میں گرفتار، سابق وزیراعظم عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں، عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے،عمران خان نے اپنی نااہلی کے خلاف زیر التواء اپیل کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار سابق وزیراعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہے،درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کرنے کے بعد پارٹی سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کی کاروائی جاری ہے، الیکشن کمیشن کے احکامات کے خلاف اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات زیر التواء ہیں، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس کی وجہ سے ہائیکورٹس میں کاروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی، ان مقدمات کی وجہ سے درخواست گزار چیئرمین پی ٹی آئی، ممبر اسمبلی منتخب نہیں ہو پا رہا، زیر التواء اپیل کی وجہ سے درخواست ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا، بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کے خلاف ٹیریان کیس ایک بار پھر ناقابل سماعت قرار

    عمران خان کے خلاف ٹیریان کیس ایک بار پھر ناقابل سماعت قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف درخواست مسترد کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مبینہ بیٹی چھپانےپر نااہلی کی درخواست پر سماعت کی،جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میں لارجر بنچ نےسماعت کی،جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بنچ میں شامل ہیں،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ” اس فائل میں ایک بند لفافہ ہے وہ کھولیں،دو ججز کا فیصلہ ہے، دو ججز درخواست ناقابل سماعت قرار دے چکے ہیں”،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف درخواست مسترد کردی،عمران خان کے خلاف ٹیریان کیس ایک بار پھر ناقابل سماعت قرار دے دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے دو ججز کا سنایا جانے والا فیصلہ درست قرار دے دیا

    شہری محمد ساجد نے بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کر رکھی ہے،تین رکنی بنچ میں سے دو ممبران نے ایک سال پہلے کیس ناقابلِ سماعت قرار دے دیا تھا،دو ججز نے اپنا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ اپلوڈ ہونے کی کچھ ہی دیر بعد ہٹوا دیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پریس ریلیز کے ذریعے تین رکنی بینچ تحلیل کر دیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کی پریس ریلیز میں بینچ دوبارہ تشکیل دینے کا لکھا گیا تھا

    ٹیریان کیس کی نئی سماعت مقرر کرنا بانی پی ٹی آئی کو ناحق جیل میں رکھنےکامنصوبہ ہے،پی ٹی آئی

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی تھی ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    ٹیریان وائیٹ کیس، تحریک انصاف کی جانب سے تین رکنی بنچ کے فیصلے کا خیر مقدم
    ٹیریان وائیٹ کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی بنچ کا فیصلہ ،پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے تین رکنی بنچ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عدّت کیس کیطرح یہ معاملہ بھی نہایت لغو، بیہودہ، گھٹیا اور منصوبہ سازوں کی ذہنی پستی کی علامت تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو ججز واضح طور پر اس معاملے پر پہلے ہی فیصلہ صادر کرچکے تھے جسے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ذریعے تکنیکی طور پر دوبارہ زندہ کرنے کی مایوس کن کوشش کی گئی، قوم سمجھ چکی ہے کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے خلاف قائم تمام مقدمات کے اہداف سیاسی ہیں، ان تمام مقدّمات کے اہداف خوفزدہ کرکے عمران خان جو جھکنے پر مجبور کرنا یا ان کی کردار کشی کرکے عوام میں ان کے خلاف بدظنی کو ہوا دینا ہے،

  • علی امین گنڈاپور کی نااہلی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    علی امین گنڈاپور کی نااہلی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا سالانہ گوشواروں میں غلط بیانی کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی

    ڈی جی پولیٹیکل فنانس مسعود اختر الیکشن کمیشن پیش ہوئے،علی امین گنڈاپور کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،درخواست گزار کفیل احمد نے علی امین گنڈاپور کی نااہلی کی درخواست واپس لے لی،الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کفیل احمد کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی،وکیل علی امین گنڈا پور نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا اذخود نوٹس معطل کردیا ہے، ممبر اکرام اللہ خان نے کہا کہ کیا پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روکا ہے؟ وکیل علی امین گنڈا پور نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کاروائی کرنے سے بھی روکا ہے، الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بینچ کا حصہ ہیں،عدالتی کاروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھائی جارہی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے، اس وقت قانونی اور آئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتے سنیں گے، ہو سکتا ہے تب تک ہمارا اس کیس میں آرڈر بھی آچکا ہو، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کیمطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا،کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی،کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟

    ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں،ہم آئینی تاریخ کو ، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں،آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیا گیا، مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں،کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے، اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ پاکستان کی پارلیمان کا جو امتحان ہے، کیا وہ دنیا کی کسی پارلیمان کا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے،اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا دو سال ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے،کیا سزا تاحیات ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا دس سال کرائی گئی، آئین وکلاء کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے،آئین کو آسان کریں،آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، فلسفانہ باتوں کے بجائے آسان بات کریں،اگر کوئی سونا چند گرام لکھوایا تو کیا ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کر دے تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کا عدالت دوبارہ کیسے جائزہ لے سکتی ہے؟جو مقدمات قانونی چارہ جوئی کے بعد حتمی ہوچکے انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکا ہے تو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہونگے؟
    مدت پانچ سال طے کرنے کا معاملہ عدالت آیا، کیا ہم 232 تین کو ریڈ ڈاون کرسکتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ بہت مشکوک نظریہ ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ 232تین کو اسطرح طے کرے کہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی تو سزا پانچ سال ہوگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے، 232 تین کو اگلی پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے،عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں، اگر سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم سیکشن 232 دو کو کیسے کالعدم قرار دیں وہ تو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا زکر نہیں ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈیکلریشن رہے گا نااہلی رہے گی،

    پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا کیس میں آپکا کیا خیال ہے ، جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ وہاں ڈکلیریشن نہیں تھا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پارلیمنٹ نے نا اہلی کی مدت طے کرائی تو یہ سوال تو اکیڈمک سوال ہوا کہ نا اہلی کی مدت کیا ہو گی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو کالعدم قرار دیں تو سزا کتنی ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ کہہ چکا ہے نا اہلی 5 سال ہو گی ، کیا سمیع اللہ بلوچ کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا گیا تھا؟ ریکارڈ منگوا لیں , جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 232 دو عدالتی معاون کے مطابق سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو بے اثر کر دیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دیکھے ، سیکشن 232 تین چیلنج ہی نہیں ، امریکہ میں قانون کالعدم ہو تو کانگرس نیا قانون بنا لیتی ہے، امریکی کانگرس اپنی عدالت کو قائل کرتی ہے کہ اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس ہونے تک مدت کم نہیں ہوسکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں، اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں کیونکہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، سربراہ پی ٹی آئی کو نا اہل نہیں کیا گیا ،شکیل اعوان، خواجہ آصف، شیخ رشید کیسز دیکھیں تو تا حیات نا اہلی کا فیصلہ لکھنے والے جج آہستہ آہستہ مؤقف بدلتے رہے ،

    نواز شریف کا نام لینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لیں،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی فیس نہ ملی ہو
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ایسی کوئی مثال ہے سمیع اللہ بلوچ کے بعد کیس کو تا حیات نا اہل کیا گیا ہو ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ڈکلیریشن کو ختم کیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ثناء اللہ بلوچ کے لیے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں کچھ کہا گیا ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کو نا اہل کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لینا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تنخواہ لینے کا سہارا لے کر نا اہلی کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ بات نا کریں جو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں ،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی اسے فیس نہ ملی ہو ،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے تک ہر شخص کی صادق اور امین ہوگا، ایک دو غلطیوں سے کسی کو بے ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا،اگر کوئی غلطی ہو بھی تو پانچ سال کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، ایسا کوئی ڈیکلریشن آج تک نہیں آیا کہ کوئی صادق اور امین نہ ہو، جرائم پیشہ افراد کو ایماندار اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا، نااہلی کا ڈیکلریشن شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتیں،

    تاحیات نااہلی کیس، وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز، اٹارنی جنرل کے دلائل
    دوبارہ وقفے کے بعد سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے 2015 کے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کورٹ آف لا کیا ہو گی 2015 میں سات رکنی بنچ نے یہ معاملہ اٹھایا، سمیع اللہ بلوچ کیس نے کورٹ آف لا کے سوال کا جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا، جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے، اس کے بعد مگر یہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے؟ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ آف لاء سے متعلق سمیع اللہ بلوچ نے فیصلہ نہیں کیا لیکن اسحاق خاکوانی کیس میں 2015 میں یہ معاملہ اٹھا تھا، اسحاق خاکوانی کیس میں 7 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کی ڈکلئیریشن پر سوالات اٹھائے، اسحاق خاکوانی کیس میں یہ کہا گیا کہ نااہلی سے متعلق سوالات کا آئندہ کسی کیس میں عدالت فیصلہ کرے گی، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو سوالات اسحاق خاکوانی کیس میں اٹھائے گئے ان کا فیصلہ ہم کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہو گا،عدالت فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈکلیریشن کس نے دینی ہے،عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لاء کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسحاق خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ فیصلہ کر چکا تھا تو پانچ رکنی بنچ نے وہ فیصلہ کیوں نہ دیکھا؟سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے ماضی کے فیصلے کو نظرانداز کر کے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کر دیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سابق جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ تھا، سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بنچ تھا،سات رکنی بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجر بنچ دیکھے گا، بعد میں پانچ رکنی بنچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پانچ رکنی بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟یاتو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، میں اس نوٹ سے اختلاف کر نہیں پا رہا انہوں نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے ابھی ہم نے پہلی رکاوٹ ہی عبور نہیں کی، ڈیکلیریشن کا طریقہ کار کیا ہو گا یہ ہم کیسے طے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے طے کر دی ہے پانچ سال کی مدت، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے صرف نااہلی کی مدت کا تعین کیا ہے،نااہلی کی ڈکلئیریشن اور طریقہ کار کا تعین ابھی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منصور صاحب اس کا جواب یہ دیں کہ پارلیمنٹ آئندہ یہ بھی طے کر لے گی،عدالتیں قانون نہیں بناتیں، عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتا ہے کہ قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں، آئین بنانے کے ماہرین نے 1973 کا آئین بنا دیا،پھر ٹہلتے ہوئے آئے کہا ایسی چیزیں ڈال دیں کہ سر نہ اٹھا سکیں،جس کو چاہیں نااہل کردیں ،صحیح یا غلط باسٹھ ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا،نااہلی کی مدت کا تعین نہ کرنا انکا فیصلہ تھا میں کیوں کروں، مبشر حسن کیس میں سترہ ججز نے 62 ون ایف کو خود سے لاگو ہونے نہ ہونے کا کہا، آج ہم سب بھی بیٹھ جائیں تو سترہ ججز نہیں بنتے

    تاحیات نااہلی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خوش آمدید،کب سے انتظار کر رہے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کے لیے کی گئی، آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق آئینی ترمیم لازمی ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ میں خامیاں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سے مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں،تحریک انصاف نے ہمارے سامنے کوئی درخواست دائر نہیں کی، جسٹس مندوخیل نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم تو آج کل دیر ہی کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مختصر فیصلہ جلد سنایا جائیگا،ممکنہ طور پر آج فیصلہ نہیں سنایا جائیگا،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • نیب سزا یافتہ کی دس سالہ نااہلی بحال،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

    نیب سزا یافتہ کی دس سالہ نااہلی بحال،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،نیب سزا یافتہ کی دس سالہ نااہلی کم کرکے پانچ سال کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سنگل بینچ کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے معطل کردیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب سزا یافتہ کے لئے 10 سالہ نااہلی کی مدت بحال کر دی ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ ڈویژن بنچ نے معطل کر دیا ، سنگل بنچ نے نااہلی کی مدت دس سال کی بجائے 5 سال کا فیصلہ دیا تھا،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے حکم امتناع جاری کیا

    نیب کیسز میں سزا یافتہ ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر فائق جمالی کی اہلیت کیخلاف نیب کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے نااہلی کی مدت سے متعلق درخواست پر سماعت کی، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سزا یافتہ شخص کے جیل سے رہا ہونے کے بعد اس کی نااہلی کی مدت شروع ہوگی،فائق جمالی کو سنائی گئی سزا میں دس سال کی نااہلی بھی شامل تھی، سپریم کورٹ تک فائق جمالی کی سزا برقرار رہی ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ سوال ہی نہیں ہے جس پر آپ دلائل دے رہے ہیں ، سزا تو متنازع نہیں ہے، آئین میں ذیلی قانون سازی کیا آئین میں دی گئی تشریح سے مختلف ہوسکتی ہے ؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون ایچ میں جنرل بات کی گئی ہے، نیب آرڈیننس ایک اسپیشل لا ہے ،اس میں دس سال کی نااہلی کی سزا موجود ہے ،خالد لانگو کیس میں سپریم کورٹ نے نااہلی کی سزا برقرار رکھی ،

    نیب ریفرنس میں سزا یافتہ مجرم فائق علی جمالی کی نا اہلی کی مدت سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ نیب نے سزا یافتہ افراد کے الیکشن لڑنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،نیب نے عدالت سے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ الیکشن لڑنے کے لیے نیب سزا یافتہ کی 10سال نااہلی کی مدت بحال کریں نیب کا مؤقف ہے کہ نیب کے سزا یافتہ افراد الیکشن لڑنے کے لیے ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں،نیب کا کہنا ہے کہ جون میں سنگل بینچ نے نیب نااہلی کی مدت 10کے بجائے 5 سال کر دی تھی، سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، الیکشن لڑنے کے لیے سنگل بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیا جا رہا ہےنیب نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت انٹرا کورٹ اپیل میں سنگل بینچ کا فیصلہ فوری معطل کرے۔

  • سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سپریم کورٹ،مسلم لیگ ق کے سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار دے دی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مرنے کے بعد بہتر ہےکہ مقدمہ نہ چلائیں، جعلی ڈگری کا معاملہ درخواست گزار کے مرنے کیساتھ ہی ختم ہوگیا،کیا کیس کا کوئی فوجداری پہلو ہے اگر ہے تو سن لیتے ہیں ، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ لواحقین کا اصرار ہے کہ مقدمہ سن کر جعلی ڈگری کا دھبہ ختم کیا جائے،پوری تعلیم میں نے محمد اختر خادم کے نام پر حاصل کی، سیاست خادم حسین کے نام سے کی شناختی کارڈ بھی اسی نام سے بنوایا،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار زندہ ہوتے تو کچھ ثابت ہو سکتا تھا،مرنے کے بعد لواحقین درست نام کیسے ثابت کرینگے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بیان حلفی یا دستاویزات بطور شواہد دکھا دیں،نام بدلنے کا موقف ہے تو ثبوت پیش کرنا بھی آپکی ذمہ داری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،محمد اختر خادم عرف خادم حسین 2008 میں این اے 188سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ،ہائیکورٹ نے بی اے کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا تھا ،درخواست گزار نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی

    جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا،چیف جسٹس
    دوسری جانب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق مشیرخزانہ بلوچستان خالدلانگو کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے کیس کی سماعت کی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ خالد لانگو عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں، فیصلہ معطل کیا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا خالد لانگو کے گھر سے ٹرکوں کے حساب سے پیسے پکڑے گئے، ان کے گھر سے 2 ارب24 کروڑ 91 لاکھ روپے برآمد ہوئے، صرف 26 ماہ کی کم سزا کیوں دی گئی؟ بلوچستان سے ایسے لوگوں کو انتخابات لڑنے سے دور رکھنا چاہیے، آپ کے موکل کو تو جیل کے دروازے کی طرف جانا چاہیے، کیا بلوچستان کے پیسے مزید چوری کرنے کیلئے الیکشن لڑنا ہے؟ کس دنیا میں رہتے ہیں آپ؟ گھر سے برآمد ملکی اور غیر ملکی کرنسی ٹرکوں پر لاد کرلے جائی گئی، ایسے لوگ بلوچستان کے دشمن ہیں، نیب کی تاریخ میں کسی کو اتنی کم سزا نہیں ہوئی ہوگی، مہربانی فرمائیں، بلوچستان کے لوگوں کو بخش دیں، صوبے میں ایک سڑک تک نہ بن سکی، ایسے لوگ ہی بلوچستان کھاگئے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز نے سوال اٹھایا کہ کیا اس شخص کے اتنے زیادہ تعلقات ہیں جو نیب اپیل دائر نہیں کررہا، کیا نیب آپ کے مؤکل کے کنٹرول میں تھا جواپیل دائرنہیں کی گئی؟ نیب کا کمال دیکھیں، ٹرک بھرکے پیسے پکڑے گئے اورکم سزا کے خلاف اپیل نہیں ہوئی، جوپیسہ پکڑا گیا وہ کاروبار یا جائیداد سے نہیں بنایا گیا، چھوٹے چھوٹے کیسز میں تو نیب فوری اپیل دائر کردیتا ہے، نیب کرپشن کا سہولت کار بنا ہوا ہے،عدالت نے خالد لانگو کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب

    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آج پیمرا ترمیمی بل پاس ہوا ہے جس سے تمام میڈیا ملازمین اور جرنلسٹ کی کم سے کم تنخواہ وہی ہوگی جو حکومت کی مقرر کردہ ہے اور اگر آپکو تنخواہ نہیں ملتی تو گورنمنٹ بھی ان میڈیا ہاؤسز کو بزنس نہیں دے گی اس بل کی ترمیم میں معاونت کرنے والے میڈیا کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 2018 میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو مسلط کر کے ترقی کا راستہ روک دیا گیا مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پر میڈیا کو اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی قومی اسمبلی میں آج تاریخی پیمرا ترمیمی بل کو پاس کیا گیا، میڈیا ہاوسز کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقرر کردہ تنخواہ کے مطابق ہو گی

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 3 مرتبہ کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو سازش کر کے ہٹایا گیا نوازشریف کو تاحیات نا اہل کر کے سی پیک اور پاکستان کی ترقی کو روکنا تھا آئی ایم ایف معاہدے پر چیئرمین تحریک انصاف ملک دشمنی کے مرتکب ہوئے پارٹی پر جب مشکل وقت میں آیا تو طلال چوہدری اور دانیال عزیز قیادت کے ساتھ کھڑے رہے انہوں نے سخت حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا آج مسلم لیگ (ن) کے قائد مبارکباد کے مستحق ہیں

    پی سی او کے جج انصاف نہیں دیں گے” اس جملے پر میری نااہلی ہوئی، طلال چودھری
    ن لیگی رہنما طلال چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت پر 5 سال کی سزا دی گئی تھی ،میں میڈیا کا شکر گزار ہوں, مجھے سیاست میں زندہ رکھا، ناانصافی کی خلاف میری آواز بنے، 2 اگست 2018 کو دی گئی سزا کے پانچ سال مکمل ہو گئے یہ توہین عدالت میرے ایک فقرے” پی سی او کے بت انصاف نہیں دیں گے، پی سی او کے جج انصاف نہیں دیں گے” پر دی گئی، ثاقب نثار نے خود نوٹس جاری کیا، خود ہی بینچ بنا دیا،پانامہ کے جج افضل کا ایک بینچ پھر دوبارہ جسٹس گلزار کے بینچ نے مجھے سزا دی، ایک پلان تھا مسلم لیگ ن کے لوگوں کو چن چن کر نااہلی, گرفتاریاں کی گئیں،2017 سے اس سلسلہ کا آغاز ہوا اور پانامہ کے ججز یہ سب کرتے تھے،

    طلال چودھری کا کہنا تھا کہ پانامہ کے ججز یہ سب کرتے رہے،خدا کی قسم میں نے توہین عدالت نہیں کی،ثاقب نثار نے مجھے میسج بھجوایا کہ میاں صاحب کے خلاف بیان دینا ہے،کہا گیا کہ ایسا بیان نا دیا تو سزا بڑا دی جائے گی، جج نے کہا تھا کہ میرا دل کرتا ہے ایک اور سو موٹو لوں اور سزا دوں،صرف اس لیے کہ میں میاں نواز شریف کے ساتھ وفا دار رہا، میں دوبارہ سے عملی سیاست میں آ سکتا ہوں، ثاقب نثار خود اکیلے گلی محلے بازار میں نکل نہیں سکتا، اس کے بچے اپنے والد کا نام نہیں لیتے کہ کوئی سیاہی پھینکنے کی کوشش کر دے، 2017 کا پاکستان دیکھیں اور 2022 کا پاکستان دیکھیں، ن لیگ نے سزا برداشت کر لی، قوم آج تک برداشت کر رہی ہے، نا ڈالر کنٹرول ہو رہا نا معیشت چل رہی، کہتے ہیں پاکستان ترقی نہیں کرتا ڈوب رہا ہے، میرے پانچ سال آپ نہیں لوٹا سکتے، بھٹو دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا, میاں صاحب کی نااہلی کا ازالہ نہیں کرسکتے ،کم از کم یہ تو ظاہر کرو کہ آپ کو غلطی کا احساس ہے، آج کے حالات کے ذمہ دار پانامہ کے فیصلے ہیں،عمر عطا بندیال سے میرا سوال ہے، میرے 5 سال نہیں لٹا سکتے تصحیح تو کر جائیں، جسٹس قاضی فائز عیسی کو لوگ روایتی جج کی صورت میں دیکھنا نہیں چاہتے، ماضی کے فیصلوں کی درستگی کی ذمہ داری اب آپ پر ہے،میرے مخالف کا کیس آج بھی ویسے پڑا ہے لیکن کوئی سن نہیں رہا، جس کے ہاتھوں سے کینٹ محفوظ نہیں وہ پولنگ اسٹیشنز کو چھوڑے گا، جو زیادتیاں ہوئی ہیں ازالہ کون کرے گا،مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت 62، 63 کی غلط تشریح سے گری ہے، 1996 سے 2023 ،27 سال میں نواز شریف کو ایک الیکشن لڑنے دیا گیا،2023 کی نااہلی ابھی بھی برقرار ہے،بیٹے سے تنخواہ نا لینا اس کا جرم قرار دیا گیا ہے،ترازو کے دونوں پلڑے ایک جیسے کرنے پڑیں گے،میں اپنے موقف پر آج بھی کھڑا ہوں 5 سال کی سزا کاٹ کر،

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے