Baaghi TV

Tag: نااہلی کیس

  • اسحاق ڈارکی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسحاق ڈارکی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسحاق ڈارکی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ لاہورہائیکورٹ نے فیصلہ نہیں کردیا تھا؟میں نے شاید میڈیا میں دیکھا تھا،وکیل درخواست گزارنے کہاکہ اگروہاں فیصلہ ہو بھی گیا تھا تو بھی اس عدالت کا دائرہ اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہی کہہ رہا ہوں فیصلہ ہو چکا ہے چیک کرلیں،انگریزی آتی ہے آپ کو ؟دوسرے درخواستگزارکے وکیل ریاض حنیف راہی صاحب کو بلائیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شیر افضل مروت کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے کیا گراؤنڈز ہیں ،ِوکیل نے کہاکہ 4گراؤنڈزہیں ،ایگزیکٹوآرڈرکی گنجائش نہیں، دو چارج نہیں ہو سکتے، وکیل درخواستگزار نے کہاکہ وزیراعظم الیکشن کے ذریعے منتخب ہو کرآتا ہے،ڈپٹی وزیراعظم ایگزیکٹوآرڈرکے ذریعے آتا ہے،اس عدالت نے دو عہدے رکھنے سے متعلق واضح آرڈر کیا ہوا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12جون تک جواب طلب کرلیا،عدالت نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری، اسحاق ڈار اور سیکرٹری کابینہ کو نوٹس جاری کر دیئے ،عدالتی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا،عدالت نے فریقین سے 12جون تک جواب طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاقی حکومت، سیکرٹری کابینہ ڈویژن، وزیر اعظم اور اسحاق ڈار کو فریق بنایا گیا ہے،شیر افضل مروت نے وکیل ریاض حنیف راہی کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسحاق ڈار پہلے ہی بطور وفاقی وزیر خاجہ کام کر رہے ہیں، 28 اپریل کو وزیر اعظم کی منظوری سے اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔درخواست میں کہا گیا کہ آئین میں ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی شق ہے کہ وزیراعظم کسی کی ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کریں عوام کے خرچے پر ایک ہی شخص کو دو عہدے ذاتی مفاد کیلئے عطا کیے گئے ہیں، ایک شخص جو غیر قانونی طریقے سے تعینات ہو ریاست کی مرعات حاصل نہیں کر سکتا، اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تعیناتی کا 28 اپریل 2024 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری نااہلی کیس میں طلب

    سپریم کورٹ، قاسم سوری نااہلی کیس میں طلب

    سپریم کورٹ میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نااہلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے قاسم سوری کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ نے قاسم سوری کو انتخابی دھاندلی کیس میں طلب کر لیا ، وکیل قاسم سوری نے کہا کہ اسمبلی کی مدت مکمل ہوچکی اپیل ان غیرموثر ہے، وکیل لشکری رئیسانی نے کہا کہ ٹربیونل نے قاسم سوری سے مراعات واپس لینے کا حکم دیا تھا، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ قاسم سوری نے 22 اپریل کو استعفی دے دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکم امتناع لیکر مزے کرتے رہے، پھر مستعفی ہوکر کہہ دیا اپیل غیرموثر ہوگئی،

    کیوں نہ قاسم سوری کےخلاف سنگین غداری کی کارروائی کی جائے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نعیم بخاری سے سوال کیا کہ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟ اگرآپ اتفاق کرتے ہیں توبلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا، نعیم بخاری نے عدالت میں کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے کہا تھاکہ قاسم سوری نے کوئی کرپٹ پریکٹس نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ قاسم سوری نے استعفیٰ کب دیا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ قاسم سوری نے 16 اپریل 2022 کو استعفیٰ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ جب آپ نے اسمبلی توڑی تب بھی اسٹے پر تھے ناں؟ قاسم سوری نے غیرقانونی طور پر اسمبلی توڑی، قاسم سوری کیلئے5 رکنی بینچ کے فیصلے میں آرٹیکل6 کے تحت سنگین غداری کی کارروائی کی تجویزکی گئی، کیوں نہ قاسم سوری کےخلاف سنگین غداری کی کارروائی کی جائے، جس کسی نے بھی آئین کے خلاف ورزی کی اس کونتائج کا سامنا کرنا ہوگا، سپریم کورٹ کے اندرجو ہاتھ گھس گئے ہیں کہ کونسے کیس مقرر ہونے ہیں کونسے روکنے ہیں یہ سلسلہ اب ختم ہوگا، اگر سپریم کورٹ میں کیسزکے تقرر میں ہیرپھیر ہوتی رہی توپرانے معاملات بھی درست کریں گے، اب مزید سپریم کورٹ کی سازباز نہیں ہوگی، سپریم کورٹ کی تباہی میری،آپ کی اورعوام کی تباہی ہے، یہ صرف میرا ادارہ نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ کے اندر سے ہیراپھیری ہوتی رہی، کبھی اسٹیبلشمنٹ آجاتی ہے کبھی کوئی اور، اب یہ سلسلہ نہیں چلے گا،چیف جسٹس
    نعیم بخاری نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ سے خفا ہورہے ہیں یا سسٹم سے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ ہم اعتراف کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اندر سے ہیراپھیری ہوتی رہی، قاسم سوری بھی غلطی تسلیم کریں، سسٹم سے خفا ہوں آپ سے نہیں اوراعتراف کررہا ہوں کہ ہیرا پھیری ہوتی ہے، آپ بھی اعتراف کریں کہ ہیرا پھیری کرتے رہے ہیں، کبھی اسٹیبلشمنٹ آجاتی ہے کبھی کوئی اور، اب یہ سلسلہ نہیں چلے گا، قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہونے دی، ان کا اقدام سپریم کورٹ کے 5 ججز نے غلط قرار دیا، قاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے، ان پر کیوں نہ آئینی شکنی کی کارروائی کا حکم دیا جائے، قاسم سوری کو طلب کرکے آئینی خلاف ورزی کا پوچھیں گے۔

    قاسم سوری کو اپنے دستخط کے ساتھ خود جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی،سپریم کورٹ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے بھی جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سوری نے حکم امتناعی لے کر پوری اسمبلی مدت کو انجوائے کیا ,اب کہہ رہے ہیں اسمبلی ختم کیس غیر موثر ہوگیا, کیا اپ نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کو نہ لگوانے کیلئے کوئی حربہ استعمال کیا ؟سپریم کورٹ نے قاسم سوری کا کیس مقرر نہ ہونے اور اسٹے برقرار رہنے پر رجسٹرار کو نوٹس کر دیا،سپریم کورٹ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے تین ہفتے میں رپورٹ طلب کر لیا،عدالت نے قاسم خان سوری کے حریف لشکری رئیسانی کو بھی نوٹس جاری کر دیا،رجسٹرار آفس کو تین ہفتوں میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی،کیس کی سماعت ایک ماہ بعد تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • نااہلی کیس، فیصل واوڈا ذاتی حیثیت میں طلب،سپریم کورٹ نے دو آپشن دے دیئے

    نااہلی کیس، فیصل واوڈا ذاتی حیثیت میں طلب،سپریم کورٹ نے دو آپشن دے دیئے

    نااہلی کیس، فیصل واوڈا ذاتی حیثیت میں طلب،سپریم کورٹ نے دو آپشن دے دیئے
    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہل کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیصل واڈا کو کل طلب کرلیا ،عدالت نے فیصل واوڈا سے امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ بھی طلب کر لیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کو دو آپشن دے دیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یا تو فیصل واوڈا اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63(1) سی کے تحت نااہل ہو جائیں۔ بصورت دیگر عدالت 62(1) ایف کے تحت کیس میں پیش رفت کریگی۔ عدالت کے سامنے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے لیئے کافی مواد موجود ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطاء بندیال نے فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد سے سوال کیا کہ عدالت کو غلط پاسپورٹ دینے کے معاملے پر کیا سپریم کورٹ خود ہی جوڈیشل نوٹس لیے یا معاملہ متعلقہ فورم کو بھیجے ؟

    الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نا اہل کرنے کا اختیار نہیں تھا الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی،الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا کی اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی

    فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی فیصلے کیخلاف درخواست پر فل بینچ تشکیل

    توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی فیصلے کیخلاف درخواست پر فل بینچ تشکیل

    عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی فیصلے کے خلاف درخواست پر فل بینچ تشکیل دے دیا گیا

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں فل بینچ تشکیل دے دیا گیا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی فل بینچ کا حصہ ہیں ،درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں، کسی کو نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے، عدالت توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے، این اے 95 کے ووٹر نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے میانوالی میں الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے میانوالی میں الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے میانوالی میں الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روک دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطلی کی درخواست فریقین کو سن کر فیصلہ کریں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے میانوالی کی نشست پر الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخاب سے روک دیا

    دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل نہیں کر رہے، ضمنی الیکشن کرانے سے روک دیتے ہیں، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اضافی دستاویزات جمع کرانے کی کوئی درخواست بھی جمع کرا رکھی ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن جمع کرانے کی درخواست دی ہے، جسٹس عامر فاروق نے بیرسٹر علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا آج مین کیس بھی لگا ہوا ہے؟ وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ریفرنس پر 90 دن میں اسپیکر کے سوالوں کا جواب دینا ہوتا ہے،ہر رکن اسمبلی 30 جون کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا پابند ہوتا ہے، اگر کوئی چیز بیچ دی ہے تو اس سے حاصل رقم کا بتانا ہوتا ہے،

    عمران خان نا اہل قرار
    میاں بیوی نے مل کر قومی خزانے کو لوٹا، مریم نواز کا عمران خان کی نااہلی پر ردعمل

    تحریک انصاف نے پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہ

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    نااہلی فیصلہ، احتجاج میں چند لوگ کیوں نکلے؟ عمران خان برہم

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا ہے

    ویڈیو، اللہ کرے میں نااہل ہو جاؤں، عمران خان اپنی نااہلی کو بھی درست قرار دے چکے

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کو عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، عمران خان کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا عدالت سے ہائیکورٹ کے فیصلے تک ای سی پی کی جانب سے نااہلی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے

    واضح رہے کہ 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر 19 ستمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا ،الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قرار دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، ان کی قومی اسمبلی کی سیٹ خالی قرار دے دی گئی ہے

  • عمران خان کی نااہلی سے متعلق فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

    عمران خان کی نااہلی سے متعلق فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراضات کیا ہیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہمارے پاس فیصلے کی دستخط شدہ کاپی نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے دو صفحات کا فیصلہ سنایا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کو اتنی جلدی کیا ہے؟ بیرسٹر علی ظفرنے عدالت میں موقف اپنایا کہ ہمیں نااہل کر دیا گیا ،دوسرا اعتراض تو بائیومیٹرک تصدیق نہ ہونے کا ہے، عدالت نے کہا کہ بائیومیٹرک کسی کی اٹارنی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ابھی کیلئے استثنیٰ دیدیا جائے، وہ عمل کر دیں گے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کس سیکشن کے تحت نااہلی ہوئی تھی؟ علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نااہل کیا گیا، اسکے تحت نااہلی بنتی ہی نہیں، اسمبلی کے کچھ ممبران نے اسپیکر کو درخواست دی کہ عمران خان نے تحائف ظاہر نہیں کیے،اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ نااہلی تو اسی دور کی ہے جس میں وہ منتخب ہوئے،یہ تو کوئی مسئلہ نہیں، عمران خان تو نیا الیکشن بھی لڑ سکتے ہیں اس درخواست میں اتنی جلدی کیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ اس دوران تو 30 تاریخ کو کُرم کا الیکشن ہو جائے گا،عدالت نے کہا کہ کرم الیکشن کیلئے تو عمران خان نااہل نہیں ہیں، سب کیلئے پیمانہ ایک ہونا چاہیے، اس درخواست میں جلدی کوئی نہیں، اعتراضات دور کریں اسکے بعد درخواست کو سنیں گے،الیکشن کمیشن کا فیصلہ تو ابھی موجود ہی نہیں، یہ عدالت کس فیصلے کو معطل کرے؟ عمران خان جس نشست سے ہٹائے گئے اس پر واپس پارلیمنٹ تو نہیں جانا چاہ رہے ناں؟ وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے چند دن بعد الیکشن لڑنا ہے مسائل کا سامنا ہے،عدالت نے کہا کہ الیکشن کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے، وکیل نے کہا کہ یہ بات عوام نہیں سمجھ سکے گی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت عوام کو سمجھانے کیلئے نہیں، یہ کبھی ہوا نہیں، عدالت ایسی مثال قائم نہیں کر سکتی، وکیل نے کہا کہ جو الیکشن کمیشن نے کیا وہ بھی پہلے کبھی نہیں ہوا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ہوتا ہے ہم بھی فیصلہ سنا کر کئی بار بعد میں تفصیلی فیصلہ لکھتے ہیں،عدالت امید کرتی ہے کہ تین روز میں فیصلے کی کاپی فراہم کر دی جائے گی، اگر تین دن میں فیصلہ نہیں ملتا تو پھر اس کو دیکھ لیں گے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے جیل میں قیدیوں سے متعلق بھی ایک دن میں عملدرآمد کیلئے احکامات دیے ہیں،ہمارے کیس میں بھی عدالت آج ہی فیصلہ پیش کرنے کا حکم دے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جیل میں پڑے ہیں ان پر تشدد ہو رہا ہے،وکیل عمران خان نے کہا کہ یہ جمہوریت کا مسئلہ ہے،الیکشن کمیشن فیصلے کو تبدیل کر سکتا ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں، ایسا نہ کہیں،اس عدالت کے جعلی فیصلے اسی عدالت میں چیلنج ہوئے ہیں،اس کیس میں کوئی جلدی ہوتی تو عدالت سن لیتی، علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی فیصلہ جاری کر کے پھر تبدیل کیا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کوئی جلدی کی بات نہیں، عمران خان 30 اکتوبر کا الیکشن لڑ سکتے ہیں عمران خان اگلا الیکشن لڑنے کے لیے اہل ہیں، یہ نااہلی تو اس حد تک ہی ہے جس کے لیے وہ پہلے منتخب ہوئے تھے اب عمران خان الیکشن لڑنا چاہیں تو کوئی قدغن نہیں

    عمران خان نا اہل قرار
    میاں بیوی نے مل کر قومی خزانے کو لوٹا، مریم نواز کا عمران خان کی نااہلی پر ردعمل

    تحریک انصاف نے پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہ

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    نااہلی فیصلہ، احتجاج میں چند لوگ کیوں نکلے؟ عمران خان برہم

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا ہے

    ویڈیو، اللہ کرے میں نااہل ہو جاؤں، عمران خان اپنی نااہلی کو بھی درست قرار دے چکے

  • لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نااہلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیس میں لارجر بنچ بنانے کی استدعا مسترد کر دی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی مرکزی کیا سننے والے ججز میں شامل تھے، جسٹس یحیی آفریدی کو نظر ثانی بنچ کیس میں شامل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی دستیاب ہیں انہیں بنچ میں شامل کر لیتے ہیں،آپ میرے ساتھ ملاقات کریں لارجر بنچ پر گفتگو کر لیتے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر مدت کیلئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ لارجر بنچ کی درخواست مدعی روشن علی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دوہری شہریت چھپانے پررکن اسمبلی کیلئے نااہل ہیں اہم آئینی اور قانونی نقطہ پر سماعت کیلئے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے

    قبل ازیں سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ پی ایس 73 سے منتخب ہوئے، جھوٹے حلف نامے جمع کروائے گئے، مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں ،دہری شہریت کے باوجود 2007 میں الیکشن لڑا،مراد علی شاہ کو 2013 میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا، مراد علی شاہ کو نااہل قرار دیا جائے،

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتا

  • آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اٹارنی جنرل کو لاہور میں تاخیر ہوگئی ہے ،اٹارنی جنرل اشتر اوصاف لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں؟ عامر رحمان نے کہا کہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آرہے ہیں، 3 بجے تک پہنچ جائیں گے پنجاب کی معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے،بابر اعوان نے کہا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے ،اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی،مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا،ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے،یہ دونوں وکلا ایک فریق کے وکیل ہیں ایک سرکار دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں،اب لگتا ہے اپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں، ساڑھے گیارہ بجے دیگر مقدمات قربان کر کے کیس مقرر کیا، آرٹیکل تریسٹھ اے کا فیصلہ دینا چاہتے ہیں، اہم ایشو ہے، اگر اٹارنی جنرل 3بجے پہنچ رہے ہیں تو 4 بجے تک سن لیتے ہیں، رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں یہ خدمت کا کام ہے ہم کرنا چاہتے ہیں عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت تو 24 گھنٹے دستیاب ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو 3 بجے سن لیں گے،اب لگتا ہے آپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں،معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان 17مئی کو آپس آجائیں گے مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے بینچ دستیاب نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ پورا ہفتہ دستیاب ہےمعذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے،مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں،تحریری طور پر بھی دلائل دے سکتے ہیں

    علیم خان کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے،پارلیمانی پارٹی اور چیئرمین میں واضح فرق ہے،ممبر ناصر درانی نے کہا کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے.، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی چیئرمین ہدایات جاری نہیں کرسکتا ارکان پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں16اپریل کو علیم خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، 4اپریل کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر پورا کیس بنایا گیا ہے،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کا ریفرنس میں کہیں زکر نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی،

    وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے میں تمام طریقہ کار موجود ہے،اگر طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کی طرف دیکھ سکتی تھی یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو،اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے، انحراف خالصتاً سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے،آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کی سزا کافی ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے،ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کر چکا ہے،وکیل نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف آدھے نے دوسری طرف ووٹ دیا،اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،آرٹیکل تریسٹھ اے پالیسی کا پابند کرتا ہے، انحراف سے منع کرتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرتا ہے،ایسی صورتحال میں اس رکن کی سزا تو نہ ہوئی،وکیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، عدالت پارٹی سربراہوں کے کنڈیکٹ کو بھی سامنے رکھے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہے،ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے،تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے، عدالت کا کام آئین کا تحفظ اور تشریح کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوریت کا فروغ کیسے ہو گا ہر رکن اپنی مرضی کرے گا، کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے، آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے،کیا 10پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟کیا چند افراد سسٹم کو ڈی ریل کر سکتے ہیں؟ وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن بڑی اہم ہے،آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے وہ مرضی سے ووٹ دیں،کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا،آرٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسطرح سے سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی، ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے،کیا سربراہ پارٹی کے ساتھ ہوئے غلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردیں تو یہ آئین کے خلاف ہو گا؟کیا پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں

    وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے،اگر اختلاف پر ارکان استعفیٰ دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہو گا،جسٹس جمال خان نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا،وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سماعت کل تک ملتوی کردیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل پیش ہوں گے،اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل سے دیں،کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

  • الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات سے متعلق تحریری معروضات جمع کرا دیں ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کے فیصلوں سے واضح ہے کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں عدالت جھوٹے بیان حلفی پر فیصلہ دیتے ہوئے وجوہات کو بھی مدنظر رکھے، تحریری معروضات میں سپریم کے مختلف فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا چیف جسٹس کی سربراہی میں3 رکنی بینچ 15 مارچ کو فیصل واوڈا کیس کی سماعت کرے گا

    قبل ازیں فیصل واوڈا نے تاحیات نا اہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کردی گئی اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نا اہل کرنے کا اختیار نہیں تھا الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی،الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا کی اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے سپریم کورٹ میں دائر کی

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصل واوڈا کی نا اہلی سے متعلق درخواست مسترد کردی ,تحریری فیصلہ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پڑھ کر سنایا تحریری فیصلہ 12 صفحات پر مشتمل ہے الیکشن کمیشن نے 9 فروری کو فیصل واڈا کو نااہل قرار دیا تھا فیصلے میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کا حوالہ بھی دیا گیا فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں،فیصل واوڈا کا اپنا کنڈکٹ ہی موجودہ نتائج کا باعث بنا ہے،

    فیصل واوڈا کو الیکشن کمیشن نے نااہل کیا تھا، الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا نااہلی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا،تحریری فیصلے پر چیف الیکشن کمشنرز سمیت 3ممبران نے دستخط کیے فیصل واوڈا کی نااہلی کا فیصلہ 27 صفحات پر مشتمل ہے 27صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر راجہ سلطان نے تحریر کیا فیصل واوڈا کو 3 رکنی کمیشن نے متفقہ طور پر نااہل کیا،فیصل واوڈا کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا ،کاغزات نامزدگی کے وقت فیصل واوڈا انتخاب لڑنے کے اہل نہیں تھے،فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا،جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جاتا ہے فیصل واوڈا تمام تنخواہیں اور مراعات سیکریٹری قومی اسمبلی کو 2 مہینوں میں جمع کرائیں،کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا دہری شہریت کے حامل تھے،امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرایا گیا

    دوسری جانب فیصل واوڈا کی سینیٹ کی نشست خالی ہونے پر الیکشن کرانے کا شیڈول جاری کر دیا گیا ،الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا سینیٹ کی نشست کے لیے سندھ کی جنرل نشست پر الیکشن ہوں گے امیدوار 17 فروری کو کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے، انتخاب 9 مارچ کو سندھ اسمبلی میں ہو گا۔ کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی 24 فروری تک جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست 3 مارچ کو جاری کی جائے گی۔ پولنگ 9 مارچ کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی

    فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    فیصل واوڈا کی بیرون ملک جائیدادیں، ناقابل تردید ثبوت باغی ٹی وی نے حاصل کر لئے

    کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

    استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں پیش، پھر مہلت مانگ لی

    میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن یہ کام ضرور کریں، فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں بیان

    نااہلی سے بچنے کے لئے فیصل واوڈا نے عدالت میں کیا قدم اٹھا لیا

    فیصل واوڈا نے تاحیات نا اہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    فیصل واوڈا کی سینیٹ کی خالی نشست پر نثار کھوڑو سنیٹر منتخب

  • سپریم کورٹ نے بھی دیا فیصل واوڈا کو بڑا جھٹکا

    سپریم کورٹ نے بھی دیا فیصل واوڈا کو بڑا جھٹکا

    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی نااہلی کے خلاف اپیل پرسماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی نااہلی کیس میں فریقین کونوٹس جاری کردیئے ،سپریم کورٹ نے 9 مارچ کو فیصل واوڈا کی خالی نشست پرانتخابات روکنے کی استدعا مسترد کر دی، فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور کہا کہ الیکشن کمیشن منتخب نمائندوں کو تاحیات نااہل قرار دے سکتا ہے یا نہیں اس پروضاحت ضروری ہے ،سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن جوڈیشل اختیارات کس حد تک استعمال کرسکتا ہے اسکا فیصلہ ضروری ہے،

    سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو دیکھنا ہوگا عدالت کا کہنا تھا کہ 9 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کا نتیجہ عدالتی فیصلے سے مشروط ہوگا

    دوران سماعت سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ الیکشن کمیشن کا تاحیات نااہلی کا اختیار غور طلب معاملہ ہے،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے علاوہ اہم بات جھوٹا بیان حلفی بھی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کیمطابق جھوٹے بیان حلفی کے سنگین نتائج ہونگے،فیصل واوڈا کے وکیل باربارتا حیات نااہلی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعاکرتے رہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جعلی بیان حلفی دیا گیا ہے،فوری فیصلہ معطل نہیں کر سکتے،

    قبل ازیں فیصل واوڈا نے تاحیات نا اہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کردی گئی اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نا اہل کرنے کا اختیار نہیں تھا الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی،الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا کی اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے سپریم کورٹ میں دائر کی

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصل واوڈا کی نا اہلی سے متعلق درخواست مسترد کردی ,تحریری فیصلہ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پڑھ کر سنایا تحریری فیصلہ 12 صفحات پر مشتمل ہے الیکشن کمیشن نے 9 فروری کو فیصل واڈا کو نااہل قرار دیا تھا فیصلے میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کا حوالہ بھی دیا گیا فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں،فیصل واوڈا کا اپنا کنڈکٹ ہی موجودہ نتائج کا باعث بنا ہے،

    فیصل واوڈا کو الیکشن کمیشن نے نااہل کیا تھا، الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا نااہلی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا،تحریری فیصلے پر چیف الیکشن کمشنرز سمیت 3ممبران نے دستخط کیے فیصل واوڈا کی نااہلی کا فیصلہ 27 صفحات پر مشتمل ہے 27صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر راجہ سلطان نے تحریر کیا فیصل واوڈا کو 3 رکنی کمیشن نے متفقہ طور پر نااہل کیا،فیصل واوڈا کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا ،کاغزات نامزدگی کے وقت فیصل واوڈا انتخاب لڑنے کے اہل نہیں تھے،فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا،جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جاتا ہے فیصل واوڈا تمام تنخواہیں اور مراعات سیکریٹری قومی اسمبلی کو 2 مہینوں میں جمع کرائیں،کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا دہری شہریت کے حامل تھے،امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرایا گیا

    دوسری جانب فیصل واوڈا کی سینیٹ کی نشست خالی ہونے پر الیکشن کرانے کا شیڈول جاری کر دیا گیا ،الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا سینیٹ کی نشست کے لیے سندھ کی جنرل نشست پر الیکشن ہوں گے امیدوار 17 فروری کو کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے، انتخاب 9 مارچ کو سندھ اسمبلی میں ہو گا۔ کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی 24 فروری تک جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست 3 مارچ کو جاری کی جائے گی۔ پولنگ 9 مارچ کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی

    فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    فیصل واوڈا کی بیرون ملک جائیدادیں، ناقابل تردید ثبوت باغی ٹی وی نے حاصل کر لئے

    کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

    استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں پیش، پھر مہلت مانگ لی

    میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن یہ کام ضرور کریں، فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں بیان

    نااہلی سے بچنے کے لئے فیصل واوڈا نے عدالت میں کیا قدم اٹھا لیا

    فیصل واوڈا نے تاحیات نا اہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا