Baaghi TV

Tag: نادرا

  • نادرا کی پاک آئی ڈی ویب سائٹ بند

    نادرا کی پاک آئی ڈی ویب سائٹ بند

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نادرا کی پاک آئی ڈی ویب سائٹ کل سے بند کرنے اور اور اس کی جگہ نادرا موبائل ایپ لانچ کرنے اور 3 نئے ریجنل دفاتر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ نادرا پاک آئی ڈی ویب سائٹ کل سے بند کی جا رہی ہے اور اس کی جگہ نادرا موبائل ایپ لانچ کرنے اور 3 نئے ریجنل دفاتر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، 3 نئے ریجنل سینٹر آزاد جموں و کشمیر، گوادر اور گلگت بلتستان میں بنائے جائیں گے، نئے ریجنل دفاتر 31 مارچ سے کام شروع کر دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ نادرا کی پاک آئی ڈی ویب سائٹ بند کر کے تمام خدمات موبائل ایپ پر فراہم کی جائیں گی، ویب سائٹ کے استعمال میں شہریوں بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مشکلات پیش آتی تھیں، جعلساز عناصر جعلی ویب سائٹس کے ذریعے شناختی دستاویزات بنوانے میں معاونت کا کاروبار کر رہے تھے شہریوں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے ان کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ نے جعلساز عناصر کا سختی سے نوٹس لیا، نادرا دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ساتھ ان عناصر کے خلاف کارروائی کو یقینی بنا رہا ہے۔

    جمائما گولڈ اسمتھ کی برطانیہ میں جنسی جرائم کو مسلمانوں سے جوڑنے والوں پر تنقید

    محسن نقوی نے کہا کہ نادرا کی موبائل ایپ کو پہلے سے بہت مزید بہتر بنا دیا گیا ہے، شناختی کارڈ، نائکوپ، پی او سی، ب فارم، ایف آر سی سمیت تمام خدمات موبائل ایپ پر دستیاب ہیں، شہری گھر بیٹھے موبائل ایپ پر شناختی دستاویزات کی تمام تر کارروائی مکمل کر سکتے ہیں۔

    وینا ملک کے نئے فوٹو شوٹ کی چرچے

  • سندھ پولیس ،نادرا کی حساس معلومات کے غلط استعمال کا انکشاف

    سندھ پولیس ،نادرا کی حساس معلومات کے غلط استعمال کا انکشاف

    سندھ پولیس میں نادرا سے ملنے والی حساس معلومات کے غلط استعمال کا انکشاف ہواہے۔

    ایس ایس پی کورنگی کی جانب سے ڈسٹرکٹ کورنگی کے تمام ایس ایچ اوز کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نادرا ویریسز، سی ڈی آر اور فیملی ٹری ڈیٹا کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ آئی جی پی آفس سندھ کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔سندھ کے مختلف اضلاع میں نادرا، سی آر او، سی آر ایم ایس ٹرمینلز تک رسائی حاصل کی جاتی ہے جب کہ متعلقہ آپریٹرز اور پولیس اہلکارحساس ڈیٹا کی رازداری کو برقرار نہیں رکھ رہے۔ایس ایچ اوز کو جاری کیے گئے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے، ڈیٹا صرف تفتیشی مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ متعلقہ ایس ایچ او، ہیڈمحرر اور سپروائزر اس معاملے کی سختی سے نگرانی کریں۔ ایس ایچ اوز ویریسز، سی ڈی آر اور فیملی ٹری ڈیٹا کی رازداری یقینی بنائیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال پر سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    خیرپور، دریافت تیل و گیس کے ذخائر سے پیداواری عمل شروع

  • نادرا جیسا حساس نوعیت کا ڈیٹا مختلف کمپنیز  لیک کرنے لگیں ،مقدمہ درج

    نادرا جیسا حساس نوعیت کا ڈیٹا مختلف کمپنیز لیک کرنے لگیں ،مقدمہ درج

    اسلام آباد: نادرا جیسا حساس نوعیت کا ڈیٹا مختلف کمپنیز لیک کرنے لگیں

    ایف آئی اے سائبر کرائم سیل میں کمپنی مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ طاہر کی مدعیت میں زیر دفعہ 6,7,10,20,24 اور 109 کے تحت درج کیا گیا ،مقدمہ کے متن میں کہا گیا کہ میگ وینچرز نامی کمپنی کے مالک محسن سلطان نے بذریعہ واٹس ایپ پوری فیملی کا ڈیٹا بھیجا،محسن سلطان نے نادرا افسران سے ڈیٹا نکلوایا اور اپنے نمبر سے مدعی مقدمہ کو بھیجتا رہا،ملزمان محسن سلطان،محمد کلیم مدعی مقدمہ کو واٹس ایپ پر دھمکانے کے لیے نادرا ڈیٹا بھیجتے رہے، ملزمان نے پولیس ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کر کے مدعی اور فیملی پر تھانہ مٹہ سوات و دیگر تھانوں میں مقدمات درج کرائے.

    مونس الہی کی گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کا حکم

    ڈی جی آئی ایس پی آر آج پریس کانفرنس کریں گے

  • نادرا میں جدت، چہرہ شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف

    نادرا میں جدت، چہرہ شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف

    نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے خصوصی طور پر بزرگ شہریوں کی سہولت اور پینشنرز کے لیے فنگر پرنٹ کے بعد اب چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نادرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نادرا ہیڈ کوارٹر میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے حوالے سے اہم مشاورتی کانفرنس ہوئی، جس میں وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹی ایکسچینج کمپنی آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز اداروں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔اس وقت پاکستان بھر میں فنگر پرنٹ کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کی جاتی ہے، کچھ عرصہ قبل ہی نادرا نے ایک سے زائد انگلیوں سے بائیو میٹرک شروع کی تھی۔پاکستان بھر کے بینک، سیکیورٹی ادارے اور دوسرے کاروباری ادارے بھی بائیو میٹرک کے ذریعے تصدیقی عمل مکمل کرتے ہیں لیکن اب نادرا نے نئے سال سے چہرے کی شناخت کے ٹیکنالوجی بھی متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔کانفرنس کے دوران بائیو میٹرک کے اندر پیش آنے والے مسائل پر بحث کرنے سمیت نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا۔کانفرنس میں نادرا چیئرمین نے بتایا کہ زائد العمر ہونے کی وجہ سے بعض بزرگ افراد کی انگلیوں اور انگوٹھوں کے نشانات درست انداز میں کام نہیں کرتے اور ان کی تصدیق نہیں ہو پاتی، جس سے مسائل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس لیے اب نادرا نے ایسے بزرگ افراد کے لیے بائیو میٹرک کے بعد چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔نادرا چیئرمین نے 15 جنوری 2025 سے نادرا کی ایپلی کیشن پاک آئی ڈی اور نادرا سینٹرز پر مذکورہ سہولت کے آغاز کا اعلان کیا۔

    فرانس میں گستاخانہ خاکے ، ملزمان کو16 سال قید کی سزا

    مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

  • جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    اسلام آباد: نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو جعلی ڈگری رکھنے پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ذوالفقار احمد کی ایم بی اے اور بی بی اے ڈگریوں کی تصدیق کے بعد ان میں واضح بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں،ذوالفقار احمد کی ایم بی اے ڈگری پر جو دستخط ہیں، وہ اس وقت کے صدر جارج میسن یونیورسٹی امریکہ کے نہیں تھے۔ جبکہ ان کی بی بی اے کی ڈگری میں بھی کالج کا نام وہ نہیں تھا جو اس وقت ڈگری کے اجراء کے دوران درست تھا۔نادرا نے اس معاملے پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے انکوائری کی درخواست کی تھی، جس کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام معلومات کی مکمل تصدیق کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ ذوالفقار احمد کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نادرا نے جو معلومات حاصل کی تھیں، وہ درست تھیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نادرا کے انتظامیہ نے ذوالفقار احمد کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا، لیکن انہوں نے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ اس پر چیئرمین نادرا نے ہائی کورٹ کے فیصلے اور شوکاز نوٹس کے غیر تسلی بخش جواب کی بنیاد پر تادیبی کارروائی شروع کی۔اس صورتحال کے بعد، نادرا کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ نادرا کی جانب سے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارے میں بدعنوانی یا کسی بھی قسم کی جعلسازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس سے ادارے کی ساکھ پر اثر پڑتا ہے۔

    کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری،امریکہ جانیوالی خاتون کو چھ برس کی سزا

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    ایف آئی اے کی کاروائی،جعلی ڈگری پر پی آئی اے میں 17 برس نوکری کرنیوالا گرفتار

  • سندھ بزرگ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا

    سندھ بزرگ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا

    سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے سندھ سینئر سٹیزن کارڈ کا اجراء کیا ہے، جو بزرگ شہریوں کو طبی سہولیات، سفر میں آسانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے گا.

    باغی ٹی وی کے مطابق سماجی بہبود کے وزیر میر طارق علی خان تالپور نے منعقدہ سرکاری دستخطی تقریب میں کہا کہ سماجی بہبود محکمہ سندھ نے نادرا کے تعاون سے بزرگ شہریوں کی معاونت کے لیے اس تاریخی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔نادرا کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ سینئر سٹیزن کارڈ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 37 لاکھ شہریوں کو فائدہ پہنچائے گا جس کے ذریعے انہیں صحت کی دیکھ بھال، سفر کی سہولیات اور دیگر شہری خدمات تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔پہلے آزادی کارڈ کے نام سے جانا جانے والا یہ اقدام اب ایک نئے نام کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے، جو حکومت کی بزرگ شہریوں کی عزت اور فلاح و بہبود کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں سماجی بہبود کے وزیر میر طارق علی خان تالپور، سماجی بہبود کے سیکرٹری پرویز احمد سیہر، ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود اطہرحسین میرانی، نادرا کراچی کے ڈائریکٹر جنرل احتشام شاہد، اور پروگرام منیجر جنید شوکت شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر طارق علی خان تالپور نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالی ،سندھ سینئر سٹیزن کارڈ ہماری بزرگ آبادی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔یہ اقدام انہیں وہ احترام اور دیکھ بھال فراہم کرتا ہے جس کے وہ حقدار ہیں اور انہیں ضروری خدمات تک آسان رسائی دیتا ہے۔ ہمارے بزرگ شہری ہماری تاریخ اور ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے لیے عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزارنا ہمارا اخلاقی فرض ہے انہوں نے مزید کہا اس پروگرام کے ذریعے ہم ایک ایسی معاشرت تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اپنے بزرگوں کی قدر اور ان کی دیکھ بھال کرے۔سندھ حکومت بزرگ شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ کارڈ ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو ہم ایک مزید شامل اور مہربان معاشرے کی تعمیر کے لیے اٹھا رہے ہیں۔سندھ سینئر سٹیزن کارڈ محض ایک کارڈ نہیں بلکہ حکومت کا اپنے شہریوں سے یہ وعدہ ہے کہ ان کی سماج کے لیے کی گئی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔ ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ بزرگ شہریوں کو بہتر طبی سہولیات، بلا رکاوٹ سفر، اور دیگر شہری خدمات حاصل ہوں، جو ان کی زندگی کو آسان بنائیں۔نادرا کراچی کے ڈائریکٹر جنرل احتشام شاہد نے اس مقصد کے لیے نادرا کی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم سماجی بہبود کے محکمے سندھ کے ساتھ شراکت داری پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سندھ سینئر سٹیزن کارڈ ہمارے بزرگ شہریوں کے لیے مختلف خدمات تک رسائی کو نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جو طویل عرصے سے معاشرے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔سندھ سینئر سٹیزن کارڈ بزرگ شہریوں کے لیے ایک شناختی ذریعہ کے طور پر کام کرے گا، جو انہیں صحت کی دیکھ بھال اور سفر کے فوائد سمیت ضروری خدمات تک رسائی فراہم کرے گا۔سماجی بہبود کا محکمہ سندھ معاشرے کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے اور شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کے لیے پٴْرعزم ہے تاکہ شمولیت اور دیکھ بھال کو فروغ دیا جا سکے۔

  • شہریوں کی سہولت کیلیے نادرا کی خودکار مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

    شہریوں کی سہولت کیلیے نادرا کی خودکار مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ

    شہر قائد میں نادرا کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لیے خودکار مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغٰ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسمارٹ قومی شناختی کارڈز کی تجدید اور گمشدہ شناختی کارڈکے حصول کے لیے کراچی میں سیلف سروس کیوسک نصب کی جائے گی، جس سے لمبی قطاروں اورطویل انتظارکے بغیرکوئی بھی شہری بغیر خود کار طریقے سیاستفادہ کرسکیگا۔
    ابتدا میں سیلف سروس کیوسک نادرامیگاسینٹرزبعدازاں ائیرپورٹ، ریلوے اسٹیشن اورشاپنگ مالز میں نصب کیے جائیں گے۔ایکسپوسینٹرمیں منعقدہ 4 روزہ دفاعی نمائش آئیڈیاز2024 کے دوران نادرا کی جانب سے اسٹال لگایا گیا،جس پرشہریوں کی سہولت کے لیے ایک اورجدت کے حامل سیلف سروس کیوسک رکھاگیا،جوآئندہ کچھ عرصے کے دوران شہرکے میگاسینٹرزپرنصب کیے جائینگے۔نادراکے اس خودکارکیوسک کے ذریعے شہری اپنے اسمارٹ قومی شناختی کارڈزکی تجدید اورگمشدہ شناختی کارڈزکے حصول کے لیے نادرا کی کسی عام برانچ کی طرح درخواست کے مراحل طے کرسکتے ہیں،تاہم اس کے لیے نہ توشہریوں کولمبی لمبی لائنوں میں لگنا پڑے گا اورنہ ہی کسی نادراسینٹرکے کائونٹرزپرکسی ڈیٹاانٹری آپریٹریا تصویراورانگوٹھوں کے نشان کی تصدیق کے لیے عملے کے کسی بھی فرد کی ضرورت پڑے گی۔نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرعمارحیدر نے اس ضمن میں بتایاکہ آئیڈیازنمائش کے ذریعے سیلف سروس کیوسک کی رونمائی کردی گئی،اگلے مرحلے میں اس خودکارسسٹم کے کچھ آزمائشی مراحل ہوں گے، جس کے بعد اس کوشہرکے کسی بھی میگاسینٹرمیں نصب کردیاجائیگا۔انہوں کہاکہ کراچی میں اس کی تنصیب پہلی مرتبہ ہوگی، تاہم اگرملک کے دیگرشہروں کی بات کریں تویہ سیلف سروس کیوسک اسلام آباد کے میگاسینٹرمیں نصب کیاجاچکا ہے۔عمارحیدرکے مطابق سیلف سروس کیوسک کے ذریعے کوئی بھی شہری 8تا 9مختلف ڈیٹا اسٹیپس کے بعد شناختی کارڈزکی تجدید کے اہل ہوں گے، جس میں سب سے پہلا کیوسک کی بورڈ کے ذریعے قومی شناختی کارڈزکا انداراج، بائیومیٹرک، آئیرس، تصویراور اس کے علاوہ ارجنٹ یا نارمل کے آپشن کے بعد سائل کو ایک کیوآرکوڈ موصول ہوگا، جس کے بعد وہ جیزکیش یا ایزی پیسہ کے ذریعے قومی شناختی کارڈ کی تجدید کی ادائیگی کرسکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں اس خودکارکیوسک کے ساتھ پی اوایس بھی نصب کیا جائیگاتاکہ کوئی بھی شہری اپنے ڈیبیٹ اورکریڈٹ کارڈکے ذریعے بھی ادائیگی کرسکے۔ نادراکے اس کائونٹرز نما خودکارنظام کونادراسینٹرزکے علاوہ شہرکے ریلوے اسٹیشنز،ائیرپورٹس اورمختلف شاپنگ مالزمیں بھی نصب کیا جائے گا۔

  • نادرا سے 27 لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری،افسران برطرف

    نادرا سے 27 لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری،افسران برطرف

    اسلام آباد (محمد اویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں انکشاف ہوا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں پنچاب میں بچوں سے جنسی زیادتی کے کل 5623کیس رجسٹرڈ ہوئے اور ان میں سے 70فیصد کیس عدالتوں نے خارج کردیئے ہیں ۔نادرا سے 27لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے معاملے پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر افسران کو برطرف کردیا گیا ہے ۔رجسٹریشن کے لیے 90 موبائل وین نادرا خرید رہاہے اور ان پر سروس کی کنیکٹیوٹی بہتر بنانے کے لیے سٹیلائٹ کنکشن مہیاکررہے ہیں ۔4ہزار بھکاری سعودی عرب نے 2021سے اب تک ڈی پورٹ کئے ہیں ۔بھکاریوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے ان کے پاس تمام قانونی تقاضے پورے ہوتے ہیں

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت ہوا۔عبدالقادر پٹیل ،ملک شاکر بشیر،محمد ارشد ساہی،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، محمد جمال احسن، زرتاج گل، صاحبزادہ صبغت اللہ،حامد رضا،حنیف عباسی،آغا رفیع اللہ،حامد رضا نے شرکت کی ،

    چئیرمین نادرا نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم نادرا کے دفاتر کو نہیں بڑھا سکتے نادرا کے دفاتر کو بڑھانے سے شناختی کارڈ کی فیس بڑھانا ہو گی 61تحصلیں ایسی ہیں جن میں نادرا کے دفاتر نہیں ہیں یہ ایسی تحصلیں ہیں جہاں حکومت نے اعلان تو کردیں لیکن ان کی حلقہ بندی نہیں کی نادرا کا اپنا فنڈ ہےہم نے فیس تبدیل نہیں کی، ہم نے کارڈز کو ری نیو نہیں کیاجب تک پراناکارڈ چل رہا ہے فرد نیا کارڈ نہیں بنواتا لوگ شناختی کارڈ نہیں بںواتے تو ہمارا فنڈ بھی جنریٹ نہیں ہوتا زیادہ تحصیلیں کے پی کے ، بلوچستان سے ہیں جہاں ہمارے دفاتر نہیں، پنجاب میں مری اور تلہ گنگ ڈسٹرکٹس بنیں لیکن ان کی حلقہ بندیاں ہمارے پاس نہیں پہنچیں۔ زرتاج گل نے کہاکہ نگران حکومت نے کس طرح نادرا میں تعیناتی کردی ہیں،موبائل وین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ،جن لوگوں کی ڈگریں جعلی تھیں ان کو باعزت ایگزیٹ کیوں دیا گیا ہے؟ چیئرمین نادرا نے کہا کہ نادرا میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے صرف چیئرمین کی تعیناتی حکومت کرتی ہے نادرا کی اتھارٹی خود بھرتی کرتی، 2.7ملین شہریوں کا ریکارڈ پچھلے سال لیک ہوا۔ سائبر سیکیورٹی کی بریچ ہوئی ۔ جے آئی ٹی کی سفارش کی وجہ سے افسران کو نکالا۔
    لوگوں کی تعلیم نہیں تھی مگر وہ بھرتی ہوگئے بعد میں انہوں نے اپنے ڈگریاں مکمل کیں جس پر ان کو کہا کہ آپ ریٹائرمنٹ لے لیں یا نچلے گریٍڈ میں چلے جائیں ۔انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی ہیں۔ 57ارب روپے کا بجٹ ہے ۔ موبائل وین کی تشہری فیس بک اور وٹس ایپ چینل پر بتاتے ہیں۔ 90نئے موبائل وین خریدیں گے جبکہ موجودہ 75موبائل وین پر سٹیلائٹ ڈیشنز لگارہے ہیں ۔ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا میں 35موبائل وین پر سیٹلائٹ ڈیشیز لگی ہوئی ہیں۔رکن خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ ہمارے پاس سارا ڈیٹا ہے کہ کتنے لوگ 18سال کے ہورہے ہیں اس حساب سے انتظامات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں؟چیئرمین نادرا نے کہاکہ کمیٹی نادرا ہیڈکوارٹر میں آئیں اس حوالے سے تمام تفصیلات دے دیں گے۔ہمارا ڈیٹا زیادہ مستند ہے ہم گنتے ہی نہیں پہچان بھی کرتے ہیں۔لوگ فوتگی کااندراج نہیں کرتے ہیں ۔ شناختی کارڈ 18سال کے بعد 3ماہ میں نہ بننےپر جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا ہےمگر آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے ۔لوگ شناختی کارڈ ایکسپائر ہونے کے بعد نہیں بناتے ہیں۔

    ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ بہت سے افغانیوں نے پاکستانی شناختی کارڈ بنائے ہوئے ہیں ۔چیئرمین نادرا نے کہا کہ نادرا میں افغان کے حوالے سے مسائل ہیں ۔ افغانیوں نے شناختی کارڈ حاصل کئے ہیں ۔ 1لاکھ 50ہزار افغانوں کا جاری کارڈ بلاک کیا گیا ہے ۔ روزانہ 30سے زیادہ کارڈ بلاک کررہے ہیں۔چیئرمین نادرا نے کہاکہ میں ایم این ایز سے ملتا ہوں ابھی 90تک مل گیا ہوں ،نبیل گبول نے کہاکہ ہم بھی ملاقات کے لیے ملنے آئیں گے ،عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ ڈالا بھیج دیں یہ بھی مل لیں گے ۔اس پر کمیٹی میں قہقہے لگ گئے جس پر چیئرمین نادرا نے کہاکہ اس چیز کو کاروائی سے حذف کیا جائے ۔

    حنیف عباسی نے کہاکہ افغانوں کو نادرا نے شناختی کارڈ جاری کر کے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے یہ لوگ ہمیں گالی دیتے ہیں ہندوستان سے زیادہ وہ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں پاکستانی پرچم کو پاؤں سے روندتے ہیں ۔رکن آغا رفیع اللہ نے کہاکہ یہاں پر کمیٹی کو سیکرٹری داخلہ ڈکٹیٹ کرتے ہیں یہ قبول نہیں ہے یہاں فیصلہ ہوا تھا کہ اس وقت تک بل پاس نہیں کرسکیں گے جب تک بہاریوں کے شناختی کارڈ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ مگر اس کے باوجود بل پاس کرلیا گیا ۔ محسن نقوی کمیٹی میں نہیں آتے تو کم ازکم کام تو کریں ۔ بہاری پاکستان کے لیے کلمہ کی وجہ سے آئے تھے وہ ذلیل وخور ہورہے ہیں ۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ بہاریوں کے مسائل کی حل کی حمایت کرتا ہوں ۔

    صاحبزادہ صبغت اللہ نے ویسٹ پاکستان منٹیننس آف پبلک آڈر ریپیل بل 2024 کمیٹی میں بحث ہوئی انہوں نے کہا کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے آمریت میں یہ قانون بنایا گیا ۔اس قانون کے تحت سیاسی انتقام لیا جاتا ہے ۔ انگریز نے رولر ایکٹ بنایا تھا جبکہ یہ قانون اس قانون کی کاپی ہے اس قانون کے خلاف قائداعظم نے احتجاج کیا تھا ۔وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ 1960میں یہ قانون بنا۔یہ قانون تمام صوبوں میں عمل ہورہاہے۔ یہ قانون نہ ہو تو امن وامان لانے میں مشکلات ہوگی ہم بل کی مخالفت کرتے ہیں۔وزارت داخلہ نے کہاکہ قانون خراب نہیں ہوتا اس پر عمل درآمد خراب ہوتا ہے سیاسی انتقام نہیں ہونی چاہیے ۔ ہم بل کی مخالفت کرتے ہیں۔زرتاج گل نے کہاکہ ملک میں ایف سی آر نافذ کردیا گیا ہے پنجاب اسلام آباد میں ایف سی آر نافذ کی گئی ہے ۔ عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ جمہوری لوگ اس قانون کی حمایت نہیں کرسکتے ہیں ہم نے 2008میں ہماری حکومت کے دوران استعمال نہیں کیا اس قانون کو ختم ہونا چاہیے ،کمیٹی نے بل پر صوبوں سے رائے طلب کرلی ۔

    رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان نے کریمنل لاء ترمیمی بل 2024 سیکشن 489F میں ترمیم پر بحث کی گئی ۔ چیک بونس ہونے پر 10 لاکھ تک تین سال جیل، ایک ملین سے زیادہ ہو تو 5 سال جیل 50لاکھ سے زائد ہوتو 7 سال قید ا،یک کروڑ سے زائد ہو تو دس سال قید ہو۔ اور اصل رقم بھی واپس کی جائے گی ۔وزارت داخلہ نے کہاکہ اس معاملے پر صوبوں سے جواب آنا ہے ،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ صوبوں سے رائے آجائے تو اس بل پر دوبارہ بحث ہوگی ۔

    انسانی سمگلنگ پر ایف آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دی ۔ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے پر انکوائری ہو رہی ہے ایک انکوائری لاہور اور کراچی میں ہورہی ہے جیسے ہی اس معاملے پر پیش رفت ہوگی کمیٹی کے سامنے پیش کردیں گے ۔پاکستانیوں کو بیرون ملک غیر قانونی طریقہ سے لے کر جایاجاتا ہے ۔ ایک منظم گروہ ہے جو یہ کام کررہاہے ۔اورسیز وزارت کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔4ہزار بھکاریوں کو سعودی عرب نے 2021سے اب تک ڈی پورٹ کیا ۔بھکاریوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے ان کے پاس تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں دو بھکاریوں کے گروہ پکڑے ہیں۔ ایم این اے نثار احمد جٹ اور ایم این اے حامد رضا کا بیرون ملک جانے والوں کی پابندی والے لسٹ سے نکل چکا ہے ،چوہدری نصیر احمد نے کہاکہ ایف آئی اے والے پیسے کے لیے لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں دس لاکھ سے ڈیل شروع کرتے ہیں پولیس سے زیادہ کرپشن ایف آئی اے والے کرتے ہیں۔

    پنجاب میں گذشتہ پانچ سال میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر بریفنگ کے حوالے سے ایجنڈا زیر بحث آیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سال میں 5623 کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں ۔70فیصد کیس عدالتوں نے خارج کردیئے ہیں ۔84فیصد ملزمان گرفتار ہوئے ہیں

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • نادرا بائیکر سروس متعارف‘ شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

    نادرا بائیکر سروس متعارف‘ شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت

    نادرا بائیکر سروس متعارف کردی گئی جس کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت مل گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایک نئی سروس شروع کی ہے جو شہریوں کو نادرا آفس جانے کی ضرورت کے بغیر اپنے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سی) کے لیے درخواست دینے یا اپ ڈیٹ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔بتایا گیا ہے کہ نادرا بائیکر سروس کے نام سے شروع کی جانے والی یہ سہولت ابتدائی طور پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں دستیاب ہے، سروس کو لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی پریشانی کو ختم کرنے اور قیمتی وقت بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، نادرا کا اس سروس کو جلد ہی دوسرے شہروں میں شروع کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سروس استعمال کرنے کے لیے شہری نادرا کو 1777 پر کال کرکے نمائندے سے بات کریں گے، مطلوبہ سروس کے بارے میں تفصیلات شیئر کرنے کے بعد (جیسے کہ نئے سی این آئی سی کے لیے درخواست دینا یا ذاتی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنا) آپ ملاقات کا وقت مقرر کر سکتے ہیں، جس کے بعد نادرا کا ایک بائیکر درخواست پر کارروائی کرنے کے لیے آپ کے گھر یا دفتر پہنچ جائے گا۔

    بتایا جارہا ہے کہ بائیکر سروس کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئے قومی شناکتی کارڈ کی کل لاگت 1500 روپے ہے، جس میں 1000 روپے سروس فیس شامل ہے، جس کی ادائیگی کارڈ کے ذریعے یا نقد بھی کی جا سکتی ہے، ایک بار جب آپ کا سی این آئی سی پروسیس ہو جائے گا، نادرا اسے براہ راست آپ کی دہلیز پر پہنچا دے گا، لہذا آپ کو ان کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نادرا کا کہنا ہے کہ اپنا قومی اور قانونی فرض نبھاتے ہوئے 18 سال عمر ہونے پر شناختی کارڈ بروقت بنوائیں، معیاد ختم ہونے پر بروقت تجدید کرائیں، بچے کی پیدائش پر بروقت ب فارم بنائیں اور خاندان کے کسی فرد کی وفات پر ان کا شناختی کارڈ منسوخ کرائیں، ان مقاصد کے لیے شہریوں کی آسانی کیلئے نادرا پاک آئی ڈی موبائل ایپ بھی متعارف کراچکا ہے، جس کے ذریعے شہری نئی سہولیات اور بہتر خدمات کے ساتھ آن لائن شناختی دستاویزات بنواسکتے ہیں۔

    برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

  • چئیرمین نادرا کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

    چئیرمین نادرا کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

    لاہور ہائیکورٹ ،چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    عدالت نے چئیرمین نادرا کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل کر دیا ،عدالت نے چیئرمین نادار کو عہدے پر بحال کردیا ،لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا،عدالت نے فریقین کونوتس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی،وفاقی حکومت کے وکیل راشدی نوازنے دلائل دئیے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ چئیرمین نادرالیفٹنینٹ جنرل منیر افسر کی تعیناتی قوانین کےمطابق کی گئی۔نادرا کاڈیٹا لیک ہونے پر وفاقی حکومت نے قوانین کےتحت نئی تعیناتی کی۔سلیکشن کمیٹی نےچھ امیدواروں میں سے میرٹ کےمطابق تعیناتی کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نےنئی تعیناتی کےقوانین میں ترمیم کی توثیق کی۔تعیناتی رولزکے سیکشن سات کو سنگل بنچ نے کالعدم قرار نہیں دہا۔سیکشن سات کی موجودگی میں چئیرمین نادرا کو عہدے سے نہیں ہٹایاجاسکتا۔عدالت عالیہ کےسنگل بنچ نے حقائق کے برعکس فیصلہ سنایا۔عدالت سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔عدالت چئیرمین لیفٹنینٹ جنرل منیر افسر کو عہدے پربحال کرنے کا حکم دے۔ لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا

    آج تک کسی کو شناختی کارڈ نہ بنانے پر سزا نہیں ہوئی، چیئرمین نادرا

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے