Baaghi TV

Tag: نازیبا

  • خاتون سے دست درازی، نازیبا تصاویر کیس،عدالت نے سنایا فیصلہ

    خاتون سے دست درازی، نازیبا تصاویر کیس،عدالت نے سنایا فیصلہ

    خاتون سے دست درازی، نازیبا تصاویر کیس،عدالت نے سنایا فیصلہ

    سٹی کورٹ کراچی نے خاتون سے دست درازی، نازیبا تصاویر کیس کا فیصلہ سنا دیا

    سٹی کورٹ کراچی نے مجرم 2 سال قید کی سزا سنادی ،10 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا، مجرم ضمانت پر رہا تھا ،سٹی کورٹ کراچی نے مجرم کی ضمانت منسوخ کردی مجرم نے سزا سننے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی ،عدالت نے جیل بھیج دیا مجرم کے خلاف تھانہ اتحاد ٹاون میں ستمبر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

    قبل ازیں ایک اور کیس میں کراچی کی سیشن عدالت نے 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنے اور نازیبا تصاویر وائرل کرنے کے کیس میں ملزم کو 12 سال قید اورجرمانے کی سزا سنادی۔لڑکی کو ہراساں اور نازیبا تصاویر وائرل کرنے کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں ہوئی۔عدالت نے مجرم عمران پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 80 ہزارروپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے دینے کا بھی حکم دیا۔ایف آئی اے کے مطابق مجرم عمران پر لڑکی کو ہراساں، بلیک میل اور نازیبا تصاویر وائرل کرنے کاالزام تھا جبکہ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر سائبر کرائم نے مجرم کو گرفتار کیا تھا۔

    قبل ازیں سٹی کورٹ میں سابقہ اہلیہ کی نازیبا تصاویر اپلوڈ کرکے ہراساں اور بلیک میل کرنے کا مقدمہ عدالت نے ملزم ارشد ہادی کو مجموعی طور پر 12 سال قید کی سزا سنائی عدالت نے ملزم پر 30 لاکھ 75 ہزار جرمانہ بھی عائد کیا ،ایف آئی اے کے مطابق ملزم ارشد ہادی نے سابقہ اہلیہ کی نازیبا تصاویر اہلیہ کی فیملی کو بھیجیں اور بلیک میل کیا، متاثرہ خاتون دبئی میں مقیم ہیں اور پاکستانی قونصل خانے کےتوسط سے شکایت درج کروائی تھی

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    خواجہ سراؤں نے دوستی کے بہانے نشہ دے کر نوجوان کا عضو خاص کاٹ دیا

    غیرت کے نام پر جوڑا قتل،ورثا کا معاملہ دبانے کے بعد بھی پولیس کا ایکشن، 25 گرفتار

    سگے بیٹے کا ماں پر وحشیانہ تشدد،ویڈیو وائرل، بہو کا موقف بھی آ گیا

    پسند کی شادی کا خواب ادھورا رہ گیا،غیرت کے نام پر لڑکا لڑکی قتل

    لڑکی کو برہنہ کرنے اور ویڈیو بنانے والا مرکزی ملزم گرفتار

    پرائیویٹ سکول میں بچہ داخل کروانے کی درخواست پر سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    خاتون کی نازیبا تصاویر بنا کر بلیک میل کرنے والے ملزم کیخلاف عدالت کا بڑا فیصلہ

  • کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ملزمان جنسی زیادتی کے ساتھ اور کیا گھناؤنا دھندہ کرتے تھے؟ اہم انکشاف

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ملزمان جنسی زیادتی کے ساتھ اور کیا گھناؤنا دھندہ کرتے تھے؟ اہم انکشاف

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ملزمان جنسی زیادتی کے ساتھ اور کیا گھناؤنا دھندہ کرتے تھے؟ اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں ملازمت کے نام پر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے

    ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ ملزم کے جنسی ویڈیو بنانے کے ساتھ ساتھ منشیات کے کاروبار میں بھی ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، پولیس نے منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد مرکزی ملزم ہدایت اللہ اور اسکے بھائی کی نشاندہی پر منشیات برآمد کر لی ، پولیس کا دعویٰ ہے کہ برآمد کی گئی منشیات میں آئس، ہیروین اور نشپ آور گولیاں شامل ہیں، پولیس کے مطابق ملزمان لڑکیوں کو ملازمت کے نام پر بلاتے اور منشیات کی لت لگا دیتے اور پھر جنسی زیادتی کرتے اور ویڈیوز بھی بناتے

    ملزمان ہدایت اللہ اور اس کے بھائی پر نوجوان لڑکیوں سے زیادتی اوربلیک میل کرنے کا الزام ہےدونوں ملزمان گرفتار ہیں اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں

    دوسری جانب کوئیٹہ کی سول سوسائٹی نے حکومت پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیکر کیس کو انسداد دہشتگری کی عدالت میں ٹرائل کے بعد جنسی درندے ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے اوربازیاب ہونیوالی لڑکیوں کےخاندانوں کو تحفظ فراہم کیاجائے

    قبل ازیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد کی مشیر داخلہ میر ضیا لانگو سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں ویڈیو اسکینڈل سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا مشیر داخلہ ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ گھناونے عمل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے متسحق نہیں،بلوچستان کی رویات کا چہرہ مسخ کرنے والے اپنے انجام تک پہنچیں گے حکومت اس معاملے کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے، دو۔ملزم گرفتار ہیں دیگر کے گرد گھیرا تنگ کر رہیں ہیں،صوبائی صدر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا کہنا تھا کہ کیس میں اب تک کی پیش رفت اطمنان بخش ہے،پوری امید ہے ملزمان کو قرار واقعی سزا ملے گی،

    قبل ازیں ملزم ہدایت خلجی کے خلاف درخواست دینے والی خاتون کا طبی معائنہ کیا گیا جس میں خاتون سے مبینہ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے ابتدائی رپورٹ میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے شواہد ملے ہیں۔ہدایت خلجی پر زیادتی کے الزامات لگانے والی خاتون کا طبی معائنہ بولان اسپتال میں کیا گیا۔ خاتون اور ملزم ہدایت خلجی کے میڈیکل ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔جبکہ کوئٹہ میں نازیبا ویڈیو اور لڑکیوں پر تشدد کے معاملے پر مغوی لڑکیاں تاحال بازیاب نہیں ہو سکیں

    ڈی آئی جی پولیس فدا حسن نے ویڈیو سکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈیواسکینڈل کیس کی خود نگرانی کر رہا ہوں, ملزم ہدایت اللہ اور اس کے بھائی خلیل کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو شامل کر رہے ہیں ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے نازیبا ویڈیو کے مرکزی ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا ہے

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

  • کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل کیس کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا،

    بشریٰ رند کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو نے واقعے کا نوٹس لیتےہوئےملزمان کےخلاف کارروائی کی ہدایت کی وزیراعلیٰ قدوس بزنجو نےآئی جی پولیس کو ویڈیو اسکینڈل کی تفتیش تیز کرنے کی ہدایت کی ویڈیو اسکینڈل واقعے میں ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ سے بھی رابطہ کیاگیا ہے،ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کےلیےایس ایس پی آپریشن کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی ملزمان کے موبائل،ویڈیوز اوریو ایس بیز کو فرانزک کے لیے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوایا گیا دونوں ملزمان 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں

    دوسری جانب کوئیٹہ کی سول سوسائٹی نے حکومت پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیکر کیس کو انسداد دہشتگری کی عدالت میں ٹرائل کے بعد جنسی درندے ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے اوربازیاب ہونیوالی لڑکیوں کےخاندانوں کو تحفظ فراہم کیاجائے

    قبل ازیں قومی اصلاحی کمیٹی کے کنوینر علامہ علی حسنین حسینی، اراکین بریسٹر افتخار، امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی و دیگر نے کوئٹہ میں ویڈیو اسکینڈل کیس میں ملوث ہدایت خلجی سے متعلق کہا ہہے کہ صوبے میں ہمیشہ خواتین کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے قبائلی افراد جنگ کی صلح کیلئے خاتون کو لے جاتے تو دیگر گروہ احتراماً جنگ ختم کردیا کرتے تھے مگر بہت افسوس کی بات ہے کہ اسی صوبے میں خواتین کی بدترین تذلیل ہوئی ہے ہدایت خلجی نے جس طریقے سے بلوچستان کی عورتوں کی عزت کو پامال کیا ہے اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہےاس نے نہ صرف خواتین کو برہنہ کرکے ویڈیوز بنائیں بلکہ انہیں مسلسل بلیک میل کرکے عصمت دری پر مجبور بھی کیا اور انکی ویڈیوز سوشل میدیا پر بھی ڈالی اس جرم میں ملوث ہدایت خلجی کو طاقتور اور بااثر شخصیات کی حمایت حاصل ہے، جسکی وجہ سے ہمیشہ اندیشہ ہے کہ وہ اس سفاک مجرم کو اپنی طاقت کا استعمال کرکے بچا لیں گے

    قبل ازیں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے وفد کی مشیر داخلہ میر ضیا لانگو سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں ویڈیو اسکینڈل سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا مشیر داخلہ ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ گھناونے عمل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے متسحق نہیں،بلوچستان کی رویات کا چہرہ مسخ کرنے والے اپنے انجام تک پہنچیں گے حکومت اس معاملے کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے، دو۔ملزم گرفتار ہیں دیگر کے گرد گھیرا تنگ کر رہیں ہیں،صوبائی صدر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا کہنا تھا کہ کیس میں اب تک کی پیش رفت اطمنان بخش ہے،پوری امید ہے ملزمان کو قرار واقعی سزا ملے گی،

    قبل ازیں ملزم ہدایت خلجی کے خلاف درخواست دینے والی خاتون کا طبی معائنہ کیا گیا جس میں خاتون سے مبینہ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے ابتدائی رپورٹ میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے شواہد ملے ہیں۔ہدایت خلجی پر زیادتی کے الزامات لگانے والی خاتون کا طبی معائنہ بولان اسپتال میں کیا گیا۔ خاتون اور ملزم ہدایت خلجی کے میڈیکل ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔جبکہ کوئٹہ میں نازیبا ویڈیو اور لڑکیوں پر تشدد کے معاملے پر مغوی لڑکیاں تاحال بازیاب نہیں ہو سکیں

    ڈی آئی جی پولیس فدا حسن نے ویڈیو سکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈیواسکینڈل کیس کی خود نگرانی کر رہا ہوں, ملزم ہدایت اللہ اور اس کے بھائی خلیل کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو شامل کر رہے ہیں ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے نازیبا ویڈیو کے مرکزی ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا ہے

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

  • نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سامنے آنے والے نازیبا ویڈیو سیکنڈل کی متاثرہ لڑکیوں کو تاحال بازیاب نہ کروایا جا سکا

    مبینہ اطلاعات کے مطابق لاپتہ لڑکیاں افغانستان میں ہیں اور ان دونوں لڑکیوں کی والدہ بھی گھر میں نہیں ہیں ، انکی بھی تلاش جاری ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ جلد لڑکیوں کو بازیاب کروا لیں گے، اس ضمن میں صوبائی وزارت داخلہ نے افغان حکام سے بھی رابطہ کیا ہے، ویڈیو سیکنڈل کیس میں قائد آبادتھانے میں بھی دو مزید مقدمات درج کئے گئے ہیں، ایک اور تیسری لڑکی سامنے آئی ہے جس نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نوکری کا کہہ کر بلاتے تھے اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرتے تھے،

    دوسری جانب نازیبا ویڈیو سیکنڈل کے حوالہ سے کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، ریلی میں سول سوسائٹی اور ہزارہ برادری کے اراکین نے شرکت کی، علمدار روڈ پر نکالی جانے والی ریلی کے شرکاء نے ملزمان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے ، مشیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ویڈیو سکینڈل میں ملوث ملزمان کو کوئی طاقتور شخص بھی نہیں بچاسکے گا واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات ابھی سامنے نہیں لاسکتے، ہم تحقیقات کے لیے ہر ادارے کی مدد لیں گے

    نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں، ابھی تک حاصل ہونے والے ویڈیو 200 سے کم ہیں تا ہم مزید ویڈیو بھی ملیں گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ملزمان ویڈیو کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے

    ڈی آئی جی پولیس فدا حسن نے ویڈیو سکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈیواسکینڈل کیس کی خود نگرانی کر رہا ہوں, ملزم ہدایت اللہ اور اس کے بھائی خلیل کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو شامل کر رہے ہیں ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے نازیبا ویڈیو کے مرکزی ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا ہے

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • 200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    ویڈیو اسکینڈل، ایک اور لڑکی نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ، ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے، ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، جو تحقیقات کر رہی ہے، گرفتار ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں،ملزمان خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر انکی نازیبا ویڈیوز بنایا کرتے تھے

    نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں، ابھی تک حاصل ہونے والے ویڈیو 200 سے کم ہیں تا ہم مزید ویڈیو بھی ملیں گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ملزمان ویڈیو کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے

    ڈی آئی جی پولیس فدا حسن نے ویڈیو سکینڈل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وڈیواسکینڈل کیس کی خود نگرانی کر رہا ہوں, ملزم ہدایت اللہ اور اس کے بھائی خلیل کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں، ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایف آئی اے کو شامل کر رہے ہیں ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے نازیبا ویڈیو کے مرکزی ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا ہے

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا. ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں..

    ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں ان میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.

    ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہخدارا اب سزا دیں کب تک قانون بنتیں رہیں گے، کب یہ اندھی، گونگی، بہری عدلیہ جاگے گی، کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے، کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے، کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی، خدارا لٹکا ایسے لوگوں کو، انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے

    https://twitter.com/TheAnokhaSipahi/status/1469552448519950337

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا