Baaghi TV

Tag: ناصر ادیب

  • دا گریٹ گاما پاکستانی سینما کی مہنگی ترین فلم ہو گی شایان فاروقی

    دا گریٹ گاما پاکستانی سینما کی مہنگی ترین فلم ہو گی شایان فاروقی

    آج کل دا گریٹ‌گاما کے بہت چرچے ہیں کہا جا رہا ہے کہ اس فلم کو معروف رائٹر ناصر ادیب لکھ رہے ہیں اور ناصر ادیب اسکی تصدیق بھی کر چکے ہیں. اس فلم کے پرڈیوسر شایان فاروقی ہیٰں انہوں‌ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ دا گریٹ گاما پاکستانی سینما کی تاریخ کی مہنگی تریب فلم ہو گی .میں سکرپٹ ناصر ادیب سے لکھوا رہا ہوں کوشش یہی ہے کہ کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے. شایان فاروقی نے کہا کہ اسی سال میری فلم منی بیگ گارنٹی بھی ریلیز ہونے جا رہی ہے جس میں فواد خان ، وسیم اکرم جیسے سٹارز دکھائی دیں گے. مجھے امید ہے کہ منی بیگ

    گارنٹی کے ساتھ دا گریٹ گاما بھی شائقین کو پسند آئیگی. یاد رہے کہ دا گریٹ گاما کی کاسٹ کے بارے میں میڈیا کو نہیں‌بتایا گیا اور نہ ہی یہ ابھی تک بتایا گیا ہے کہ دا گریٹ گاما کو کون ڈائریکٹ کرے گا. ناصر ادیب کا کہنا ہے کہ دا گریٹ گاما ایسی فلم ہو گی کہ لوگ باقی فلموں کو بھول جائیں گے اور میں دعوی سے کہتا ہو‌ں کہ یہ فلم نہ صرف پاکستان کی ابھی تک کی سب سے بڑی بجٹ سے بننے والی فلم ہو گی بلکہ سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بھی ثابت ہو گی .

  • ناصر ادیب  پاکستان فلم رائٹرز ایسوسی ایشن کے تاحیات چیئرمین منتخب

    ناصر ادیب پاکستان فلم رائٹرز ایسوسی ایشن کے تاحیات چیئرمین منتخب

    جب سے فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ ریلیز ہوئی ہے اور ریلیز ہونے کے بعد اس نے جو کامیابیوں کے ریکارڈز قائم کئے ہیں اس کے بعد اس فلم کے رائٹر ناصر ادیب کی تو جیسے لاٹری ہی لگ گئی ہو. ناصر ادیب کو ہر طرف ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے ، ہر فلم میکر اور شوبز سے جڑی شخصیت ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہاں نظر آتی ہے. حال ہی میں‌جو ایک نئی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے اس نے ناصر ادیب کی شہرت میں مزید اضافہ کر دیا ہے . ناصر ادیب کو پاکستان فلم رائٹرز ایسوسی ایشن کا تاحیات چیئرمین منتخب کر دیا گیا ہے. پاکستان فلم رائٹرز ایسوسی ایشن کے آئین میں ترامیم کی گئی ہے جس کے بعد ناصر ادیب تاحیات چیئرمین جبکہ پرویز کلیم وائس چیئرمین ہوں گے۔ اسی طرح اشفاق کاظمی سیکرٹری جنرل اور جوائنٹ

    سیکرٹری باسو چوہدری کو بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔فلم رائٹرز ایسوسی ایشن کا اہم اجلاس ایور نیو اسٹوڈیو میں قائم تنظیم کے آفس میں ہوا۔ جس میں سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری،الطاف حسین،پرویز کلیم،اشفاق کاظمی،عاصمہ حزیں قادری، طارق ساحلی،باسو چودھری جرار رضوی،حیدر راج ملتانی،اشفاق علی اورزیڈ اے زلفی نے شرکت کی۔اس نئی ڈویلپمنٹ کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے اس موقع پر ناصر ادیب نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اس نئی ذمہ داری کو اچھی طرح‌ سے نبھانے کی کوشش کروں گا.

  • دی گریٹ گاما کا سکرپٹ لکھ رہا ہوں ناصر ادیب

    دی گریٹ گاما کا سکرپٹ لکھ رہا ہوں ناصر ادیب

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی کامیابی کے بعد اب پرڈیوسرز پیسہ لگانے کےلئے میدان میں آرہے ہیں. پرڈیوسر شایان خان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ سے زیادہ بڑے بجٹ کی فلم بنائیں گے لہذا انہوں نے دی گریٹ گاما بنانے کا ارادہ کر لیا ہے. اس فلم کا سکرپٹ ناصر ادیب لکھ رہے ہیں ان کہنا ہے کہ دا گریٹ گاما ایک بڑے بجٹ کی فلم ہو گی اور پرڈیوسر شایان کا کہنا ہےکہ دا گریٹ گاما کا بجٹ مولا جٹ سے زیادہ ہوگا. انہوں نے مزید کہا کہ اس فلم کی کہانی پنجاب کے مشہور گاماں پہلوان سے متاثر ہوکر بنائی جارہی ہے ۔ جبکہ اس فلم میں گاماں پہلوان رستم زمان کی زندگی کے چند واقعات کو بھی حقیقی طور پر لیا جائے گا ۔ تاہم باقی فلم فکشن پر مبنی ہوگی ۔یاد رہے کہ ناصر ادیب کی لکھی ہوی

    فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ نے دو سو کروڑ کا بزنس کیا ہے تاہم ناصر ادیب کا کہنا ہے کہ میری دعا ہے کہ دی گریٹ گاما ایک ہزار کروڑ کا بزنس کرے. ناصر ادیب کا یہ بھی ماننا ہے کہ وہ کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے اپنی شرائط پر لکھیں گے اور ایک رائٹر کی انا اور عزت پر بالکل بھی کمپرومائز نہیں کریں . دا لیجنڈ آف مولا جٹ نے تو دو سو کروڑ کا بزنس کر لیا اب دی گریٹ گاما کیسا بزنس کرتی ہے.

  • ہمایوں سعید خود کو بڑا فنکار سمجھتا ہے ناصر ادیب

    ہمایوں سعید خود کو بڑا فنکار سمجھتا ہے ناصر ادیب

    ناصر ادیب نے حال ہی میں انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمایوں سعید نے میری ایک دو فلموں میں کام کیا لیکن اسکو کرداروں‌پر اعتراض تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کو سلطان راہی کے ٹائپ کے کردار ملیں. ناصر ادیب نے مزید کہا کہ جنگ بنیادی طور پر تب شروع ہوئی جب کراچی کے فنکاروں نے فلموں میں کام کرنا شروع کیا اور ہمایوں سعید کو کام نہیں دیا گیا. میں ان سب کو اون کرتا ہوں لیکن یہ ہمیں‌اون نہیں‌کرتے . کراچی کی جو فلمیں ہیں مجھے تو بہت اچھی لگتی ہیں لیکن لوگوں‌کو لگتا ہے کہ جیسے یہ لانگ پلے چل رہا ہے اور اس میں گانے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ ٹی وی فلم کے رائٹر میں‌جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ ٹی وی کا رائٹر قطرے سے دریا بناتا ہے اور فلم کا رائٹر دریا کو کوزے میں بند کر دیتا ہے. مجھے بلال لاشاری نے اون کیا تو نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے . لوگ پوچھتے ہیں کہ دا لیجنڈ اف مولا جٹ پنجابی میں‌نہیں‌بنائی گئی تو میں ان سے کہتا ہوں کہ پنجابی فلم انتقام پر بیس کرتی ہے اسکے لئے انتقام کی زبان پنجابی ہونی چاہیے، پیار محبت ، دشمنی ، ہر چیز کا مزہ پنجابی میں ہی ہے . پنجابی نہایت ہی میٹھی زبان ہے. دا لیجنڈ آف مولا جٹ نے انڈین فلموں‌ کے بزنس کو بھی متاثر کیا ہے.

  • مجھ پر فلم انڈسٹری تباہ کرنے کا الزام لگانے والے بتائیں وہ کیوں انڈسٹری چھوڑ کر بھاگے ناصر ادیب

    مجھ پر فلم انڈسٹری تباہ کرنے کا الزام لگانے والے بتائیں وہ کیوں انڈسٹری چھوڑ کر بھاگے ناصر ادیب

    معروف مصنف ناصر ادیب جن کے آجکل بہت چرچے ہیں ان کہنا ہےکہ مجھ پر یہ الزام بالکل غلط ہے کہ میں نے فلم انڈسٹری کو تباہ کیا. میں نے تو بلکہ فلم انڈسٹری کو بچایا. میں فلم انڈسٹری کی بقا کےلئے کام کرتا رہا جو لوگ انڈسٹری کو چھوڑ کر چلے گئے وہ کس منہ سے فلم انڈسٹری کی بات کرتے ہیں. میری بے شمار ہٹ فلمیں ہیں اور تمام تقریبا پنجابی ہیں اگر میں پنجابی میں لکھ رہا تھا تو اردو فلمیں لکھنے اور بنانے والے کیوں بھاگے؟ میں نے کسی کے ہاتھ نہیں پکڑے تھے کہ وہ فلمیں ہی نہ بنائیں کیوں انہوں نے میدان میں میرا مقابلہ نہیں کیا جب میں پنجابی

    لکھ رہا تھا تو یہ لوگ اردو لکھ لیتے، مقابلہ تو کرتے مقابلہ کسی نے کیا ہی نہیں اور آج مجھ پہ الزام لگایا جاتا کہ میں نے فلم انڈسٹری تباہ کی. ناصر ادیب نے یہ بھی کہا کہ میری لکھی ہوئی مولا جٹ آج بھی مقبول ہے کہ نوجوان نسل نہ صرف اس کو دیکھنا چاہتی ہے بلکہ اس فلم کے کرداروں پر فلمیں بن رہی ہیں اور یہ میرے لئے فخر کی بات ہے. ناصر ادیب نے کہا کہ وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا چاہیے جن لوگوں‌ نے وقت کے ساتھ خود کو نہیں ڈھالا وہ آج خسارے میں ہیں.

  • وہ وقت گیا جب میری دال روٹی فلمسازوں کے سر چلتی تھی ناصر ادیب کا دو ٹوک بیان

    وہ وقت گیا جب میری دال روٹی فلمسازوں کے سر چلتی تھی ناصر ادیب کا دو ٹوک بیان

    معروف مصنف ناصر ادیب جنہوں‌ نے درجنوں پنجابی فلمیں لکھیں اور ان کی ہر دوسری فلم سپر ہٹ ہوئی ، سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی جوڑی کو بنانے والا یہ مصنف آج تک لکھ رہا ہے اور نوجوان نسل کے فلمساز ان کے لکھے ہوئے پر اعتبار کرتے ہیں، پسند کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے ڈائریکٹر بلال لاشاری نے ناصر ادیب سے اپنی فلم لکھوائی. ناصر ادیب نے گزشتہ رات پنجابی فلم کنڈی نہ کھڑکا کے پریمئیر میں شرکت کی اور وہاں انہوں‌ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ دور گیا جب میری دال روٹی فلمسازوں کے سر پر

    چلتی تھی یہ جتنا پیسہ دیتے تھے میں اتنے میں ہی ان کو کہانی لکھ کر دے دیا کرتا تھا. اب تو اگر مجھ یہ سے یہ لوگ لکھوانا چاہتے ہیں تو بھئی اب تو جو رائٹر کی صحیح معنوں میں فیس ہونی چاہیے وہ مجھے ادا کریں گے تو میں لکھوں گا ورنہ میں نہیں‌لکھوں گا. ناصر ادیب کی اس بات پر حسن عسکری نے کہا کہ ناصر ادیب اپنا بھائی ہے بس کبھی کبھی تھوڑا غصہ کر جاتا ہے لیکن ہم اسے منالیں گے اور یقینا جو اسکی محنت ہے اس کو اس حساب سے معاوضہ دیا جائے گا ہم سب نے پہلے بھی مل کر کام کیا اور آئندہ بھی انڈسٹری کی بہتری کے لئے مل کر کام کریں گے. تاہم ناصر ادیب نے کہا کہ دوستی اپنی جگہ کام اپنی جگہ.

  • پنجابی فلم کنڈی نہ کھڑکا کا لاہور میں پریمئیر

    پنجابی فلم کنڈی نہ کھڑکا کا لاہور میں پریمئیر

    چھوٹے بجٹ سے تیارکردہ پنجابی فلم ” کنڈی نہ کھڑکا” کا گزشتہ رات لاہور میں پریمئیر ہوا. فلم کو نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹر ملک یعقوب نے بنایا ہے اور اس فلم کے ہیرو بھی یہ خود ہیں ان کے ساتھ بطور ہیروئین نیلم نور نے کام کیا ہے. لوکل سطح پر ہونے والے اس پریمئیر میں‌ ملک یعقوب نور نے کہا کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی فلموں‌ کو سپورٹ کرنا چاہیے اگر ہم ایکدوسرے کی فلموں‌ کو سپورٹ کریں گے تو فلم انڈسٹری ترقی کریگی. اور پنجابی فلم انڈسٹری کو تو ویسے ہی بہت زیادہ سپورٹ کی ضرورت ہے. میری خواہش ہے کہ پنجابی فلم انڈسٹری ایک بار پھر

    پھلے پھولے تاکہ سٹوڈیوز میں لگے تالے کھلیں. نوجوان ڈائریکٹر اور ایکٹر ملک یعقوب نے بتایا کہ انہیں فلم انڈسٹری میں‌لانے والے حسن عسکری ہیں اگر یہ نہ لاتے تو آج میں انڈسٹری میں‌ نہ ہوتا. اس موقع پر سلطان راہی کے بیٹے ایکٹر حیدر سلطان بھی موجود تھے انہوں‌ نے کہا کہ فلم کنڈی نہ کھڑکا اچھی فلم ہے پنجابی زبان میں بنی اس فلم کا سکرپٹ کافی اچھا ہے اور ہمیں سکرپٹس پر ہی کام کرنے کی ضرورت ہے سکرپٹ اچھا ہو گا تو یقینا فلم بھی اچھی بنے گی اور لوگ دیکھنے کےلئے بھی آئیں. فلم کے پریمئیر پر پرڈیوسر صفدر ملک ، حسن عسکری ، حدیر سلطان راہی اور ناصر ادیب و دیگر موجود تھے.

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ لکھنے کے ناصر ادیب نے کتنے پیسے لئے؟

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ لکھنے کے ناصر ادیب نے کتنے پیسے لئے؟

    1979 میں ریلیز ہونے والی فلم مولا جٹ کے مصنف نے ہی دا لیجنڈ آف مولا جٹ لکھی ہے اور اس کے مصنف کا نام ہے ناصر ادیب . ناصر ادیب نے کمال انداز میں مولا جٹ لکھی تھی اب دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے دالیجنڈ آف مولا جٹ کیسی لگی ہے اور شائقین نئی فلم سے کتنا متاثر ہوتے ہیں. ناصر ادیب کا کہنا ہے کہ جب انہیں بلال لاشاری نے اس فلم کو لکھنے کا آئیڈیا دیا تو انہوں نے فورا سے حامی بھری .ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ یہ فلم پہلے والی فلم سے مختلف ہو گی. اب بہت سارے لوگوں کو یہ جاننے میں دلچپسی ہے کہ آخر ناصر ادیب نے مولا جٹ لکھنے کا کتنا معاوضہ لیا. تو

    ناصر ادیب نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہےکہ مولا جٹ لکھنے کے مجھے پونے سات ہزار ملے تھے جبکہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ لکھنے کے مجھے 15 لاکھ ملے ہیں . انہوں نے کہا کہ میں نے 10 لاکھ معاوضہ مانگا تھا جبکہ بلال نے مجھے 15 لاکھ دیا. ناصر ادیب کہتے ہیں کہ اس فلم کو دیکھ کر شائقین یقینا پرانی مولا جٹ کے سحر سے نکلیں گے اور ان کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گا کہ کونسی فلم زیادہ اچھی ہے. یاد رہے کہ فلم میں ماہرہ خان ، فواد خان ، حمزہ عباسی اور عمائمہ ملک اہم کردار ادا کررہے ہیں.

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھ کر لوگ مولا جٹ بھول جائیں گے ناصر ادیب

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھ کر لوگ مولا جٹ بھول جائیں گے ناصر ادیب

    ناصر ادیب جنہوں نے 1979 میں ریلیز ہوئی فلم مولا جٹ لکھی تھی انہوں نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ لکھی ہے. حال ہی میں‌ ناصر ادیب کا ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے جو پہلی مولا جٹ لکھی تھی وہ اپنی جگہ تھی اور دا لیجنڈ آف مولا جٹ اپنی جگہ. ناصر ادیب نے یہ بھی دعوی کیا ہےکہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھ کر لوگ مولا جٹ کو بھول جائیں گے. انہوں نے کہا کہ اس فلم میں‌ کردار سارے پرانی مولا جٹ کے ہیں لیکن کہانی کو تھوڑا سا مختلف لکھا گیا ہے. ناصر ادیب نے کہا کہ مصطفی قریشی اور سلطان راہی اپنے دور کے سٹار تھے اور فواد خان ، ماہرہ خان اور حمزہ عباسی اپنے دور کے سٹارز ہیں. ناصر ادیب نے یہ بھی کہا کہ ہمیں وقت کے

    ساتھ چلنا چاہیے اور میں ماضی سے نکل آیا ہوں حال میں‌ جی رہا ہوں اور کام بھی حال کے تقاضوں کے مطابق کررہا ہوں یہی وجہ ہے کہ مجھ سے نوجوان اور آج کل کے کام کرنے والے لوگ رابطہ کرتے ہیں سکرپٹ لکھواتے ہیں. ناصر ادیب نے کہا کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ دو گھنٹے اٹھاراں منٹ کی فلم ہے جو شائقین کے دل جیت لے گی. انہوں نے کہا کہ حالانکہ اس فلم میں‌سارے آج کے ہی فنکار ہیں لیکن سب نے پنجابی بہت اچھے انداز میں بولی ہے اور میں فلم کی کامیابی کے لئے کافی پر امید ہوں.

  • زویا ناصر بھی اتر آئیں میدان میں لیکن کس کی حمایت میں؟

    زویا ناصر بھی اتر آئیں میدان میں لیکن کس کی حمایت میں؟

    اداکارہ زویا ناصر جو انسٹاگرام پر کافی متحرک ہیں وہ اکثر و بیش تر اپنی خوبصورت تصاویر اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس سے جاری کرتی رہتی ہیں. انہوں‌ نے گزشتہ برس اداکارہ بشری انصاری کا لکھا ہوا ڈرامہ ذیبائش میں مرکزی کردر ادا کیا. زویا ناصر ایک بہترین اداکارہ ہیں وہ کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں. جہاں بہت سارے فنکار پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو سپورٹ‌ کرتے ہیں وہیں زویا ناصر بھی کسی سے پیچھے نہیں‌ہیں انہوں نے بھی عمران خان کی حمایت کر دی ہے. وہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی کے چنائو کے بعد عمران خان کے حق میں بولی ہیں.ان کا کہنا ہےکہ ” اب تو یقین ہو گیا ہےکہ سازش میں سارا جہان

    شامل ہے. زویا کی اس پوسٹ کا مطلب ہے کہ عمران خان کی جو حکومت گئی ہے وہ یقینا کسی سازش کے نتیجے میں‌ گئی ہے اور اس میں تمام سیاستدان بھی شامل تھے. یاد رہے کہ زویا ناصر اپنے بولڈ فوٹو شوٹس اور تصاویر کے لئے جانی جاتی ہیں.وہ فیشن آئی کون کے طور پر بھی مشہور ہیں.وہ کسی کے ساتھ بھی اپنے تعلق کا نہ صرف اعتراف کرتی ہیں بلکہ کھلے عام اس تعلق کو جیتی بھی ہیں. زویا نے کچھ عرصہ قبل منگنی ایک غیر ملکی شہری سے کی لیکن چند ماہ کے بعد اس منگنی کے ٹوٹنے کا اعلان کر دیا.