نانگا پربت کیمپ 4 پرموسم کی خرابی کے باعث پھنسے والے کوہ پیما آصف بھٹی بیس کیمپ پہنچ گئےاسلام آباد یونیورسٹی کے پروفیسر اور پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی گزشتہ روز نانگا پربت سر کرنے کی مہم کے دوران برف کوری کا شکار ہوکر کیمپ 4 پر 7500 میٹر کی بلندی پر پھنس گئے تھے۔
کوہ پیما آصف بھٹی کو انکے آذربائیجان کے ساتھی نے بیس کیمپ تک لانے میں مدد کی۔ اطلاعات کے مطابق اٹلی اور آذربائیجان کے دو کوہ پیما کیمپ فور پر آصف بھٹی کی مدد اور ان کا ساتھ دینے رک گئے تھے اور وہ آہستہ آہستہ انہیں کیمپ تھری کی جانب لا کر کیمپ تھری پر ہی پہنچ چکے ہیں ، کل مزید نیچے لانے کا کام ہوگا، آج رات وہ کیمپ تھری پر ہی قیام کریں گے۔واضح رہے کہ 8126 میٹر بلند نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جسے گزشتہ چند روز قبل پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی سر کرتے ہوئے پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئیں ہیں۔
Tag: نانگا پربت
-

نانگا پربت میں پھنسے پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی کو انکے ساتھی کیمپ 3 تک لے آئے
-

دس پاکستانیوں سمیت دس دیگر غیرملکی کوہ پیماؤں نے بھی دنیا کی نویں چوٹی نانگا پربت سر کی
دس پاکستانیوں سمیت 40 سے زائد غیرملکی کوہ پیماؤں نے نانگا پربت کو سر کرنے کی مہم میں حصہ لیا، جن میں ثمینہ بیگ، نائلہ کیانی، واجد اللہ نگری کے علاوہ رضوان داد، عید محمد، احمد بیگ، وقار علی، سعید کریم، لیاقت کریم، سوزین اور شاہ دولت اپنی مہم میں کامیاب رہے۔
الپائن کلپ آف پاکستان کے مطابق آج صبح 11 بجے تمام کوہ پیماؤں نے نانگا پربت کو سر کیا۔
مشہور خاتون کو پیماہ ثمینہ بیگ آج صبح 11 بجکر 8 منٹ پر نانگا پربت پہاڑ کی بلندی پر پہنچیں وہ اس سے قبل کے ٹو اور ماؤنٹ ایوریسٹ بھی سر کر چکی ہیں۔ثمینہ بیگ کو 8 ہزار میٹر بلند پہاڑ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیماہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس کے علاوہ نائلہ کیانی نے بھی نانگا پربت کی چوٹی پر کامیابی سے پہنچ کر ناقابل یقین کارنامہ سر انجام دیا۔
نائلہ دنیا کی سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے والی پاکستانی خاتون بھی ہیں۔
کوہ پیما نائلہ کیانی کا کہنا ہے کہ اس مہم کے حوالے سے وہ تھوڑی خوفزدہ تھیں، تاہم پھر بھی اپنے اس مشن کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم تھی۔
نائلہ کیانی کی اس مہم میں بارڈ فاؤنڈیشن نے مکمل طور پر معاونت فراہم کی ہے۔
مینیجنگ ڈائریکٹر بارڈ فاؤنڈیشن مہرین داؤد نے کہا کہ کوہ پیمائی میں خواتین کیلئے محدود مواقعوں کے باوجود نائلہ ایک بہترین مثال بن کر سامنے آئیں، ہم ایسے باصلاحیت افراد کی معاونت اور ہمت افزائی کرتے رہیں گے۔ -

نانگا پربت میں پھسنے ہوئے کوہ پیماؤں کوپاک آرمی ایوی ایشن نے ریسکیو کرلیا گیا
راولپنڈی:نانگا پربت میں پھنسے دونوں کوہ پیماؤں کوپاک فوج کے ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو کرلیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے نانگا پربت میں پھنسے ہوئے دونوں کوہ پیماؤں کو کامیابی سے ریسکیو کرلیا۔
اس سے قبل ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ نانگا پربت پر پھنسے 2 کوہ پیماؤں کو بچانے کیلئے ہائی رسک ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں خراب موسم کے باوجود آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس نے 2 پروازیں کیں۔
ریسکیو آپریشن میں آرمی ایوی ایشن کے دستے کے علاوہ انتہائی بلندی پر موجود پورٹرز اور ریسکیورز نے بھی حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کوہ پیما 21 ہزار فٹ کی بلندی پر کیمپ 3 میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ شہروز کاشف اور فراز علی نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر لاپتا ہوگئے تھے۔ جس کے بعد دونوں کوہ پیماؤں کی لوکیشن ٹیلی اسکوپ پر ٹریس کی گئی۔ اس وقت دونوں کیمپ نمبر چار سے تین کی طرف گامزن تھے۔ دونوں کوہ پیما اپنی مدد آپ کے تحت رات گزارنے کے بعد کیمپ تھری پر پہنچ رہے تھے۔
یاد رہے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے شہروز کاشف اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے فوری ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا تھا کہ ریسکیو آپریشن میں آرمی ایوی سے بھی مدد طلب کی جائے۔ محکمہ داخلہ گلگت کو کنٹرول روم قائم کرنے کی بھی ہدایت بھی کی۔
شہروز کاشف نے منگل کی صبح ہی نانگا پربت کی چوٹی سر کی تھی اور ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے تھے، شہروز کاشف کے والد نے اپنے بیٹے کو ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی۔
ویڈیو پیغام میں ان کے والد نے مزید کہا تھا کہ شہروز نے کنچن جنگا دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کے بعد یہ کامیابی فوج کے شہدا کے نام کی تھی۔ وہ صرف 20 سال کی عمر میں اتنے بڑے بڑے کارنامے سر کر کے پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے، آپ لوگ پلیز اسے ریسکیو کرنے کا آپریشن کریں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ ‘براڈ بوائے’ کے نام سے جاتے ہیں، 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔
وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔
اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔
اسی سال مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔
دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ‘پروجیکٹ 345’ کا نام دیا تھا۔
-

شہروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سے واپسی پر لاپتہ
پاکستان کے کم عمر ترین کوہ پیماء شہروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سے واپسی پر لاپتہ ہوگئے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دونوں کوہ پیماؤں سے کیمپ کا رابطہ منقطع ہوگیا جس کے بعد وزیراعلیٰ گلگت بلتستان عبدالخالد نے ریسکیو آپریشن کا حکم دے دیا ہے، دونوں کوہ پیماؤں نے صبح 8 بجکر 15 منٹ پر نانگا پربت کو سر کیا تھا۔
شہروز کاشف نے دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کر لی
شہروز کاشف کے والد نے لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی، شہروز کاشف کا نانگا پربت سے واپسی پر رابطہ منقطع ہوا کوہ پیما شہروز کاشف کے والد کےمطابق نانگا پربت سے واپسی پر بیٹے سے ٹریکر کے ذریعے 7350 فٹ بلندی تک رابطہ تھا،اس کے بعد شہروز نے ایس او ایس کال بھی کی اس کال کے بعد شہروز اور ان کے ساتھی کوہ پیما سے کوئی رابطہ نہیں ہوا-
شاہین شاہ آفریدی خیبرپختونخوا پولیس کے اعزازی خیرسگالی سفیر مقرر
ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے ہیں، شہروز کاشف کے والد نے اپنے بیٹے کو ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی ہے۔
ویڈیو پیغام میں ان کے والد نے مزید کہا کہ شہروز نے کنچن جنگا دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کے بعد یہ کامیابی فوج کے شہدا کے نام کی تھی۔ وہ صرف 20 سال کی عمر میں اتنے بڑے بڑے کارنامے سر کر کے پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے، آپ لوگ پلیز اسے ریسکیو کرنے کا آپریشن کریں۔
واضح رہے کہ شہروز کاشف نے منگل کی صبح نانگا پربت چوٹی سر کی تھی جس کے بعد وہ اور ان کا ساتھی کوہ پیما واپس آرہے تھے شہروز کاشف نے کم عمری میں نانگا پربت سر کرنے کا ریکارڈ بنایا تھا شہروز 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔
وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔
اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔
اسی سال مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ’پروجیکٹ 345‘ کا نام دیا تھا۔
-

شہروز کاشف نے دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کر لی
لاہور: براڈ بوائے کے نام سے معروف پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کر کے ایک اور ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شہروزکاشف نے 8126 میٹر بلند چوٹی نانگا پربت سر کر لی 20 سالہ شہروز نے 8000 میٹر سے بلند آٹھویں چوٹی سرکی ہے، شہروز کاشف 8 ہزار میٹر بلند دنیا کی تمام 14 چوٹیاں سرکرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
پاکستانی کوہ پیما نے شمالی امریکا کی بلند ترین چوٹی سرکرلی
شہروزکاشف نے پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8:34 پر نانگاپربت چوٹی سرکی ہے اس عالمی اعزاز کے بعد شہروز کاشف نانگاپربت چوٹی سرکرنے والےدنیا کےکم عمرترین کوہ پیما بن گئے ہیں۔
شہروز کاشف نیپال میں تین ہفتوں میں تین چوٹیاں سر کر چکے ہیں نہوں نے اب تک 8 ہزار میٹر سے بلند 8 چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں-
کوہ پیما شہروز کاشف کو ایوان صدر کی جانب سے دعوت نامہ موصول
شہروز کاشف براڈ پیک، ماونٹ ایوریسٹ، کے ٹو، لوہٹسے اور کنچن جونگا کی چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔شہروز 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کرنے والے چوتھے پاکستانی ہیں دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما سے قبل محمد علی سدپارا، حسن سدپارا اور سرباز علی بھی 8، 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کرچکے ہیں-
خیرسگالی کا سفیر بننا میرے لیے اعزاز ہے،کوہ پیما شہروز کاشف