Baaghi TV

Tag: ناولسٹ

  • اردو کی  پہلی خاتون افسانہ نگارڈاکٹر رشید جہاں

    اردو کی پہلی خاتون افسانہ نگارڈاکٹر رشید جہاں

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر میں اردو کی پہلی خاتون افسانہ نگار، ترقی پسند و انقلابی ادیبہ ، ناول نگار ، ڈرامہ نگار ڈاکٹر رشید جہاں 5 اگست 1905 میں علی گڑھ اتر پردیش کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد شیخ عبداللہ ایک ماہر تعلیم اور معروف ادیب تھے ۔ انہوں نے علی گڑھ میں تعلیم نسواں کیلئے پہلا اسکول اور کالج قائم کیا ۔ ان کے نام سے منسوب عبداللہ گرلز کالج آج بھی قائم ہے اور وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا ایک ادارہ ہے۔ ان کی والدہ وحید شاہجہان بیگم بھی ایک روشن خیال خاتون ادیبہ اور صحافی تھیں جنہوں نے ” خاتون ” نام سے ایک رسالہ جاری کیا تھا جس کا مقصد ہندوستان کی مسلم خواتین میں بیداری پیدا کرنا تھا ۔ رشیدہ جہاں کا اصل نام رشیدہ تھا مگر انہوں نے خود کو رشید جہاں کے نام سے مشہور کر دیا ۔

    رشید جہاں نے ابتدائی تعلیم لکھنوٴ میں حاصل کی اس کے بعد انہوں نے دہلی کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا کورس مکمل کیا اور 1934 میں ڈاکٹر بن گئیں اور اسی سال امرتسر کالج کے پرنسپل اور پروفیسر محمد الظفر سے ان کی شادی ہوئی۔ ڈاکٹر رشید جہاں نے افسانے ، کہانیاں ، ڈرامے اور ناول لکھےجن میں انہوں نے بڑی جرئت اور بےباکی کےساتھ خواتین کےساتھ ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کا پردہ چاک کیا ۔ ان کی پہلی شائع ہونے والی کہانی ” سلمیٰ ” تھی مگر ان کی وجہ شہرت اور پہچان بنانے والے دو افسانے ” پردے کے پیچھے” اور” دلی کی سیر ” تھے۔

    ان کے ان افسانوں کی اشاعت سے ہندوستان میں ایک طوفان برپا ہو گیا ۔ اس کی تحریروں کو ” جنسی اخلاقیات ” کیلئے ایک چیلنج قرار دے کر سخت احتجاج کیا گیا ان کی کتاب” انگارے” کی کاپیاں جلائی گئیں بالاآخر حکومت کی جانب سے ان کی کتاب ” انگارے ” کی کاپیاں ضبط کی گئیں اور اس کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ ڈاکٹر رشید جہاں نے ” چنگاری ” کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا جس کی وہ خود مدیرہ بنیں۔ رشید جہاں نے درجنوں ڈرامے لکھے اور اسٹیج پر پیش کئے۔

    رشید جہاں کے 3 افسانوی مجموعے شائع ہوئے ہیں جن میں "_عورت، شعلہ جواں ” اور، ” وہ افسانے ” شامل ہیں ۔ رشید جہاں نے انجمن ترقی پسند تحریک میں بھرپور اور فعال کردار ادا کیا وہ سجاد ظہءر، علی سردار جعفری اور فیض احمد فیض کے بہت قریب رہیں ۔ ڈاکٹر رشید جہاں کی جرئت و بےباکی آگے جا کر مستقبل میں عصمت چغتائی ،خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، صدیقہ بیگم اور صالحہ وغیرہ کیلئے ایک رہنما ثابت ہوئی۔ 1952 میں ڈاکٹر رشید جہاں کی ماسکو میں دوران علاج وفات ہوئی وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئی تھیں ۔ انہیں ماسکو کے ونڈسکی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔

  • ہندی اور اردو ادب کی معروف افسانہ اور ناول نگار

    ہندی اور اردو ادب کی معروف افسانہ اور ناول نگار

    ویسے تو میری راہوں میں پڑتے تھے میکدے
    واعظ تیری نگاہوں سے ڈرنا پڑا مجھے

    آشا پربھات

    آشا پربھات کی پیدائش،رکسول، مشرقی چمپارن، بہار میں 21 جولائی 1958_ء میں ہوئی۔ ہندی اور اردو ادب کی معروف افسانہ نگار، ناول نگار،شاعرہ اور مترجم ہیں۔

    تصانیف:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دریچے (ہندی نظموں کا مجموعہ)
    ۔ (2)دھند میں اگا پیڑ
    ۔ (ہندی،اردو ناول)
    ۔ (3)مرموز
    ۔ (شعری مجموعہ، اردو)
    ۔ (4)جانے کتنے موڑ
    ۔ ( ناول ہندی،اردو )
    ۔ (5)میں اور وہ
    ۔ ( ناول ہندی)
    ۔ (6)کیسا سچ
    ۔ (افسانوی مجموعہ، ہندی)
    ۔ (7)وہ دن
    ۔ ( افسانوی مجموعہ، اردو)
    ۔ (8)آج کی اردو کہانی
    ۔ مترجم
    ۔ ( اردو افسانوں کا مجموعہ)
    ۔ (9)آج کے ہندی افسانے
    ۔ مترجم
    ۔ (ہندی افسانوں کا مجموعہ)
    ۔ (9)ساحر سمگر
    ۔ (ساحر لدھیانوی کی کلیات کا ہندی ترجمہ)
    ۔ (10)میں جنک نندنی
    ۔ (ناول ہندی)
    ۔ (11)اسے وہم ہی رہنے دو
    ۔ (افسانوی مجموعہ، اردو)
    بہار اردو اکادمی نے کئی بار ایوارڈس سے نوازا ۔اس کے علاوہ ہندی ادب کے لیے متعدد اعزازات مل چکے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے
    ملنا تھا اس لئے بھی سنورنا پڑا مجھے

    آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات
    ایک اس کی رہ گزر پہ بکھرنا پڑا مجھے

    کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط
    جینے کی آرزو لئے مرنا پڑا مجھے

    ویسے تو میری راہوں میں پڑتے تھے میکدے
    واعظ تری نگاہ سے ڈرنا پڑا مجھے

    آئینہ ٹوٹ ٹوٹ کے مجھ میں سما گیا
    اور ریزہ ریزہ ہو کے بکھرنا پڑا مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تجھے ہر گلی ہر نگر ڈھونڈتے ہیں
    نہیں کچھ بھی حاصل مگر ڈھونڈتے ہیں

    بنا دے جو صحرا کو پھر سے گلستاں
    ہم ایسی نسیم سحر ڈھونڈتے ہیں

    لٹے آشیانوں کے آوارہ پنچھی
    نہ جانے کہاں اپنا گھر ڈھونڈتے ہیں

    ہر اک درد دل کو زباں دے سکے جو
    ہم اشکوں میں بس وہ اثر ڈھونڈتے ہیں

    نئے دور کا ہے مقدر اندھیرا
    مگر پھر بھی آشاؔ سحر ڈھونڈتے ہیں