Baaghi TV

Tag: ناہید خان

  • ناہیدہ خان کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    ناہیدہ خان کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    لاہور: پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی ناہیدہ خان نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ناہیدہ خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فیملی، ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں جنہوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کیا وہ اپنی مداحوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں جنہوں نے ان کے کیریئر میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیا چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا دیگر ممالک میں-

    ناہید ہ خان نے7 فروری 2009 کو سری لنکا کے خلاف بوگرہ بنگلہ دیش میں اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا تھاناہیدہ خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی واحد خاتون کرکٹر ہیں جن کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

    حکومت نجم سیٹھی کی صلاحیتوں سے کسی اور جگہ استفادہ کرلے،رہنما پیپلز پارٹی

    اپنے 14 سالہ بین الاقوامی کیریئر میں ناہیدہ خان نے 120 انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتےہوئے 2014 رنز بنائے اور ایک وکٹ حاصل کی انہیں ایک ون ڈے انٹر نیشنل میچ میں سب سے زیادہ کیچز کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہےانہوں نے 2018 میں سری لنکا کے خلاف دمبولا میں چار کیچ لیے تھے وہ میچ پاکستانی ٹیم 94رنز سے جیتی تھی ناہیدہ خان نے 50 اوورز کے تین عالمی کپ مقابلوں 2017، 2013 ، 2022 اور چار ٹی20 ورلڈ کپ 2012، 2014، 2016، 2018 میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔

    مجھے ایسا نہیں لگتا کہ 2022 میرا آخری ورلڈکپ تھا،لیونل میسی

    ناہیدہ خان نے کرکٹ سے اپنی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے کوچنگ کا شعبہ اختیار کیا اور حال ہی میں انہوں نے پاکستان کپ ویمنز کرکٹ ٹورنامنٹ میں بلاسٹرز کی اسسٹنٹ کوچ کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی جبکہ انہوں نےمارچ میں ہونے والی ویمنز لیگ میں ایمازون ٹیم کے ہیڈ کوچ توفیق عمر کی اسسٹنٹ کوچ کے طور پر بھی کام کیا تھا۔ ان نمائشی میچوں میں ایمازون دو ایک سے فاتح رہی تھی۔

    کرکٹ ٹیم کی تشکیل ،سعودی ولی عہد نے پاکستان کا انتخاب کر لیا

  • بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    شہید بے نظیر بھٹو بانی پیپلزپارٹی اور نامورشخصیت ذولفقار علی بھٹو اور ایران کے بااثر اصفہانی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون بیگم نصرت بھٹو کے گھر 21 جون 1953 کو پیدا ہوئی۔ بے نظیر نے سیاست میں قدم رکھا تو بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں جس میں ان کی سب سے بڑی کامیابی مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرعظم بننا تھا۔ آج 21 جون2022 کو انکی 69 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

    اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافی محمد نواز رضا نے باغی ٹی وی کو بتایا: بےنظیر ایک بہادر خاتون تھی جن کا کردار پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ ان کی جرات کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کارساز میں ان پر دھماکہ ہوا جس میں بیسیوں کارکنان شہید ہوگئے لیکن بی بی شہید واپس نہیں گئیں بلکہ یہ جانتے ہوئےبھی کہ انہیں قتل کردیا جائے گا مگر وہ پاکستان میں رہیں۔
    نواز رضا مزید بتاتے ہیں: کارساز کے بعد وہ لیاقت باغ آئیں جہاں وہ زندگی کی بازی ئیں لیکن انہوں نے سیاست میں تاریخ رقم کردی کہ ہمیشہ سیاست میں بہادر زندہ رہتے ہیں ناکہ وہ بزدل جو گھروں سے باہر ہی نہیں نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کا سیاست میں کوئی مقام نہیں ہوتا۔

    محمدنواز کے مطابق: بے نظیر بھٹو بہادری کا ایک استعارہ تھیں اور انہوں نےہمت کے ساتھ ناصرف اپنے سیاسی مخالفین بلکہ ان قوتوں کا بھی مقابلہ کیا جو انہیںپاکستانی سیاست اور ملک دونوں سے باہر کرنا چاہتے تھے۔ اگر بے نظیر زندہ رہتی تو تیسری بار بھی وزیراعظم پاکستان رہتی لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔

    نوجوان بلاگر : رجب علی فیصل نے باغی ٹی کو بتایاکہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو ایک بہادر خاتون تھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بی بی کے قتل کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت رہی مگر افسوس صد افسوس انکے اصل قاتل آج بھی آزاد ہیں۔

    رجب علی فیصل کہتے ہیں کہ: بے نظیر بھٹو کا مقدمہ لاوارثوں کی طرح لڑا گیا جس میں کوئی گواہ بھی پیش نہیں کئے گئے مثال کے طور پر امین فہیم اور ناہیدخان اس وقت بی بی کے ساتھ موجود تھے جب انہیں قتل کیا گیا لیکن بے نظیر کے خاندان کی طرف سے نہ کوئی صحیح پیروی کی گئی اور نہ ہی ان گواہوں کو پیش کیا گیا۔
    علی فیصل کے مطابق: بے نظیر کے قتل میں ٹھیک ویسا ہوا جیسا ذولفقار علی بھٹو کے قتل میں ہوا تھا۔ بھٹو کے قتل کے بعد بے نظیر نے نعرہ لگایا "جمہوریت بہترین انتقام ہے” لیکن ایسی جمہوریت کا اچار ڈالیں گے جس میں مجرمان کو بجائے پھانسی پر لٹکانے کےانہیں اقتدار کی خاطر معاف کردیا جائے۔

    رجب فیصل نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ: بھلے ہمیں بنگلہ دیش سے سو اختلافات ہوں مگر یہ بات ماننی پڑے گی کہ شیخ حسینہ واجد نے اقتدار میں آنے کے فورا بعد اپنے باپ شیخ مجیب الرحمان کے قاتلوں کے خلاف مقدمات چلا کر انہیں پھانسیاں دلوئیں اور اگر دیکھیں تو ہم سے علیحدگی اختیار کرنے والا ملک آج ہم سے کتنا آگے ہے۔ نہ وہاں مذہبی شدت پسندی ہے اور ناہی دہشتگردی ہے۔ اور نہ کبھی کسی غیرسویلین کی یہ جرات ہوئی کہ وہ غیرآئینی طریقے سے وہاں کی حکومت خلاف کوئی ذرا برابر بھی حرکت کرسکے۔

    رجب علی فیصل کا خیال ہے کہ: جیسے بے نظیر نے اپنے والد کے قتل پر سمجھوتہ کیا اسی طرح انکے خاندان اور بالخصوص آصف علی زرداری نے بھی دانستہ نادانستہ بے نظیر کے قتل پرسمجھوتہ کیا اور اقتدار کو ترجیح دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں غیرجمہوری قوتیں ملکی حکومتوں پر حاوی رہتی ہیں۔ تو جہاں بے نظیر کی بہت ساری خوبیاں ہیں وہی یہ بڑی بڑی خامیاں بھی ہیں لیکن ہمارے ہاں چونکہ غلطیوں کی نشاندہی ہی نہیں کی جاتی جسکے سبب آج تک پوری قوم کی آنکھوں پر پٹی پڑی ہوئی ہے لیکن تاریخ کبھی بھی چھپ نہیں سکتی اور ایک نہ ایک دن تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے پھرسچ چاہے کتنا ہی کڑوا ہو سامنے آ ہی جاتا ہے۔

    آج نیوز کے گروپ چیف شہاب زبیری نے مرحومہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر انکی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: وہ قوم کا فخر اور آئیکون تھیں۔ جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


    ‏پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا سیل سے جاری ایک پیغام میں بینظیر بھٹو کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا: "بینظیر بھٹو نے عوام کے حقوق کی بحالی، معاشی و اقتصادی ترقی، پاکستان میں جمہوریت کے قیام، جمہوری اداروں کی بحالی، عدلیہ کے استحکام، خواتین کی خودمختاری اور عوام کو بنیادی حقوق کی رسائی کیلئے انتھک جدوجہد کی۔‎”
    https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1539095766240833538
    پیپلزپارٹی کی رہنماء سینیٹرسحر کامران نے اپنے ایک پیغام میں کہا: "بینظیر بھٹو ایک شخصیت کا نام نہیں، ایک نظریہ کا نام ہے، ایک نقطہ نظر کا نام ہے، ایک فکری سوچ کا نام ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے والی بینظیر، کھیت میں کپاس چنتی عورت کی ترقی کی بات کرنے والی بینظیر اپنی سوچ اور فکر میں بھی بینظیر تھی‎۔”


    بینظیر بھٹوکے صاحبزادے اور وزیرجہ خارجہ بلاول بھٹو زداری نے اپنی والدہ کی سالگرہ پر ایک پیغام میں کہا کہ: بینظیر شہید نے تیس سال سے زائد جمہوریت کی بقاء، اور معیشت و غریبوں کی بہتری سمیت اسلام کے امن کے پیغام کیلئے جدوجہد کی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔