Baaghi TV

Tag: نا انصافی

  • ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    سابق اسرائیلی وزیرِاعظم (اس کی قبرمیں اللہ کی لعنت ہو)آمین کہہ دیں جوجویہودیوں کےلیےدل میں نرم گوشہ نہیں رکھتے….
    اس لعین ایریل شیرون کےنام پہ ایریل سرف ہے …
    اس بدبخت بھڑئیےنمایہودی کایہ مشغلہ تھاکہ یہ فلسطین کی گلیوں میں نکل جاتااورچن چن کےفلسطینی بچوں کوماردیتااورپھرشیطانی قہقہےبلندکرتا..اس مقصدکےلیےاس خونخواردرندےنےایک اسپیشل پستول خریداہواتھاجس سےاس نے150سےزائدمعصوم صحت مندکھیلتےفلسطینی پھول جیسےبچوں کومارااورکتنی ہی ماؤں کی گودوں کواجاڑا,باپوں کوبےآسراکیااوربہن بھائیوں کوتڑپتاچھوڑگیا…
    اللہ کی لاٹھی بےآوازہے…اس کےقہرکاکوڑاجب برستاہےتوپھرخوب برستاہےاوراک عالم دیکھتاہے….اس وحشی کاانجام پھردنیانےدیکھا….آٹھ سال تک یہ قومےمیں رہا…کوئی نرس,کوئی ڈاکٹروارڈمیں علاج کی غرض سےاس کےپاس جانےکوتیارناہوتاتھااگرہوبھی جاتاتوفورابھاگ کرواپس آجاتا..کیوں کہ اس کےجسم سےاس قدرگھٹیا..گندی اورزہریلی قسم کی بوآتی تھی کہ جس سےڈاکٹراور نرسیں اپنےمونہوں کواچھی طرح لپیٹ لینےکےباوجودبھی بچ ناپاتےتھے …
    آخر…آج سےکوئی ڈیڑھ دوسال پہلےاس جہنمی کی روح نکلی ..اوراس کےاپنےملک کےہی ڈاکٹروں اورنرسوں سےسکھ اورچین کاسانس لیا…
    یہ ہواانجاممسلمانوں کےمعصوم بچوں کواپنےپستول سےبھوننےوالےکا…
    اورآج…………
    پھر..اس اسرائیلی ..یہودی کپمنی نےقرآنِ پاک کی آیت کاایریل سرف کےاشتہارمیں مذاق اڑاناشروع کردیاہے…اللہ کی مارہواس لعنتی قوم پہ …اللہ نےخودقرآن میں اس قوم کولعنتی کہاہے…جن پراللہ کاغصہ ہوا…وہ ذلت اورمحتاجی لےکرلوٹے …..
    اورافسوس تواپنےمسلمانوں اوربرہنہ سروسینہ بیٹیوں پہ ہےجواس دنیاکےچندفانی ڈالروں کےعوض قرآن کی آیات کاسوداکررہےہیں جوکہ ان کولےڈوبےگا…
    آپ سب اپنی آوازقرآن کےحق میں ..قرآن کےدفاع میں اٹھائیں …اس کمپنی کامکمل بائیکاٹ کریں …
    قرآن انسان کےحق میں بھی اورخلاف بھی گواہی دےگا…لہذاوقت ہےکہ …اپنےحق میں گواہی لینےوالےبن جائیں …
    خودتوان کی اپنی عورتیں سڑکوں پہ اورگھروں سےنکل کےذلیل ورسواہوہی رہی ہیں اوراب یہ آزادئ نسواں کےنام پہ مسلمان بیٹیوں,بہنوں اورماؤں کوبھی سڑکوں پہ لاکہ ذلیل کرناچاہتےہیں …
    جب کہ مسلمان عورتوں کی عزت وعافیت اورنجات اپنےگھروں میں ٹکےرہنےپہ ہے…یہ شدیدترین حاسدقوم ہے …جس حاسدقوم نےآج تک ہمارےآخری نبی …پغمبرالزماں محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوصرف اورصرف حسد کی وجہ سےتسلیم نہیں کیاوہ اس پیارےنبی کی امت کوکیسےخوش حالی اورنجات کےراستےپہ چلتےبرداشت کرسکتی ہے؟؟؟؟؟
    لہذا…میری اپنی تمام بہنوں سےگزارش ہےکہ …آپ سب اپنااحتجاج جس جس پلیٹ فارم پہ ہیں ضرورریکارڈکروائیں …
    اورسب اپنی اپنی اصلاح کریں ..گھروں میں ٹکی رہیں …اورسڑکوں پہ نکل کےمردوں کےشانہ بشانہ چلنےکی روش کوترک کردیں …
    کیوں کہ …یہ چیزفطرت کےسخت خلاف ہے…
    جب کہ فطرت یہ ہےکہ ..قرآن کہتاہے:
    وللرجال علیہن درجۃ …
    اورمردوں کوان(عورتوں)پرایک درجہ فضیلت دی گئی ہے …اورویسےبھی عورت مردسےچندقدم پیچھےچلتی ہی اچھی لگتی ہے۔
    …ایک اورجگہ اللہ نےفرمایاہے:
    الرجال قوامون علی النسآء…
    مردعورتوں پرنگران ہیں ….توعورت بی کب سےمردوں کےبرابریاان کےاوپرنگران بننےلگ گئی؟؟؟
    جس جس نےآج تک اس
    میدان میں قدم رکھاہےہمیشہ ذلیل ورسواہواہے …اورویسےبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قوم کےلیےتباہی اوربربادی کی وعیدسنائی ہےجس کےمعاملات مردوں کی بجائے اس کی عورتوں کےہاتھوں میں ہوں …
    ابھی وقت ہے …اللہ سےڈرجائیے اپنےمردوں کوعزت دیجیئےان کےصحیح فیصلوں کاحترام کیجیئے…اپنی بہترین دنیااورآخرت کےلیےاصلاح کیجیئےاوراس نام نہادخواتین کی آزادی کوبحرِاوقیانوس میں پھینک آئیے …
    اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائےاورہم سب کاحامی اورناصرہو…
    آمین اللہم آمین
    اسلام میں ہرعورت ملکہ ہےکیوں کہ اسلام ہرنےعورت کواپنےگھرکی ملکہ بنایاہے…اورملکہ …آپ سب جانتےہیں …کہ کبھی سڑکوں ..گلی ..کوچوں اوراشتہاروں یااسکرین پہ آکےخودکوبےوقعت نہیں کیاکرتی …
    میں جانتی ہوں کہ میری باتیں بہت ساروں کوبہت کڑوی لگی ہوں گی …اوربہت چبھی بھی ہوں گی …لیکن بہت معذرت کےساتھ …
    یہ میری نہیں اللہ کی مقدس ترین کتاب قرآن کی ہیں …
    اوران پراگرکسی کوغصہ آیاہےتو…میں ہرگزمعذرت نہیں کروں گی …کیوں کہ یہ اللہ کاکلام ہے …
    قدم بڑھائیے!!!
    نجات پائیے!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں
    ذات پات کا
    آقاوغلام ایک ہیں
    بندےاللہ کےسبھی,نیک ہیں
    اسلام راستہ ہےفوزوفلاح کا
    جورکھےذوق اس کی چاہ کا
    دی ہےاس نےیہ ضمانت سدا
    لےجوشرف چلنےکااس کی راہ کا
    قدم بڑھائیے!!!!
    نجات پائیے!!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں ذات پات کا…

  • رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    رزق حلال عین عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو حرام ذرائع سے رزق کمانے سے منع فرمایا ہے انسان کی قسمت میں لکھا رزق اس کو مل ہی جاتا ہے اب یہ اس پہ منحصر ہے کہ وہ جائز طریقے سے محنت و کاوش سے حاصل کرتا ہے یا پھر ناجائز طریقوں سے چوری ڈکیتی سود کرپشن یا رشوت خوری سے حاصل کرتا ہے..

    رشوت خوری معاشرے کے لیے ناسور بنتا جا رہا ہے آپ جس ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں آپ کا کام تبھی ہو گا جب آپ سے تحفے تحائف اور انعام کے نام پہ رشوت نہ لے لی جاۓ ورنہ آپ کا کام پڑا رہے گا اور کسی صورت بھی آپ کی فائل وغیرہ آگے نہیں جاۓ گی.

    رشوت انسانی معاشرے کے لیے خطرناک اور مہلک مرض ہے. جس معاشرے میں رشوت عام ہو جاۓ اس معاشرے میں حق و سچ کا خون ہو جاتا ہے اور باطل ہمیشہ رشوت کی آڑ میں بدمعاشی کرتے ہوۓ دندناتا پھرتا ہے جس کی وجہ سے انصاف سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور کئی لوگوں کی بغاوت کا باعث بن جاتا ہے.

    رشوت کے کئی نقصانات ہیں مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے آپ کا اخلاق پستی کے دہانے پہ چلا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کی کوئی عزت نہیں رہتی اور نہ ہی اس آفیسر میں کسی قسم کا رعب ہوتا ہے نہ دبدبہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بھیک مانگنے والوں کی طرح سب کے آگے ہاتھ پھیلانا ہوتا ہے تو وہ سر اٹھا کے کیسے چل سکتا ہے اور کیسے انصاف دے سکتا ہے وہ حاکم ہو یا محکوم پولیس والا ہو یا ملزم جج ہو یا وکیل پھر سب ہی غرباء اور ایمانداروں کے دشمن بن جاتے ہیں۔

    رشوت لینے والا پیسوں اور سٹیٹس کا پجاری بن جاتا ہے اور یہ چیز اس کی فطرت میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے برا سمجھنے کی بجاۓ اپنا حق سمجھنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اصول و قوانین کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوۓ اللہ تعالیٰ کا باغی بن جاتا ہے اور دنیا کی رعنائیوں میں مگن ہو جاتا ہے.

    حرام کمانے اور حرام کھانے والوں کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے نہ کوئی صدقہ خیرات اور نہ ہی کوئی نیکی قابل قبول ہے نہ ہی اس کی کوئی دعا سنی جاتی کیونکہ جس بندے کا کھانا لباس اوڑھنا بچھونا اور رگ رگ حرام کی کمائی سے تر ہے تو اس کا نہ عمرہ قبول ہے نہ حج نہ نماز نہ زکوۃ یہاں تک کہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف تک کو پکڑ کے دعائیں مانگے میرا اللہ اس کو بھی ٹھکرا دیتا ہے کیونکہ اس کے احکامات کو پس پشت ڈال کر حرام کے پیسے کو گھر کی زینت بنا کر اسی رب سے دعا کرو گے تو وہ واپس ہی پلٹے گی کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ کرنا کپڑے کو پیشاب سے دھو کے پاک کرنے کے مترادف ہے۔

    رشوت کے نام پہ تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اور رشوت لینے والے نے اب یہ جواز ڈھونڈ لیا ہے کہ یہ رشوت نہیں ہے یہ تو گفٹ ہے اور اس کا کوئی گناہ نہیں لیکن میرا ان سے یہ سوال ہے کہ اگر آپ کسی جگہ پہ پولیس آفیسر تعینات ہوۓ ہیں اور لوگ آپ کو گفٹ دیتے ہیں تو کیا جب وہ اپنا ناجائز کام لے کر آئیں گے تو آپ اس کو ذلیل کرکے دھکے دے کے آفس سے نکالیں گے؟
    کیا گفٹ آپ کی ڈیوٹی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے؟؟
    کیونکہ گفٹ وہی دیتے ہیں جنہوں نے اپنے کام نکلوانے ہوتے ہیں کوئی بھی ایماندار اور حلال رزق کمانے والا بندہ پولیس کو کبھی بھی گفٹ نہیں دیتا صرف وہی دیتے ہیں جو کرپٹ ہوں اور جن کو آۓ روز آپ سے کام پڑنے ہوں.
    اب آپ ہی بتائیں کیا ایک ایماندار آفیسر گفٹ لیتا ہے؟
    ہرگز نہیں کیونکہ ایسا گفٹ بھی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔
    رشوت ستانی دو جہاں مالِ ناحق کھانے کا ذریعہ ہے وہیں میرٹ کا بھی خاتمہ کر کے رکھ دیتی ہے اور اہل کو اس کے حق سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے۔

    قرآن مجید میں رشوت لینے والے کے لیے سخت وعید ہے اللہ پاک فرماتے ہیں.
    (اے پیغمبر) یہ لوگ جھوٹ سننے والے اور حرام مال (رشوت) کھانے والے ہیں.
    دوسری جگہ فرماتے ہیں
    اور ان میں سے تم بہت سوں کو دیکھو گے کہ گناہ و زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک یہ بہت برے کام کرتے ہیں۔
    (سورۃ المائدہ آیت نمبر 62)

    اللہ نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور دونوں کا ٹھکانا جہنم بنایا ہے.
    رشوت کی مختلف اقسام ہیں جیسا کہ میں نے اوپر بھی ذکر کیا ہے مثال کے طور پہ حق کو باطل کرنے اور باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے پیسوں کا لین دین کرنا ظلم و جبر کا دفاع کرنے کے لیے رشوت دینا کسی منصب پہ فائز ہونے کے لیے پیسے وغیرہ دینااور یہ مختلف صورتوں میں لی جاتی ہے نقد رقوم کی صورت میں تحفے تحائف کی صورت میں اور کبھی دعوتوں کی صورت میں.. غرض کہ رشوت جس صورت میں بھی لی یا دی جاۓ وہ اسلام میں سراسر غلط اور ناجائز ہے اور یہ جہنم کی طرف لے جاتی ہے..

    ہمیں چاہیے کہ معاشرے کے اس ناسور سے چھٹکارہ حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی حرام کمائی سے محفوظ رکھتے ہوۓ ان کی تربیت پہ زور دیں نہیں تو یہ حرام مال سے جوان ہونے والی اولادیں بھی والدین کے لیے دنیا و آخرت میں عذاب بن جائیں گی اور آپ کے لیے آگ کا ایندھن ثابت ہوں گی اللہ سے رزق کی فراوانی کی بجاۓ اس رب سے رزق میں برکت طلب کریں اور اس پہ کامل بھروسہ کرتے ہوۓ حلال رزق پہ ہی اکتفا کریں کیونکہ اگر آپ کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں تو رشوت سے توبہ تائب ہوں اور اللہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ حرام مال کی وجہ سے آپ سے ناراض ہے اور آپ کی کوئی عبادت، صدقہ، خیرات، نماز، روزہ یا دعا بھی قبول نہیں ہو رہی۔
    اللہ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔