Baaghi TV

Tag: نا اہلی کیس

  • سیاست دانوں کی نااہلی  کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی :53 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ شامل ہے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا، جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کو عوامی رائے اور عوام کی شاباشی حاصل کرنے کے بجائے آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے چاہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس فیصلے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت سپریم کورٹ براہ راست کورٹ آف لاء کے تحت کسی امیدوار کی اہلیت کا تعین کیسے کر سکتی ہے؟ کسی امیدوار کو نااہل کرنے میں عدلیہ کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی امیدوار کے کردار کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں یہ کام ووٹر کا ہے، نہ آئین میں اور نہ ہی کسی قانون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کورٹ آف لاء کون سا عدالتی فورم ہوگا جو ڈیکلریشن دینے کا مجاز ہوگا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے۔

    فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا ڈکلیئریشن دے کر آئین بدلنے کی کوشش کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نا اہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں تاحیات نا اہلی کا کہیں ذکر نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا تصور بنیادی حقوق کی شقوں سے ہم آہنگ نہیں، ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر آرٹیکل 62 میں تاحیات نااہلی کی شق شامل کرائی،تاحیات نا اہلی انتخابات لڑنے اور عوام کے ووٹ کے حق سے متصادم ہے۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عدالت الیکشن ایکٹ کے اسکوپ کو موجودہ کیس میں نہیں دیکھ رہی،آرٹیکل 62 ون ایف کو تنہا پڑھا جائے تو اس کے تحت سزا نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں درج نہیں کہ کورٹ آف لا کیا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف واضح نہیں کرتا کہ ڈکلیئریشن کس نے دینی ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو واضح کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا طریقہ کار کیا ہوگا،سابق جج عمر عطا بندیال نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھا اور خود فیصلے کی نفی بھی کی، سابق جج عمر عطا بندیال نے فیصل واوڈا اور اللہ ڈینو بھائیو کیس میں اپنے ہی فیصلے کی نفی کی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی مستقل یا تاحیات نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن تک محدود ہے، نا اہلی تب تک بر قرار رہتی ہے جب تک کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن موجود ہو، سپریم کورٹ کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ درست تھا۔

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

  • ٹریان وائٹ سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم

    ٹریان وائٹ سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان نااہلی کیس میں ٹریان وائٹ کیس سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کی جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر لارجر بینچ میں شامل ہیں –

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان نے متفرق درخواست دائر کی ہے جس پر اعتراض عائد کیا گیا،نادرا نے بائیومیٹرک تصدیق سے انکار کر دیا ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کسی د کان پر چلے جائیں وہاں بائیومیٹرک ہو جائے گا،عمران خان کے وکیل نے گزشتہ سماعت پر اعتراض اٹھایا تھا،عمران خان کے وکیل کا موقف ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں-

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کے رکن قومی اسمبلی نہ ہونے پر درخواست قابل سماعت نہیں-

    مدعی کے وکیل اور سابق جسٹس حامد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان نے بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کوکاغذات نامزدگی میں ظاہرنہیں کیا لہذا ہماری استدعا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے،عمران خان حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں-

    عمران کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دو دفعہ الیکشن کمیشن اس معاملے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر عمران خان ممبر قومی اسمبلی نہیں تو پھر کیا صورت حال بنے گی ؟ مدعی کے وکیل اور سابق جسٹس حامد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان ابھی بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا لاہور ہائیکورٹ نے ابھی فیصلہ دیا ہے الیکشن کمیشن نا اہل نہیں کر سکتا؟ اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائی کورٹس اور عدالتوں کا ہے۔

    چیف جسٹس عمر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا حلف اٹھانے کیلئے کوئی مدت متعین ہے؟حامد علی شاہ نے کہا کہ قانون حلف لینے کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں کرتا،چودھری نثار حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں-

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے آیا تھا چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ عدالت کے سامنے پیش کریں-

    وکیل حامد علی شاہ نے دوران سماعت اپنے ہی لکھے پرانے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس عمر فاروق نے کہا کہ یہ تو آپ کا ہی فیصلہ ہے، چیف جسٹس کی نشاندہی پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں امیدوار کیلئے بیان حلفی جمع کرانے کی شرط رکھی تھی-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کے پاس غلط معلومات ملنے پر الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے، چیف جسٹس عمر فاروق بولے کہ کیس میں ایسا نہیں ہوا، اس الیکشن کو تو کسی نے چیلنج ہی نہیں کیا،فیصلے کیمطابق اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائیکورٹس اور عدالتوں کا ہے،اس فیصلے کو بھی دیکھ لیں گے-

    چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ حبیب اکرم کیس میں سپریم کورٹ نے بیان حلفی کاغذات کا حصہ بنایا، الیکشن ایکٹ کے مطابق زیر کفالت بچوں کی تفصیلات بتانا لازم تھیں، مگر بچوں کی تفصیلات بتانا تو لازم نہیں ہیں نا؟۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ تفصیلات لازم نہیں ہیں، مگر اثاثوں کی فہرست میں بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات بتانی ہیں، اس اعتبار سے بالواسطہ طور پربچوں کی تفصیلات لازم ہیں۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر تفصیلات غلط جمع کرائی گئی ہوں تو الیکشن ایکٹ کیا کہتا ہے؟۔ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ اگر تفصیلات غلط ہوں تو یہ کرپٹ پریکٹس میں آئے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ غلط تفصیلات پر الیکشن کمیشن نے 120دن کے اندر ایکشن لینا ہوتا ہے، اگر الیکشن کمیشن نے ایکشن نہیں لیا تو پھر بس نہیں لیا۔

    وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق پارٹی سربراہ کو پبلک آفس ہولڈر تصور کیا جائے گا، اس دوران عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بولنے لگے تو چیف جسٹس نے کہا کہ تحمل کریں، انکی بات بھی سن لیں کوئی جلدی نہیں ہے-

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل میں تو نہیں گیا؟وکیل نے کہا کہ معاملہ ٹربیونل میں گیا لیکن وہاں میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف 2 ریفرنسز مسترد کر چکا ہے؟-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج کیے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر بیان حلفی غلط ثابت ہوتا ہے تو اسکے کیا نتائج ہونگے؟وکیل درخواست گزار نے جواب دیا غلط بیان حلفی پر 62 ون ایف لگتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے فیصل واوڈا کیس موجود ہے، اسکو دیکھ لیجئے گا،

    عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ٹریان وائٹ کیس سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم دے دیا اور سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کردی۔

    عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر لارجر بینچ کی سماعت 8مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ بدھ اور جمعرات کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا-

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بدھ اور جمعرات کو آپ دلائل مکمل کریں، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل سنیں گے-

    کیس قابل سماعت ہونے پر آئندہ بھی دلائل جاری رہیں گے۔

  • فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس، درخواست گزار کی درخواست واپس لینے کی استدعا

    فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس، درخواست گزار کی درخواست واپس لینے کی استدعا

    وفاقی وزیر فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس میں درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں فواد چودھری کی نا اہلی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ درخواست واپس کیوں لینا چاہتے ہیں ؟۔

    فواد چودھری کے خلاف نااہلی کیس کی درخواست پر سماعت کب ہو گی ؟ اہم خبر

    وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ مجھے درخواست واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت سے کہ اکہ اگر درخواست گزار درخواست واپس لینا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔

    عدالت کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا پر فیصلہ اگلی سماعت پر کیا جائے گا۔

    مجرمان کو عامی افراد کا خود سزا دینا منافی اسلام ہے

    واضح رہے کہ فواد چودھری کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ فوادچودھری نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے، الیکشن کمیشن میں درست معلومات نہیں دی گئیں-

    وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فوادچودھری کے خلاف درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ فواد چوھدری نےملکیتی اراضی ظاہر نہیں کی، فوادچودھری آرٹیکل 62،63 پرپورانہیں اترتے ،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوادچودھری کو 62 ون ایف کےتحت نااہل کیا جائے .

    فواد چوھدری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 67 سے الیکشن لڑے تھے ان کے مقابلے میں مسلم لیگ کے امیدوار نوابزادہ مطلوب مہدی تھے، فواد چوھدری دس ہزار کی لیڈ سے الیکشن جیتے تھے-

    رواں سال پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی فلمیں و ڈرامے