Baaghi TV

Tag: نتھیا گلی

  • پاکستان انٹرنیشنل ٹریول اینڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ انڈیکس میں چھ پوائنٹس اوپر آگیا

    پاکستان انٹرنیشنل ٹریول اینڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ انڈیکس میں چھ پوائنٹس اوپر آگیا

    پشاور:ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ٹریول اینڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ انڈیکس میں چھ پوائنٹس اوپر آگیا ہے۔ ملک سیاحت کی صنعت میں درست سمت میں گامزن ہے کیونکہ اس کے خوبصورت مناظر نے مقامی اور بین الاقوامی برادریوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع اور ملک کے دیگر حصوں میں شدید گرمی کی لہر کے بعد، سیاحوں نے نتھیاگلی اور ایوبیہ کا رخ کیا ہے تاکہ کبھی کبھی اس کے پر سکون ماحول میں گزاریں۔ایبٹ آباد میں نتھیاگلی کے قریب مغربی ہمالیہ کی پہاڑیوں پر برف پوش مکیش پوری (9,200 فٹ) اور میرانجانی (9,816 فٹ) پر اعتدال سے لے کر بے ترتیب بارشوں کے ساتھ سورج اور بادلوں کے درمیان چھپ چھپ سیاحوں کو پرجوش حالت میں لے جاتا ہے۔

    ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

    ویک اینڈ پر، نتھیاگلی اور ایوبیہ سیاحوں، ٹریکرز اور ایڈونچر سپورٹس کے شوقینوں سے بھر گئے ہیں جو اس کے دلکش قدرتی حسن، شاندار مناظر، آبشاروں، چیئر لفٹ کی سواری اور نوآبادیاتی دور کے پیدل چلنے والے راستوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور بڑے مزے اور قہقہے لگا رہے ہیں۔

    ڈونگالی-ایوبیہ، نتھیاگلی-ایوبیہ اور مکیش پوری ٹاپ گھوڑوں، اونٹوں پر سواری اور فوٹو گرافی کے ساتھ سیاحوں کی سب سے زیادہ کثرت والی جگہ ہے۔واپڈا ٹاؤن پشاور کے رہائشی 55 سالہ حیدر زمان نے نتھیاگلی میں اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’نتھیاگلی اور ایوبیہ اپنی متنوع قدرتی اور پہاڑی خوبصورتی، چیئر لفٹ اور نوآبادیاتی دور کے چلنے کے راستے کی وجہ سے میرے پسندیدہ پہاڑی مقامات ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان میں بہت سے سیاحوں کے تفریحی مقامات کا دورہ کیا ہے لیکن نتھیاگلی اور ایوبیہ چیئر لفٹ کے دلکش قدرتی حسن نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔

    سیاحت کا کھویا مقام بحال کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حسان خاور

    تاہم، ان دلکش مقامات پر کھلے مقامات پر کچرے اور پولی تھین کے تھیلوں کو پھینکتے ہوئے دیکھنے والے کو مایوسی ہو سکتی ہے،” انہوں نے کہا، کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA)، محکمہ وائلڈ لائف اور ضلعی انتظامیہ اس کی صفائی کو یقینی بنانے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی طرز عمل کے مطابق گاڑیاں چیئر لفٹ کے احاطے کے باہر کھڑی کی جاتی ہیں تاکہ اس کی ماحولیات کو پلاسٹک کی آلودگی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے پلاسٹک کی آلودگی سے بچانے کے لیے پارکنگ ایریاز کی تعمیر اور ڈسٹ بنز کی تنصیب کا مشورہ دیا۔

    کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (سی اینڈ ٹی اے) کے ترجمان سعد خان کا کہنا ہے کہ ٹھنڈایانی ایبٹ آباد، شرن ناران مانسہرہ، بشیگرام اور گبن جبہ سوات، یختنگی شانگلہ، شیخ بدین لکی مروت، محبان اور شہید سر بونیر، بونیر میں 10 کیمپنگ پوڈز قائم کیے گئے۔ کالاش چترال اور الائی بٹگرام رہائش کا مسئلہ حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 10 نئے کیمپنگ پوڈ جاروگو اشبشار، سلتر سوات، لشکرگاس بروغل اور سرلاس پور شندور اپر چترال، کمراٹ اپر دیر، کالام، لیلوانی اور الپوری شانگلہ، سامانی ٹاپ ہنگو/اورکزئی، لارہم ٹاپ لوئر دیر اور بن شاہی لوئر میں قائم کیے جائیں گے۔ دیر انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ اضلاع میں سات مقامات کی شناخت کیمپنگ پوڈز، پکنک اسپاٹس، اضافی سڑکوں اور آرام کے علاقوں کے لیے کی گئی تھی۔

    پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی…

    مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنوں نے گزشتہ عید الفطر کی تعطیلات کے دوران 1.6 ملین سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تقریباً 1.2 ملین سیاحوں بشمول 45,000 بونیر، 58,000 چترال لوئر، 1,25,000 دیر اپر کمراٹ، 1,45,000 دیر لوئر، آٹھ لاکھ سوات اور تین لاکھ گلیات آئے۔ اس کے نتیجے میں صرف ناران، کاغان اور کرمت کی وادیوں سے 300 ملین روپے کی آمدنی ہوئی۔

    خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے جنرل منیجر محمد علی سید کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے لامچر، سجاکوٹ، نوری، چجیاں ہری پور، جاروگو سوات، لانچھر دیر اور امبریلا ایبٹ آباد کے آبشاروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔

    سعد خان نے کہا کہ ٹورسٹ ہوم اسٹے لون پروجیکٹ بینک آف خیبر کی مدد سے شروع کیا جا رہا ہے تاکہ سیاحوں کے قیام کے لیے ایک گیسٹ روم بنانے کے لیے مقامی لوگوں کی مالی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے سیاحتی علاقوں کی مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

    سعد خان نے کہا کہ نئے اٹھائے گئے ٹورازم پولیس کے 182 کانسٹیبل سوات، چترال، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی دور کے چار تاریخی ٹیکوں کی ترقی پائپ لائنوں میں ہے جن میں ٹھنڈیانی-نتھیاگلی کی 8200 فٹ اونچائی، 40 کلومیٹر لمبائی اور 1500 پرانے درختوں کی پٹی، ٹھنڈیانی-بیرنگالی ٹریک، ڈگری بنگلہ-میرا جانی-نتھیاگلی ٹریک اور کاغان-مہنور ٹریکنگ شروع ہو رہی ہے۔ شنکیاری سے کنڈ بنگلہ اور آگے شہید پانی ندی بنگلہ سے موسیٰ کا مصلح۔ سیاحوں کے لیے واش رومز اور دیگر سہولیات کی تعمیر کے علاوہ ان ٹریکس پر باقی علاقوں کو بھی تیار کیا جائے گا۔

    کے پی انٹیگریٹڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر توصیف خالد کا کہنا ہے کہ پائیدار سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مانکیال سوات، ٹھنڈیانی ایبٹ آباد، گنول مانسہرہ اور مداسخست لوئر چترال میں چار مربوط ٹورازم زونز (ITZs) تیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ITZs عالمی بینک کی 70 ملین امریکی ڈالر کی قرضہ گرانٹ اور اس کی فزیبلٹی اسٹڈیز اور آخری مراحل میں ماسٹر پلاننگ کی مالی مدد سے تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ITZs کو ہزارہ اور سوات موٹر ویز سے اپروچ ro کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔

  • سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والےافراد کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے:عثمان بزدار

    سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والےافراد کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے:عثمان بزدار

    مری:سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والےافراد کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے:اطلاعات کےمطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرِ سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا، سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کو 8،8 لاکھ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے ایک کروڑ 76 لاکھ روپے منظور ہوئے ہیں، 22 افراد کو 8،8 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

    ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز کی بارشوں میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کیلئے مجموعی طور پر 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں راجہ بشارت، چیف سیکرٹری پنجاب، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ،آئی جی پنجاب نے بھی شرکت کی۔

    واضح رہے کہ مری میں گزشتہ روز برف کا طوفان آیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی تھیں، برفباری کے باعث مختلف گاڑیوں میں 21 افراد دم گھٹ کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ پاک فوج کے دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    مری اور گلیات میں گزشتہ چند روز سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز عوام کی بڑی تعداد برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے پہنچی تھی۔

    شدید برفباری میں ٹریفک جام ہونے کے بعد بڑی تعداد اپنی گاڑیوں میں ہی محصور ہوکر رہ گئی تھی۔ ان ہی میں وہ بدقسمت افراد بھی شامل تھے جو اپنی گاڑیوں میں دم گھٹنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔

    مری میں اس وقت ایمرجنسی رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کے علاوہ کسی کے بھی داخلے پر پابندی ہے۔ پاک فوج کے دستے انتظامیہ کے ساتھ کر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

    دوسری جانب سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والوں میں کری روڈ کے رہائشی شہزاد اسماعیل، اہلیہ و چار بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

    جاں بحق ہونے والوں میں گھر کا سربراہ 46 سالہ شہزاد اسماعیل ، 35 سالہ صائمہ شہزاد، 10 سالہ سمیع الله شہزاد، 8 سالہ حبیب الله شہزاد، 7 سالہ عائشہ شہزاد اور 5 سالہ اقرا شہزاد شامل ہیں۔نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی شخصیات، عزیز اقارب و اہلیان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • سانحہ مری:جاں بحق ہونےوالوں کی نمازجنازہ اداکردی گئی

    سانحہ مری:جاں بحق ہونےوالوں کی نمازجنازہ اداکردی گئی

    مری:سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے 9 سیاحوں کی آبائی علاقوں میں نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔مردان کے رہائشی نوجوان کی نمازجنازہ لوند خوڑ میں ادا کی گئی، سہیل دو بچوں کا باپ تھا۔ نماز جنازہ میں عمائدین علاقہ نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ لاہور کے معروف اشرف اورظفراقبال کی نمازجنازہ کوٹ لکھپت کے اکبر شہید قبرستان میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    راولپنڈی کے ایک ہی خاندان کے 6 افراد کی نماز جنازہ کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے،سانحہ مری میں جان بحق ہونے والوں کو سپرد خدا کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق کری روڈ کے رہائشی شہزاد اسماعیل، اہلیہ و چار بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔

    جاں بحق ہونے والوں میں گھر کا سربراہ 46 سالہ شہزاد اسماعیل ، 35 سالہ صائمہ شہزاد، 10 سالہ سمیع الله شہزاد، 8 سالہ حبیب الله شہزاد، 7 سالہ عائشہ شہزاد اور 5 سالہ اقرا شہزاد شامل ہیں۔

    نماز جنازہ میں سیاسی سماجی شخصیات، عزیز اقارب و اہلیان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    واضح رہے کہ مری میں گزشتہ روز برف کا طوفان آیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی تھیں، برفباری کے باعث مختلف گاڑیوں میں 22 افراد دم گھٹ کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ پاک فوج کے دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

     

     

    مری اور گلیات میں گزشتہ چند روز سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز عوام کی بڑی تعداد برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے پہنچی تھی۔

    شدید برفباری میں ٹریفک جام ہونے کے بعد بڑی تعداد اپنی گاڑیوں میں ہی محصور ہوکر رہ گئی تھی۔ ان ہی میں وہ بدقسمت افراد بھی شامل تھے جو اپنی گاڑیوں میں دم گھٹنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔

    مری میں اس وقت ایمرجنسی رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کے علاوہ کسی کے بھی داخلے پر پابندی ہے۔ پاک فوج کے دستے انتظامیہ کے ساتھ کر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

    یاد رہے کہ سانحہ مری میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہوگئی ہے جب کہ امدادی کاموں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ذرائع کے مطابق مری میں 5 روز سے بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری تھا جو کہ اب مکمل طور پر تھم چکا ہے۔مری اور گلیات کو ملانے والی تمام سڑکیں کلیئر کردی گئی ہیں

  • مری: 4 سالہ بچی نمونیا کے باعث دم توڑ گئی،جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی

    مری: 4 سالہ بچی نمونیا کے باعث دم توڑ گئی،جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی

    سانحہ مری: لاہور سے مری میں برفباری دیکھنے کے لیے آنے والی ایک اور بچی شدید برفباری اور بدترین ٹریفک جام کے باعث انتقال کر گئی جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی ہے-

    باغی ٹی وی : ریسکیو ذرائع کے مطابق مری کے علاقے جھیکا گلی میں 4 سالہ بچی شدید سردی کے باعث دم توڑ گئی، بچی سخت سردی سے نمونیا کا شکار ہوئی تھی، بچی کو بروقت اسپتال نہیں پہنچایا جا سکا جس کی وجہ سے وہ انتقال کرگئی۔

    مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے ،چیئرمین این ڈی ایم اے

    ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ بچی اپنے والدین کے ساتھ لاہور سے مری آئی تھی لیکن شدید برفباری میں اہلخانہ کے ساتھ پھنس گئی تھی۔

    دوسری جانب تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مری میں برفباری تھمنے پر امدادی کاموں میں تیزی آگئی ہے اور سیاحتی مقام کی تمام مرکزی شاہراؤں کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے جبکہ کلڈنہ اور باڑیاں کے مقام پر پاک فوج کے انجینئرز اور جوان سڑک کھولنے میں مصروف ہیں جھیکا گلی سے ایکسپریس وے اور جھیکا گلی سے کلڈنہ تک ٹریفک کلیئر کر دی گئی ہے لوئر ٹوپہ سے بھی سڑک صاف ہے جبکہ گلیات کی مختلف سڑکوں سے ہیوی مشینری کی مدد سے برف ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔

    دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ،شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا کہنا ہے کہ مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے اور سڑک کنارے صرف خالی گاڑیاں کھڑی ہیں تمام سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ آرمی ریلیف کیمپوں میں 371 افراد کو منتقل کیا گیا ہے پاک فوج اور سول اداروں سمیت سب نے مل کر ریسکیو کا کام کیا سیاحوں کی منتقلی میں مقامی افراد نے بھی مدد کی اور رات سے قبل ہی محفوظ مقامات پر منتقلی مکمل ہوئی۔

    اب بس کردیں ،خدا کے لیے بس کردیں یہ گندی اورمنافقانہ سیاست:مری سے سے پیغام آگیا

    مری:7 بہنوں کا اکلوتا بھائی روٹھ گیا:توکہیں بیٹا،بیٹیاں،بہن اکٹھے ہی سفرآخرت…

    پیشگی اطلاع پربھی انتظامیہ کیوں سوئی رہی؟کیا مری انتظامیہ پُرانی عادتیں چھوڑنے کے…

  • اب بس کردیں ،خدا کے لیے بس کردیں یہ گندی اورمنافقانہ سیاست:مری سے سے پیغام آگیا

    اب بس کردیں ،خدا کے لیے بس کردیں یہ گندی اورمنافقانہ سیاست:مری سے سے پیغام آگیا

    مری :اب بس کردیں سیاست:مری سے سے پیغام آگیا،اطلاعات ہیں کہ مری سے ایک ایسا پیغام آگیاہے کہ جس کے بعد اس سانحے پرسیاست کرنے والوں کے منہ میں گُڑ ڈال دیا گیا ،یہ پیغآم وہ پیغآم ہے کہ جس کو نظرانداز کرنے پرایک طرف قوم کو بڑے سانحے کا صدمہ برداشت کرنا پڑرہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی چند سیاسی شعبدہ باز شخصیات اسے اپنی سیاست چمکانے کا بہترین موقع اور ہتھیار سمجھ بیٹھے ہیں

     

     

    یہ پیغام ان قوتوں کے لیے واضح ہے جو بغیر دلیل کے بڑی بڑی کہانیاں گڑھ رہے ہیں‌اور پھر اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے قوم کے اس صدمے کو مذاق بنا رکھا ہے

     

     

    https://twitter.com/OfficialShehr/status/1478716540908359680

    جہاں ایک طرف مری میں برف باری دیکھنےکی چاہ 21 افراد کی جان لےگئی جس پر پورا ملک سوگوار ہے، مری کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور تمام داخلی راستے بند کردیےگئے ہیں۔

    وہاں سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اس حوالے سے مری آنے والوں کو خبردار کیا تھا کہ مری میں برف باری اور موسم کی شدت کے باعث مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے اس لیے محتاط رہیں۔شدید برفباری سے متعلق محکمہ موسمیات کے الرٹ کے باوجود انتظامیہ خاموش رہی

     

     

    https://twitter.com/OfficialShehr/status/1479824401667268612

    سوشل میڈیا پر طنزیہ ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والی بچی شہر بانو نے بھی 5 جنوری کو ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں سیاحوں کو مری کی صورت حال کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

    مری میں موجود شہر بانو نے برف باری کے بعد کا منظر دکھاتے ہوئے اپیل کی تھی کہ ‘مری میں برف باری کا سن کر اندھا دھند مری کی طرف نہ بھاگیں، بہت زیادہ برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہوگئی ہیں ، راستے کھلنے کا انتظار کریں، اپنے اور اپنے پیاروں کو مشکل میں نہ ڈالیں’۔

    شہر بانو کا کہنا تھا کہ ساری سڑکیں بند ہوچکی ہیں، اس لیے جب سڑکیں کھل جائیں اور ٹریفک جام ختم ہوجائے تو پھر ہی آئیں۔

     

     

    ادھر سوشل میڈیا پر اکثریہ پیغام شیئر کیا جارہا ہے کہ سکیورٹی حکام اور دیگر ذمہ داران ہرآنے والے کو خبردار کرتے رہے کہ رش بہت ہوگیا آپ واپس چلے جائیں لیکن ہم کسی کی بات کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں بلکہ پولیس اور دیگرسیکورٹی حکام کو مذاق بنا رکھا ہے

     

     

    دوسری طرف یہ بھی وائرل ہورہا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ قومی سانحہ ہے اور اس سانحے پر جہاں پوری قوم غمگین ہے اور سب نے اسے سانجھا دُکھ سمجھ رکھا ہے اور دنیا بھی پاکستان کے اس غم میں برابر کی شریک ہے لیکن کچھ سیاسی شعبدہ باز فقط اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا بیان بازی کررہے ہیں ،

     

     

    بعض نے تو لکھا ہے کہ "یہاں مگرمچھ کے آنسو وہ بھی بہا رہے ہیں جنہوں نے دن دیہاڑے 14 بے گناہوں کو لاہور کی سڑکوں پرگولیوں سے بھون کرماردیئے تھے ان کو اس قتل عام کی پرواہ نہیں تھے تو یہاں قدرت کے فیصلے پر آہ وکناں کیوں ہورہے ہیں بس اس لیے کہ یہ ثابت کریں کہ اگرہماری حکومت ہوتی تو وہ فرشتوں کو روح قبض کرنے سے روک سکتے تھے

     

    سوشل میڈیا پر اکثروبیشتر نے لکھا ہے کہ یہ غم کی گھڑی ہے سیاسی میلہ نہیں بس خدا کا خوف کھائیں اور اپنے گریبان میں جھانکین کہ ہم کیا کررہے ہیں

     

    خیال رہےکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے بھی 5 جنوری کو ملک میں جاری بارشوں اور برف باری کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا تھا ،جس میں 6 اور7 جنوری کو ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کے ساتھ مری،گلیات،کاغان اور سوات سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

     

    عث رابطہ سڑکیں بند ہو سکتی ہیں،کشمیر،گلگت اور بالائی خیبرپختونخوا میں برفانی تودے اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ شامل تھا۔

  • مری:7 بہنوں کا اکلوتا بھائی روٹھ گیا:توکہیں بیٹا،بیٹیاں،بہن اکٹھے ہی سفرآخرت پرروانہ ہوگئے

    مری :مری:7 بہنوں کا اکلوتا بھائی روٹھ گیا:توکہیں بیٹا،بیٹیاں،بہن اکٹھے ہی سفرآخرت پرروانہ ہوگئے،اطلاعات کے مطابق مری میں برفانی طوفان میں جاں بحق 22 افراد میں ایک مردان کا رہائشی نوجوان اسد بھی تھا جو7 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔

    سانحہ مری کو جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، وقت کے اس ملبے سے کئی المناک کہانیوں کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں، یہ واقعہ مردان کے ایک گھرانے پر بھی قیامت ڈھا گیا۔

    مری جانے والا نوجوان اسد مردان کا رہائشی اور 7 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔اسد کی2 سال پہلےشادی ہوئی تھی اور گھر کا واحد کفیل بھی تھا جو سریے کا کاروبار کرتا تھا۔

     

    چھ ماہ قبل ہی اس کے گھر ایک نئی زندگی نے جنم لیا تھا، اس کا بیٹا تو ابھی اپنے باپ کے لمس سے صحیح طرح آشنا بھی نہ ہوا تھا کہ وہ سایہ ہی سر سے اٹھ گیا۔

    اس کے گھر والے اسد کی آمد کے منتظر تھے کہ سانحہ مری نے ان کے اس انتظار کو زندگی بھر نہ ختم ہونے والے انتظار میں تبدیل کردیا ہے۔

     

    ادھر مری میں سیرکےلیے آنے والا نوید تھانہ کوہسار کا اسسٹنٹ سب انسپکٹر ( اے ایس آئی ) تھا جو چھٹی لے کر خاندان کے ہمراہ سیرو تفریح کے لیے مری گیا تھا لیکن بدتر صورتحال میں یہ تمام افراد جانبر نہ ہوسکے۔نوید اقبال اپنی تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھانجی اور بھتیجے کےساتھ تھے،

  • گورنر ہاؤس نتھیا گلی عوام کیلئے کھول دیا جائے ، وزیراعظم نے حکم دے دیا

    گورنر ہاؤس نتھیا گلی عوام کیلئے کھول دیا جائے ، وزیراعظم نے حکم دے دیا

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کردیا ، وزیراعظم عمران خان نے گورنر ہاؤس نتھیا گلی کو عوام کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے گورنر پاوس نتھیا گلی کی ویڈیو شیئر کی۔1923 میں تعمیر ہونے والے نتھیا گلی گورنر ہاؤس سطح سمندر سے 7922 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے نتھیا گلی گورنرہاوس کو عوام کے لیے کھولنے کا حکم صادر کرتے ہوئے کہا کہ نوآبادیات کی یہ نشانیاں جن کی دیکھ بھال کیلئے ٹیکس کے پیسوں سے سالانہ کروڑوں کے اخراجات اٹھتے، اب حکومت کیلئے آمدن کا ذریعہ بنیں گے۔پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ان عمارتوں کی تزئین و آرایش پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے، اب یہ عمارتیں حکومت کیلئے ریونیو پیدا کریں گی۔‘