Baaghi TV

Tag: نجکاری

  • پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے) کی نجکاری کا فیصلہ کن مرحلہ مکمل کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولیاں 23 دسمبر (منگل) کو طلب کی جائیں گی، جبکہ اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے بولی کھولنے کی تقریب براہِ راست ٹیلی وژن پر نشر کی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری پروگرام کے مطابق بولیاں صبح 10:45 سے 11:15 بجے تک جمع کی جائیں گی جبکہ انہیں سہ پہر 3:30 بجے کھولا جائے گا اس مرحلے پر 3 بولی دہندگان مقابلے میں شامل ہیں پہلے کنسورشیم میں لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔

    https://x.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?s=20

    دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں، جبکہ تیسری بولی ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر محمد علی کے مطابق فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بولی کے عمل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ بولیاں جمع ہونے کے بعد کمیشن کا بورڈ ریفرنس قیمت مقرر کرے گا، جس کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔

    معاہدے کے تحت پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے، جن میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے کو جبکہ 7.5 فیصد قومی خزانے کو ملے گی،حکومت کے پاس 25 فیصد حصص برقرار رہیں گے، جنہیں کامیاب بولی دہندہ بعد میں خریدنے یا حکومت کے پاس چھوڑنے کا اختیار رکھے گا پی آئی اے کی بحالی سے معیشت اور جی ڈی پی پر مثبت اثر پڑے گا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظام، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے پی آئی اے دوبارہ اپنے عروج کی طرف لوٹ سکتی ہے۔

    محمد علی کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی قدر کا تعین 75 فیصد حصص کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا حکومت نے بولی دہندگان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ 12 ماہ کے اندر 12 فیصد پریمیم کے ساتھ باقی حصص خریدنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں،بولی دہندگان کو 75 فیصد حصص کے حوالے سے فیصلہ منگل کو کرنا ہوگا، جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری کے لیے 90 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ بولی دہندگان نے 75 فیصد حصص کی ادائیگی ایک سال میں کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم حکومت نے یہ تجویز قبول نہیں کی ان کے مطابق اگر ایک سال کے دوران پی آئی اے کی کارکردگی خراب ہوتی تو خریدار خریداری سے پیچھے ہٹ سکتا تھا، اور اگر کارکردگی بہتر ہوتی تو خریداری کے حق میں فیصلہ کرتا، جو حکومت کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔

    انہوں نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی جمع کرائے گا، جبکہ باقی ایک تہائی ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی پی آئی اے کی بحالی سے مجموعی قومی پیداوار اور مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گاپاکستان میں ہوا بازی کے شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ سب سے کم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ حصہ 18 فیصد اور سعودی عرب میں 8.5 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 1.3 فیصد ہے۔ تاہم پی آئی اے کی صلاحیت کے باعث یہ شرح نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔

    پی آئی اے کے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے اس وقت صرف 18 طیارے فعال ہیں تاہم پی آئی اے کے 97 ممالک کے ساتھ فضائی سروس معاہدے موجود ہیں اور 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ رائٹس حاصل ہیں،پی آئی اے اس وقت 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کی ایکویٹی رکھتی ہے، جبکہ 26 ارب روپے کی واجبات پی آئی اے کے پاس ہی رہیں گی، جن کی ادائیگی بولی دہندگان پانچ سال میں کریں گے۔

    ملازمین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی 2011 میں پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 11 ہزار 500 تھی، جو اب کم ہو کر 6 ہزار 500 رہ گئی ہے، یعنی پانچ سال میں 5 ہزار ملازمین کی کمی آئی ہے۔

    محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسا اثاثہ ہے جسے اگر درست انداز میں نہ چلایا گیا تو بھاری نقصان ہو سکتا ہے، لیکن بہتر انتظام کے ساتھ یہ غیر معمولی آمدن پیدا کر سکتی ہے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں پی آئی اے کے پاس مسافر، منزلیں، روٹس اور لینڈنگ سلاٹس موجود ہیں۔

    ان کے مطابق پی آئی اے کو سرمایہ کاری، نئے طیاروں کے اضافے اور مؤثر انتظام کی ضرورت ہے، جو حکومت فراہم نہیں کر سکتی، پی آئی اے میں جس نوعیت کے فیصلوں کی ضرورت ہے وہ صرف نجی شعبہ ہی کر سکتا ہے، اور اگر ایئرلائن کو درست طور پر چلایا جائے تو پی آئی اے دوبارہ اپنے سنہری دور میں واپس آ سکتی ہے۔

    سینئیر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ تمام کارپوریٹ کی نظریں پی آئی اے کی نجکاری پر، جو کہ کل عمل میں لائی جائے گی،پردے کے پیچھے ڈرامہ سامنے آیا ہے۔ حیرت انگیز پیشرفت میں، طیبہ گروپ نے گزشتہ ہفتے پی ایم کی زیرقیادت میٹنگ میں عارف حبیب گروپ کی طرف سے پیش کی گئی مشترکہ منصوبہ بندی کی تجویز کو صاف طور پر مسترد کر دیا – ایک ایسا معاہدہ جس میں 40% عارف حبیب، 40% طیبہ، 20% فوجی فاؤنڈیشن، محمد علی طیبہ بطور چیئرمین PIA (پرائیویٹ) کے ساتھ تقسیم ہو جائے گی۔

    پھر بھی، بیک روم سمجھوتہ کے بجائے، طیبہ گروپ نے کھلی جنگ کا انتخاب کیا، اور اعلان کیا کہ یہ براہ راست بڈنگ میں جائے گا، کوئی بند ڈیل نہیں، کوئی محفوظ انتظام نہیں،اب یہ دو حریف کنسورشیموں میں بند پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری گروپوں کے درمیان ایک شدید، بلند و بالا آمنے سامنے ہونے کو ہے، یہ صرف نجکاری نہیں ہے؛ یہ شفافیت، اور اعصاب کا امتحان ہے۔

  • بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیاں نجکاری میں شامل

    بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیاں نجکاری میں شامل

    پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیاں نجکاری میں شامل ہیں-

    سنیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا، پاور ڈویژن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے فیز میں آئیسکو ، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کی جا رہی ہے،دوسرے فیز میں پیسکو اور سیپکو کی نجکاری کی جائے گی،تیسرے فیز میں لیسکو، میپکو اور ہیزکو کی نجکاری کا پلان ہے۔

    پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ گدو اور نندی پور پاور پلانٹس نجکاری کیلئے تیار ہیں،ان پاور پلانٹس پر حکومت مزید کوئی خرچہ نہیں کرے گی، دونوں پاور پلانٹس کو کچھ گیس کی ایلوکیشن ہونی ہے،گدو پاور پلانٹ کو 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جا رہی تھی،اس وقت گدو پاور پلانٹس 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا ہے،نندی پور پاور پلانٹس آر ایل این جی پر چل رہا ہے۔

    ممبر کمیٹی سنیٹر بلال خان نے سوال کیا کہ اگر ان پاور پلانٹس کی نجکاری نہ ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟پاور ڈویژن حکام نے جواب دیا کہ اگر نجکاری نہ ہو سکی تو ہم دوبارہ کابینہ کے پاس چلے جائیں گے،بلال خان نے پھر سوال کیا کہ آپ یہ کیسے سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ لوگ ان پلانٹس کو چلا سکیں گے؟-

    جس پر پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ ترکیہ میں جب بجلی کمپنیوں کی نجکاری ہوئی تب وہ بھی 80 فیصد نقصان میں تھیں،اس وقت ترکیہ کی بجلی کمپنیاں منافع میں ہیں،ہماری طرف سے ڈسکوز کی نجکاری کیلئے تمام چیزیں تیار ہیں۔

  • پی آئی اے  کی نجکاری کیخلاف عالمی عدالت جانے کا اعلان

    پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف عالمی عدالت جانے کا اعلان

    پاکستان پیپلزپارٹی لیبر ڈویژن کے رہنما اور پیپلزیونٹی آف پی آئی اے نے قومی ایئرلائن کی نجکاری کیخلاف عالمی عدالت جانے کا اعلان کردیا۔

    کراچی پریس کلب میں پیپلز یونٹی آف پی آئی اے ایمپلائز کے مرکزی صدر ہدایت اللہ خان، سینئررہنما پاکستان پیپلزپارٹی انچارج لیبرڈویژن پاکستان چوہدری منظور، لیبر ڈویژن سندھ کےصدرحبیب الدین جنیدی نےمشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    صدرپیپلزیونٹی آف پی آئی اے ہدایت اللہ نے کہا کہ پی آئی اے کوسوچے سمجھےمنصوبے کے تحت پرائیوٹائز کیا جارہاہے، ہم نےبھی بولی میں شامل ہونے کی درخواست کی جسے بغیر کسی جائزے کے مسترد کر دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوا توآئی ٹی ایف کے ذریعے بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ ضرور کھٹکھٹائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ موجودہ اورریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر فوائد کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوگا اور ہمیں تحریری یقین دہانی کرائی جائےمنگل سے علامتی طور پر ایک گھنٹے پر مشتمل احتجاج شروع کررہے ہیں جبکہ 23 دسمبرکو احتجاج کا دائرہ وسیع کیاجائےگا پُرامن احتجاج کے حامی ہیں، کسی انتہائی اقدام کے حامی نہیں ہیں مگرحکومت بھی ہزاروں ملازمین کی پریشانیوں کا احساس کرے۔

    رہنما و انچارج پیپلز پارٹی لیبر ڈویژن چوہدری منظورنے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری 23 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے جوکہ سراسرغیر قانونی اورغیر آئینی ہے، پی آئی اے کا حل نجکاری نہیں بلکہ فضائی بیڑے میں نئے جہازوں کا اضافہ ہے دنیا بھرمیں لیز پر جہازوں کا حصول عام سی بات ہے، بیرون ممالک پاکستانی سرمایہ کار پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پی آئی اے میں حصہ ڈالنے کے لیے آمادہ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہے، گورنمنٹ نے کبھی سبسڈی یا گرانٹ نہیں بلکہ قرض دیا ہے، ایک دفعہ ناکامی کے بعد دوبارہ قوانین کومرضی کے مطابق ڈھال کر کوشش کی جارہی ہے کہ اونے پونے اپنے من پسند افراد کو فروخت کر دی جائے، درپردہ خود ہی موجود ہیں، مطلب خود ہی خریدار ہیں، پیپلز یو نٹی آف پی آئی اے ایک قانونی حیثیت رکھتی ہے مگرجان بوجھ کرنجکاری کے عمل سےسے باہر رکھا گیا۔

  • حکومت کا  24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

    حکومت کا 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے 3 مراحل میں 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے-

    وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان نے تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں،وفاقی وزیر نے کہا کہ 10 اداروں کی نجکاری ایک سال کے اندر مکمل کی جائے گی، 13 اداروں کی نجکاری دوسرے مرحلے میں 3 سال کے اندر کی جائے گی، تیسرے مرحلے میں پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری 5 سال میں ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹیل، زرعی ترقیاتی بینک جیسے اہم اداروں کی نجکاری کی جائے گی، پہلے مرحلے میں آئسکو سمیت تین ڈسکوز کی نجکاری بھی کی جائے گی، دوسرے مرحلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، چار جنکوز کی نجکاری کی جائے گی۔

    عبدالعلیم خان نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں لیسکو سمیت 6 ڈسکوز کی نجکاری کی جائے گی، آخری،مرحلے میں پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری کی جائے گی۔

    عتیقہ اوڈھو کو شادی کے پیغامات موصول ہونے لگے

    پلوامہ حملےاور مودی کی کرپشن کو بےنقاب کرنیوالے سابق گورنر کی پراسرار موت

    اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    اسلام آ باد:اسکروٹنی کمیٹی نے چار پارٹیوں کو نیلامی میں شرکتِ کیلئے منظوری دے دی، جلد نیلامی کی تاریخ طے کی جائے گی۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس چیئرمین فاروق ستار کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں، پی آئی اے کی نجکاری، بجلی کی صورتحال، پوسٹل لائف کا محکمہ اور دیگر ایشوز زیر بحث آئے۔

    سیکرٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے 5 پارٹیوں نے اظہار دلچسپی ظاہر کی اور درخواستیں جمع کروائیں، اسکروٹنی کمیٹی نے چار پارٹیوں کو نیلامی میں شرکتِ کیلئے منظوری دی، ان پارٹیوں کو کل سے پی آئی اے کے دفاتر میں اکاؤنٹس اور آپریشنز کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی ہے پارٹیوں کی ڈیو ڈیلیجنس کے بعد بولی کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔

    انڈونیشیا میں 6.7 شدت کا زلزلہ

    سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ حکومت قومی ایئر لائن کی نجکاری رواں سال کی آخری سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، سرمایہ کاروں کی تسلی کے بعد ہی پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی، ہم نے خطے کی دیگر ائیر لائنز کو بھی نیلامی میں شرکت کی دعوت دی تھی، پاکستان کے بڑے بزنس گروپس پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، پی آئی اے کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور یہ گروپس سرمایہ کاری کی سکت رکھتے ہیں۔

    فاروق ستار نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب بھی تو پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھتی تھیں؟اس پر سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ پنجاب حکومت اپنی ایئر لائن شروع کرنا چاہتی ہے، پنجاب حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری میں اظہار دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

    15 سے 17 جولائی تک شدید بارشوں کی پیشگوئی

    سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ پی آئی اے نے فرانس کی فلائٹس شروع کر دیں ہیں، مانچسٹر کی فلائٹس کسی بھی وقت بحال ہو جائیں گی، پی آئی اے کے حالات گزشتہ سال کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں،سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ ادارے کی نجکاری کے دوران پی آئی اے ملازمین کی جاب سیکیورٹی کیلئے کام کریں گے، نئے خریدار کو پی آئی اے کے 19 جہازوں کے فلیٹ کو 45 تک لے کر جانا ہوگا۔

  • پی آئی اے خریدنے کا خواہشمند نیوز چینل مالی بحران کا شکار

    پی آئی اے خریدنے کا خواہشمند نیوز چینل مالی بحران کا شکار

    اسلام آباد: پی آئی اے خریدنے کا خواہشمند نیوز چینل مالی بحران کا شکار، گیس کٹ گئی، میٹر اتر گئے-

    باغی ٹی وی: پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو خریدنے کی خواہش رکھنے والے نجی ٹی وی چینل کے مالکان اس وقت مالی بحران کا شکار ہو چکے ٹی وی چینل مالکان نے حال ہی میں پی آئی اے کی نجکاری میں بولی لگائی تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ پی آئی اے کو خرید کر چلائیں گے، تاہم اب صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق چینل کی مالی حالت اب اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ ان کے دفتر کا بل ادا نہ ہونے کی وجہ سے گیس کا میٹر کٹ چکا ہے سردیوں کے موسم میں گیس کی بندش سے چینل کے ملازمین سخت مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ دفتر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور ملازمین کو ضروری سہولتیں حاصل نہیں ہیں گیس کٹنے پر ملازمین نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے۔

    صادق امین کہتے کہتے 50 ارب کا ڈاکا ڈال دیا،احسن اقبال

    یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ چینل کی مالی پوزیشن انتہائی نازک ہو چکی ہے، جس کے باعث اس کے کاروباری معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں چینل کی انتظامیہ نے ابھی تک اس بحران پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جلد ہی مالی وسائل میں بہتری نہ آئی تو چینل کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے ہمیں بلیک میل کیا جارہا ہے،خواجہ آصف

  • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کے لیے تقریب

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کے لیے تقریب

    پی اے اے ہیڈ کوارٹرزکراچی میں اسلام آبادانٹرنیشنل ائیرپورٹ کی نجکاری بارے بولی تقریب میں فنانشل پروپوزل، مالی پیشکش کو کھول دیا گیا، پراجیکٹ سکوپ کی 47.25فیصد کنسیشن فیس پی اے اے کو دینے کی پیش کش کی گئی۔

    ترجمان پی اے اے کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کے لیے فنانشل بڈ اوپننگ/ مالی بولی کی تقریب پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی ہیڈکوراٹرزکراچی میں ہوئی جہاں ٹی ای آر جی کنسورشیم کی جانب سی7 اکتوبر کو جمع کرائی گئی فنانشل پروپوزل، مالی پیش کش کو کھولا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس مالی پیش کش میں پراجیکٹ سکوپ کا 47.25فیصد کنسیشن فیس پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو دینے کی پیش کش کی گئی ہے جبکہ ریفرنس پرسنٹیج 56فیصد مقررتھا۔ترجمان نے کہا کہ یہ پیشکش اب تفصیلی جائزے کیلئے آئی ایف سی جو کہ ٹرانزیکشن ایڈوائزر ہیں کے پاس بھیجی جائیگی۔ترجمان کے مطابق آئی ایف سی اپنی جائزہ رپورٹ 9جنوری 2025ء تک پی اے اے کوپیش کریگا اور کنسیپشن ایوارڈ کرنے کا حتمی فیصلہ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے جائزے اوروفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

    کراچی کی ترقی میں رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا،مرتضیٰ وہاب

    کراچی کی ترقی میں رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا،مرتضیٰ وہاب

    سندھ ،قانون کے باوجود چائلڈ لیبر میں اضافہ کا انکشاف

  • علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    علیم خان کی نجکاری کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    وفاقی وزیر برائے نجکاری، عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پرائیویٹائزیشن کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اداروں کی نجکاری کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس میں نجکاری کے عمل کو مزید تیز کرنے اور اس کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد نجکاری کے عمل کو شفافیت کے ساتھ اور جلد از جلد مکمل کرنا ہے تاکہ عوامی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے پرائیویٹائزیشن کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ "نجکاری کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام فیصلے مکمل شفافیت اور معیار کے مطابق ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ عزم ہے کہ تمام پرائیویٹائزیشن منصوبوں میں مالیاتی شفافیت کو اہمیت دی جائے اور ان منصوبوں میں بہترین عالمی معیار کی پیروی کی جائے۔

    اجلاس میں مختلف اداروں کی نجکاری کے حوالے سے فنانشل ایڈوائزرز کی تقرری کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس عمل کی تیز رفتار تکمیل کے لیے فنانشل ایڈوائزرز کی جلد تقرری کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت عوامی مفاد میں نجکاری کے عمل کو ترجیح دے گی، اور اس کے نتیجے میں عوامی اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جنہوں نے نجکاری کے عمل کو بہتر بنانے اور شفافیت کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر عبدالعلیم خان نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی، اور اس کا مقصد صرف اور صرف معیشت کی ترقی اور عوامی اداروں کی بہتری ہے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس عمل کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نجکاری کے تمام منصوبے شفاف، مؤثر اور جلد از جلد مکمل ہوں۔

    فیصل واوڈا،بیرسٹر گوہر کی "مسکراتے ” ہوئے ملاقات

    کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

  • عدالت  اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے کر پی آئی اے نجکاری کا کیس نمٹا دیا

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری کیس کی سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پی آئی اے انتظامیہ کو نئے پروفیشنلز بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کا عمل شروع کیا تھا، نجکاری کے عمل سے پی آئی اے میں نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں،پی آئی اے نجکاری کا عمل کمیشن دوبارہ کرنے جا رہا ہے، پی آئی اے فلائٹ آپریشن پر پابندی بھی ختم ہو گئی ہے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ دوبارہ نجکاری کے عمل میں اب شائد ریٹ زیادہ ملے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی آئی اے نجکاری کر کے حکومت کہیں سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا نجکاری عدالت کو اعتماد میں لے کر کی جائے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجکاری پر اعتماد میں لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت اپنا اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب کیطرف سے جسٹس منصور علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ محتسب کیطرف سے جسٹس منصور کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا،وفاقی محتسب نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے،وفاقی محتسب نے اپنی متفرق درخواست بھی واپس لے لی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ کیس تو ایسا لگتا ہے ایک ہائیکورٹ نے دوسری ہائیکورٹ کو نوٹسز کیے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • سروسز انٹرنیشنل ہوٹل  کی کامیاب نجکاری، کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا ،علیم خان

    سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی کامیاب نجکاری، کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا ،علیم خان

    سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور (ایس آئی ایچ) کی نجکاری کا عمل پنجاب کوآپریٹو بورڈبرائے لیکیوڈیشن (پی سی بی ایل)، سوک کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ (سی سی سی ایل)، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ایل ڈی اے)، نجکاری کمیشن اور خریدار کے درمیان فروخت کے معاہدے پر پرائیویٹائزیشن کمیشن اسلام آباد میں دستخط سے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

    وفاقی وزیر برائے نجکاری،چیئرمین نجکاری کمیشن عبدالعلیم خان نے دستخط کی تقریب میں شرکت کی ۔میسرز فیصل ٹائون (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو اگست 2021 میں ہونے والی کھلی عوامی نیلامی کے نتیجہ میں نجکاری کمیشن نے کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے 27 اکتوبر 2021 کو دی تھی۔وفاقی وزیر نجکاری نے حکومت پنجاب سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تمام زیر التواء مسائل کے حل کو باہمی تعاون سے ممکن بنایا جس سے اس نجکاری کی تکمیل ہو پائی۔ وفاقی وزیر نے نجکاری پروگرام کی کامیابی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تمام تر حکومتی مشینری کے یکجا طور پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور کی کامیاب نجکاری سے پرائیوٹائزیشن کمیشن کی ساکھ میں اضافہ ہو گا اور یہ ادارہ باقی کیسز کو بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گا۔ عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافے کے لئے غیر ضروری کاغذی کارروائیوں میں وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں نجکاری کے امور کو کم سے کم وقت میں مکمل کرنا چاہیے۔