Baaghi TV

Tag: نجی تعلیمی ادارے

  • غییر ضروری فیسوں کے مطالبات، نجی تعلیمی اداروں کیلئے سخت گائیڈ لائنز جاری

    غییر ضروری فیسوں کے مطالبات، نجی تعلیمی اداروں کیلئے سخت گائیڈ لائنز جاری

    لاہور میں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین پر مالی دباؤ اور غیر ضروری فیسوں کے مطالبات پر قابو پانے کے لیے ڈسٹرکٹ اسکول ایجوکیشن اتھارٹی نے سخت گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں-

    گائیڈ لائن کے مطابق کوئی بھی نجی اسکول ٹیوشن فیس سالانہ صرف 5 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، اس سے زائد اضافہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اسکول انتظامیہ کسی بھی سرگرمی یا سمر کیمپ کی مد میں اضافی فیس وصول نہیں کرے گی، اور نہ ہی طلبہ کو مخصوص دکانوں سے کتابیں یا کاپیاں خریدنے پر مجبور کیا جائے گا۔

    گائیڈ لائن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی نجی اسکول طلبہ سے ایڈوانس فیس نہیں لے گا صرف ماہانہ بنیاد پر فیس وصول کرنے کی اجازت ہوگی، اور فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں کسی بھی طالبعلم کو اسکول سے نکالنے یا تذلیل کا نشانہ بنانے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تمام نجی تعلیمی ادارے طلبہ کے لیے ایک محفوظ، دوستانہ اور ہراسگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے پابند ہوں گے اسکول انتظامیہ پر لازم ہوگا کہ وہ تعلیمی ماحول کو خوشگوار بنائے اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

    یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    ڈسٹرکٹ اسکول ایجوکیشن اتھارٹی نے تمام نجی اسکولوں کے مالکان کو مذکورہ نئی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی بھی تنبیہ کی ہے۔

  • نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ

    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ

    نجی تعلیمی اداروں کو بغیر معاوضے کے پلاٹ الاٹ کرنے کے منصوبہ پرعمل درآمد کا فیصلہ کر لیا گیا اور سی ڈی اے نے درخواستیں طلب کرلی ہیں جبکہ اسلام آباد میں نجی تعلیمی اداروں کو 300 پلاٹ بغیر معاوضے کے الاٹ کرنے کے منصوبہ پر عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اور سی ڈی اے نے نجی تعلیمی اداروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔

    نجی تعلیمی اداروں سے طلب کی گئی ہر درخواست کے ساتھ دو لاکھ روپے بطور رجسٹریشن جمع کروانے ہوں گے، نجی تعلیمی اداروں کو کمرشل ایریا میں 2، 4 اور 10 کنال پر محیط پلاٹ بلا معاوضہ دئیے جائیں گے، جب کہ ان پلاٹوں میں سرکاری اداروں کو مختص کردہ پلاٹ بھی شامل ہیں، منصوبے کا مقصد رہائشی علاقوں میں نجی اسکول چلنے سے روکنا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟

    جبکہ دوسری جانب سرکاری تعلیمی اداروں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومتی منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومتی فیصلہ واپس نہ لینے پر عدالتی کاروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ ادھر تحریم اصغر کے مطابق ہمارے تعلیمی اداروں خاص طور پر نجی تعلیمی اداروں میں ظلم کی انتہا یہ ہے استاد کا کام صرف تعلیم و تربیت ہے لیکن یہاں پڑھانے کے علاوہ بھی سارے کام اساتذہ سے ہی لیے جاتے ہیں۔ مثلاً بریک کے دوران وہ آیا بھی ہے اور چھٹی کے وقت چوکیدار اور سیکورٹی گارڈ بھی۔ ادارے کے سارے انتظامی معاملات بھی استاد کی ذمہ داری ہیں۔ ادارے کے لیے بچے اکٹھے کرنے ہوں، گھر گھر جا کر داخلوں کے پمفلٹ تقسیم کرنے ہوں یا بچوں سے فیسیں لینی ہوں یہ کردار بھی اساتذہ ہی ادا کرتے ہیں۔

  • نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیسیں‌ لیں ، وفاقی وزیرتعلیم کی ہدایت

    نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیسیں‌ لیں ، وفاقی وزیرتعلیم کی ہدایت

    اسلام آباد : ملک میں‌ نجی تعلیمی اداروں نے اپنی مرضی کا نظام کیا ہوا ہے ، اب ایسے نہیں چلے گا جو تعلیمی اداراہ چلانا چاہتا ہے وہ شرائط کا بھی پابند ہوگا ، ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے اپنے پیغام میں کیا ،شفقت محمود نے کہا کہا نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹے کے احکامات کے مطابق فیس میں اضافہ کریں
    ·
    وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں سے متعلق زیادہ فیسیں لینے کی بہت زیادہ شکایات آرہی ہیں،میری ان سے درخواست ہے کہ براہ کرم سپریم کورٹ کے حکم کےمطابق فیسیں لیں ، شفقت محمود نے خبردار کیا کہ جو ایسا نہیں‌کرے گا وہ آگے نہیں چلے گا ، بے لگام نہیں ہونے دیں‌گے ، ایک سسٹم موجود ہے اس کے مطابق کام کریں

    یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی نجی سکولوں کی طرف سے بہت زیادہ فیسیں لینے کے حوالے سے ایک درخواست کی سماعت ہورہی ہے ، ہائی کورٹ سیکرٹری ایجوکیشن سے جواب مانگ رہی ہے اور سیکرٹری ایجوکیشن بہانے اور ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں،