Baaghi TV

Tag: نشان حیدر

  • نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی شخصیت، کیپٹن محمد سرور شہید کا آج 77 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے-

    گوجر خان میں کیپٹن محمد سرورشہید کے77 واں یوم شہادت کے موقع پر مزار پر پھول رکھنے اور فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد کی گئی،تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاکف اقبال (ہلالِ امتیاز ملٹری) تھے، جنہوں نے مزار پر پھول چڑھائے اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید نے 27 جولائی 1948 کو پہلی کشمیر جنگ میں دشمن کے خلاف جامِ شہادت نوش کیا وہ پاک فوج کے پہلے سپوت ہیں جنہیں جرات و بہادری کے اعتراف میں نشانِ حیدر سے نوازا گیاافواجِ پاکستان اور پوری قوم نے عظیم ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے کر بہادری کی نئی تاریخ رقم کی۔

    غزہ میں بھوک اور تکلیف دل دہلا دینے والی ہے، امریکی سینیٹر

    صدر مملکت آصف زرداری نے کیپٹن محمد سرور شہید کے یوم شہادت پر اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور شہید نے کشمیر کی پہلی جنگ میں مادرِ وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، قوم کو ان کی جرات، استقامت اور عظیم قربانی پر فخر ہے،آج کا محفوظ پاکستان ہمارے ہیروز کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے ، شہداء کی قربانیاں ملکی دفاع اور قومی استحکام کی بنیاد ہیں،قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور نے جموں و کشمیر پر دشمن کے قبضے کو ناکام بنایا اور جام شہادت نوش کیا، قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10 نومبر 1910 میں پیدا ہوئے محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی، 1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا،انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

    قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا27 اکتوبر 1959 کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    شرح تبادلہ کے نرخوں پر غور : اسٹیٹ بینک نے بینکوں کا اجلاس کل طلب کرلیا

  • میجر عزیز بھٹی شہید  کا 59 واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے،مسلح افواج کا خراج عقیدت

    میجر عزیز بھٹی شہید کا 59 واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے،مسلح افواج کا خراج عقیدت

    1965 کی جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کا 59 واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے-

    باغی ٹی وی : میجر عزیز بھٹی نے 1965 کی جنگ میں مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا، جس پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور مسلح افواج پاکستان نے میجر راجہ عزیز بھٹی کو ان کی 59ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے جبکہ گجرات میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کے مزار پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، میجر جنرل محمد شمریز نے مزار پر پھول رکھے، فاتحہ خوانی کی اور سلامی دی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میجر عزیز بھٹی شہید کی فرض شناسی، غیر متزلزل عزم اور عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان کے بہادرانہ اقدامات نے بے شمار لوگوں کو بہادری اور قربانی کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج میجر عزیز بھٹی کی یاد کو سلام پیش کرتی ہیں اور ان کی وراثت کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں جو کہ جوانوں کی نسلوں کو عزت اور وقار کے ساتھ ملک کا دفاع کرنے کی تحریک اور ترغیب دیتا ہے ہم اپنے شہداء کے خاندانوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانیوں کا خمیازہ ہمت اور لچک کے ساتھ برداشت کیا،آئیے پاکستان کے دفاع میں لازوال قربانیاں دینے والے میجر عزیز بھٹی، نشان حیدر اور اپنے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں۔

  • کم عمر ترین شہید پائلٹ آفیسر راشد منہاس

    کم عمر ترین شہید پائلٹ آفیسر راشد منہاس

    کم عمر ترین شہید پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا 52 واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے، مسلح افواج نے راشد منہاس شہید نشان حیدر کو خراج عقیدت پیش کیا۔

    باغی ٹی وی : پائلٹ آفیسر راشد منہاس نشان حیدر حاصل کرنے والوں میں سب سے کم عمر ہیں، راشد منہاس 20 اگست 1971 کو گوٹھ احمد شاہ سجاول میں شہید ہوئے،اعزازِ نشان حیدر حاصل کرنے والے پائلٹ آفیسرکراچی میں پیدا ہوئے،خاندان کے متعدد افراد پاکستان کی بری بحری اور فضائی افواج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ انھوں نے بھی اپنا آئیڈیل فوجی زندگی کو بنایا۔ اور اپنے ماموں ونگ کمانڈر سعید سے جذباتی وابستگی کی بنا پر فضائیہ کا انتخاب کیا۔ تربیت کے لیے پہلے کوہاٹ اور پھر پاکستان ائیر فورس اکیڈیمی رسالپور بھیجے گئے۔ فروری 1971ء میں پشاور یونیورسٹی سے انگریزی، ائیر فورس لا، ملٹری ہسٹری، الیکڑونکس، موسمیات، جہاز رانی، ہوائی حرکیات وغیرہ میں بی۔ ایس۔ سی کیا۔ بعد ازاں تربیت کے لیے کراچی بھیجے گئے۔ اور اگست 1971ء میں پائلٹ آفیسر بنے۔

    20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا اور طیارے کا رخ بھارت کی سرحد کی طرف موڑ دیا۔ راشد نے ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے رابطہ قائم کیا تو انھیں ہدایت کی گئی کہ طیارے کو ہر قیمت پر اغوا ہونے سے بچایا جائے۔ اگلے پانچ منٹ راشد اور غدار انسٹرکٹر کے درمیان طیارے کے کنٹرول کے حصول کی کشمکش میں گزرے مطیع الرحمان نے راشد منہاس سے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن راشد منہاس نے اس کو ناکام بنا دیا۔

    مطیع الرحمان کی تجربہ کاری کی بنا پر جب راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ پر لینڈ کرانا ممکن نہیں تو انھوں نے آخری حربے کے طور پر جہاز کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا اور طیارہ زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں راشد منہاس اور مطیع الرحمان دونوں وفات پا گئے لیکن ایک نے قابل رشک موت یعنی شہادت کا درجہ پایا اور تاریخ میں اپنا نام امر کر لیا۔ جبکہ دوسرا غدار کہلایا۔ راشد منہاس کے اس عظیم کارنامے کے صلے میں انھیں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق راشد منہاس نے دوران ڈیوٹی پاک افواج کی عظیم روایات کی پاسداری کی، راشد منہاس کی برسی کا دن مسلح افواج کی غیرمعمولی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہیروز کی قربانیوں کو یاد رکھیں، قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر فخر ہے۔

  • میجرطفیل محمد شہید نشان حیدر کی صاحبزادی انتقال کر گئیں

    میجرطفیل محمد شہید نشان حیدر کی صاحبزادی انتقال کر گئیں

    میجرطفیل محمد شہید نشان حیدر کی اکلوتی صاحبزادی نسیم اختر انتقال کر گئیں-

    باغی ٹی وی: خاندانی ذرائع کے مطابق مرحومہ کی نماز جنازہ آج آبائی گاؤں طفیل آباد میں اداکی جائے گی نسیم اختر نے سوگواروں میں ایک صاحبزادے عظمت سلطان اختر کو چھوڑا ہے۔

    عبوری ضمانت کیلئےعثمان بزدار کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم

    واضح رہے کہ فاتح لکشمی پور کے نام سے جانے اور پہچانے جانے والے میجر طفیل محمد شہید نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے دوسرے سپوت تھے۔

    میجر طفیل محمد شہید پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوئےخدمات کے پیش نظر انہیں پاکستان کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ میجر طفیل محمد نے1943 میں16 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنی بٹالین کے علاوہ شہری مسلح فورسز میں مختلف کمانڈ اور تدریسی تقرریوں پر مشتمل ایک امتیازی کیرئیر کے بعد انہیں 1958ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان رائفلز میں تعینات کر دیا گیا۔

    انہوں نے 7 اگست 1958 کو لکشمی پور میں بھارتی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے بحیثیت کمانڈر اپنے ونگ کے ساتھ دشمن کی چوکی کے عقب میں پہنچ کر فقط 15 گز کے فاصلے سے حملہ آور ہوئے،جب بھارتیوں نے مشین گن سے فائر شروع کیے تو میجر طفیل اس کا نشانہ بننے والے پہلے سپاہی تھے۔ بے تحاشہ خون بہنے کی حالت میں انہوں نے ایک گرینیڈ پھینک کر دشمن کی مشین گن کو خاموش کر دیا۔

    پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی …

    وہ زخمی ہونے کے باوجود آگے بڑھتے رہے جب دشمن کی دوسری مشین گن نے فائرنگ شروع کی تو میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ اس کا نشانہ بن گئے میجر طفیل نے ایک نہایت پختہ نشانے کے حامل گرینیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کر دیا۔ دوبدو ہاتھاپائی کے دوران میجر طفیل نے دیکھا کہ بھارتی چوکی کا کمانڈر خاموشی سے ان کے ایک جوان پر حملہ آور ہونے والا تھا باوجود شدید زخمی ہونے کے میجر طفیل رینگتے ہوئے دشمن کمانڈر کے پاس پہنچ گئے اور اپنی ایک ٹانگ پھیلا دی جیسے ہی دشمن ٹھوکر کھا کر گرا میجر طفیل نے اپنے اسٹیل ہیلمٹ سے اس کے چہرے پر ضربیں لگا کر اپنے جوان کو بچالیا۔ میجر طفیل نے اپنے دستے کی قیادت جاری رکھی یہاں تک کہ بھارتی اپنے پیچھے چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑکر فرار ہو گئے۔

    بلاول بھٹو نے اتحادیوں کو سیاسی مذاکرات پر راضی کرنے کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم …

    اردلی اور حوالدار انہیں سٹریچر پر اٹھا کر خیمے میں لے گئے، خصوصی ریل کے ذریعے سی ایم ایچ کومیلا می پیٹ کا آپریشن کر کے 4 گولیاں برآمد کی گئیں، گولیاں نکالنے کے بعد ٹانکے لگانے کے دوران 8 اگشت کو شہید ہو گئے اور انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا میجر طفیل کے نام کی مناسبت سے گگو منڈی کے قریب ایک گاؤں کا نام طفیل آباد رکھا گیا۔ ان کی تدفین چک 253 ای بی میں کی گئی

    5 نومبر 1959ء کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والی تقریب میں میجر طفیل محمد شہید کو بعد از مرگ اس اعزاز سے نوازا، ان کا یہ اعزاز ان کی صاحبزادی نسیم اختر کو عطا کیا گیا تھا۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ،پنجاب،کے پی الیکشن کیلئے فنڈ دینےکا بل مسترد

  • نشان حیدر کا اعزاز پانے والے میجر طفیل شہید کے مزار پر تقریب:گارڈ آف آنر پیش

    نشان حیدر کا اعزاز پانے والے میجر طفیل شہید کے مزار پر تقریب:گارڈ آف آنر پیش

    راولپنڈی: 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر 1958 میں وطن کے دفاع کیلئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر طفیل محمد شہید کو پاک فوج کے چاک وچوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یوم آزادی کے موقع پر 1958 میں جام شہادت نوش کرنے والے میجر طفیل محمد شہید کے مزار پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، میجر جنرل منیرالدین، جنرل آفیسر کمانڈنگ 35 ڈویژن نے میجر طفیل کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی جبکہ پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میجر طفیل محمد شہید نشان حیدر کے آبائی علاقے طفیل آباد تحصیل عارف والا میں ہوئیم جس میں عوام، سول وعسکری حکام اور شہید کے لواحقین نے شرکت کی۔خیال رہے کہ میجر طفیل پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ حاصل کرنے والے دوسرے سپوت تھے۔

    میجر طفیل محمد 22جولائی 1914ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے، 1943 میں انہوں نے فوج میں کمیشن حاصل کیا اور 1947ء میں اپنے پورے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے اور یہاں فوج میں خدمات انجام دینے لگے۔

    جون 1958ء میں میجر طفیل محمد کی تعیناتی ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوئی۔ اگست 1958ء کے اوائل میں انہیں لکشمی پور کے علاقے میں ہندوستانیوں کا راستہ روکنے کا حکم ملا۔

    میجر طفیل محمد نے لکشمی پور میں بھارتی چوکیوں کا صفایا کرتے ہوئے ملک کی آخری دم تک حفاظت جاری رکھی اور شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ آپ کو فاتحِ لکشمی پور کا اعزاز بھی دیا گیا۔

  • حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر) کی 23 ویں برسی

    حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر) کی 23 ویں برسی

    کارگل معرکے میں دُشمن پر دھاک بٹھانے والے ہیرو

    حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    1965کی جنگ ہو یا کارگل کا محاذ، قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاک دھرتی کو ہمیشہ شاد و آباد رکھا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال حوالدار لالک جان کی ہے جنہوں نے کارگل جنگ میں دُشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی جسے وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔

    کشمیر کی وادی غزر جسے وادی شہداء بھی کہا جاتا ہے، آج بھی لالک جان کے قصیدوں سے گونج رہی ہے جہاں انہوں نے اپنے خُون سے، وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔یہاں کے ہر گاؤں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرتاہے۔

    دُنیا کے بُلند ترین محاذِ جنگ کارگل میں دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں 01اپریل 1967 کو ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1984میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔

    ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ ٹریننگ سنٹر بنجی میں ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد آپ نے1985میں 12این ایل آئی میں رپورٹ کیا پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کی بناء پر آپ یونٹ کی بیشتر ٹیموں کا حصہ رہےآپ کی ڈرل، فوجی ٹرن، جسمانی چستی ہمیشہ مثالی رہی۔ آپ نے یونٹ کی کمانڈو ٹیم کو پہلی پوزیشن دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کی ویپن کی مہارت کا یہ ثبوت ہے کہ آپ بطور ویپن ٹریننگ انسٹرکٹر ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سنٹر بنجی میں تعینات رہے۔

    معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اورکہاکہ میری چھٹیاں ختم ہونےمیں چھ روزباقی ہیں اوریہ دن میں گھرگزارنےکےبجائےمحاذجنگ پر گزارنا چاہوں گا اور ماں سے کہا کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

    حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ آپ نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر آپ نےاپنےجرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کےمتعدد حملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔

    12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا”کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی۔یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی“۔

    مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلےمورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹرمیں اپنےفرائض سر انجام دےرہاتھےاس موقع پر لالک جان نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔

    جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچےمیں جاکر جوانوں کےحوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اورصبح تک دشمن سپاہ لاشوں کےانبار چھوڑ کےپسپا ہوگئی تھی۔ دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔

    7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔آپ کے جذبے کا عکاس یہ حمہ آج بھی تاریخ کے سنہرے ورقوں میں تحریر ہے کہ جب آپ کے زخموں کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیپٹن احمد نے واپس جانے کا حکم دیا تو آپ نے جواب میں کہا کہ”میں ہسپتال میں بستر پر موت کو گلے لگانے سے ہتر میدان جنگ میں دُشمن سے لڑتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے ملنا پسند کرتا ہوں“۔

    آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔

    کارگل جنگ میں جب دشمن اپنے مذموم مقاصد کےحصول کے لیے حملہ آور ہوا تو منفی30درجہ حرات، یخ بستہ ہوائیں اور جان لیوا زخموں کے باوجود کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرد ِ مُجاہد نےکئی گھنٹوں تک لائیٹ مشین گن سے دُشمن کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن مورچہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور ملک کا دفاع کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہےان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔

  • کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی داستان

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی داستان

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی داستان

    برف پوش پہاڑ، موسم ایسا کہ سانس بھی جم جائے لیکن جذبہ اور حوصلہ ایسا کہ چٹان بھی جُھک جائے۔ دُنیا کے بُلند ترین محازِ جنگ کارگل پر دشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے مزموم عزائم ناکام بنا کر کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے یہ ثابت کر دیا کہ بہادر مشکلات میں گھبرایا نہیں کرتا۔

    یہ ایسے بہادر سپوت کی داستان ہے جس نے جان تو دے دی لیکن وطن کی حُرمت پر آنچ نہ آنے دی۔ نہ اپنا سر جھکایا اور نہ ہی قوم کا سر جُھکنے دیا۔ یہی وہ بہادر ہیں جن کی ہمت، جرات، وطن سے محبت اور بہادری کا بر ملا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔ جنہوں نے اپنے خون سے وطن کا دفاع کیا۔بھروقت قوتِ فیصلہ، بھرپور جوابی وار اور اللہ پر ایمان نے کیپٹن کرنل شیر خان کو یہ اعزاز بخشا کہ دُشمن کو نہ صرف آگے بڑھنے سے روک دیا بلکہ واپس لوٹنے پر بھی مجبور کر دیا۔

    آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
    اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روبائی

    تاریخ ہمیشہ بہادروں کو یاد رکھتی ہے۔ جب جب جرأت اور دلیری کا ذکر آئے گا، کیپٹن کرنل شیر خان ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔کیپٹن کرنل شیر خان1970میں صوابی میں پیدا ہوئے۔ صوابی کے اس جوان نے 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی۔1994میں پاک فوج کی27 سندھ رجمنٹ جو کہ ان کی بہادری کی وجہ سے شیرِ حیدری کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور 1999میں کارگل کے محاذ پر12این ایل آئی جو کہ ان کی جرات کی وجہ سے حیدران پلٹن جانی جاتی ہے، کا حصہ تھے۔ کیپٹن کرنل شیر خان شروع ہی سے مہم جو اور انتہائی نڈر آفیسر تھے۔

    8نومبر1992ء کو کرنل شیر پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت کے حصول کیلئے پہنچے۔ ٹریننگ کے تلخ اوقات سے وہ پہلے ہی واقف تھے مگر یہاں کے شب و روز کچھ زیادہ ہی کٹھن اور حوصلہ آزما ہیں۔

    کرنل شیر کو ”عبیدہ“ کمپنی میں بھیجا گیا۔ وہ اپنے ساتھیوں میں بُلند ہمت، مستقل مزاج اور زندہ دل مشہور تھے۔ ڈرل، پی ٹی ہر جگہ ان کی مستعدی کی تعریف کی جاتی۔ کرنل شیر خان ہتھیاروں، فیلڈ کرافٹ اور جنگی مہارت میں پیشہ ورانہ صلاحیت رکھتے تھے۔ ایمان کی مضبوطی کا ثبوت یہ ہے کہ کرنل شیر کاکول کے یخ بستہ موسم میں، مشکل ترین اوقات میں بھی نفلی روزے رکھتے۔

    کیپٹن احمد وحید (بارہ این ایل آئی) بتاتے ہیں کہ:کرنل شیر نے سب جونئیر کو جمع کر کے ایک لیکچر دیا کہ میں آپ لوگوں کو صرف ایک دفعہ بلاؤں گا۔ وہ بلاوا، فجر کی نماز کے لیے ہو گا۔ لہذا نماز کے وقت سب کیڈٹ باہر جمع ہو جاتے اور کرنل شیر انہیں ساتھ لے کر مسجد کی طرف چلے جاتے۔اور ان کی شخصیت کا تاثر کچھ ایسا تھا کہ کسی لڑکے کو حکم عدولی یا بے ضابطگی کی جرأت نہ ہوتی۔ آج بھی ان کا مسکراہٹ بھرا چہرہ ہماری یادوں کا حصہ ہے۔

    لیفٹیننٹ ظہیر اعظم، کرنل شیر سے جونئیر تھے اور ان کا تعلق93لانگ کورس سے تھا۔ اپنی یادوں کے دریچے وا کرتے اور محافظ پاکستان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ: ”مجھے کرنل شیر کے ہمراہ اکیڈمی اور27سندھ رجمنٹ میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ کرنل شیر کے تعلیمی نتائج بہت اچھے تھے۔ ان کی صلاحیتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنل شیر کو ایک اعزازی عہدہ دے دیا گیا۔

    کرنل شیر کو ابتداء ہی سے ہتھیاروں سے بہت پیار تھا۔ وہ ایک ممتاز فائرر، نشانے باز بھی تھے۔ آپ پی ایم اے کی شوٹنگ ٹیم کا مستقل حصہ رہے۔ وہ سخت جان تھے اور اپنے قوت بازو پر مکمل بھروسہ تھا۔ پی ایم اے کے ہر شوٹنگ مقابلے کا حصہ رہے۔ انہیں بہت سے اعزازات سے بھی نواز گیا۔ پی ایم اے کے اسالٹ کورس میں کرنل شیر نے اپنے سینئرز اور ساتھیوں کو بہت متاثر کیا۔ ان کا ہتھیار تھامنے کا انداز، مشقوں میں جسمانی چستی اور ہمت و حوصلہ کما ل تھا۔ انہیں اس پر ہمیشہ تعریف اور تحسین ملی۔

    کرنل شیر کی خواہش تھی کہ انہیں انفنٹری میں بھیجا جائے۔ انہوں نے اپنی منتخب کی ہوئی برانچ میں دلچسپی کے بارے میں سب کو بتایا تھا کہ ”دشمن سے دوبدو لڑنے کا موقع انفنٹری میں سب سے زیادہ ہے“اور پھر وہ دن آگیا جس کا ہر کیڈٹ کو انتظار ہوتا ہے۔ تکمیل آرز و کا دن۔دعاؤں کی تکمیل اور وفاؤں کی پاسداری کا دن۔ اسے ”پاسنگ آؤٹ“ کہتے ہیں۔14اکتوبر 1994ء کی شام کرنل شیر پاک آرمی کے باقاعدہ سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے۔ انکے کندھے پر چمکتے ستارے در حقیقت قوم کی امانت تھے۔ یہ مقدس ذمہ داریوں کا ثبوت ہے، جو جوانوں پہ ڈال دی جاتی ہیں۔ یہ پاک فوج کا فرض اور قوم کا قرض ہے۔ نصب العین بھی ہے۔ پاک افواج تو ہمیشہ قوم کی امیدوں کا مرکز رہی ہیں اور ہمیشہ توقعات پر پوری اتری ہے۔

    جوش طوفاں، دیدہِ نمناک سے کیا کیا ہوا
    دیکھ لے دنیا میں مشتِ خاک سے کیا کیا ہوا
    27سندھ رجمنٹ:

    کرنل شیر اکیڈمی سے ستائیس سندھ رجمنٹ میں راہ راست پوسٹ ہونے والے پہلے آفیسر ہیں۔یونٹ میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اقبال محمود نے سیکنڈ ان کمانڈ ہونے کی حیثیت سے نئے آفیسرز کا خیر مقدم کیا۔
    وہ بتاتے ہیں کہ ”سیکنڈ ان کمانڈ ہونے کے باعث کرنل شیر کی پیشہ ورانہ تربیت اور شخصیت پروان چڑھانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی“۔

    انہوں نے بتایا کہ میں نے کرنل شیر کو پیشہ ورانہ فرائض میں بہت سنجیدہ اور پر اعتماد پایا۔”پاک فوج میں شمولیت میرا سب سے بڑا خواب تھا جو آج پورا ہو گیا“۔ یہ الفاظ کرنل شیر نے مجھے پہلے انٹرویو میں بتائے اور میں نے پہلے روز ہی اندازہ لگا لیا کہ یہ نوجوان کوئی خاص کام کرنا چاہتا ہے۔ وہ دانشمندہی نہیں بہادر بھی تھا۔ ٹریننگ کے دوران ہر کام میں باہمت اور آگے آگے رہنے والا۔پڑھائی کا شعبہ ہو یا حرب و ضرب کا فلسفہ، کھیل کا میدان ہو یا فائرنگ کا مقابلہ، کیپٹن شیر ہر کہیں اپنے یونٹ کے لیے اعزازات حاصل کرتے تھے۔ فزیکل ٹریننگ، اسالٹ کورس اور یونٹ کے دیگر مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ کرنل شیر نے ڈویژن کے پیرا میچز میں حصہ لیااور ڈویژن کی فائرنگ ٹیم کے ممبر تھے۔

    نائب صوبیدار قاسم ستائیس سندھ رجمنٹ میں اسی روز تعینات ہوئے جس روز کیپٹن کرنل شیر یونٹ پہنچے تھے۔ یہ ایک حسن اتفاق تھا۔ قاسم اپنی یادوں کے گوشے وا کرتے ہیں کہ ایک جونیئر سپاہی کے طور پر مجھے کرنل شیر خان جیسا رول ماڈل میسر آیا۔ میرے لئے یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا کہ میں انہیں یونٹ میں ہر وقت متحرک اور مصروف دیکھتا۔ سائیکل پر سوار یہ نوجوان افسر یونٹ کی ہر سر گرمی میں پیش پیش ہوتا تھا۔ قاسم اپنے ٹریننگ سنٹر جب کہ کرنل شیر خان پی ایم اے سے 27سندھ رجمنٹ کا حصہ بنے تھے۔ وہ قاسم کو بہت پسند کرتے تھے، اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ قاسم جسمانی مشقت اور مختلف سرگرمیوں میں کرنل شیر کے ہمراہ رہتے تھے۔ قاسم بتاتے ہیں کہ؛

    کرنل شیر خان جسمانی مشقت کے عادی تھے۔ پی ٹی، ڈرل اور مختلف سر گرمیوں میں ان کو کوئی مقابل نہیں ہو تا تھا۔ یونٹ کی شوٹنگ ٹیم کو لیے پہروں فائرنف رینج پر پریکٹس کراتے، انہیں مختلف تکنیک سمجھاتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ سائیکل یا موٹر سائیکل پر سوار ہر وقت نظر آتے اور یونٹ کی ہر سر گرمی میں اپنا کردار ادا کرتے تھے۔

    کرنل شیر خان کو اپنی یونٹ27سندھ رجمنٹ سے بہت محبت تھی۔ ان کی ہر چیز میں 27کا ہندسہ جھلکتا تھا۔ شیر خان کے سینئرز میں وہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

    14جولائی1995ء کو انہیں لیفٹیننٹ کے رینک پر ترقی ملی۔ 29جولائی1995ء میں انہیں سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کوئٹہ میں کورس کے لیے بھیجا گیا۔ اس کورس کی تکمیل14دسمبر 1995ء کو ہوئی اور نتائج ایک مرتبہ پھر بہترین رہے۔اس کورس کی تکمیل کے بعد 5جنوری1996ء کو انہیں اسی کمپنی کا کمانڈر بنا دیا گیا۔

    17اکتوبر 1996ء کو انہیں کیپٹن کے عہدہ سے سرفراز کیا گیا۔ آپ کے رینک کی خوشی میں ایک تقریب کا اہتمام ہوا۔ اس تقریب میں کرنل شیر نے اپنی یونٹ کو ایک جی تھری رائفل کا ماڈل بھی پیش کیا۔ وہ ماڈل آج بھی 27سندھ رجمنٹ میں محفوظ ہے۔ اس کے جوانوں اور افسروں کے لئے ایک سنگِ میل ہے۔ان کی بات بات اور تمام حرکات و سکنات سے عسکری رنگ جھلکتا تھا۔ کرنل شیر نے دو مرتبہ اپنے یونٹ میں کمانڈو پلاٹون تیار کی۔ کمانڈ وپلاٹون کی تیاری بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس میں 37کلو میٹر کا فاصلہ، ہتھیار اور37کلو گرام وزن کے ساتھ طے کرنا ہوتا ہے۔ یہ سفر دشوار گزار راستوں سے کیا جاتا ہے۔

    رات کو منزل کی نشاندہی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور بچاؤ اور فائرنگ بھی اس کورس کا حصہ ہیں۔ کرنل شیر ایک سچے سپہ سالار کی طرح ہمیشہ آگے آگے ہوتے تھے۔ان کے کندھوں پر ایک کی بجائے تین تھیلے لدے ہوتے تھے، یعنی ساٹھ کلو وزن کے ساتھ وہ لیڈر شپ کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے۔ ان کی کمانڈو پلٹن کی تیاری کے دوران بولا گیا ایک فقرہ اب بھی27سندھ رجمنٹ کے جوانوں کو رُلا دیتا ہے”ماڑا بھاگنے میں کیا انگریزی ہے، پچھلا پاؤں اٹھا کر آگے رکھ دو“-

    فوج میں فائرنگ رینج پہ قوانین و ضوابط کی پابندی ضروری اور اہم ذمہ داری ہے۔یہاں پر ہونے والی فائرنگ کے دوران کرنل شیر سارا دن کڑی دھوپ میں گزار دیتے۔ جب وہ اپنی پارٹی کو تیار کرواتے تو کچھ دوسرے لوگ بھی فائرنگ رینج پہ فائرنگ کی مشق کر رہے ہوتے۔ کرنل شیر فائر ختم کروا کرفوراََ ٹارگٹ کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے، حالانک یہ حفاظتی اقدامات کے خلاف ہے۔ مگر وہ ہمیشہ کہتے ماڑا جو گولی نہیں لگنی، وہ نہیں لگے گی اور موت اسی گولی سے ہوگی،جس پر امارا نام لکھا ہو گا-

    نام انسانی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے، نقاش بھی، زندگی کے دائروں پہ یقینا اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بعض نام پہچان ہونتے ہیں اور کچھ نشان بن جاتے ہیں۔ نشان منزل بھی ہو سکتے ہیں۔ کرنل شیر بھی ایک ایسا ہی منفرد نام ہے۔ ایک ایسا نام جس کو بہادری اور جوانمردی کی علامت سمجھا جا تا ہے۔

    اس بہادر سپوت نے جنوری1999ء میں خود کو لائن آ ف کنٹرول پر تعیناتی کے لئے پیش کیا۔ کارگل کی جنگ کے دوران 12این ایل آئی میں تعینات ہوئے۔ آپ نے پلٹون کمانڈر کے طور پر بے شمار خدمات سر انجام دیں کارگل جنگ کے دوران مشکل ترین چوٹیوں پر وطن کا دفاع کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی۔

    کارگل جنگ کے دوران کیپٹن کرنل شیر خان نے متعدد آپریشنز کی قیادت کی۔آپ نے دُشمن کے بہت سے حملوں کو پسپا کر کے انہیں بھاری نقصان پہنچایا۔5جولائی1999کو کیپٹن کرنل شیر اوراُن کے14ساتھیوں کو کاشف اور وکیل پوسٹ کے درمیان موجود مزاحمتی ناکہ بندہ کو ختم کرنے کا مشن سو نپا گیا۔

    اِس دوران کیپٹن کرنل شیر خان کو دشمن کی ایک اور مزاحمتی پوزیشن اور کاشف پوسٹ کی جانب بڑے حملے کی غرض سے آگے بڑھتی دُشمن کی سپاہ کی کثیر تعداد نظر آئی۔اِن سخت کٹھن حالات کے باوجود آپ نے اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے ہمراہ دُشمن پر بھرپور حملہ کر کے اُسے ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اِس جرأت مندانہ معرکے میں آپ دشمن کے سنائپر فائر کی زد میں آگئے اور5جولائی1999کو شہادت کا تمغہ اپنے سینے پر سجا یا۔

    پاک فوج کے اس جوان نے بھارتی فوج کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ اُن کا نام ہندوستان کے میں بھی خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی اِس دلیرانہ کارروائی نے دشمن کے قدم اکھاڑ دئیے اور اُسے بھاری نقصان اُٹھانا پڑا۔ ہندوستانی بریگیڈ کمانڈر بریگیڈئیر ریٹائرڈ مہندر پراتاب سنگھ نے آپ کی بے خوفی اور دلیری کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ”اُن کی قیادت میں بھرپور جوابی حملوں نے ہمارے قدموں کو اُکھاڑ دیا تھا“۔دن کی روشنی میں جوابی حملہ صرف شیر خان ہی کا کام تھا۔

    کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنی ہمت، جرات، بہادری اور بہترین حکمت عملی سے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ دن کی روشنی میں دُشمن کی چوٹی (ٹائیگر ہل اور اردگرد کے ملحقہ پہاڑوں) پر بھرپور حملہ کیا۔اس حملے کی ایسی دہشت تھی کہ ہندوستان کی 8سکھ بٹالین کو اپنی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط کرنے کے لئے اضافی نفری منگوانی پڑی۔کرنل شیر خان اس چوٹی کے حصول کے لئے آخری دم تک لڑتے رہے حتیٰ کہ جامِ شہادت کے وقت بھی اُن کی اُنگلی بندوق کے ٹریگر پر تھی۔

    کیپٹن کرنل شیر خان کی دلیری اور بہادری کا بھرپور اعتراف کیا گیا تھا اور دُشمن کی طرف سے خط میں لکھا گیا کہ ”کیپٹن شیر خا ن نے جس طرح خود اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مقابلہ کیا اُنھیں اس بہادری پر اعلیٰ اعزاز سے نوازا جانا چاہیے“۔

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔