Baaghi TV

Tag: نشستیں

  • پی ٹی ائی کو5مخصوص نشستوں کے باوجود پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

    پی ٹی ائی کو5مخصوص نشستوں کے باوجود پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا نوٹیفکیشن نہ کرنےکے خلاف تحریک انصاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری کرنےکی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت کے بعد اگر پانچ مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو مل جائیں تو بھی پیجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی عددی اکثریت برقرار رہے گی اور حمزہ شہباز کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا.

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    مسلم لیگ ن کے وزیراعلی پنجاب کے لئے امیدوارحمزہ شہباز 16 اپریل 2022کو پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے انہیں پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں سے197 ووٹ ملے تھےتاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے 25 ارکان اسمبلی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا جس بنا پر انہیں ڈی سیٹ کر دیا گیا ،25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی ممبران کی تعداد 346 رہ گئی۔

    پنجاب اسمبلی کی موجودہ صورتحال کے مطابق پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت (ن) لیگ کے پاس 166 سیٹیں ہیں. پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی حمایت بھی مسلم لیگ ن کو حاصل ہے اورپنجاب کے ایون میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد7ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے تین آزاد ارکان اور راہ حق پارٹی کا ایک ووٹ بھی (ن) لیگ کے پاس ہے.انہیں جمع کر کے پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ کے حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 177 ہے۔

    وپنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کو183 نشستیں ملی تھیں لیکن پی ٹی ائی کے 25 ارکان پارٹی کی پالیسیوں کے باعث منحرف ہو گئے اور انہوں نے وزارت اعلی کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز کو ووٹ دیا جس پر انہیں ڈی سیٹ کر دیا گیا. ڈی سیٹ ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی میں نشستیں 158 رہ گئیں۔

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 158جبکہ تحریک انصاف کی اتحادی (ق) لیگ کے 10 ارکان ہیں انہیں ملا کر اپوزیشن کے 168 ارکان بنتے ہیں ، رپورت کے مطابق اگر عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انساف کو 5 مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو اپوزیشن اتحادکی تعداد173بنتی ہے یعنی مخصوص نشستوں کے بعد بھی حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر 4 ووٹوں کی برتری حاصل رہے گی۔

    اس صورتحال میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو اپوزیشن اتحاد سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم اپوزیشن اتحاد کی کوشش ہے کہ وہ وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ضمنی الیکشن میں ذیادہ سے ذیادہ نشستیں حاصل کرے.تاہم دوسری جانب حکومت بھی پرعزم ہے کہ وہ ضمنی الیکشن میں کلین سوئپ کرے کرے گی.

  • الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی: قومی اسمبلی میں نشستیں کم  ہوگئیں

    الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی: قومی اسمبلی میں نشستیں کم ہوگئیں

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے حوالے سے ابتدائی حلقہ بندیاں جاری کردیں جس کے مطابق سندھ میں ایک حلقے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی جنرل نشستیں 272 سے کم کر کے 266 کر دی گئی ہیں کراچی کے حلقے 20 سے بڑھا کر 21 کردیئے گئے-

    الیکشن کمیشن کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے حساب سے قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 266 ہوگئی ہے۔

    بلوچستان میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کی تعداد 14 سےبڑھ کر 16 ہوگئی ہےخیبرپختونخوا میں 35 سےبڑھ کر 45 ہوگئی ہے، پنجاب کی 148 سے کم ہوکر 141 ہوگئی ہے، سندھ کی 61 برقرار ہے، وفاقی دارالحکومت کی ایک نشست بڑھ کر 3 ہوگئی ہے جبکہ فاٹا کی 12 نشستیں ختم ہوگئی ہیں۔

    مخصوص نشستوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے نئے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں خواتین کی نشستیں 3 سے بڑھا کر 4 کردی گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 8 سے 10 کردی گئی ہیں، پنجاب میں 35 سے کم کرکے 32 کردی گئی ہیں، سندھ کی 14 برقرار ہیں۔

    اس کے علاوہ اقلیتی نشستوں کی تعداد 10 برقرار رکھی گئی ہے۔ یوں نئی حلقہ بندیوں کے حساب سے قومی اسمبلی کی مجموعی نشستیں 342 سے کم ہوکر 336 ہوگئی ہیں۔

    نئی حلقہ بندیوں کے مطابق بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 65 ہوں گی جن میں سے جنرل نشستیں 51 ہوں گی، خیبر پختوانخوا اسمبلی میں مجموعی نشستیں 145 اور جنرل نشستیں115 ہوں گی، پنجاب اسمبلی میں مجموعی نشستیں 371 اور جنرل نشستیں297 ہوں گی جبکہ سندھ اسمبلی میں مجموعی نشستیں 168 اور جنرل نشستیں 130 ہوں گی۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا ہر حلقہ لگ بھگ 6 لاکھ 68 ہزار ووٹرز، خیبر پختونخوا میں 7 لاکھ 89 ہزار ووٹرز جب کہ پنجاب میں قومی اسمبلی کا ہر حلقہ لگ بھگ 7 لاکھ 80 ہزار ووٹرز پر مشتمل ہے۔

    سندھ میں قومی اسمبلی کاہر حلقہ لگ بھگ 7 لاکھ 84 ہزار500 ووٹرز جب کہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کاہر حلقہ لگ بھگ 7 لاکھ 71 ہزار ووٹرز پر مشتمل ہے۔